Skip to content
ایک قوم ایک انتخاب
ازقلم :شیخ سلیم ,
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
مودی حکومت کی ایک قوم، ایک انتخاب کا مقصد لوک سبھا (قومی) اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو پورے بھارت میں ایک ساتھ منعقد کروانا ہے۔ آئیے اس کے کلیدی محرکات، بی جے پی کے لیے ممکنہ فوائد، اور حزب اختلاف کے لیے چیلنجز کا جائزہ لیتے ہیں:
مودی حکومت ایک قوم، ایک انتخاب کیوں چاہتی ہے؟
بار بار انتخابات منعقد کرنے سے حکومت کو کثیر اخراجات کا سامنا ہوتا ہے۔ ہر سال کسی نہ کسی ریاست میں انتخابات ہوتے رہتے ہیں، جس میں بہت زیادہ انتظامی اور سیکیورٹی اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ ایک ساتھ انتخابات کروانے سے ان اخراجات میں کمی ہوگی۔
بار بار انتخابات کے دوران ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہو جاتا ہے، جو حکومت کی پالیسیوں کے نفاذ میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ ایک ساتھ انتخابات ہونے سے ترقیاتی منصوبے اور پالیسی اقدامات بار بار تعطل کا شکار نہیں ہوں گے۔
متواتر انتخابات ووٹرز کو تھکا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وقت کے ساتھ ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہو سکتا ہے۔ ہر پانچ سال بعد ایک ہی ملک گیر انتخاب ووٹرز کی شرکت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بار بار ہونے والے انتخابات سیاسی عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتیں طویل مدتی حکمرانی کے بجائے مختصر مدتی انتخابی فوائد پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ ایک قوم، ایک انتخاب قومی اور ریاستی استحکام لا سکتا ہے۔
بی جے پی کے لیے ممکنہ فوائد
1. قومی مہم کا فائدہ اٹھانا: ایک ساتھ انتخابات بی جے پی کو مودی کی قیادت میں ایک متحد اور ملک گیر مہم چلانے کا موقع فراہم کرے گا، جس میں قومی قیادت پر توجہ دی جا سکے گی۔ مودی کی قومی سطح پر مقبولیت اور آر ایس ایس کی پشت پناہی کے ساتھ، بی جے پی ایک مضبوط اور متحد پیغام پیش کر سکتی ہے۔
2. مرکزی وسائل کا استعمال: بی جے پی، جو قومی سطح پر برسر اقتدار ہے، مرکزی حکومت کے وسائل اور اثر و رسوخ کو زیادہ مؤثر طریقے سے ریاستوں میں استعمال کر سکتی ہے جب ایک ہی وقت میں انتخابات ہوں۔
3. اینٹی انکمبنسی سے نمٹنا: بار بار انتخابات حزب اختلاف کو ریاستی حکومتوں کے خلاف عوامی ناراضگی کا فائدہ اٹھانے کا موقع دیتے ہیں۔ اگر انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوں تو یہ عوامی ناراضگی کو کمزور کر سکتا ہے۔
4. بیانیہ Narrative پر کنٹرول: ایک ساتھ انتخابات بی جے پی کو قومی سیاسی بیانیہ پر غلبہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں، جس سے حزب اختلاف کے لیے مقامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جائے گا، جو وہ اکثر بی جے پی کے بڑے قومی ایجنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
حزب اختلاف کے لیے چیلنجز
1. وسائل کی کمی: حزب اختلاف کی جماعتیں، خاص طور پر علاقائی جماعتیں، بڑے پیمانے پر انتخابات کے لیے وسائل کو متحرک کرنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتی ہیں۔ یہ جماعتیں اکثر ریاستی سطح پر مہمات پر انحصار کرتی ہیں، جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ حکمت عملی کے ساتھ چلانا پڑتا ہے۔
2. قومی بمقابلہ مقامی مسائل: بہت سی حزب اختلاف کی جماعتیں مقامی مسائل اور علاقائی شناخت کی سیاست پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوں تو انہیں قومی مسائل سے مقامی مسائل کی طرف بیانیہ تبدیل کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
3. اتحاد کی کمی: حزب اختلاف کی جماعتیں اکثر ریاستی سطح پر اتحاد بناتی ہیں، جو قومی اتحاد سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ ایک ساتھ انتخابات میں اس اتحاد کی کمی داخلی تنازعات پیدا کر سکتی ہے، جس سے ان کی مجموعی مہم کی طاقت کم ہو سکتی ہے۔
4. ریاستی خودمختاری میں خلل: حزب اختلاف کی جماعتیں یہ دلیل دے سکتی ہیں کہ ایک ساتھ انتخابات وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے قومی اور ریاستی سیاست کے درمیان اوور لیپ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے ریاستی حکومتوں کی مقامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔
خلاصہ:
ایک قوم، ایک انتخاب کی تجویز انتظامی فوائد اور کارکردگی لا سکتی ہے، لیکن یہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے چیلنجز پیدا کرتی ہے، جو علاقائی حکمت عملیوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اس سے بی جے پی کو قومی بیانیے اور مودی کی مقبولیت کا فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔مگر پچھلے لوک سبھا انتخابات میں ہم نے دیکھا کئی ریاستوں میں انتخابات چھ سات مرحلے میں ہوئے، اگر انتخابات ایک دن یا ایک ہفتے میں کروانے پڑیں تو شاید ایلکشن کمیشن کافی مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔فلحال کانگریس نے اس کی مخالفت کی ہے۔
Like this:
Like Loading...