Skip to content
مفاہمت کی درخواست کرتے ہیں، سیاست ترک کر دیں گے: الاخوان کا مصرکو پیغام
مصر، 24اگست ( آئی این ایس انڈیا)
گروپ الاخوان المسلمون کے دوسری اعلی ترین شخصیت نائب قائم مقام مرشد عام کی درخواست پر الاخوان نے باضابطہ طور پر مصری حکام سے سیاسی سرگرمیوں ترک کرنے اور مصری جیلوں میں نظر بند ارکان کی رہائی کے بدلے معافی کا مطالبہ کردیا۔
ترکیہ سے نشریات کرنے والے سیٹلائٹ چینل ’’الشرق‘‘ کے صحافی ماجد عبداللہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک نشریات میں انکشاف کیا کہ ڈاکٹر حلمی الجزار جو ڈاکٹر صلاح عبدالحق کے نائب ہیں اور لندن میں مقیم ہیں نے باضابطہ طور پر اپنے چینل کے ذریعے ایک پیغام بھیجنے کا مطالبہ کیا جس میں مصر کے حکام نے گروپ الاخوان کو سیاست سے مکمل طور پر ریٹائر ہونے اور گروپ کی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کرنے کے بدلے میں معاف کر دینے کا کہا۔
صحافی ماجد عبداللہ نے کہا کہ حلمی الجزار نے انہیں اپنے الفاظ میں یہ بتانے کو کہا کہ گروپ مصر میں حکام اور سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ مصالحت کے لیے پہل کو قبول کرنے کے لیے کہا گیا۔ یو عہد بھی کیا گیا کہ گروپ 10 سے 15 سال کی مدتوں تک سیاست میں کام ترک کر دے گا۔ یہ بھی استدعا کی گئی کہ 2013 میں گروپ کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد سے گزرے 11 سالوں کے دوران ہونے والے واقعات کو بھول جانے کا بھی کہا گیا۔
حلمی الجزار کا یہ مطالبہ "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو مصری جیلوں میں قید گروپ کے ارکان کی طرف سے ایک خط موصول ہونے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ جیلوں میں قید گروپ کے ارکان نے بریت اور الاخوان سے علیحدگی کا مطالبہ کیا تھا۔
اس پیغام میں جسے گروپ کے اراکین نے "رشد” فورم کے اندر بیان کیا میں میں مصریوں اور مصری معاشرے کے تمام طبقات سے ایک اپیل کی گئی کہ انہوں نے "وطن کے خلاف” جو کچھ بھی کیا، وہ اس کے لیے معافی مانگتے ہوئے خود کو "مصری نوجوانوں کا ایک گروپ” قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الاخوان کے پرکشش نعروں سے دھوکہ کھایا تھا۔
الاخوان کے ارکان کے پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم پوری آگاہی کے ساتھ دیکھ رہے اور مانیٹر کر رہے ہیں کہ ہمارے آس پاس پڑوسی ممالک میں ایک ملک کے لوگوں کے درمیان تنازعات زندگیاں نگل رہے ہیں۔ یہ ممالک اور ان کی عوام انہیں جھگڑوں میں ہلاک ہو رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 2019 میں مصر میں الاخوان کے نوجوانوں نے ریاست کے ساتھ مفاہمت کے لیے ایک پہل شروع کی تھی۔ مصری جیلوں میں قید گروپ کے 1350 ارکان نے ریاستی حکام کو ایک خط بھیجا جس میں معافی کی درخواست کی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے ان خیالات کا جائزہ لینے کی خواہش کا اعلان کیا تھا جو انہوں نے گروپ میں شامل ہونے کے دوران قبول کیے تھے۔ گروپ نے ان خیالات کو ترک کرنے کے لیے اپنی مکمل تیاری کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں عوامی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت نہیں کریں گے ۔ انہوں نے متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدیداروں کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن میں وہ سیکورٹی خدشات اور سیاسی تحفظات کو دور کرنے کے خواہاں ہیں۔ گروپ کے نوجوانوں نے سیاسی طور پر ہر گز حصہ نہ لینے اور ہر قسم کے عوامی کاموں بشمول وکالت اور رفاہی کاموں سے سبکدوش ہونے کا عہد کیا تھا۔
Like this:
Like Loading...