Skip to content
محسن ِ انسانیتؐ کا انسانوں پر احسان
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت ،رہنمائی ،رہبری اور پیغام الٰہی ان تک پہنچانے کے لئے انہیں میں سے اپنے برگزیدہ منتخب بندوں کا انتخاب فرمایا ،قرآن کریم میں انہیں انبیاء اور رسول کہا گیا ہے ، سیدنا آدمؑ کو جہاں سب سے پہلے انسان ہیں وہیں سب سے پہلے پیغمبر بھی ہیں ،پیغمبروں کی برگزیدہ جماعت کے پہلے فرد سیدنا آدم ؑ ہیں اور آخری فرد سیدنا محمد مصطفیٰ ؐ ہیں ،آپؐ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے ،آپؐ آخری نبی ورسول ہیں ،آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی ورسول مبعوث نہیں ہوگا اور جو کوئی نبوت ورسالت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور کذاب کہلائے گا،قرآن وحدیث میں بڑی صراحت کے ساتھ آپؐ کے خاتم النبی ہونے کو بتلادیا گیا ہے اسی وجہ سے اہل علم ختم نبوت کو ایمان کا جزو بتلایا ہے اور اس کا انکار کفر میں داخل ہے ۔
تاریخ انسانی گواہ ہے کہ آپؐ کی تشریف آوری سے پہلے پوری دنیا کفر وشرک میں مبتلا ہو چکی تھی ،انسانوں نے اپنے لئے طرح طرح کے معبود بنالئے تھے ،انسان بھلے برے کی تمیز کھو چکاتھا،کسی کا خدا چاند وسورج تھا تو کسی کا خدا دریا وسمندر تھا تو کسی کا خدا شجر وحجر تھا، دنیا چاروں طرف سے ظلم وجور کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی بلکہ دنیا ظلمت کدہ میں تبدل ہو چکی تھی ، انسانوں سے تقریبا انسانیت ختم ہوچکی تھی ،درندگی وحیوانیت عروج پر تھی، طاقتور انسان کمزو ر انسان پر ظلم کرتا تھا ،انسانوں کو بیچا اور خریدا جاتا تھا ،شرم وحیا دم توڑ چکی تھی ، طرف قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا،جنگ وجدال روز کا معمول بن چکا تھا ، صنف نازک کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر ظلم کیا جاتا تھا ،ان معصوموں کی پیدائش کو منحوس اور عار سمجھاجاتا تھا اسی وجہ سے انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں دفن کردیا جاتا تھا ، چہار سو ابلیسی اور طاغوطی لشکر دندناتے پھر رہے تھے ، انسان انسانیت کی سطح سے نیچے گر چکا تھا ،انسانیت نوحہ کناں اور ماتم زدہ تھی ، چنانچہ تاریخ لکھنے والوں نے اس زمانہ کو بدترین زمانہ قرار دیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ تاریخ نگاروں نے اس زمانہ کو دور جاہلیت کا نام دیا ہے اور جہالت بھی اس قدر خطرناک کے جس سے جہالت بھی شرماجائے اور پناہ مانگیں ۔
ایسے نازک ترین حالات میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر رحم وکرم فرمایا اور اپنے حبیب ومحبوب اور آخری پیغمبر کو مبعوث فرماکر پوری انسانیت پر احسان عظیم فرمایا ، چنانچہ آپؐ پوری دنیا کے لئے محسن ورحمت بن کر تشریف لائے ،آپ ؐ کی تشریف آوری سے تاریکی کے بادل چھٹ گئے ،ظلم وجور کا خاتمہ ہوا ،انسانوں کو ان کا مقام حاصل ہوا،عورتوں کو عزت وعظمت ملی ،مظلوموں کے ساتھ انصاف ہوا، ظالموں کو سزائیں ملی ، پوری دنیا کو امن وچین عطا ہوا اور انسانیت کو عزت و شرافت حاصل ہوئی، کفر وشرک کا تلسمی ٹوٹ گیا اور دم توڑ تی ہوئی انسانیت کو حیا نو حاصل ہوئی ،محسن انسانیتؐ نے دنیا کو خدائی احکام و فرمان سے روشناس کرایا اور اپنی بے مثال وبے نظیر تعلیمات سے لوگوں کو جینے کی راہ دکھائی ،دنیا کو امن و امان ،اطمینان و سکون کا پیغام دیا،دنیا کی تخلیق اور اس میں انسانوں کے بسائے جانے کے مقصد کو واضح کیا ، محسن انسانیت ؐ اپنی انسانیت نواز اور رحمت بھری تعلیمات سے انسانوں کو مکمل رہبری ورہنمائی فرمائی ، عبادات ہو یا معاملات ،اجتماعی ہو یاانفرادی،عایلی ہو یا معاشرتی ،جلوت ہویا خلوت، شہری ہو یا ملکی ،عالمی ہویا آفاقی غرض یہ کہ انسانی زندگی کے کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا ،نبی ٔ رحمت ؐ نے بتایا کہ آدم ؑ پہلے انسان ہیں اور سارے انسان انہی کی اولاد ہیں ،کسی گورے کو کالے پر ،مالدار کو غریب پر ،عربی کو عجمی پر ، آقا کو غلام پر اور بادشاہ کو عامی پر ہرگز فوقیت حاصل نہیں مگر نگاہ خداوندی میں و ہی شخص محترم ومکرم ہے جو اس سے ڈرتا ہے اور اس کی مرضی پر چلتا ہے،انسانیت کا احترم بہت بڑی چیز ہے ،ظلم زیادتی کرنے والے ،زمین میں فساد برپا کرنے والے اللہ کی نظر میں مبغوض ہیں ،ماں باپ کی خدمت بڑی عبادت ہے ،رشتہ دار وں کے ساتھ صلہ رحمی باعث اجر ہے ،اہل تعلق اور پڑوس سے اچھا برتاؤ ایمان کا حصہ ہے ،غریب ومسکین ،بیوہ ویتیم کی مدد ونصرت بہت بڑی خدمت ہے ، نبی ٔ رحمت ؐ نہ صرف انسانوں کے ساتھ تعلق ،ہمدردی اور مددونصرت کی تعلیم دی بلکہ حیوانات کو تکلیف دینے اور نباتات کو بے ضرورت کاٹنے اور ضائع کرنے سے منع فرمایا ۔
محسن انسانیت ؐنے عام انسانوں کے علاوہ ،ملکی ،شہری اور پڑوسی سے لے کر جملہ رشتہ داروں تک کے حقوق بتائے ہیں، محسن انسانیتؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ میں انسانی حقوق اور احترام انسانیت کی طرف جس انداز میںتوجہ دلائی وہ تمام انسانوں کیلئے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے ،ارشاد فرمایا :’’ اے لوگو! تم سب کا پروردگار ایک ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک ہی ہے ،خبر دار ! کسی عربی کو عجمی پر برتری حاصل نہیں اور نہ کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے اور نہ کالے رنگ والے کو گورے رنگ والے پر اور نہ سرخ رنگ والے کو کسی کالے رنگ والے پر فوقیت حاصل ہے ،سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے‘‘ ( مسند احمد:۲۴۲۰۴) ،ماں باپ کے حسن سلوک کے متعلق آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : نیکیو ں میں سب سے جلدی ثواب صلہ رحمی اور ماں باپ کے حسن سلوک پر ملتا ہے (ابن ماجہ) رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کے عمر میں اضافہ کیا جائے تو اسے چاہیے کہ رشتہ داروں کو جوڑے رکھے (بخاری) یتیموں کے متعلق آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں دونوں اس طرح ساتھ ہوں گے جیسے شہادت اور بیچ کی انگلی(بخاری)بیوہ اور مسکین کی مددونصرت کرنے کی فضیلت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: بیوہ اور مسکین کی مدد کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے اور رات میں مسلسل نماز پڑھنے والے اور دن میں مسلسل روزے رکھنے والے کی طرح ہے (بخاری) ،پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے( مسلم)ایک دوسری حدیث میں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں کو جنت کی بشارت اور ان کے ساتھ بُرا سلوک کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے (مشکوٰۃ ) ،چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ احترام واکرام کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے(ترمذی) ، محسن انسانیت ؐ نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ صنف نازک کو بلند وبالا مقام عطا کیا ،انہیں وہ مرتبہ عطا کیا جن کی وہ مستحق تھیں ، آپؐ نے عورتوں کوجو عزت وعظمت سے نوازا تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ۔
محسن انسانیتؐ کی آمد سے پہلے صنف نازک کا بدترین استحصال کیا جاتا تھا ،ان کے حقوق پامال کئے جا چکے تھے، باندی بناکر ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا، اپنی تسکین کی خاطر انہیں شمع محفل بنا یا جاتا تھا ،بعض بد بخت ان کی پیدائش کو منحوس تصور کرکے پیدا ہوتے ہی انہیں زندہ درگور کردیتے تھے،غرض یہ کہ عورتوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جاتا تھا ،ایسے ناگفتہ بہ حالات میں آپ ؐ کی آمد و بعثت ہوئی ،آپؐ نے آتے ہی عورتوں کو وہ مقام دلایا جس کا صدیوں سے انہیں انتظار تھا،آپؐ نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ فرمایا کہ عورت ہر روپ میں قابل تعظیم اور لائق احترام ہے، اس کی خدمت اور عمدہ برتاؤ باعث اجر وثواب ہے، عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت ہے ،اگر عورت بیوی ہے تو اس پر خرچ بہترین صدقہ ہے، اگر وہ بہن یابیٹی ہے تو ان کی دیکھ بھال ،عمدہ تربیت اور شادی کرکے ان کے گھر بسانا دخول جنت کا ذریعہ ہے ، آپؐ نے جنگ وجدال اور دشمن سے مدبھیڑ کے موقع پر بھی انسانیت کے احترام اور ضعیف وکمزوروں کا بھر پور لحاظ کرنے کا حکم دیا کہ بچے قتل نہ کئے جائیں،کسی عورت پر ہاتھ نہ اُٹھایاجائے،کسی ضعیف کو نہ ماراجائے،کوئی پھل دار درخت نہ کاٹاجائے،کسی باغ کو نہ جلایاجائیوغیرہ۔
محسن انسانیت ؐ کی رحمت بھری تعلیمات کو بحیثیت مسلمان ہونے کے ان نازک حالات اور فتنہ پروری کے اس دور میں ہماری ذمہ داری ہے کہ دنیا کو اس سے روشناس کرایا جائے ،اپنی صلاحیت وقابلیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی بساط کے موافق دنیا کے سامنے اس کے نقوش کو اجاگر کرنےکی کوشش کرنی چاہیے ،اپنے قول وعمل ، اخلاق واطوار اور اپنے کردار کے ذریعہ ثابت کرنا چاہیے کہ محسن انسانیت ؐ کی تعلیمات واقعی لاجواب ، انسانیت نواز ،امن وسکون کا ضامن اور قلبی اطمینان کا باعث ہیں ،دور حاضر میں تو تڑپتی ،سسکتی اور امن وامان کی متلاشی انسانیت کو پیام محسن انسانیت کی اشد ضرورت ہے ،اس کے بغیر انسانیت کے سکون کا تصور ممکن ہی نہیں ہے، آج دنیا مادی ترقیات کے باوجود تباہی وبربادی کے دہانے پرکھڑی ہے ،اگر محسن انسانیت اور نبی ؐ رحمت کا پیام رحمت وانسانیت نہ پہنچا یا گیا تو انسانوں کے لئے تباہی سے بچنا نا ممکن ہوجائے گا ، ہم کو بحیثیت مسلمان اور غلامان رسول ؐ کے محسن انسانیت ؐ کی انسانیت بھری مبارک تعلیمات پر خود بھی عمل کرنا ہے اور اپنی بساط کے مطابق اپنے قول وعم،ل کے ذریعہ دوسروں تک بھی اسے پہنچانا ہے ،اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے تو یقینا ہم کامیاب ہیں اور ان شاء اللہ اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے ۔
Like this:
Like Loading...