Skip to content
یوگی یا شاہ نہیں بیرین سنگھ،مودی کاحقیقی ولیعہد!
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
منی پور کے تنازع کی جڑ ریزرویشن ہے۔ ریزویشن کو ختم کابالواسطہ طریقہ یہ ہے کہ اسے براہ راست منسوخ کردیا جائے اوربلا واسطہ طریقہ ہے کہ تقریباً سبھی کو اس سے نواز دیا جائے ۔ منی پور میں کوکی قبائل کے ساتھ اکثریتی میتئی سماج کو بھی اس کا حقدار بنانے کی سعی کی گئی۔ بی جے پی اس خوش فہمی کا شکار تھی کہ اس طرح نوےّ فیصد سے زیادہ لوگ اس کے احسانمند ہوجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ کوکی اور میتئی آپس میں لڑ پڑے اور ایسا تشدد پھوٹا کہ جس کی آگ پر سوا سال بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا ۔ 3 مئی 2023 سے اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 226؍ افرادمنی پور تشدد میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے امسال ۷؍ اگست کوکوکی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ایک ریکارڈنگ کے اقتباسات ذرائع ابلاغ شیئر کیے جسے کئی سوشل میڈیا ہینڈل کے ذریعہےنشر کیاگیا ۔ دی وائر کو باوثوق ذرائع سے جولائی میں یہ ریکارڈنگ مل چکی تھی، لیکن اس نے قانونی طور پر تشکیل شدہ تحقیقاتی کمیٹی میں اس کے جمع ہونے کے بعد بڑی جرأتمندی سے نشر کردیا۔
منی پور میں تشدد کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے اس دھماکہ خیز ریکارڈنگ کی پیشکش وزیر اعلیٰ کے کردار پر سنگین شکوک و شبہات جنم دیتی ہے۔ منی پور حکومت تو اسے جعلی قرار دے رہی ہے مگر یہ آڈیو ریکارڈنگ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ موصوف نے پچھلے سال اپنی ریاست میں مہلک اور تباہ کن گولہ بارود (51 ایم ایم مورٹار بموں) کے استعمال کی اجازت دی تھی ۔ اس انکشاف سے گھبرا کر منی پور حکومت نےاس دعوے کی تردید میں کہہ دیا کہ ریکارڈنگ کے اندر بیرین سنگھ کی آواز ’جعلی‘ ہے۔سرکار نے آڈیو ٹیپ ’مسخ شدہ‘ کہہ کر اسے کوکی اور میتئی سماجوں کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے جاری عمل کو پٹری سے اتارنے کے مقصد سے کی جانے والی ’ ملک دشمن‘ سرگرمی قرار دیا ہے۔بیرین سرکار کی اس تردید کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ تشدد کے دوران ریاست کے اسلحہ خانے سے لوٹا جانے والا بیشتر ہتھیار اور گولہ بارود ابھی تک برآمد نہیں ہوا۔
سرکاری اسلحہ ہنوز واپس کیوں نہیں ہوسکا اس سوال کا جواب مذکورہ بالا ویڈیو میں موجود ہے۔ وزیراعلیٰ بیرین سنگھ کواس ویڈیو میں اپنے حامیوں سےیہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ریاستی فورسز سے 4000-5000 اسلحہ اور گولہ بارود لوٹنے والوں کو گرفتار ہونے سے بچایا۔ وہ بڑی فراخدلی سے اعتراف کرتے ہیں کہ کوکی انہیں گالیاں دے سکتے ہیں، اور ایسا کرنا صحیح بھی ہے کیونکہ انہوں نے ان میں سے تقریباً 300 کی جان لی ہے، لیکن میتئی لوگوں کو انہیں گالیاں نہیں دینی چاہیے۔ایسی توقع کرنے والے بیرین بھول جاتے ہیں کہ میتئی سماج کا عام آدمی ان کی مانند درندہ نہیں ہے۔ انسانیت نوا ز میتئی عوام نے گزشتہ انتخاب میں میتئی بی جے پی امیدوار کو شکست دے کر وزیر اعلیٰ کے منہ پر تھوک دیا ۔ بیرین سنگھ کے بھائی راجندر کا فیس بک پر اس حساس ٹیپ کی تشہیر کرنے والوں کو ڈرانا دھمکا نا بلا واسطہ اعتراف جرم کے مترادف ہے ۔
بیرین سنگھ نے نیکر پہن کر آر ایس ایس کی شاکھا میں تربیت نہیں لی ۔ گریجویشن کے دوران وہ فٹ بال کھلاڑی بن گئے اور پھر بی ایس ایف سے منسلک ہوگئے۔ یہ دونوں کام نہ آر ایس ایس کے لوگوں کے بس کی بات ہے اور انہیں اس میں دلچسپی ہے۔ اس کے بعد صحافی بن کر اخبار نکالا اور پھر جمہوری عوامی انقلابی پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی کا انتخاب جیت لیا۔ آگے چل کر ان کی سمجھ میں آیا کہ اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا اس لیے مشرف بہ کانگریس ہوگئے۔ کانگریس میں ان کی خوب قدر دانی ہوئی اور وہ وزیرآبپاشی ، سیلاب کنٹرول اور نوجوانان کی فلاح وبہبود کے عہدے پر فائز کیے گئے۔ کانگریسی وزیر اعلیٰ اوکرام ایبیڈو سنگھ کے خلاف جب بغاوت ہوئی تو وہ 2016 میں ابن الوقتی کا چولہ اوڑھ کر بی جےپی کی گود میں جا بیٹھے ۔ آسام کی مانند منی پور بی جے پی بھی قحط الرجال میں مبتلا تھی۔ آسام میں اس نے پہلے آسام گن پریشد سے آنے والے سربا نند سونوال کو وزیر اعلیٰ بنایا اور پھر کانگریس سے بر آمد شدہ ہیمنتا بسوا سرما کو کمان سونپی مگر منی میں فوراًبیرین سنگھ کی قسمت کھل گئی۔
بیرین سنگھ کو آر ایس ایس کی شاکھا میں نہ تو تربیت لینے کا موقع ملا اور نہ ضرورت پڑی۔ سنگھ پریوار رات دن محنت کر کے بغیر جو نفرت کا زہرپلاتے ہیں وہ ان کے پہلے ہی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ یقین نہ آتا ہو تو آڈیو کا یہ حصہ دیکھیں :’’شروع شروع میں تو اس طرف (میانمار) سے آئے لنگی پہننے والے بھی تھے۔ وہ اب بھی ہیں۔ لیکن بڑی تعداد میں آرمی کی آمد کے بعد ان میں سے کئی پیچھے ہٹ گئے۔ اس وقت میں کافی مایوس ہوا تھا۔ مجھےاس بات کو لے کر بہت غصہ آیا کہ وہ جنہیں [ میتئی] راجا نے پناہ دی تھی۔ وہ وادی میں آکر حملہ کرنے لگے۔ مجھ پر اس بات کا گہرا اثر ہوا، اس نے مجھے ڈرایا بھی ۰۰۰مجھے ایسا کہنا تو نہیں چاہیے،مگر اوپر والا اس بات کا گواہ ہے کہ اگر میں اس کرسی پر نہ بیٹھا ہوتا ، قسم سے اگر میں سی ایم نہ ہوتا تومیں نے بم برسائے ہوتے۔ میں صاف صاف کہہ رہا ہوں – بم برساتا!‘ ہندو راشٹر بنانے کے لیے آر ایس ایس کو بیرین سنگھ سے اچھی چال ، چرتر اور چہرے والا رہنما نہیں مل سکتا۔ اس لیے اسے بلا توقف آگے بڑھا کر مودی کی کرسی پر براجمان کردیاجانا چاہیے۔
بی جے پی کے اندر فی الحال وزیر اعظم کی ولیعہدی سب سے زیادہ متنازع مسئلہ ہے۔ بیرین سنگھ نے اپنی کمال دیدہ دلیری کے مظاہرہ سے یہ گتھی سلجھا دی ہے ۔ مودی جی کی وراثت کو امیت شاہ اپنی جانب کھینچ رہے ہیں اور یوگی ادیتیہ ناتھ اس پر اپنا دعویٰ ٹھونک رہے ہیں ۔ آر ایس ایس چاہتا ہے کہ نیتن گڈکری جیسے وفا شعار فرمانبردار کے سر پر تاج رکھ دیا جائے لیکن اب اُس حقیقی وارثِ مودی کو تخت و تاج سونپ د ہنا چاہیے جو ببانگ دہل اعتراف کرتا ہے کہ ’’ کوکی مجھے ڈانٹیں گے، گالی دیں گے… اور کیوں نہیں دیں گے؟ میں نے بہت بربادی کی ہے… ضبطی ہوئی ہیں… تو وہ کیوں مجھے بھلا برا نہیں کہیں گے؟ لیکن ہمارے درمیان… کیا۰۰۰ انہیں نہیں پتہ کہ میں چیزوں کو کیسے دیکھ رہا ہوں؟ میرے ہاتھ سے طاقت لی جا چکی ہے۔ان کے یہاں (کوکی برادری میں) زیادہ جانیں گئی ہیں۔ تقریباً 300 کوکی مارے گئے ہیں‘‘۔
وزیر اعظم نریندر مودی سنگھ پریوار کی داخلی مہابھارت سے خوش ہیں کیونکہ اسی سےان کا اقتدار محفوظ و مامون ہے ۔ بی جے پی داخلی چپقلش میں بیرین سنگھ کی آڈیو سےایک نیا ٹوِیسٹ آگیاہے۔ ان کی خاموشی سے ’بم مارو بم ‘ کی حکمتِ عملی نے ثابت کردیا کہ گجرات فائلس کے ہیرو کے اصلی وارث تو وہی ہیں۔ شاہ سے لے کر یوگی تک تو صرف باتیں کرتے ہیں اکاّ دکا کوئی کانٹا نکال دینےیا کسی کے گھر پر بلڈوزر چلا دینے سے کیا ہوتا ہے؟ پوری ریاست کو خاک و خون میں جھونکنے کا جو عظیم کارنامہ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نے انجام دیا تھا اس کا اعادہ کرنے کا اعزاز بیرین سنگھ کو جاتا ہے۔ منی پور کی یہ آڈیو ایک ایسے وقت میڈیا کی زینت بنی جب خود مودی جی بڑے آرام سے پولینڈ سے ہوکریوکرین میں امن قائم کرنے کے لیےپہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل وہ کئی بار روس جاچکے ہیں کاش کہ انہیں ایک بار منی پور جانے کی توفیق ملتی۔اس حوالے سے میڈیا میں پھیلی ہوئی پر اسرار خاموشی حیرت انگیز ہے۔ یہ بیرین سنگھ کا خوف نہیں ہے بلکہ اس ٹیپ کے اندر امیت شاہ کا حوالہ ہے جس نے ہر سوُ سناٹا بکھیر دیا۔ بڑے بڑے دلیر نظر آنے والے صحافیوں کی سٹیّ پٹیّ گم ہے ۔
یہ آڈیو اگرمنی پور کے بجائے مغربی بنگال سے نکل کر آتی اور اس میں بیرین سنگھ کے بجائے ممتا بنرجی کی آواز ہوتی تو تصور کریں کہ میڈیا میں کتنا ہنگامہ ہوتا اور ان کی ریاستی حکومت کو برخواست کرنے میں مرکزی حکومت کو کتنے منٹ لگاتی؟ شیخ حسینہ کو تو خیر وہاں کے فوجی سربراہ وقارالزماں نے ہندوستان میں پناہ لینے کا موقع دے دیا ۔ ہمارے راجناتھ سنگھ توممتا کوبنگلا دیش جانے کی مہلت بھی نہ دیتے حالانکہ اس کے لیے انہیں ہوائی جہاز کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ۔ وہ تو بری ّ راستے سے جاسکتی ہیں ۔ ممتا کو بلا توقف اروند کیجریوال کے پاس تہاڑ جیل میں پہنچا دیا جاتا اور میڈیا اس پر خوش ہوکر یہ بتاتا کہ ممتا کو مسلمانوں کی خوشنودی کا یہ انجام ملا لیکن اب تو بیرین سنگھ کے بڑبولے پن پارٹی سمیت اس وزیر داخلہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جنہوں نے پچھلے سال اگست میں اس کے استعفیٰ کا مطالبہ مستر د کے کلین چٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امن کی بحالی اورتفتیش میں تعاون دے رہے ہیں ۔کیا بی جے پی کی شریعت میں اسلحہ تقسیم کرکے فسادیوں کو تحفظ دینا امن قائم کرنا ہے؟
(۰۰۰جاری)
Like this:
Like Loading...