Skip to content
رہنماؤں، رقم اور ہتھیاروں کی منتقلی: حوثیوں کے یمنی ایئر لائنز کے استعمال پر انتباہ
صنعاء، 3ستمبر ( آئی این ایس انڈیا)
’’پلیٹ فارم فار ٹریکنگ آرگنائزڈ کرائم اینڈ منی لانڈرنگ ان یمن‘‘ (P.T.O.C) نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خطرات سے خبردار کیا ہے کہ گروپ یمنی ایئر لائنز کا منظم طریقے سے اہم سیاسی رہنماؤں، رقم اور فوجی سازوسامان کو یمن لانے اور یہاں سے لے جانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس عمل سے یمن اور خطے کے ملکوں کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔پلیٹ فارم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ عالمی دہشت گرد گروپ کے طور پر قرار دئیے گئے حوثیوں کی جانب سے یمنی ایئرلائن کے چار طیاروں کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ان طیاروں کو گذشتہ جون میں صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر استعمال کیا گیا تھا تاکہ حوثی رہنماؤں کی روانگی میں آسانی ہو۔ حوثی رہنما دارالحکومت صنعا سے سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحاد کے مخالف ممالک کے دارالحکومتوں تک جاتے ہیں۔
اس پلیٹ فارم نے سکیورٹی، ملٹری اور انٹیلی جنس سروسز سے منسلک 300 سے زائد حوثی رہنماؤں کی منتقلی کی نگرانی کی اور صنعاء سے مختلف ممالک کو خفیہ سکیورٹی، فوجی اور انٹیلی جنس مشنز انجام دینے کے لیے بلیک لسٹ کیا گیا۔ یہ صورت حال خطے کے ملکوں کے لیے خطرہ پیدا کر رہی ہے کہ حوثی ان کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔یمنی ایئر لائنز کے ذریعے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کی جانب سے رہنماؤں کی منتقلی اور بیرون ملک نجی کھاتوں میں رکھی گئی بڑی رقم کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کی منتقلی کی جارہی ہے۔ یمن میں ایرانی اور عراقی ماہرین کا داخلہ اور خارجہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح صنعاء میں نئے ایرانی سفیر علی محمد رضائی پہنچے اور انہوں نے جمال عامر کو اپنی اسناد پیش کیں۔
انہیں حوثیوں نے 27 اگست کو وزیر خارجہ اور غیر ملکی مقرر کیا تھا۔پلیٹ فارم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمنی ایئرلائنز کے ذریعے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے راستے روانہ ہونے والی شخصیات میں حوثی رہنما کے چچا عبدالعظیم الحوثی بھی شامل ہیں جو عراق روانہ ہوئے تھے۔ اسی طرح یمن کے مفتی شمس الدین شرف الدین اور گروپ میں کئی اہم سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے افراد بھی شامل تھے۔یمن میں منظم جرائم اور منی لانڈرنگ کا سراغ لگانے کے پلیٹ فارم نے ان مجرمانہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے جو یمن اور پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پلیٹ فارم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
Like this:
Like Loading...