Skip to content
تکریمِ اِنسانیت” مہم 2024ء
┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈
از:✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
قرآن پاک کی آیت "ولقد کرمنا بنی آدم” (سورۃ الاسراء: 70) واضح طور پر انسانیت کی عزت اور تکریم کو بلا تفریق نسل، مذہب یا قوم کے تسلیم کرتی ہے۔ حضرت محمدﷺ نے اپنے عمل اور تعلیمات کے ذریعے لوگوں کو دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے اور باہمی محبت و اخوت کو فروغ دینے کی ترغیب دی۔ یہ اسلامی تعلیمات کا ایک لازمی حصّہ ہے کہ ہر انسان کو اس کی فطری قدر و قیمت کی بناء پر عزت دی جائے۔ حضرت علیؓ کا قول بھی اسی پیغام کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانیت کا اعلیٰ معیار تقویٰ، عدل، اور دوسروں کی عزت و تکریم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی نظر میں انسان کی عظمت کا پیمانہ مادی دولت یا طاقت نہیں، بلکہ انسانیت کے اعلیٰ اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو اسلام دنیا کے سامنے رکھتا ہے اور انسان کو اس کے مقام اور ذمّہ داریوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اسلام کا تصور تکریمِ اِنسانیت ایک جامع اور عالمگیر اصول ہے جو انسانیت کے لیے امن، عدل، اور رواداری کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن و سنّت میں انسانیت کی عزت اور وقار کی تعلیمات کو بار بار دہرایا گیا ہے، اور ان تعلیمات کو عملی زندگی میں شامل کرنا ایک اسلامی فریضہ ہے۔ اسلامی اصولوں کے مطابق، ہر انسان کو عزت اور احترام سے نوازا گیا ہے اور اسے ایک قابلِ قدر مخلوق کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی مذہب، قوم، نسل یا زبان سے تعلق رکھتا ہو۔ اگر ہم اس اصول کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بنائیں، تو یہ نہ صرف ہماری ذاتی زندگیوں میں بہتری لائے گا، بلکہ اجتماعی طور پر بھی معاشرتی تعلقات میں ہم آہنگی اور امن کی فضا کو فروغ دے گا۔
یہ اصول باہمی احترام کی بنیاد پر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے جہاں اختلافات کے باوجود لوگ ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کریں اور انصاف پر مبنی معاشرت قائم کریں۔ اسلام نہ صرف عبادات میں بلکہ سماجی نظام میں بھی عدل، مساوات اور "تکریمِ اِنسانیت” کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ یہی تعلیمات ایک پُرامن دنیا کی تشکیل کی راہ ہموار کرتی ہیں، جہاں ہر انسان کو اس کا حق اور مقام دیا جاتا ہے، اور معاشرہ باہمی تعاون اور محبت کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔ یہ تصور دنیا کے لیے ایک بے حد اہم پیغام ہے کہ انسانیت کی تکریم کسی خاص طبقے یا گروہ کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ہر فرد کو عزت اور احترام کا حقدار بنایا گیا ہے۔
وحدتِ اسلامی ہند نے اس پیغام کو مؤثر طور پر عوام تک پہنچانے کے لیے 5؍ ستمبر تا 4؍ اکتوبر 2024ء تک "تکریمِ اِنسانیت” کے نام سے ملک گیر مہم کا انعقاد کیا ہے۔ اس مہم کے پیغام کو ملک کے طول و عرض میں پہنچانے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں میں خطبۂ جمعہ، عوامی خطابات، آئمہ و علماء کرام کی نشستیں، اسکول اور کالج کے طلباء کے ساتھ ملاقاتیں، کارنر میٹنگز، اور خصوصی پروگرامز شامل ہیں۔ مشرقی مہاراشٹر ریجن کی جانب سے مہم کے پیغام کو ہر سطح پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ "تکریمِ اِنسانیت” مہم کا آغاز انسانی وقار کو فروغ دینے، عدم تشدّد، مساوات، اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی ہدف لوگوں کو انسانیت کی عظمت، احترام اور ایک دوسرے کے حقوق کی آگاہی فراہم کرنا ہے۔
اس مہم کے لیے مرکزی خطوط، اسٹیکرز، پوسٹرز، بینرز، کتابچے، اور فولڈرز کا استعمال کیا گیا تاکہ لوگوں کی توجہ مہم کے پیغام کی جانب مبذول کی جا سکے۔ ریجن کی تمام مساجد اور عوامی مقامات پر اسٹیکرز چسپاں کیے گئے، جب کہ عوام الناس کو براہ راست مہم کا تعارف بھی دیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے ذریعے وحدتِ اسلامی ہند کا مقصد معاشرت میں انسانی وقار اور عزت کے فروغ کو یقینی بنانا ہے تاکہ ایک پُرامن اور منصفانہ معاشرہ تشکیل پا سکے۔
"تکریمِ اِنسانیت” مہم کے تحت مشرقی مہاراشٹر ریجن کے تقریباً تمام شہروں میں کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا گیا، جن کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو اس مہم کے اہم پیغام سے روشناس کرایا گیا۔ مہم کو دو مراحل میں ملک کے مختلف حصّوں میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں امت مسلمہ کے افراد کے لیے خطابات اور نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ مسلمانوں میں انسانیت کی تکریم اور احترام کے پیغام کو مزید پھیلایا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں مہم کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور ملک کے دیگر افراد، جو ہمارے غیر مسلم ساتھی ہیں، کو بھی اس پیغام میں شامل کیا جائے گا۔ ان شاء اللّٰہ، دوسرے مرحلے کی سرگرمیوں کی تفصیلات آئندہ رپورٹ میں فراہم کی جائیں گی تاکہ اس مہم کا پیغام ہر طبقے تک پہنچایا جا سکے۔
ریجن کے کئی مقامات پر خطابِ عام کا اہتمام کیا گیا، جن میں ہزاروں سے زائد مندوبین نے شرکت کر کے مہم کے پیغام سے استفادہ کیا۔ اس مہم کو اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں تک پہنچایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے نوجوان نسل میں انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کا شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مہم کے آغاز سے اب تک 32؍ سے زائد خطبۂ جمعہ کے ذریعے ہزاروں افراد کو اس مہم کے اہم پیغام سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اورنگ آباد، ایوت محل، آکولہ، اردھاپور، پوسد، اور دیگر مقامات پر علماء و آئمہ کرام کی خصوصی نشستوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان نشستوں میں بے شمار علماء اور آئمہ کرام نے شرکت کر کے اپنی دینی اور ملی بیداری کا مظاہرہ کیا۔ مساجد کے ائمہ اور علماء سے ملاقاتیں کی گئیں، اور ان سے مودبانہ درخواست کی گئی کہ خطبۂ جمعہ میں خطبے کا مرکزی موضوع "تکریمِ اِنسانیت” کو بنایا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تک یہ پیغام پہنچ سکے۔
"تکریمِ اِنسانیت” مہم نے معاشرے میں انسانی وقار کی اہمیت اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ عوامی سطح پر اس مہم کو بھرپور پذیرائی ملی، اور مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ انسانی حقوق کی تعلیمات کو ہر طبقے تک پہنچایا جا سکے۔ اس مہم کی بدولت ہزاروں لوگوں میں انسانی حقوق اور باہمی احترام کا شعور بیدار ہوا، اور کئی شہروں میں لوگ اپنی مقامی کمیونٹیز میں "تکریمِ اِنسانیت” کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے خود آگے آئے ہیں۔ "تکریمِ اِنسانیت” مہم کی جانب سے انجام دی گئی تمام سرگرمیاں اسلام کے انسانیت کے حوالے سے پیش کردہ اعلیٰ تصور کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ہر انسان کی عزت و تکریم کو یقینی بنانا ہے، قطع نظر اس کے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا قومیت سے ہو۔
"تکریمِ اِنسانیت” مہم کا مقصد معاشرے میں انسانی وقار، حقوق، اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے۔ یہ مہم اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے شروع کی گئی کہ اسلام میں ہر انسان کی عزت اور تکریم کا اعلیٰ مقام ہے، قطع نظر اس کے مذہب، نسل، یا قومیت کے۔ مہم کا بنیادی مقصد لوگوں کو انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار سے آگاہ کرنا اور معاشرے میں عدل، مساوات، اور عدم تشدّد کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔
اس مہم کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ آج کے دور میں انسانی حقوق اور احترام کی کمی، فرقہ واریت، نفرت، اور عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ مختلف معاشرتی، مذہبی، اور ثقافتی طبقات کے درمیان تناؤ اور عدم اطمینان کی وجہ سے باہمی احترام کا فقدان پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے میں "تکریمِ اِنسانیت” مہم کا مقصد لوگوں کو یاد دلانا ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں ہر انسان کی عزت اور احترام کو خاص اہمیت دی گئی ہے، اور ایک بہتر، پُرامن اور عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ان تعلیمات کو اپنانا ضروری ہے۔
از: 🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
14؍ ستمبر 2024ء
Post Views: 18
Like this:
Like Loading...