Skip to content
نبوت کے 23؍ سال: ایک انقلابی سفر
✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
نبی کریمﷺ کی زندگی کے 23؍ سالہ دورِ نبوت کو انسانی تاریخ کا ایک انقلابی سفر کہا جا سکتا ہے، جس نے نہ صرف عرب کے لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیا بلکہ پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ سفر انسانیت کے لیے ہدایت، عدل، اور رحمت کا پیغام لے کر آیا اور ظلم، جبر، اور جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا۔
مکہ مکرمہ: ابتداء اور ابتدائی مشکلات
نبی اکرمﷺ کی بعثت مکہ مکرمہ میں ہوئی، جو اس وقت جاہلیت، بت پرستی، اور اخلاقی زوال کا مرکز تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو نبوت عطا فرمائی تو آپﷺ نے سب سے پہلے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ "لا الٰہ الا اللّٰہ” کا پیغام دیا، جو عرب معاشرے کے لیے انقلابی تھا کیونکہ یہ ان کے عقائد، رسم و رواج، اور سیاسی نظام کو چیلنج کرتا تھا۔ ابتداء میں، نبیﷺ اور آپﷺ کے پیروکاروں کو شدید مخالفت اور ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔ قریش کے سرداروں نے آپﷺ کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن آپﷺ نے صبر، حوصلہ، اور حکمت کے ساتھ دعوتِ دین جاری رکھی۔ اس دور میں، آپﷺ کی تعلیمات نے عرب معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، اور وہ لوگ جو پہلے جاہلیت اور ظلم کے علمبردار تھے، اسلام کی روشنی میں آ کر محبت، انصاف، اور رحمت کے علمبردار بن گئے۔
نبی کریمﷺ کی نبوت کا آغاز مکہ مکرمہ سے ہوا، جو اس وقت جاہلیت، بت پرستی، اور اخلاقی انحطاط کا مرکز تھا۔ اس معاشرے میں ظلم، ناانصافی، اور معاشرتی برائیاں عروج پر تھیں، اور لوگ حق اور باطل کی تمیز سے عاری تھے۔ نبی اکرمﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی اس اندھیرے میں ایک روشنی کی کرن نمودار ہوئی جو انسانیت کے لیے ہدایت اور رحمت کا پیغام لے کر آئی۔ جب نبی کریمﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپﷺ نے اپنے قریبی حلقے سے دعوت کا آغاز کیا۔ حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ، اور حضرت ابوبکرؓ وہ اولین افراد تھے جنہوں نے آپﷺ کی دعوت قبول کی۔ ان کی مثالوں سے متاثر ہو کر کچھ اور لوگ بھی اسلام میں داخل ہوئے، لیکن مجموعی طور پر قریش کے سرداروں اور عوام نے اس دعوت کو شدت سے مسترد کیا۔
جب نبی کریمﷺ نے کھلے عام دعوتِ توحید کا اعلان کیا تو قریش کے سرداروں نے اس کو اپنے معاشرتی، سیاسی، اور اقتصادی مفادات کے لیے خطرہ سمجھا۔ انہوں نے اس دعوت کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ نبیﷺ اور آپﷺ کے پیروکاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر لٹایا گیا، حضرت عمارؓ کے والدین کو شہید کیا گیا، اور دیگر صحابہ کرامؓ کو بھی مختلف اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قریش نے مسلمانوں کو سماجی، اقتصادی، اور معاشرتی طور پر تنہا کرنے کے لیے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ یہ بائیکاٹ شعبِ ابی طالب کے نام سے مشہور ہوا، جس میں نبیﷺ اور آپﷺ کے خاندان کو مکہ کے نواحی علاقے میں قید کر دیا گیا۔ یہ بائیکاٹ تین سال تک جاری رہا، جس دوران مسلمانوں کو بھوک، پیاس، اور بے بسی کی انتہاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود، نبی کریمﷺ نے کبھی اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کا سوچا بھی نہیں۔ آپﷺ نے صبر، حوصلہ، اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنی دعوت کو جاری رکھا۔ آپﷺ نے اپنے پیروکاروں کو بھی صبر کی تلقین کی اور انہیں تسلی دی کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت قریب ہے۔ مکہ مکرمہ میں جب دعوت کا سلسلہ جاری رہا تو آپﷺ نے طائف کا سفر کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ مکہ مکرمہ میں شدید مخالفت کے بعد نبی کریمﷺ نے طائف کا سفر کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ لیکن طائف کے لوگوں نے آپﷺ کا مذاق اڑایا اور آپ پر پتھر برسائے۔ نبیﷺ کے جسم مبارک سے خون بہنے لگا، لیکن آپﷺ نے اللّٰہ تعالیٰ سے ان کے لیے ہدایت کی دعا کی۔مکی دور کا خاتمہ اور ہجرت کی تیاری مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور میں نبی کریمﷺ اور آپﷺ کے پیروکاروں کو شدید مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کے صبر، استقامت اور اللّٰہ تعالیٰ پر توکل نے انہیں مضبوط بنایا۔ آخرکار، اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریمﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تیاری شروع کی، جو اسلامی تاریخ کا ایک نیا باب ثابت ہوئی۔مکہ مکرمہ کا ابتدائی دور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں آنے والی مشکلات کو صبر، حوصلہ، اور ایمان کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے۔ نبی کریمﷺ کی ثابت قدمی اور صبر کا یہ دور آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
مدینہ منورہ: اسلامی ریاست کا قیام
نبوت کے 13؍ سال بعد، اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے آپﷺ نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ اس ہجرت نے اسلامی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ مدینہ میں آپﷺ نے ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، جو پہلی بار دنیا کے سامنے اسلام کے عدل، مساوات، اور بھائی چارے کے اصولوں پر قائم ہوئی۔
مدینہ میں آپﷺ نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو فروغ دیا، یہود اور دیگر قبائل کے ساتھ معاہدے کیے، اور ایک ایسے معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی جو آج بھی دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔ اس ریاست میں آپﷺ نے شریعت کے اصولوں کو عملی شکل دی اور ہر فرد کو اس کے حقوق و فرائض سے آگاہ کیا۔
نبی کریمﷺ کی ہجرت مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف اسلامی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ یہ ہجرت نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز تھی بلکہ اسلامی ریاست کے قیام کی بنیاد بھی بنی۔ مدینہ منورہ میں نبی کریمﷺ نے پہلی اسلامی ریاست قائم کی، جو دنیا بھر کے لیے ایک مثالی نظامِ حکومت اور عدل و انصاف کا نمونہ بنی۔ نبی کریمﷺ اور آپ کے صحابۂ کرامؓ نے قریش کے ظلم و ستم سے نجات حاصل کرنے کے لیے اللّٰہ کے حکم سے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ یہ ہجرت نہایت حکمت عملی سے کی گئی تھی، اور مدینہ پہنچنے پر مسلمانوں کو وہاں کے دو بڑے قبائل، اوس اور خزرج، نے خوش آمدید کہا۔ انصار کہلائے جانے والے ان قبائل نے مہاجرین کے ساتھ اخوت و بھائی چارے کی مثال قائم کی۔
مدینہ پہنچتے ہی نبی کریمﷺ نے وہاں کے قبائل اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان ایک معاہدہ کیا، جسے "میثاقِ مدینہ” کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ دنیا کا پہلا تحریری دستور تھا، جس میں مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر قبائل کے حقوق و فرائض کا تعین کیا گیا۔ میثاقِ مدینہ نے مدینہ کے باشندوں کو ایک قوم (امت) کی صورت میں جمع کیا، جہاں ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل تھی، اور سب کو مل کر شہر کی حفاظت اور ترقی میں حصّہ لینا تھا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد نبی کریمﷺ نے سب سے پہلے ایک مسجد کی تعمیر کا حکم دیا، جو "مسجدِ نبوی” کہلائی۔ یہ مسجد صرف عبادت کا مرکز نہیں تھی بلکہ اسلامی ریاست کا سیاسی اور سماجی مرکز بھی بنی۔ یہاں نبی کریمﷺ نے نہ صرف نمازیں پڑھائیں بلکہ لوگوں کے مسائل بھی حل کیے، تعلیم دی اور اسلامی حکومت کے امور چلائے۔
نبی کریمﷺ نے مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت (بھائی چارہ) قائم کیا، جسے "مواخات” کہا جاتا ہے۔ اس مواخات کا مقصد مہاجرین کو مدینہ میں آباد کرنا اور ان کی معاشرتی اور اقتصادی ضروریات پوری کرنا تھا۔ انصار نے اپنے گھروں، زمینوں اور وسائل کو مہاجرین کے ساتھ بانٹا اور ان کی ہر ممکن مدد کی۔ یہ اسلامی معاشرت کی ایک عظیم مثال تھی۔ مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد نبی کریمﷺ نے عدل و انصاف پر مبنی ایک نظام قائم کیا۔ آپﷺ نے قرآن مجید کی روشنی میں قوانین مرتب کیے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا۔ اسلامی قوانین کے تحت سب کو مساوی حقوق دیے گئے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ کسی بھی جرم کے لیے شواہد اور گواہوں کی موجودگی میں فیصلے کیے جاتے تھے، اور انصاف کے تقاضوں کو ہر حال میں پورا کیا جاتا تھا۔
مدینہ کی اسلامی ریاست کو ابتداء میں کئی دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ کے قریش اور دیگر دشمن قبائل نے مدینہ پر حملے کیے تاکہ نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں۔ لیکن نبی کریمﷺ نے مدینہ کی حفاظت کے لیے ایک منظم فوجی نظام قائم کیا اور اللّٰہ کے حکم سے جہاد کا آغاز کیا۔ غزوہِ بدر، احد اور خندق جیسے معرکوں میں مسلمانوں نے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور اللّٰہ کی مدد سے فتح حاصل کی۔ مدینہ منورہ میں نبی کریمﷺ نے ایک مثالی اسلامی معاشرتی نظام قائم کیا۔ اس معاشرے میں سب کو حقوق حاصل تھے، اور امیر و غریب، حاکم و محکوم کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا۔ زکوٰة، صدقات اور دیگر سماجی اقدامات کے ذریعے معاشرے میں غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا گیا۔
نبی کریمﷺ نے مدینہ کی اسلامی ریاست کو مضبوط کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کو بھی فتح کیا۔ فتح مکہ کے بعد اسلامی ریاست کا دائرہ وسیع ہو گیا اور عرب کے بیشتر قبائل نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریمﷺ نے معافی اور درگزر کا اعلان کیا، اور مکہ میں ایک نیا اسلامی نظام قائم کیا۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست نے دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم کی۔ یہ ریاست انسانی حقوق، انصاف، اور سماجی برابری کے اصولوں پر مبنی تھی۔ نبی کریمﷺ کی قیادت میں یہ ریاست ایک مثالی معاشرتی، سیاسی اور مذہبی نظام کی عملی شکل بن گئی، جس نے آگے چل کر دنیا بھر میں اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی۔ مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کا قیام تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے، جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے ایک مشعل راہ اور فخر کا باعث رہے گا۔
فروغِ اسلام اور فتوحات
مدینہ میں ریاست کی تشکیل کے بعد، اسلام کا پیغام تیزی سے عرب کے دیگر علاقوں میں پھیلنے لگا۔ آپﷺ نے ارد گرد کے قبائل کو اسلام کی دعوت دی، اور اسلام کے اصولوں کے مطابق امن و سلامتی کے معاہدے کیے۔ اس دوران مختلف جنگوں اور معرکوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں بدر، احد، اور خندق کے معرکے نمایاں ہیں۔ لیکن یہ فتوحات صرف عسکری میدان میں نہیں تھیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی میدان میں بھی تھیں۔ دشمنوں کے ساتھ رحم دلی اور انصاف کا برتاؤ، جنگی قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، اور معاہدوں کی پاسداری وہ اصول تھے جو نبیﷺ نے دنیا کو سکھائے۔
اسلام کی ابتدا ایک چھوٹی سی جماعت سے ہوئی، لیکن نبی کریمﷺ کی قیادت اور اللّٰہ تعالیٰ کی مدد سے یہ پیغام نہ صرف جزیرۂ عرب میں بلکہ دنیا کے مختلف حصّوں میں تیزی سے پھیل گیا۔ مدینۂ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد، اسلام کا پیغام دور دور تک پہنچا، اور مختلف معرکوں اور فتوحات کے ذریعے اسلام کا فروغ ہوا۔ مدینۂ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد نبی کریمﷺ نے اسلام کا پیغام صرف عرب قبائل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ آپﷺ نے دور دراز علاقوں کے حکمرانوں کو خطوط ارسال کیے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ یہ خطوط قیصرِ روم، شاہِ ایران، نجاشی اور دیگر حکمرانوں کو بھیجے گئے، جن میں اسلام کے بنیادی عقائد اور توحید کی دعوت شامل تھی۔
غزوۂ بدر اسلام کی تاریخ کا پہلا اہم معرکہ تھا، جو ہجرت کے دوسرے سال رمضان المبارک میں پیش آیا۔ یہ معرکہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان ہوا، جس میں مسلمانوں کو اللّٰہ کی مدد سے فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور اسلامی ریاست کو مضبوط بنایا۔ غزوۂ احد اور غزوۂ خندق بھی اسلام کی تاریخ کے اہم معرکے ہیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن غزوۂ خندق میں مدینہ کے مسلمانوں نے اپنی بہترین حکمت عملی سے دشمنوں کو پسپا کر دیا۔ ان معرکوں نے مسلمانوں کو مزید مستحکم کیا اور دشمنوں کے دلوں میں اسلام کا رعب بٹھا دیا۔
ہجرت کے چھٹے سال نبی کریمﷺ نے قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت دس سال تک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور مسلمانوں کو اگلے سال مکہ مکرمہ میں عمرہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ بظاہر یہ معاہدہ مسلمانوں کے لیے ایک کمزور موقف تھا، لیکن اس کے نتیجے میں اسلام کی دعوت کو پھیلنے کا موقع ملا اور اس صلح کے بعد دو سال میں بہت سے قبائل اسلام میں داخل ہو گئے۔ ہجرت کے آٹھویں سال، قریش کی صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کے بعد، نبی کریمﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ مکہ کی فتح اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے مکہ میں داخل ہوتے ہی معافی اور درگزر کا اعلان کیا اور تمام دشمنوں کو معاف کر دیا۔ اس فتح کے بعد قریش کے بیشتر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، اور مکہ مکرمہ میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔
فتح مکہ کے بعد اسلام کا پیغام تیزی سے جزیرۂ عرب کے مختلف حصّوں میں پھیلنے لگا۔ مختلف قبائل نے اسلام قبول کیا، اور نبی کریمﷺ نے ان کے ساتھ امن و محبت کا برتاؤ کیا۔ آپﷺ نے اسلامی تعلیمات کے ذریعے انہیں ظلم، جاہلیت، اور باہمی دشمنیوں سے نکالا اور انہیں ایک متحد قوم بنایا۔ غزوۂ تبوک نبی کریمﷺ کی قیادت میں لڑی جانے والی آخری بڑی جنگ تھی، جو رومیوں کے خلاف ہوئی۔ یہ جنگ براہ راست نہ لڑی جا سکی، لیکن اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی طاقت کا رعب دنیا پر چھا گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے شام، عراق اور فارس کی طرف توجہ دی اور وہاں بھی اسلام کا پیغام پہنچایا۔
نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد خلفائے راشدین نے اسلامی ریاست کی توسیع کی اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا۔ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے دور میں اسلامی فتوحات نے شام، عراق، مصر، فارس، اور شمالی افریقہ تک اپنا اثر قائم کیا۔ ان فتوحات کے دوران، مسلمانوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ انصاف اور برابری کا سلوک کیا، جس کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف مائل ہوئے۔ اسلامی فتوحات کے نتیجے میں اسلامی تہذیب و تمدن دنیا کے مختلف حصّوں میں پھیل گیا۔ اسلامی تعلیمات نے مختلف ثقافتوں اور قوموں کو متاثر کیا اور اسلامی ریاستیں دنیا کے لیے امن، انصاف، اور علمی ترقی کی مثال بن گئیں۔
اسلام کی یہ فتوحات تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، جو نہ صرف عسکری کامیابیوں کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ ان میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن، عدل، اور مساوات کا درس بھی دیا گیا۔ یہ فتوحات اسلام کے فروغ کا ذریعہ بنیں اور دنیا کے مختلف حصّوں میں اسلام کی روشنی کو پہنچانے کا سبب بنیں۔
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
فتح مکہ: امن و آشتی کا مظاہرہ
نبوت کے 21؍ ویں سال، اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کو فتح مکہ عطا فرمائی۔ یہ فتح نہ صرف ایک عسکری کامیابی تھی بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی انقلاب بھی تھا۔ آپﷺ نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عام معافی کا اعلان کیا اور اپنے سب سے بڑے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ یہ عظیم الشان واقعہ دنیا کے لیے امن، عدل، اور رحمت کا پیغام بن گیا۔
فتح مکہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور اہم ترین واقعہ ہے، جو امن و آشتی اور رحمت کا بے مثال مظاہرہ بھی ہے۔ یہ واقعہ ہجرت کے آٹھویں سال پیش آیا، جب نبی کریمﷺ نے قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کے بعد مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فتح میں نبی کریمﷺ نے نہ صرف اپنی اعلیٰ قیادت کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ دشمنوں کے ساتھ بے مثال درگزر اور رحمت کا برتاؤ کیا، جو قیامت تک انسانیت کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
صلح حدیبیہ کے دو سال بعد، قریش نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بنو خزاعہ پر حملہ کیا، جو کہ مسلمانوں کے حلیف تھے۔ اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نبی کریمﷺ نے قریش کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد کافی بڑھ چکی تھی، اور اسلام جزیرۂ عرب کے بیشتر علاقوں میں پھیل چکا تھا۔ نبی کریمﷺ نے 10؍ ہزار سے زائد صحابۂ کرامؓ کے ساتھ مکہ کی جانب روانگی کی۔ مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر آپﷺ نے اپنے لشکر کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا اور مکہ کے چار اطراف سے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا تاکہ بغیر خونریزی کے شہر کو فتح کیا جا سکے۔
نبی کریمﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ کے ذریعے قریش کے سردار ابو سفیان کو بلا کر اسلام کی دعوت دی اور انہیں مکہ کے لوگوں کے لیے امان کی ضمانت دی۔ آپﷺ نے یہ اعلان کیا کہ جو شخص خانہ کعبہ میں پناہ لے گا، جو شخص ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے گا یا جو شخص اپنے گھر میں رہے گا، اسے امان حاصل ہوگی۔ اس اعلان نے مکہ کے لوگوں کے دلوں میں خوف و ہراس کی بجائے اطمینان پیدا کیا۔ نبی کریمﷺ نے 20؍ رمضان 8؍ ہجری کو بغیر کسی خونریزی کے مکہ میں داخلہ کیا۔ آپﷺ نے مکہ کے لوگوں کو معاف کر دیا، حالانکہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آپﷺ اور آپ کے صحابۂ کرامؓ پر شدید مظالم ڈھائے تھے، انہیں مکہ سے نکالا تھا، اور آپﷺ کے خلاف مختلف جنگوں میں حصّہ لیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔”
نبی کریمﷺ مکہ میں داخل ہونے کے بعد خانہ کعبہ میں گئے اور وہاں موجود بتوں کو توڑا۔ خانہ کعبہ کو دوبارہ توحید کی علامت بنایا اور وہاں اللّٰہ کی وحدانیت کا اعلان کیا۔ اس واقعے کے بعد مکہ مکرمہ کو اسلام کا مرکز بنایا گیا اور وہاں نمازوں کا اہتمام کیا گیا۔ فتح مکہ کے دوران نبی کریمﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ ایک موقع پر حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ آج جنگ کا دن ہے، لیکن نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ آج جنگ نہیں بلکہ رحمت کا دن ہے۔ آپﷺ نے اپنے جانی دشمنوں، جیسے ہندہ، جس نے حضرت حمزہؓ کا جگر چبایا تھا، اور ابو سفیان، جو اسلام کے سب سے بڑے مخالفین میں سے تھے، کو بھی معاف کر دیا۔
فتح مکہ نے نہ صرف مکہ مکرمہ کو اسلامی ریاست کا حصّہ بنایا بلکہ اس فتح نے جزیرۂ عرب کے دیگر قبائل کو بھی متاثر کیا، اور بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد اسلام کا پیغام پوری طاقت اور عزم کے ساتھ جزیرۂ عرب کے کونے کونے میں پہنچا، اور عرب کی بیشتر آبادی نے اسلام قبول کر لیا۔ فتح مکہ نے یہ ثابت کیا کہ اسلام صرف جنگ و جدال کا دین نہیں بلکہ امن، محبت، اور عفو و درگزر کا دین ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو معاف کر کے انسانی تاریخ میں امن و آشتی کی عظیم مثال قائم کی۔ اس فتح نے یہ پیغام دیا کہ طاقت اور اختیار کے باوجود عفو و درگزر اور رحمت کو مقدم رکھنا چاہئے۔ فتح مکہ اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو دنیا کے لیے ہمیشہ امن و آشتی، عدل و انصاف اور عفو و درگزر کا پیغام دیتا رہے گا۔ یہ فتح نبی کریمﷺ کے اخلاق عالیہ اور آپ کی قیادت کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع: انسانیت کا عالمی منشور
خطبۂ حجۃ الوداع کی روشنی میں ہے عیاں
حقوقِ انسانیت، یہی ہے دین کا زریں عنوان
نبوت کے 23؍ ویں سال، آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک تاریخی خطبہ دیا، جسے انسانیت کا عالمی منشور کہا جاتا ہے۔ اس خطبے میں آپﷺ نے انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، معاشرتی عدل، اور بین الاقوامی امن کے اصولوں کی وضاحت کی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں ہے، سوائے تقویٰ کے۔ یہ اصول آج بھی دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
خطبۂ حجۃ الوداع، نبی کریمﷺ کا وہ تاریخی اور عظیم الشان خطبہ ہے جو آپﷺ نے 10؍ ہجری (632 عیسوی) کو حج کے موقع پر میدان عرفات میں دیا۔ یہ خطبہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے بلکہ انسانیت کے لیے ایک عالمگیر منشور بھی ہے جو انسانی حقوق، معاشرتی انصاف، اور اخلاقی اقدار پر مبنی ہے۔ اس خطبے نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک کامل ضابطۂ حیات پیش کیا بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے امن، عدل، اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کو جمع کیا اور اللّٰہ کی جانب سے اپنے آخری پیغام کو پہنچایا۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب اسلامی انقلاب اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا، اور ایک مضبوط اسلامی ریاست قائم ہو چکی تھی۔ آپﷺ نے اس خطبے میں مسلمانوں کو دین کی تکمیل اور اللّٰہ کے پیغام کی امانت کا اعلان کیا۔
خطبہ کا متن اور اس کے اہم نکات
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کسی کالے کو گورے پر، سوائے تقویٰ کے۔” اس بیان نے انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان، اور قومیت کی بنیاد پر ہونے والے ہر قسم کے امتیاز کو ختم کر دیا اور انسانی مساوات کا اصول متعارف کرایا۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا: "تمہارے خون، تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ دن، یہ مہینہ اور یہ شہر (مکہ مکرمہ) حرام ہیں”۔ اس بیان نے انسانی جان، مال، اور عزت کے تحفّظ کو اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول قرار دیا اور ظلم و ناانصافی کے خاتمے کا اعلان کیا۔
نبی کریمﷺ نے عورتوں کے حقوق کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: "عورتوں کے معاملے میں اللّٰہ سے ڈرو۔ تم نے انہیں اللّٰہ کی امانت کے طور پر لیا ہے اور اللّٰہ کے کلمے کے ذریعے ان کے جسموں کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی اور کو نہ آنے دیں اور اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں نرمی سے سمجھاؤ۔ اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں اچھا کھانا اور کپڑا دو”۔ اس بیان نے عورتوں کے حقوق کا تحفّظ کیا اور اسلامی معاشرت میں ان کے مقام کو واضح کیا۔
نبی کریمﷺ نے سود کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: "آج کے دن میں جاہلیت کے تمام سود کو اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کے سود کو ختم کرتا ہوں، اور وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے”۔ اس اعلان نے معاشی انصاف کو اسلامی معاشرت کا لازمی جزو قرار دیا اور سود جیسے استحصالی نظام کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔
نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو آپس میں بھائی چارے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: "مسلمان مسلمان کے بھائی ہیں۔ نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس کی تذلیل کرے”۔ اس بیان نے اسلامی معاشرت میں بھائی چارے، محبت، اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا: "میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللّٰہ کی کتاب (قرآن) اور میری سنت”۔ اس بیان نے مسلمانوں کو دین کی حفاظت اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کی اور قرآن و سنت کو اسلامی زندگی کی اساس قرار دیا۔
خطبۂ حجۃ الوداع کو ایک عالمی منشور قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس میں انسانی حقوق، معاشرتی انصاف، اور اخلاقی اقدار کو تمام انسانوں کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ خطبہ ہر زمانے اور ہر معاشرت کے لیے قابل عمل ہے اور اس میں پیش کردہ اصولوں کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے قوانین اور منشوروں کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع نے رنگ، نسل، اور قومیت کے امتیازات کو ختم کر کے انسانی مساوات کا اصول متعارف کرایا، جو آج کے دور میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کا ایک بنیادی جزو ہے۔
خطبہ نے معاشرتی انصاف کی بنیادیں فراہم کیں اور ظلم و ناانصافی کے خاتمے کے لیے اصول وضع کیے، جو کہ آج بھی دنیا بھر میں انصاف کی فراہمی کے لیے رہنما اصول ہیں۔ عورتوں کے حقوق کی تاکید اور ان کے تحفّظ کے اصول آج کے دور کے خواتین کے حقوق کے منشوروں کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ سود کی ممانعت اور معاشی انصاف کے اصولوں کو آج کے دور میں معاشی نظام کی اصلاح کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانیت کے لیے ایک عالمی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں پیش کردہ اصولوں اور تعلیمات نے دنیا کو ایک نیا معاشرتی، معاشی، اور اخلاقی نظام فراہم کیا۔ آج بھی، اس خطبے کے اصولوں پر عمل کر کے دنیا میں امن، انصاف، اور بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ خطبہ نبی کریمﷺ کا آخری پیغام ہے، جو قیامت تک انسانیت کے لیے روشنی اور ہدایت کا منبع رہے گا۔
انقلاب کی تکمیل
نبی کریمﷺ کے 23؍ سالہ دورِ نبوت نے ایک جاہل اور بکھرے ہوئے معاشرے کو ایک متحد، منظم، اور ترقی یافتہ امت میں بدل دیا۔ یہ انقلاب صرف سیاسی یا عسکری نہیں تھا، بلکہ ایک روحانی، اخلاقی، اور سماجی انقلاب تھا، جو انسانیت کے لیے رہتی دنیا تک روشنی کا مینار ہے۔ آپﷺ کی تعلیمات، سیرت، اور اخلاق نے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح انسانیت کو جاہلیت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی تکمیل نبی کریمﷺ کی 23؍ سالہ نبوت کا عظیم الشان کارنامہ ہے۔ اس انقلاب کا آغاز مکہ مکرمہ کی سر زمین سے ہوا اور اس کی تکمیل مدینہ منورہ میں ایک مضبوط اسلامی ریاست کے قیام کے ساتھ ہوئی۔ یہ انقلاب نہ صرف ایک مذہبی اور سیاسی تبدیلی تھی، بلکہ ایک ہمہ جہتی انقلاب تھا جس نے معاشرت، معیشت، سیاست، اخلاقیات، اور عبادات سمیت زندگی کے ہر پہلو کو تبدیل کر دیا۔
اسلامی انقلاب کا ایک اہم پہلو معاشرتی اصلاحات ہیں۔ نبی کریمﷺ نے جاہلیت کے زمانے کی غیر انسانی اور ظالمانہ رسموں کا خاتمہ کیا، اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جو عدل، مساوات، اور محبت پر قائم ہو۔ اسلام نے عورتوں، غلاموں، یتیموں اور کمزور طبقوں کو ان کے حقوق دیے اور معاشرتی انصاف کا نظام نافذ کیا۔ اسلامی انقلاب کا مرکز اور محور توحید کا عقیدہ تھا۔ نبی کریمﷺ نے شرک، بت پرستی، اور دیگر گمراہ کن عقائد کو ختم کر کے لوگوں کو اللّٰہ کی وحدانیت کی طرف بلایا۔ اس توحیدی عقیدے نے لوگوں کے دلوں میں اللّٰہ کا خوف اور محبت پیدا کی اور انہیں ایک اعلیٰ اخلاقی معیار پر قائم کیا۔
مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے ساتھ انقلاب کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ نبی کریمﷺ نے اس ریاست کو قرآن اور سنّت کی روشنی میں چلایا، جہاں عدل و انصاف، بھائی چارہ، اور معاشرتی تعاون کی بنیادیں مضبوط کی گئیں۔ اس ریاست نے دنیا کو بتایا کہ اسلامی اصولوں پر مبنی حکومت کس طرح عدل و انصاف پر قائم ہوتی ہے اور ہر شہری کو اس کے حقوق فراہم کرتی ہے۔
اسلامی انقلاب نے معیشت کے میدان میں بھی انقلابی تبدیلیاں کیں۔ سود، ذخیرہ اندوزی، اور استحصالی نظام کا خاتمہ کیا گیا۔ زکات، صدقات، اور معاشرتی انصاف کے اصولوں پر مبنی ایک نیا معاشی نظام قائم کیا گیا جس میں دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا۔
جہاد اور دفاعی انقلاب
اسلام نے نہ صرف اخلاقی اور معاشرتی میدان میں انقلاب برپا کیا بلکہ اس نے اپنی ریاست اور عقائد کے دفاع کے لیے جہاد کا تصور بھی دیا۔ نبی کریمﷺ نے دشمنوں کے خلاف دفاعی جنگیں لڑیں اور اسلامی ریاست کو مستحکم کیا۔ یہ جہاد محض عسکری جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ہمہ جہتی جدوجہد تھی جس میں ظلم کے خلاف مزاحمت اور عدل کی فراہمی شامل تھی۔ اسلامی انقلاب کے دوران "جہاد” ایک اہم اور مرکزی عنصر کے طور پر سامنے آیا، جو نہ صرف ایک عسکری جدوجہد تھی بلکہ ایک جامع نظریہ اور عملی اقدام تھا جس نے اسلامی ریاست کو مضبوط اور مستحکم بنایا۔ جہاد کے ذریعے نہ صرف اسلامی ریاست کے دفاع کو یقینی بنایا گیا بلکہ ظلم، جبر، اور ناانصافی کے خلاف ایک منظم مزاحمت کی گئی۔ اس جدوجہد نے اسلامی انقلاب کو نہ صرف مکہ اور مدینہ بلکہ پورے جزیرۂ عرب اور اس سے آگے تک پھیلایا۔
اسلام میں "جہاد” کا مفہوم محض جنگ یا لڑائی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ظلم و ستم کے خلاف مزاحمت، اور اللّٰہ کے دین کو سربلند کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ قرآن و سنّت میں جہاد کو ایمان کی اعلیٰ ترین حالت قرار دیا گیا ہے، اور یہ ہر مسلمان کے لیے ایک اہم دینی فریضہ ہے۔
جہاد کی چار اقسام بیان کی گئی ہیں:
جہاد بالنفس: نفس کی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کے خلاف جدوجہد۔
جہاد بالمال: اللّٰہ کے راستے میں مال خرچ کرنا۔
جہاد باللسان: زبان کے ذریعے حق کی تبلیغ اور دعوت دین۔
جہاد بالسيف: باطل کے خلاف میدان جنگ میں تلوار کے ذریعے مقابلہ کرنا۔
نبی کریمﷺ کی مکہ مکرمہ میں 13؍ سالہ نبوت کے دوران جہاد زیادہ تر دعوت، صبر، اور ظلم و ستم کے خلاف پُرامن مزاحمت تک محدود رہا۔ اس دور میں مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، مگر اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں صبر اور استقامت کا حکم دیا گیا۔ اس مرحلے میں جہاد بالنفس اور جہاد باللسان کا عمل نمایاں تھا۔
مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد جہاد کا عسکری مرحلہ شروع ہوا۔ یہاں اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی حفاظت اور دین کی سربلندی کے لیے تلوار اٹھانے کی اجازت دی۔ قرآن کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: "اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور بیشک اللّٰہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے”۔ (سورۃ الحج: 39)
مدینہ منورہ میں نبی کریمﷺ نے مختلف جنگیں لڑیں جن میں "غزوہ بدر”، "غزوہ احد”، اور "غزوہ خندق” شامل ہیں۔ یہ جنگیں بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی تھیں، جن کا مقصد اسلامی ریاست اور مسلمانوں کو قریش اور دیگر دشمن قبائل کی جارحیت سے محفوظ رکھنا تھا۔ غزوہ بدر (2؍ ہجری) یہ مسلمانوں کی پہلی عسکری کامیابی تھی جس نے اسلامی ریاست کی بقاء کو یقینی بنایا اور دشمنوں کے حوصلے پست کیے۔
غزوہ احد (3؍ ہجری) اس جنگ میں مسلمانوں کو عارضی شکست کا سامنا کرنا پڑا، مگر یہ ایک عظیم درس تھا جس نے مسلمانوں کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کیا اور آئندہ کے لیے سبق آموز بنادیا۔ غزوہ خندق (5؍ ہجری) اس جنگ میں مسلمانوں نے مدینہ منورہ کا دفاع کیا اور دشمنوں کی مشترکہ قوتوں کو پسپا کر دیا۔ اس جنگ نے اسلامی ریاست کی حفاظت کے لیے منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کی اہمیت کو واضح کیا۔
نبی کریمﷺ نے جہاد کے دوران اعلیٰ ترین اصولوں اور حکمتِ عملیوں کو اپنایا۔ آپﷺ نے جنگ میں بھی انسانی حقوق کا احترام کیا، عورتوں، بچّوں، بوڑھوں، اور غیر جنگجو افراد پر حملہ کرنے سے منع کیا، فصلوں کو نقصان پہنچانے اور عبادت گاہوں کو مسمار کرنے سے روکا۔ نبی کریمﷺ نے اپنے صحابۂ کرامؓ کو ہر وقت اخلاقی اقدار کی پاسداری کی تلقین کی اور دشمن کے ساتھ بھی رحم و کرم کا مظاہرہ کیا۔
جہاد کے ذریعے اسلامی ریاست کی بقاء اور دفاع کو یقینی بنانے کے بعد، نبی کریمﷺ نے ہمیشہ امن کی کوششیں کیں۔ صلح حدیبیہ اس کی بہترین مثال ہے، جس کے ذریعے آپﷺ نے دشمنوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور دس سال تک امن کی بنیاد رکھی۔ جہاد اور دفاعی انقلاب نے اسلامی ریاست کو نہ صرف بچایا بلکہ اسے مستحکم بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں اسلامی پیغام پورے عرب میں پھیل گیا اور لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ جہاد نے مسلمانوں کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنایا اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی برتری کو ثابت کیا۔
جہاد اور دفاعی انقلاب نبی کریمﷺ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کا ایک اہم جزو تھا۔ اس نے اسلامی ریاست کی حفاظت، مسلمانوں کی بقاء، اور اسلام کی ترویج کے لیے بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ انقلاب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہونے اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے مضبوط قیادت، حکمتِ عملی، اور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس انقلاب کے ذریعے اسلامی اصولوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور ایک منظم، مضبوط، اور باعزت امت کی تشکیل کی۔
نبی کریمﷺ نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور علم کو انسانیت کے لیے روشنی کا ذریعہ قرار دیا۔ اسلامی انقلاب کے نتیجے میں علم کی جستجو اور فکر کی آزادی کو فروغ ملا، جس نے مسلمانوں کو دنیا کی سب سے بڑی علمی اور فکری تحریکوں میں شامل کیا۔
اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا کارنامہ اخلاقی انقلاب ہے۔ نبی کریمﷺ نے لوگوں کے دلوں میں اللّٰہ کا خوف، محبت، اور انسانی ہمدردی کے جذبات پیدا کیے۔ جھوٹ، دھوکہ، بدعہدی، اور ظلم کی جگہ سچائی، امانت، وفاداری، اور عدل نے لے لی۔
نبی کریمﷺ نے اپنے آخری خطبۂ حجۃ الوداع میں اس انقلاب کی تکمیل کا اعلان کیا۔ اس خطبے میں آپﷺ نے انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، سماجی انصاف، اور اسلامی اخوت کے اصولوں کو بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ آج کے دن دین مکمل ہوگیا، اور اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہوگئی۔ نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد اسلامی انقلاب کی روشنی کو پوری دنیا میں پھیلانا امت کی ذمّہ داری بن گئی۔ خلفائے راشدین نے اس ذمّہ داری کو بخوبی نبھایا اور اسلامی فتوحات کے ذریعے اسلام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔
اسلامی انقلاب کی تکمیل نبی کریمﷺ کی بے مثال قیادت، اخلاقی برتری، اور اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کا نتیجہ ہے۔ یہ انقلاب دنیا کے لیے ہمیشہ ایک مثالی نمونہ رہے گا، جو عدل، مساوات، اور امن کی بنیادوں پر قائم ہے۔ اسلامی انقلاب کی یہ تکمیل ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایک بہتر اور منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے قرآن و سنّت کی پیروی اور اسلامی اصولوں کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنا ضروری ہے۔ نبوت کے 23؍ سال، انسانیت کی تاریخ میں ایک ایسا انقلابی سفر ہے جس نے نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ سفر آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے، جو ہمیں امن، محبت، اور انصاف کی طرف بلاتا ہے۔
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
🏠 ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،
تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...