Skip to content
کامیابی کیلئےمحنت وثابت قدمی ضروری ہے۔آل انڈیاعلمابورڈ
حفظ قرآن کیساتھ دسویں کامیاب طلباءکےتقسیم ایوارڈ میں مقررین کااظہارخیال
ممبئی 31اگسٹ(محمد طفیل ندوی)
انسان اپنی تعلیم اور بلندی فکرکی بنیادپرایک عروج حاصل کرتاہےجودوسروں کیلئےایک نمونہ اورمعاشرہ کیلئےوجہ فخربنتاہے،دنیاآج ترقی کے منازل طے کررہی ہےاورجدیدٹیکنالوجی کےذریعےدنیاکومتعارف کرارہی ہے،اس میں تعلیم کا اہم کردارہے،جب ہم اپنےاسلاف واکابرین کیساتھ مفکرین کی خدمات اوران کی کامیابیوں کوپڑھتے ہیں توان میں یہ چیزیں نمایاں رہتی ہےکہ انہوں نےاپنی کامیابی کیلئے اپنے آپ کومکمل طورپروقف کردیاوقت کااستعمال انہوں نےایساکیاکہ وقت کو ان پررشک آنےلگااورکامیابیاں ان کی قدم بوسی کرنےلگی،
آج کایہ پروگرام جس میں آپ کوایک مختصرمگراہم انعامات سےنوازاجارہاہے،جس کااصل مقصدیہ ہےکہ آپ اپنے قدم اور اپنی نگاہوں کوتسلسل کیساتھ بلندی کی طرف بڑھائیے،تعلیم کےمعاملےمیں بالکل کوتاہی برداشت مت کیجیے،ذہن میں ایک خاکہ بنائیےاورخاکہ کوعملی جامہ پہنانےکیلئےرات ودن کوشش کیجیے،ہم سرسیدکوپڑھتےہیں،اےپی جےعبدالکلام کوپڑھتےہیں،قاسم ناناتوی کوپڑھتےہیں،حسین احمد مدنی کوپڑھتےہیں اورجوبھی شخصیات ہمارےمطالعہ میں ہیں وہ سب ایک فکر اور ایک خاکہ ومشن کے مطابق اپنی زندگی کوڈھالےہوئےتھے،
آپ بھی عزم کیجئےاوراس پروگرام سے ارادہ بنائیےکہ ہم اپنے وقت کوبہتراستعمال کریں گے،اورفضول کاموں کواپنی تعلیم سےددوررکھیں گے،ان خیالات کااظہارآل انڈیاعلماء بورڈ کی جانب سے تقسیم ایوارڈ میں علماءوقائدین نےکیامزیدمہمان خصوصی عالیجناب یوسف ابراہانی سابق ایم ایل اے نےکہاکہ اب یہ علوم دینیہ وعصریہ اجتماعیت کیساتھ ہمارےملک میں شروع ہوچکاہے،صحیح تویہی ہےکہ علوم میں تفریق نہیں ہے،اگرہم دیگر ممالک کاجائزہ لیں گےتوہمیں دیکھنےکوملےگاکہ جوحافظ یاعالم ہےوہ ساتھ میں ڈاکٹربھی ہے،
انجینئربھی ہے،توکوئی پروفیسربھی ہے،وہاں عام ہے،بڑی خوشی کی بات ہےکہ اب مدارس ہندیہ نےاس قدم کوتیزی کیساتھ عملی جامہ پہنایاہےجس کے نتائج ہمارےسامنےہیں،اس کیلئے آل انڈیاعلماءبورڈقابل مبارکبادہے،مہمانان اعزازی جناب ایم ایل اےامین پٹیل نےاپنی گفتگومیں کہاکہ آپ نےجوحاصل کیاہے وہ بہت قیمتی ہے،حفظ قرآن یہ تواتنابڑااعزازہےجس کی کوئی مثال نہیں،ساتھ میں آپ نےمثالی کرداراداکرکےیہ نمایاں قدم آپ نےپیش کیایہ اعزاز اوریہ ستائش اس کیلئےمختصرہےلیکن قابل مبارکبادہے،
اوریہ تعدادمیں مزید اضافہ ہونا چاہیےآج ساٹھ ہے،آئندہ سال چھ سورہےگایہ علماءبورڈسےمیراوعدہ ہے،اسی طرح نظام الدین راعین نےبچوں سےخصوصی طورپرکہاکہ آپ قیمتی ہے،آپ کی کوئی قیمت نہیں لگاسکتاآپ نےجوعلوم دینیہ وعصریہ کےسنگم کومضبوطی کیساتھ حاصل کیاہے، وہ قابل فخراورلائق تحسین ہے،آل انڈیا علماء بورڈ کے ترجمان بابائے تعلیم سلیم الوارے نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے ۲۰؍سالوں میں مدا رس کے طلبہ کیلئے عصری تعلیمی تقاضوں پر خصوصی توجہ دی گئی اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔
انہوں نے شاہین اکیڈمی سے لیکر رحمانی ۳۰؍و دیگر خصوصی کوچنگ اکیڈمیوں کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی اور حاضرین کو بتایا کہ مدارس اسلامیہ کے طلباء کس طرح برج کورس کے ذریعے میڈیکل، انجینئر نگ، بشمول آئی ٹی آئی میں داخلہ حاصل کر رہے ہیں حتیٰ کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق۵؍ طلباء نے سول سروس امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی جبکہ یہ طلباء اب دیگر تمام شعبوں کیلئے ہونیوالے مسابقتی امتحانات میں بھی کامیابی حاصل کر رہے ہیں
،جناب پرنسپل محمدطاہر شاہ نےکہاکہ یہ بڑی خوشی کی بات ہےکہ آپ نےحفظ قرآن کیساتھ دسویں میں کامیابی حاصل کی جویقینالائق تحسین ہے،اورآپ نےاپنی کامیابی کیساتھ قوم وملت کانام روشن کیاہےلیکن یہ ابھی آپ کیلئےایک زینہ ہے ،حالات کےتمام زینےکوحاصل کیجئے،اوراپنےعلم میں اثرورسوخ پیداکیجئےجتناوقت ملےاس کو تعلیم میں استعمال کیجیے،ناظم عمومی علامہ بنی حسنی نےکہاکہ بورڈ علوم عصریہ اور دینیہ کے فرق کو بھی مٹانے کی کوشش کرتا رہا ہے، عام طور سے ہمارے معاشرہ میں علوم عصریہ اور علوم دینیہ میں بہت تفریق کیا جاتا ہے
لیکن اس باب میں آل انڈیا علماء بورڈ نے اپنا یہ نظریہ پیش کیا کہ علم صرف علم ہے خواہ وہ کسی بھی شے کا ہو کسی بھی فن کا ہو کسی بھی زبان کا ہوہمارے ملک عزیز ہندوستان میں درس نظامی کا نصاب رائج ہے اور اس پر سب عمل پیرا ہیں یہاں کسی زمانہ میں علوم عصریہ کی کوئی گنجائش نہیں تھی لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وقت کے شدید جدید تقاضوں کو سمجھ کر ان حضرات نے بھی قدم بڑھایا ہے اب تقریباً تمام مدارس اسلامیہ میں بھی علوم عصریہ داخل نصاب ہے جہاں بچے کو حفظ و قرآن اور عالمیت و فضیلت کی تعلیم دیتے ہیں، وہیں وہ عصری تعلیم سے آراستہ کر کے طلباء کو دسویں کا امتحان دلاتے ہیں،آپ کے درمیان پورے مہاراشٹرا بورڈ سے ایس ایس سی پاس کر کے تشریف لائے ہوئے طلباء موجود ہیں،
جنہوں نے حفظ قرآن اور عالمیت کیساتھ میٹرک کی بھی تعلیم حاصل کی ہے، اور اچھے نمبرات سےکامیاب بھی ہوئے ہیں،مولانازاہد نےکہاکہ ہماری یہ ایک فکراورتحریک تھی کہ مدارس کےطلباءحفظ قرآن کیساتھ علوم عصریہ میں بھی اپنی کامیابی حاصل کریں اوردنیاکوایک مثبت پیغام دیں جو یقیناآج خوشی کا مقام ہے آپ اپنی تعلیمی مشن جاری رکھیں محنت کریں،حالات آئیں تواس سے گھبرائیں نہیں بلکہ ثابت قدم رہ کرحالات کواپنی کامیابی سے جواب دیں،وقتافوقتااساتذہ کےمشورہ سےاچھی کتابوں کامطالعہ کریں اوراپنےذہن ودماغ میں ایک وسعت لائیں،
اورکہیں بھی رہ کر تعلیم حاصل کریں تو اپنےاسلامی افکاروشناخت کوباقی رکھیں،مفتی محمدسفیان ونو نے تمام طلباءکومبارکبادپیش کرتےہوئےکہاکہ اپ کسی سے مرعوب مت ہوئیے،اپنےاندرقابلیت پیداکیجیے،آپ اس وقت ایک طالب علم ہےمگرمستقبل کیلئے آپ آئیڈیل ونمونہ ہے،آپ کواگےچل کر قوم وملت کی باگ ڈور سنبھالنی ہے،جب آپ اس وقت اپنی تعلیم پرزوردیں گے،حالات سے مقابلہ کریں گے،وقت کااستعمال صحیح کریں گے،توعوام آپ کو آئیڈیل ونمونہ بنائےگی،وقت قیمتی ہےاور اس کااستعمال اس سے زیادہ قیمتی ہےآپ اپنی محنت وفکرسے اپنےآپ کو قوم کیلئے خوش قسمت بنائیے،
ان کےعلاوہ مولاناثابت علی نقشبندی،مولانابسن پالنپوری ،ڈاکٹرعبدالقادربھیونڈی،محترم عابدسر ودیگرحضرات نےبھی اپنے خیالات پیش کئے،واضح رہے کہ آل انڈیاعلماءبورڈنےایک ماہ قبل اخبارات وسوشل میڈیامیں اعلانات کیساتھ ایک فارم جاری کیاتھاجس میں ان طلباء نےاس کومکمل کرکےاپنےنام کااندراج کرایایہ بورڈ کی طرف سےپہلاقدم ہے،تقریبا۶۰؍طلباءکوسند،بیگ،اورٹرافی دی گئی،اوراس عزم کیساتھ یہ اعزاز واکرام ہرسال علمائے کرام وزعماءوقائدین کی رہبری وسرپرستی میں کیاجائیگامزیدآپ اپنے قیمتی مشوروں اور اپنی رائےسےبورڈکی رہنمائی کرسکتےہیں،
اس پروگرام کاآغازرئیس القراءحضرت قاری بدرعالم صاحب کی تلاوت سےہوا،نعت ومنقبت مولانارستم عادل قاسمی نےپیش کی،نظامت کےفرائض مولانا شاہ امان اللہ ندوی نےانجام دی،پروگرام کی صدارت مولانانوشاداحمدصدیقی صدرآل انڈیاعلمابورڈ نےکی،اخیرمیں مفتی حشمت اللہ صاحب کی دعاءپروگرام اپنے اختتام کوپہونچااس پروگرام میں مفتی محمدانصارقاسمی،مولاناانصارالحق قاسمی،مفتی توقیرعالم قاسمی،مولانامحمدذاکرقاسمی،عالیجناب محمودالحسن حکیمی انجمن باشندگان بہار،مختارصاحب غوری،جناب سلیم سپاری والا،محترم جنیدپٹیل ،مولانامحمد رضوان قاسمی،مولاناوصی احمدقاسمی،مولاناانوارالحق قاسمی،محترم سیدفرقان،محترم خلیل احمدودیگرسیاسی،علمی وفکری شخصیات نےشرکت کرکےان تمام کامیاب طلباءکی حوصلہ افزائی کی ۔
Like this:
Like Loading...