Skip to content
ایرانی سپریم لیڈر کا ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار پر بیان، حکومت ہند کی مذمت
نئی دہلی ،۱۷؍ستمبر ( آئی این ایس انڈیا )
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کو ہندوستان پر مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کا الزام لگایا۔ بھارت نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم ایران کے سپریم لیڈر کے ہندوستان میں اقلیتوں کے بارے میں کئے گئے تبصروں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ غلط معلومات ہے اور ناقابل قبول ہے۔ اقلیتوں پر تبصرہ کرنے والے ممالک کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے اپنے ریکارڈ کی جانچ کریں۔خامنہ ای نے ہندوستان، غزہ اور میانمار میں مسلمانوں کی حالت زار کو اٹھایا۔
نہ صرف یہ، انہوں نے دنیا بھر میں کمیونٹی کے ارکان کے درمیان یکجہتی پر بھی زور دیا۔ایرانی رہنما نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اگر ہم میانمار، غزہ، ہندوستان یا کسی اور جگہ پر کسی مسلمان کے ساتھ ہونے والے مصائب سے بے خبر ہیں تو ہم خود کو مسلمان نہیں سمجھ سکتے۔ خامنہ ای نے مزید لکھا کہ اسلام کے دشمنوں نے ہمیشہ ہمیں امت اسلامیہ کے مشترکہ تشخص سے لاتعلق رکھنے کی کوشش کی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی ایرانی رہنما نے ایسی بات کہی ہو۔ اس سے پہلے بھی ایرانی رہنما بھارت میں اقلیتوں کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ سال 2019 میں، انہوں نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے نریندر مودی حکومت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں کشمیر میں مسلمانوں کی صورتحال پر تشویش ہے۔ ہمارے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کشمیر کے اچھے لوگوں کے لیے صحیح پالیسی اپنائے گی اور خطے میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکے گی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں پر تبصرہ کرنے والے ممالک کو دوسروں کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے اپنا ریکارڈ چیک کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے سپریم لیڈر کے ہندوستان میں اقلیتوں کے بارے میں کئے گئے تبصروں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ غلط معلومات پر مبنی ہیں اور ناقابل قبول ہیں۔جیسوال نے کہاکہ اقلیتوں پر تبصرہ کرنے والے ممالک کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے اپنے ریکارڈ کی جانچ کریں۔
ایرانی رہنما نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہاگر ہم میانمار، غزہ، ہندوستان یا کسی اور جگہ مسلمان کو درپیش مصائب سے غافل ہیں تو ہم خود کو مسلمان نہیں سمجھ سکتے۔انہوں نے کہا کہ دشمنان اسلام نے ہمیشہ ہمیں امت اسلامیہ کے مشترکہ تشخص سے غافل کرنے کی کوشش کی ہے۔ہندوستان اور ایران کے درمیان زیادہ کشیدگی نہیں ہے۔ہندوستان اور ایران کے قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ برسوں میں زیادہ کشیدگی نہیں رہی۔ جولائی کے مہینے میں مرکزی وزیر نتن گڈکری نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پجیشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔
وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گڈکری نے عہدہ سنبھالنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی نیک خواہشات پیجیشکیان کو پہنچائیں۔ گڈکری نے ایرانی حکام سے بات چیت کی۔یہاں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کی حیثیت کے ساتھ ساتھ چابہار بندرگاہ کی ترقی کے لیے تعاون کا اعلان کیا تھا۔
Like this:
Like Loading...