Skip to content
غلطی ہوا اور بحریہ کی ، معافی مودی اور اجیت کی ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر میں شیواجی مجسمہ کے انہدام کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ نے تیز ہوا اور نائب وزیر اعلیٰ نے بحریہ پر ڈال دی لیکن وزیر اعظم نے معافی مانگ کر ذمہ داروں کو سزا دینے کا اعلان کردیا ۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے یا ان کی سرکار نے اگرکسی غلطی کا ارتکاب کیا ہی نہیں تو وزیر اعظم معافی کیوں مانگ رہے ہیں؟ خود کو اوتار اور غیر طبعی سمجھنے والے کا شیواجی کو اپنا دیوتا سمجھنے چہ معنیٰ دارد ؟ نیز سزا کس کو دیں گے؟ طوفانی ہوا کو کیسے اور کون سی سزا دی جائے گی ؟کیا ان کے اندر بحریہ کو سزا دینے کی جرأت ہے؟ مودی کی معافی نے مہاراشٹر سرکا رکے جھوٹ کا مجسمہ ڈھا دیا ۔ وہ لوگ اگر شروع میں ہی تسلیم کرلیتے کہ حادثہ کا سبب بدعنوانی ہے تب تو معافی اور سزا والی بات قابلِ فہم تھی مگر پھر یہ سوال پیدا ہوتا کہ اس بدعنوانی کے لیے ذمہ دارکون ہے؟ کس نے کمیشن کھایا ؟ حکومت اسے روکنے میں ناکام کیوں ہوئی ؟ مودی کی معافی نے اپنی چوری کو چھپانے کے لیے ہوا اور بحریہ کو بلی کا بکرا بنانے والوں کا کھیل بگاڑ دیا ۔ ریاستی انتخاب کے بعد اگریہ واقعہ رونما ہوتا یا الیکشن میں کامیابی یقینی ہوتی تو مودی آسانی سے معافی تلافی پر آمادہ نہیں ہوتے مگر پارلیمانی انتخاب کے بعد وہ مہاراشٹر میں ہارنا نہیں چاہتے لیکن چاہنے سے کیا ہوتا ہے بقول غالب ؎
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
مہا وکاس اگھاڑی پر مودی کی معافی کا کوئی انہیں ہوا اور وہ یکم ستمبر کواحتجاجی جلوس کے فیصلے پر قائم و دائم رہی ۔ یہ جلوس مہاراشٹر کے قیام خاص طور پر سابقہ بامبے اسٹیٹ سے کوکن ،تھانے اور پالگھر سمیت ممبئی شہر کو الگ کرکے لیے مہاراشٹر میں شامل کرنے کی خاطر جدو جہد کرتے ہوئے جان گنوانے والے مظاہرین کی یاد میں تعمیر شدہ ہوتاتما چوک سے نکل کر گیٹ وے آف انڈیا پرواقع شیواجی کے قدیم مجسمہ تک گیا ۔ مذکورہ بالا احتجاج کے لیے بلائی جانے والی پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ریاستی حکومت کے ساتھ مرکزی سرکار اور وزیر اعظم کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت کا یہ دعویٰ کہ 35 فٹ بلند مجسمہ تیز ہواؤں کے باعث گر گیا، بے شرمی کی انتہا ہے۔ راجکوٹ فورٹ میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے کارکنوں اور بی جے رکن پارلیمان نارائن رانے کے حامیوں کے درمیان تصادم کا حوالہ دے کرادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جن لوگوں نے مالون میں شیواجی مہاراج کی مورتی کے انہدام کے خلاف ایم وی اے کے احتجاج میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں وہ چھترپتی کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کو چھترپتی شیواجی سے کوئی محبت نہیں ہے۔
شیو سینا ( ادھو ) کے ترجمان سنجے راؤت نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے استعفیٰ کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مغلوں نے مہاراشٹر پر کئی بار حملہ کیا لیکن انہوں نے بھی چھترپتی کی اتنی توہین نہیں کی جتنی اس حکومت نے کی ہے۔ انہوں نےکہا کہ پورے ملک نےاس رسوائی کودیکھاہے۔ پریس کانفرنس میں شرد پوار نے کہا کہ ریاستی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں سکتی۔ انہوں نے بی جے پی کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس واقعہ کے لیے موجودہ سرکار کے اندر بامِ عروج پر پہنچی ہوئی بدعنوانی کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ اس موقع پر مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے یاد دلایا کہ مجسمہ کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع، اور وزیر اعلیٰ نے شرکت کی تھی۔ پٹولے نے الزام لگایا کہ یہ شیواجی مخالف لوگ ہیں۔ شیواجی مہاراج کی مانند ٹوپی پہناکر مودی کا موازنہ شیواجی سے کرنا دراصل مہاراشٹر کی توہین ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے صدرنے شیواجی مہاراج کی اس بےحرمتی پر ریاستی سرکار کے ساتھ مرکزی حکومت کے خلاف بھی ایف آئی درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ شندے، نائب وزیر اعلیٰ فڈنویس اور پی ڈبلیوڈی محکمے کے وزیر کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کیا جائے۔
نانا پٹولے نےاس سے قبل کہا تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے موقع پر شیواجی مہاراج کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کی جلدی میں وزیر اعظم مودی نے اس مجسمے کا افتتاح کیا تھا۔ مودی نے پارلیمنٹ کی جس نئی عمارت کا افتتاح کیا اس میں دراڑیں پڑگئیں اور وہ رسنے لگی ، ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح کیا ، مندرٹپکنے لگا، سمردھی ہائی وے کا افتتاح کیا اس میں دراڑ پڑ گئی اور حادثات ہونے لگے ، عوام کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے جس کام کا افتتاح مودی کرتے ہیں وہ بگڑ کیوں جاتاہے؟ کانگریس اور این سی پی نے اس سانحہ کا فائدہ اٹھانے کی خاطر ریاست بھر میں احتجاج اور مظاہروں کی جھڑی لگا دی اور الگ الگ مقامات پر دھرنے دے کر نعرے بازی کی لیکن شندے اور فڈنویس لیپا پوتی کرتے رہے ۔ ایسے میں مہاراشٹر کے ڈپٹی وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے معافی مانگ کر سب کو چونکا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ مہاراشٹر کے 13 کروڑ عوام سے معافی مانگتے ہیں۔ چھترپتی شیواجی مہاراج ان کے بھگوان ہیں اور ایک سال کے اندر ان کی مورتی کا اس طرح گر جانا سب کے لیے صدمہ ہے۔ اپنی جن سماّن یاترا کے دوران اجیت پوار نے قصورواروں کے خلاف کارروائی میں اہلکاروں یا ٹھیکیداروں کی بات کی مگر سیاستدانوں کو نظر انداز کر دیا۔
یہ عجیب صورتحال ہے کہ ایک نائب وزیراعلیٰ ( اجیت پوار) معافی مانگ رہاہے ہیں اور دوسرا نائب وزیر اعلیٰ (دیویندر فڈیس) سانحہ کی تصاویر کو شیئر نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اپوزیشن سے اس پر سیاست نہ کرنے کی اپیل کررہاہے۔اس سے بڑی مضحکہ خیز بات یہ ہے وزیر اعظم اپنی پارٹی کے نایب کو چھوڑ کر اس کے ساتھ کھڑا ہے جو کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ کر جاسکتا ہے۔ مہاراشٹر سرکار کی حلیف این سی پی (اجیت) کے رکن اسمبلی امول مٹکری تصویر شیئر کرکے حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔ اس صورتحال نے مہا یوتی کے اندر اس واقعے کے سبب رونما ہونے والے کنفیوژن اور ناراضی کو ظاہر کردیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے گری راج پر جو شرمناک بیان دیا تھا اس کی بھی مٹکری نے دل کھول کر تنقید کی تھی۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے دیویندر فڈنویس نے اس کوتاہی سےاپناپلہ جھاڑتے ہوئے بےحیائی کے ساتھ ایکس پر لکھا ’’ یہ مجسمہ مہاراشٹر حکومت نے نہیں بلکہ ہندوستانی بحریہ نے نصب کیا تھا۔ جن لوگوں کو اس مجسمے کو تیار کرنے کا کام دیا گیا تھا انہیں اس بات کا اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ وہاں کس رفتار سے ہوائیں چلتی ہیں۔ ‘‘ احمق نائب وزیر اعلیٰ بھول گئے کہ اندازوں سے سیاست چلتی ہے مجسمہ نہیں بنتا ۔ اس کے لیے تحقیق و تفتیش کی جاتی ہے لیکن جہاں رشوت کا بول بالا ہو وہاں اسی طرح گھپلے بازوں کا منہ کالا ہوتاہے۔
دیویندر فڈنویس اب نئے سرے سے اس جگہ نیا مجسمہ نصب کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن اس میں بھی اگر بدعنوانی ہوئی تو اس کو ٹوٹنے سے کوئی بھی بچا نہیں سکے گا ۔ تصویریں شیئر کرنے کی سیاست کوبے حیائی کہنے والے نائب وزیر اعلیٰ کواین سی پی ( اجیت) کے نوجوان رکن اسمبلی امول مٹکری نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے لکھا ’’ مہاراج ! معاف کر دیجئے۔ کس منہ سے معافی مانگی جائے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ جس بادشاہ نے مہاراشٹر کی تاریخ کو ایک روشن باب عطا کیا اس کا مجسمہ یوں ڈھیر ہو جائے؟ ‘‘ آگے مٹکری نے حکومت پر یہ کہہ کر طنز کیا کہ ’’ کہا جا رہا ہے کہ اور بڑا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ لیکن جس ٹھیکیدار کو کانٹریکٹ دیا گیا تھا اس کی لیاقت کیوں نہیں معلوم کی گئی ؟یہ تصویر تکلیف دہ ہے، لاچاری کی ہے۔ کس منہ سے معافی مانگی جائے؟‘‘ وزیر تعلیم دیپک کیسر کر نے بھی کہا کہ مجسمہ مہاراشٹر حکومت نہیں بلکہ ہندوستانی بحریہ نے لگایا تھا۔
کیسرکر نے مجسمے کے گرنے میں ایک خیر کا پہلو نکالا کہ یہ اچھا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمیں وہاں اور بڑا مجسمہ وہاں نصب کرنے کا موقع ملا ہے۔ اسی بات کووزیر اعظم’ آپدا میں اوسر‘ یعنی’ مشکل میں موقع ‘ کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ کیسرکر مستقبل کے بڑے مجسمے کا افتتاح کرنے کے لیےبھی وزیر اعظم کو بلانے کے خواہشمند ہیں تاکہ پھر سے رشوت کھا نے کا موقع ملے اورمجسمے بننے بگڑنے کا سلسلہ جاری و ساری رہے۔ سنجے راوت نے پتلے کے بنانے اور ٹوٹنے کی ذمہ داری بحریہ پر ڈالنے والے کیسرکر کے بیان کو شرمناک ٹھہراکر انہیں اس غیر ذمہ دارانہ بیان کے سبب جوتے سے مارنے کی بات کی مگر سوال یہ ہے کہ اس کارِ خیر کو کون کرے گا؟ عوام جوتا تو نہیں مگر ووٹ سے اس سرکار کو مار کر گرا سکتے ہیں بشرطیکہ آئندہ تین ماہ تک یہ یاد تازہ رہے نیز شیواجی کی محبت پر ماہانہ وظیفہ کا احسان غالب نہ آجائے ۔ اس معاملے میں موجودہ بی جے پی سرکار کے احمقانہ بیانات اور قلابازیوں کے بعد وزیر اعظم کی معافی نے اسے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کے ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں میر تقی میر کا یہ شعرلکھا ہے؎
بے دماغی بے قراری بے کسی بے طاقتی
کیا جیے وہ جس کے جی کو روگ یہ اکثر رہیں
Post Views: 18
Like this:
Like Loading...