Skip to content
حزب اللہ کے راکٹ حملے اسرائیل کا کم ہوتا دبدبہ
ازقلم:شیخ سلیم ،
سابق صدر مہاراشٹرا ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
حزب اللہ کے راکٹ حملے اور اسرائیل کی کمزور ہوتی پوزیشن کے حوالے سے جو تازہ صورت حال سامنے آئی ہے، اس سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے آثار نظر آتے ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ نے اسرائیل کی جنگی صلاحیتوں اور معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے، اور حزب اللہ کے ساتھ ممکنہ تصادم اسرائیل کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے مسلسل راکٹ حملوں اور غزہ میں جاری جنگ کے سبب اسرائیل کو نہ صرف اپنی فوجی قوت میں نقصان کا سامنا ہے بلکہ اس کی معیشت بھی شدید دباؤ میں ہے۔ اندرونی خلفشار اور بین الاقوامی سطح پر حمایت میں کمی نے اسرائیل کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا ہے۔حزب اللہ، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے، اسرائیل کے لیے ایک مضبوط چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ تصادم مزید بڑھتا ہے، تو اسرائیل کے لیے اسے قابو کرنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور مغربی طاقتیں اپنی توجہ یوکرین پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔مجموعی طور پر، یہ صورتحال اسرائیل کے لیے بڑی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...