Skip to content
آل انڈیامسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام ماہرین تعلیم2024-25ایوار ڈس تقریب کاانعقاد
سابق وزیر قانون اور سوسائٹی کے بانی آصف پاشاہ کوکارنامہ حیات ایوارڈ
حیدرآباد12ستمبر(راست)
آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی( ٹی ایس اور اے پی یونٹس)کی جانب سے ایل این پرساد آڈیٹوریم ،ایف ٹی سی سی آئی بلڈنگ ،ریڈہلز میں ماہرین تعلیم2024-25ایوار ڈس تقریب منعقد ہوئی۔اسکولس اورکالجس میں20 سال کی خدمات مکمل کرنے والے 100 پرنسپلوں کو اعزاز سے نوازاگیا۔پرنسپلس کو اعزازات کے علاوہ شہر کی 10 شخصیات کو تعلیم میں نمایاں خدمات انجام دینے پر گراں قدر تعلیمی خدمات ایوارڈ’’DISTINGUISHED SERVICE AWARD IN EDUCATION ‘‘ سے نوازاگیا۔ آصف پاشاہ سابق وزیر قانون اور سوسائٹی کے بانی اور سرپرست نے کارنامہ حیات ایوارڈ حاصل کیا۔ اپنے خطاب میں آصف پاشا ہ نے سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا اور اس کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نئے صدر ڈاکٹر محمد یوسف اعظم کی قیادت میں سوسائٹی مزید ایسی تقریبات کا انعقاد کرتی رہے گی۔ انہوں نے ریاستی تعلیمی کانفرنس کی میزبانی کا مشورہ دیا۔عامرعلی خان(رکن قانون ساز کونسل) نے کہاکہ بچہ کی تربیت میں استاد کا اہم رول ہوتا ہے۔ وہ زیادہ وقت اسکول میں اساتذہ کے سامنے گذارتا ہے۔ انہوں نے تمام ایوارڈ یافتگان کومبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ استاد کی تعلیم کی بدولت ہی بچہ زندگی میں ایک بڑا مقام حاصل کرتا ہے۔ ایس اے ھدیٰ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تفصیلی اعداد و شمار پیش کیے اور دوسرے والدین کی حیثیت سے اساتذہ کی اہمیت پر زور دیا۔ ایم ایس فاروق( ایڈوکیٹ اور جنرل سکریٹری )نے خیرمقدم خطاب کیا اور ریاستی حکومت سے اسکولوں اور کالجوں کو مستقل اقلیتی سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اول تا دہم جماعت اور کالجس کے طلبہ کیلئے اسکالرشپس جاری کرے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک سرکاری حکم نامے کی ضرورت پر زور دیا کہ غیر اقلیتی اور مسیحی اقلیتی ادارے اردو اساتذہ کا تقرر کریں جس سے مسلمان طلبہ اردو کو اپنی زبانوں میں سے ایک کے طور پر پڑھ سکیں۔ ڈاکٹر محمد یوسف اعظم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ دین اسلام میں بھی استاد کی کافی اہمیت ہے۔ استادنوجوانوں کا مستقبل طئے کرتے ہیں۔ جناب ہدایت علی خان نے پروگرام کی نظامت کی۔اس موقع پر مختلف اسکولس کے اساتذہ، طلبہ اور سوسائٹی کے ذمہ داران موجودتھے۔
Like this:
Like Loading...