Skip to content
عورت گھر کی زینت نہ کہ بازار کی رونق
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
عورت کا لفظ ہی عزت وعظمت اور قدر وقیمت کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ عورت کے معنی ہیں وہ چیز جس کے بے پردہ ہونے سے شرم آئے ،عورت کے باپردہ رہنے میں نہ صرف اس کی عزت وعظمت ہے بلکہ اس کی عزت کی برقراری میں اس کے ساتھ وابستہ تمام لوگوں کی بھی عزت وعظمت ہے ،عورت اگر بیوی ہے تو اس کی عزت میں اس کے شوہر کی عزت ہے،اگر وہ بیٹی ہے تو اس کی عزت میں اس کے باپ کی عزت ہے ،اگر عورت بہن ہے تو اس کی عزت میں اس کے بھائی کی عزت ہے اور اگر وہ ماں ہے تو پھر اس کی عزت میں اس کے اولاد کی عزت پوشیدہ ہے،اسی لئے کہاجاتا ہے کہ عورت کا ہر روپ قابل احترام اور باعث عزت وشرف ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت نبی رحمتؐ نے عورت کا مقام ومرتبہ اور اس کے تقدس کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے ، اسلامی احکامات اور اس کی تعلیمات میں جابجا صنف نازک کا مقام ومرتبہ صاف طور پر دکھائی دیتا ہے ۔
اسلام نے صنف نازک کو وہ عزت وعظمت اور وہ بلندی وشوکت عطا کی جس کا دوردور تک تصور ممکن نہیں ، اسلام نے بتایا کہ اگر مرد کوصنف قوی کا درجہ حاصل ہے تو عورت کو صنف نازک کارتبہ حاصل ہے، مرد طاقتور ہونے کی وجہ سے گھر کا نگران اورمعاش کا ذمہ دار ہے تو عورت مجسم محبت و شفقت ہونے کی وجہ سے گھر کی محافظ اور بچوں کی پرورش کی ذمہ دار ہے، زمانۂ قدیم اور دور جاہلیت میں مرد خود کو برتر اور عورت کو کم تر تصور کرتا تھا ،اسی وجہ سے عورتوں کا استحصال ہوتا تھا، اس کی پیدائش کو منحوس سمجھاجاتا تھا، پیدا ہوتے ہی اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا ، کھلونہ سمجھ کر اس کی زندگی سے کھلواڑ کیا جاتا تھا ،کسی سامان کی طرح اسے خریدا اور بیچاجاتا تھا،گھر میں باندی بناکر کام لیا جاتا تھا، شمع محفل بنا کررقص وسرور کی محافل سجائی جاتی تھیں ،شوہر کے مرنے پر اسے بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا تھا لیکن اسلام نے جاہلیت کی تمام رسموں کو دفن کر دیا اور بڑی قوت سے کہا کہ اگر مرد باپ ، بیٹا ،بھائی اور شوہر ہے تو عورت بھی ماں، بیٹی بہن اور بیوی ہے، اگر یہ نہ ہوں تو مرد کی زندگی ادھوری ،اس کا گھر بے رنگ اور اس کی شخصیت نامکمل ہے۔
اسلام نے عورت کا رتبہ بتایا ،اس کی ہمہ جہت صلاحیتوں سے واقف کرایا ،اس کی بے شمار خوبیوں کو اجاگر کیا اور اس کو وہ مقام عطا کیا جس کی وہ مستحق تھی ، عورت کے متعلق جاہلیت کے تمام تصورات کو کالعدم قرار دے کر اسے عدل وانصاف کے منافی قرار دیا ، اسے عورت کے ساتھ ظلم وزیادتی سے تعبیر کیا، اسلام نے عورت کو عزت وعظمت کاجو لباس عطا کیاہے اس کے ذریعہ اس کے مقام ومرتبہ کا اظہار ہوتا ہے، مردوعورت دراصل ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں ،ان میں ایک دوسرے کو برابری کا درجہ حاصل ہے ، اور مرد وں کو عورتوں پر جو قوام بنایا گیا ہے یہ درحقیقت ان کی ساخت وبناوٹ ،قوت وطاقت اور صنفی نزاکت کا لحاظ کرکے کیا گیا ہے ، اس سے بھی عورت ہی کی عظمت اجاگر ہوتی ہے کہ اسے عزت کے ساتھ شمع خانہ بناکر اس کے نان نفقہ اور عزت وعصمت کے تحفظ کی ذمہ داری مردوں کے کندھوں پر ڈالی گئی ،عورت کے ساتھ ظلم وزیادتی ، جبر وتشدد اور اس کے حقوق ضائع کرنے والے موجب عتاب ہیں ،اس کی عزت وعصمت پر ہاتھ ڈالنے والے درندے، اس پر ناپاک نظریں ڈالنے والے شیطان کے کارندے اور اس سے حق زندگی چھیننے اور پیداہوتے ہی ماردینے یاپھر مادر رحم ہی میں ختم کردینے والے شقی اور بد بخت ہیں ،قیامت کے روز ان سے سخت باز پرس ہوگی اور انہیں سخت ترین عذاب سے دوچار کیا جائے گا ، قرآن مجید میں ہے :و إِذَا الْمَوْؤُودَۃُ سُئِلَتْ 0بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ (التکویر:۸،۰) ’’اور جب زندہ دفن ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس گناہ اور کس جرم کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا‘‘ ، عورت کے مقام ومرتبہ کا اندازہ اسلام کے اس حکم سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس طرح مرد کے بدلے قصاصاً مرد کو قتل کرنے کا حکم ہے اسی طرح عورت کے بدلے بھی مرد کو قصاصاً قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے :مرد اگر عورت کو قتل کردے تو اس کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے گا(سنن الکبریٰ للبیہقی)۔
اسلام نے عورت کی ذات کو سرتاپا محترم اور معظم گردانہ ہے، اسی وجہ سے اسے پردہ کا حکم دیا ہے کہ کسی درندہ صفت کی نگاہ خبیث اس پر پڑنے نہ پائے ،ایک طرف عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پردہ کریں تو دوسری طرف مردوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نظروں کو جھکائے رکھیں ، اجنبی عورت پر نظر اٹھاکر دیکھنا باعث گناہ اور کسی پاک دامن پر تہمت لگانا موجب سزا ہے ، اگر کوئی پاک دامن عورت پر تہمت لگاتا ہے اور اپنی سچائی میں گواہ پیش کرنے سے قاصر ہے تو اس جرم میں اسے اسی کوڑے لگائے جائیں گے قرآن مجید میں ہے:وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَاء فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ(النور:۴)’’ اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو ،یہ فاسق لوگ ہیں ‘‘ ، اسلام ہی ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں قابل عظمت قرار دے کر اس کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کیا ہے اور اس کا حق ادا کرنے والے کو اجر عظیم کی خوشخبری دی ہے ، عورت اگر ماں ہے تو اس کی خد مت موجب جنت ہے ،اگر وہ بیٹی یا بہن ہے تو اس کی پرورش ،تعلیم وتربیت دخول جنت کا سبب ہے ،اوراگر وہ بیوی ہے تو اس سے محبت وخوش اخلاقی سے پیش آنے والے کے لئے ایمان کامل کی خوشخبری دی گئی ہے اور ایسے شخص کو بہترین شخص قرار دیا گیا ہے ، رسول اللہ ؐ نے ماں کی عظمت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے‘‘ ( شعب الایمان للبیہقی :۷۸۲۹)۔
رسول اللہؐ نے بیٹی کے متعلق ارشاد فرمایا’’جس شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہو،پھر وہ نہ تو اسے کوئی ایذا پہنچائے اور نہ اس کی توہین اور ناقدری کرے اور نہ محبت اور برتاؤ میں لڑکوں کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس لڑکی کے ساتھ حسن سلوک کے بدلے اس کو جنت عطا فرمائے گا‘‘ (:مسند احمد : ۱۹۵۷)،ایک حدیث میں آپ ؐ نے بیٹی اور بہن کی پرورش کے بارے میں ارشاد فرمایا ’’ اگر کسی کے تین لڑکیاں ہوں یاتین بہنیں ہوں یا دو لڑکیاں ہوں یا دو بہنیں ہوں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے ،ان کی ذمہ داری اٹھائے اور ان کی اچھی تربیت کرے اور پھر ان کا نکاح بھی کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے جنت کا فیصلہ ہے‘‘ ( ابوداؤد:۵۱۴۸) نیز آپؐ نے بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق ارشاد فرمایا ’’ تم میں بہترین خا وند وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو‘‘ (ترمذی:۳۸۹۴) ،یہ وہ احادیث ہیں جن سے عورتوں کی عظمت ورفعت اور ان کے مقام ومرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے، ان کے علاوہ ایسی بہت سی احادث ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ عورتوں کے مقام ومرتبہ ، ان کی عظمت ورفعت اور ان کے حقوق کوبڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔
رسول اللہ ؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے عظیم اور شاہکار خطبہ میں جہاں بہت سی اہم چیزوں کی طرف توجہ دلائی وہیں خصوصیت کے ساتھ عورتوں کے احترام کو اجاگر فرماکر ان کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ،ارشاد فرمایا: لوگو! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو اس لئے کہ ان کو تم نے خدا کی امانت بناکر حاصل کیا ہے (سیرت رسول کریمؐ :۱۳۶)،ایک موقع پر مردوں وعورتوں پر مشتمل قیدی آپؐ کی خدمت میں پیش کئے گئے ، ان میں ایک خاتون قیدی برہنہ سر تھی ، آپؐ نے اپنی چادر دے کر اسکے سر کو ڈھانکنے کا حکم دیا،کسی نے عرض کیا کہ یہ تو دشمن کی بیٹی ہے ؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا چاہے کسی کی بھی ہو بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے، آپ ؐ کا یہ جملہ عورتوں کی عظمت وتوقیر کو اجاگر کرنے کے لئے بہت کافی ہے ،زمانہ جاہلیت میں عورتوں کا بدترین استحصا ل کیا جاتا تھا ، ان کے مال ودولت پر جبراًقبضہ کیا جاتا تھا بلکہ باپ ،دادا ،شوہر وبھائی کے مرنے کے بعد انہیں میراث سے بھی محروم کر دیا جاتا تھا ،اسلام نے انہیں نہ یہ کہ ان کا حق دلایا بلکہ شریعت اسلامی نے میت کے مختلف رشتے داروں کے لئے جو حصے متعین کئے ہیں جنہیں اصحاف الفروض کہا جاتا ہے ،ان کی کل تعداد بارہ ہے ،ان میں سے آٹھ کا تعلق عورتوں ہی سے ہے اور بقیہ چار کا مرد وں سے ،اسلام نے عورتوں کے لئے پردہ کالزوم کرکے ان کی عزت وعفت کا تحفظ کیا ہے اور اس کے ذریعہ بازاری مردوں کی ہوس پرست اور آوارہ نگاہوں کے پڑنے سے بچایا ہے، بلاشبہ اسلام نے جس درجہ عورتوں کی عزت وعظمت،قدر ومنزلت ، احترام واکرام اور ان کے حقوق کا پاس لحاظ کیا ہے کسی اور مذہب میں اس کے عُشر عشیر کا تصور بھی نہیں ۔
اسلامی احکامات اور نبوی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کی ذات قابل قدر اور قابل تعظیم ہے ،اس کی عزت وعصمت پورے خاندان کی عزت وعصمت کے مماثل ہے،اس کی حیا و پاک دامنی اولاد کی تربیت کا زبر دست ہتھیار ہے ،اس لئے سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خصوصا عورت کی تعلیم و تربیت ، اخلاق وکردار اور حیا وپردہ پر خاص توجہ دیں اور اس کی شخصیت پر باریکی سے نظر رکھیں، ایسی نظر جو اس کے سنوار نے کا کام کرے ،جس طرح ہیرے جواہرات کی حفاظت کی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ اس کی حفاظت کریں ،یاد رکھیں ہیرے جواہرات آدمی کی صرف شان وشوکت بڑھاتے ہیں مگر صنف نازک کی حیا وپاک دامنی اس کے ساتھ اس کے پورے خاندان کی عزت ووعظمت کو بلندی عطا کرتی ہیں اور اس بات کو سبھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ عزت وعظمت کا درجہ شان وشوکت سے بہت بلند وبالا ہوتا ہے،افسوس کہ اس وقت مغرب کی غلامی و تقلید نے ہم کو اندھا بلکہ اپاہچ کردیا ہے ،دیگر چیزوں کے ساتھ عورت کے معاملہ میں بھی ہم نے وہی طرز اختیار کیا ہوا ہے جسے مغرب نے اپنے مفاد اور خواہشات کی تکمیل کے لئے رائج کیا ہے ، ہم بلا سوچیں سمجھیں ان کی نقل کرتے ہوئے اپنے نسل کو خراب کر رہے ہیں اور بے حیائی کو فیشن سمجھ کر وہ چیزیں اپنانے لگے ہیں جس کا کسی زمانے میں کم ازکم مسلم معاشرہ میں تصور کیا جانا بھی محال تھا،کہنے والوں نے بڑی اہم بات کہی ہے کہ ’’عورت گھر کی زینت ہے نہ کہ بازار کی رونق نیز عورت گھر کا چراغ ہے نہ کہ محفل کی شمع ‘‘،مگر عقل کے اندھوں نے اسے شمع محفل بناکر اسے اپنے ہاتھ کا کھلونا اور خواہشات کی تکمیل کا بچھونا بنادیا ہے ،مسلم معاشرہ کو خصوصا اس جانب توجہ کی ضرورت ہے اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کو ان مقام ومرتبہ سے واقف کرائیں اور انہیں مذہب اسلام نے جو عظمت عطا کی ہے اس سے واقف کرائیں تاکہ وہ اپنے مقام کو سمجھتے ہوئے ان چیزوں سے بچنے کی کوشش کریں گی جن سے اسلام نے انہیں منع کیا ہے اور جو ان کے لئے شرمندگی ورسوائی کا باعث ہے ،یقینا جب عورت اپنے مقام ومرتبہ سے واقف ہوجاتی ہے اور اس راستہ پر چلنے کی کوشش کرتی ہے جس سے اس عظمت ورفعت کو مزید بلندیاں عطا ہوتی ہیں تو پھر کوئی بھی شیطانی طاقت اسے اس کے مقام سے نیچے نہیں اتار سکتی اور نہ ہی کوئی درندہ صفت اسے اپنی ہوس کا نشانا بنا سکتا ہے ،اللہ کرے کہ عورت کو اس کا اپنا مقام سمجھ میں آجائے تا کہ وہ مکاروں کی مکاری سے محفوظ رہ سکے ۔
Like this:
Like Loading...