Skip to content
ٹرمپ کی صدارت میں واپسی کا مطلب سنوار کا خاتمہ ہے: امریکی سینیٹر
واشنگٹن، 5ستمبر ( آئی این ایس انڈیا )
غزہ کی پٹی میں جنگ اور اسرائیل کی امریکی حمایت کا معاملہ اب بہت سے امریکی ووٹروں اور ان کے حامیوں کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔تازہ ترین موقف ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے سامنے آیا جب بدھ کے روز انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سابق صدر اور دوسرے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ خطے میں زیادہ طاقتور ہو گی۔انہوں نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایران اور اس کے پراکسیوں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے فاکس نیوز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”بائیڈن نے ایران کو سزا سے بچنے کی اجازت دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی صدارت میں واپسی کا مطلب حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کا خاتمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار سنبھالیں گے تو اسرائیلی قیدی اپنے گھروں کو لوٹ پائیں گے، کیونکہ وہ ایران پر دباؤ ڈالیں گے کہ اگر قیدی واپس نہ آئے تو وہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔یہ بیان محصور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کی موقف کی تائید کرتا ہے۔سات اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے، ٹرمپ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یہ تنازعہ شروع نہ ہوتا۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر بھی تنقید کی، اور انہیں فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔حال ہی میں غزہ کی پٹی میں چھ قیدیوں کے قتل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موجودہ صدر جو بائیڈن اور ان کے نائب صدر، ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار، کملا ہیرس پر حملہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے گذشتہ اتوار کو ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہاتھا کہ ہم اسرائیلی یرغمالیوں کی بلاجواز موت پر سوگ مناتے ہیں، جن میں شاندار امریکی شہری ہرش گولڈ برگ بولن بھی شامل ہے، جسے حماس نے امریکی طاقت اور قیادت کی مکمل کمی کی وجہ سے قتل کر دیا تھا۔
Like this:
Like Loading...