Skip to content
ایران: حجاب نہ پہننے پر خاتون کو گولی مارنے کی خبر پر امریکہ کااظہار تشویش
جینوا،۲۷؍اگست ( آئی این ایس انڈیا)
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ کہ بدری پر فائرنگ سے ظاہر ہوتا ہیکہ (ایرانی) حکومت نے امینی کے المناک اور بے حس قتل کے بعد کے دو برسوں میں کچھ نہیں سیکھا۔ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ پولیس نے بدری کی گاڑی پر اس لئے فائرنگ کی تھی کیونکہ اس نے روکنے کے احکامات کو نظر انداز کیا تھا۔ایرانی عدلیہ کے ایک ترجمان نے 20 اگست کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گولی چلانے والا زیر حراست اور زیر تفتیش ہے لیکن اس نے حجاب کے مینڈیٹ کے نفاذ سے کسی تعلق سے انکار کیا۔
بائیڈن انتظامیہ نے ایران سے آنے والی ان رپورٹوں پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پولیس نے گزشتہ ماہ دو بچوں کی ماں کو اس کی کار میں گولی مار کر اسے جزوی طور پر مفلوج کر دیا، جس کی بظاہر وجہ لازمی حجاب پہننے سیانکار تھا۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یہ تبصرہ اتوار کوخصوصی طور پر بھیجے گئے ایک بیان میں کیا جس میں کہا گیا کہ یہ رپورٹس بدقسمتی سے، ایرانی حکومت کی طرف سے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیاد پر تشدد کے ہولناک استعمال سے مطابقت میں ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ 31 سالہ آرزو بدری 22 جولائی کو شمالی ایران کے صوبہ مازندران میں اس کے بعد جزوی طور پر مفلوج ہوگئی تھیں جب کار چلانے کے دوران پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔
وہ اپنی بہن کے ہمراہ تھیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ کہ بدری پر فائرنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ (ایرانی) حکومت نے امینی کے المناک اور بے حسی پر مبنی قتل کے بعد کے دو برسوں میں کچھ نہیں سیکھا، اور یہ کہ حکومت کا خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن مسلسل جاری ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ پولیس نے بدری کی گاڑی پر اس لئے فائرنگ کی تھی کیونکہ اس نے روکنے کے احکامات کو نظر انداز کیا تھا۔
سر گرم کارکنوں نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے بدری پر اس لیے گولی چلائی کیوں کہ گاڑی میں حجاب پہننے سے ان کے انکار پر اس کی گاڑی ضبط کرنے کا حکمدیا گیا تھا۔ایرانی حکام نے رواں سال اس اسلامی قانون پر عمل درآمد کو سخت کر دیا ہے جس کے تحت خواتین اور لڑکیوں کو عوامی مقامات پر، یہاں تک کہ گاڑی کے اندر بھی اپنے بالوں کو حجاب سے ڈھانپنے کا تقاضا کیا گیا ہے۔
اس قانون پر عمل درآمد سے متعلق ایران کی اخلاقیات کے امور سے متعلق پولیس نے ستمبر 2022 میں ایک اور نوجوان خاتون مہسا امینی کو حراست میں لیا اور اس پر حملہ کیا تھا، جس کی حراست میں موت نے ایرانی حکمرانوں کے خلاف مہینوں کے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا تھا۔ایرانی عدلیہ کے ایک ترجمان نے 20 اگست کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گولی چلانے والا زیر حراست اور زیر تفتیش ہے ،لیکن اس نے اس واقعے میں حجاب کے مینڈیٹ کے نفاذ سے کسی تعلق سے انکار کیاہے۔
ایرانی حکومت نے گزشتہ ہفتے بدری کی شوٹنگ پر غم و غصے کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ایران کی سرکاری نیوز سائٹ تسنیم نے 19 اگست کو ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں بدری کو تہران میں اسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے۔تسنیم کی ویڈیو میں، ایک نامہ نگار بستر پر لیٹی بدری سے مائیکروفون پر پوچھتی ہیں کہ کیا وہ بہتر محسوس کر رہی ہے اور ٹھیک ٹھاک کھا رہی ہیں، اور وہ کئی مختصر جوابات اثبات میں دیتی ہیں۔
Like this:
Like Loading...