Skip to content
گمراہ فرقوں کا تعاقب ضروری ہے!
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّاب(اٰل عمران:۸)’’ اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دیاور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ،یقینا تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے‘‘،اہل علم اور دل فرماتے ہیں کہ ہر دور کے فتنے اور ہر دور کی گمراہیاں الگ الگ انداز کی ہوتی ہیں اور جب وہ معاشرہ میں پھیلتی ہیں اور لوگوں کو اپنے لپیٹ میں لتی ہیں تو مختلف شکلیں اور صورتیں اپناکر لوگوں کا حصار کرتے ہوئے انہیں اپنے شکنجے میں کس نے کی کوشش کرتی ہیں اور جس وقت وہ معاشرہ میں اور لوگوں کے درمیان اپنے بال وپر پھیلاتی ہیں تو ان کا انداز بڑا دلکش اور اچھوتا ہوتا ہے ،عا م آدمی تو فورا اس کی طرف متوجہ ہوکر اپنی ڈور اس کے ہاتھ میں تھمادیتا ہے ،بعض عصری علوم رکھنے والے ذہین اور عقل مند لوگ ان کی چکنی چپٹی باتوں اور عقلی دائل کی وجہ سے ان سے مرعوب ہوجاتے ہیں اور دھیرے دھیرے ان کے نظریات سے اتفاق کرتے ہوئے ان کے پیرو کاروں میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں اور جو لوگ کم ازکم دن کا بنیادی علم رکھتے ہیں اور اہل علم سے اپناتعلق مضبوط قائم رکھتے ہیں وہ عموماً ان گمراہوں اور ان کی گمراہیوں سے محفوظ رہتے ہیں ،چنانچہ اہل علم فرماتے ہیں کہ جس طرح شکاری خوبسورت جال ڈال کر اور اس میں شکار کی مرغوب غذا رکھ کر شکار کو اپنے جال میں پھنساتا ہے اسی طرح ایمان کے شکاری جب اپنے شکار کو پھنسانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے خوبصورت باتوں کا جال بنتے ہیں اور پھر اس میں عقلی دلائل کے ذریعہ شکار کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور شکار کے متوجہ ہونے کے بعد اسے سہولت کا سبزباغ دکھاتے ہیں اور جیسے ہی وہ قریب آتا ہے اسے طرح طرح کی باتوں کے ذریعہ قید کرتے ہوئے اس سے اس کا قیمتی سرمایا ایمان سلب کر لیتے ہیں ،چنانچہ وہ گمراہ شخص بے ایمانی کی تاریکی میں بھٹکتا رہتا ہے ،پھر اس گمراہی کی تاریکی سے نکلنا اس کے لئے اسی طرح دشوار ہوجاتا ہے جس طرح تیراکی سے ناواقف شخص کا گہرے پانی میں ڈوبنے کے بعد بحفاظت ساحل پر آنا مشکل ہوجاتا ہے ،اہل علم نے سورہ اٰل عمران کی مذکورہ آیت مبارکہ کو گمراہی سے بچنے کے لئے بہترین ہتھیار اور ڈھال بتایا ہے ،اہل علم یہ بھی فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شخص چاہئے کتنا ہی علمی قابلیت رکھنے والا ہو جس تک اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب نہیں کرتا اس کے محض علم کے ذریعہ گمراہی سے بچنا آسان نہیں ہوگا ،تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ بڑے بڑے جبال علم نے اپنے علم پر فخر کیا اور اپنی صلاحیت پر اعتماد کیا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور فضل شامل حال نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے علوم نے انہیں اس طرح ڈوبایا کہ تاریخ میں انہیں نسیا منسیا بناکر رکھ دیا اور وہ بھولی بسری یادیں بن کر رہ گئے ۔
فتنے اور گمراہیاں چاہئے جس نوعیت کی ہوں یہ سب کے سب شیطانی اثر اور شیطان کے کارندوں کے شر کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا مقصد براہ راست اہل ایمان سے ایمان کی دولت سلب کرنا یا کم ازکم انہیں ان اعمال سے دور رکھنا جس کی نحوست سے رحمت الٰہی کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور آدمی کے لئے ایمان واعمال کی حفاظت مشکل ہوجاتی ہے ،رسول اللہ ؐ نے اپنی امت کو آنے والے تمام چھوٹے بڑے فتنوں اور گمراہیوں سے آگاہ فرمایا ہے اور ان سے بچنے اور محفوظ رہنے کے طریقے بھی بتلائے ہیں ، چنانچہ احادیث کی کتابوں میں ایک بڑا ذخیرہ ان احادیث کا ہے جن میں آپؐ نے قیامت کے قریب فتنوں کا ذکرفرمایا ہے اور ان سے بچنے کی ترغیب وتعلیم فرمائی ہے ،چنانچہ محدثین کرام نے ان تمام روایات کو ’’کتاب الفتن‘‘ کے نام سے جمع کیا ہے اور محدثین نے ان تمام احادیث کی بڑے اہتمام اور بڑی اھتیاط سے تشریح اور وضاحت بھی فرمائی ہے تاکہ ہر مسلمان کے لئے اس سے استفادہ کرنا اور سمجھنا آسان ہوجائے اور وہ خود بھی فتنوں سے محفوظ رہے اور اپنے متعلقین کو اس سے بچنے کی طرف توجہ دلاسکے ۔
ایک حدیث ہے جس میں آپؐ نے گمراہی کے دور کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ میری امت کے لوگ پچھلی امت کے گمراہ لوگوں کی نقل کریں گے اور بالکل انہی کے نقش قدم پر چلیں ،وہ گمراہی کی وجہ سے اندھے ،بہرے اور عقل سے پیدل ہوجائیں گے ،حدیث مبارکہ کے الفاظ دیکھئے ،صحابی رسول حضرت سیدنا ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’یقینا میری امت کے لوگ پچھلی امت کے لوگوں کے طریقوں پر بالشت برابر یعنی بالکل ان کے نقش قدم پر چلیں گے ،یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گُھسے ہوں گے تو یہ بھی ان کی پیروی میں اس میں گُھسنے کی کوشش کریں گے ،ـــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ؐ کیا پچھلی امتوں سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں ؟ آپ ؐ نے فرمایا تو اور کون ہیں؟ یعنی ان سے یہود ونصاریٰ ہی تو ہیں (بخاری :۷۳۱۹)،اس حدیث مبارکہ میں آپ ؐ نے بڑی وضاحت کے ساتھ دو باتیں ارشاد فرمائی ہیں (۱) پچھلے لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے گمراہی کی مہر لگائی ہے وہ ہرگز کسی کے لئے بھی ہدایت کا ذریعہ نہیں بن سکتے ہیں بلکہ ان کی تعلیمات اور پیروی تو دور کی بات ہے بلکہ ان کی نقل بھی اچھے خاصے آدمی کو گمراہی کے دلدل میں ڈھکیل دیتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے متعدد احادیث میں گمراہوں ،باغیوں اور نافرمانوں کی مشابہت سے سختی سے منع فرمایا ہے (۲)دوسری بات جو اس ارشاد مبارکہ میں کہی گئی ہے وہ یہ کہ گمراہ آدمی سے آدمی کبھی ہدایت پا نہیں سکتا بلکہ گمراہی اس سے اس طرح لپٹ جاتی ہے جس طرح جونگ جانور کے جسم سے چپک جاتی ہے،گمراہ آدمی کے صحبت اور اس کی باتوں کے سماعت کے نتیجہ میں اس عقل پر پردہ پڑجاتا ہے اور وہ بھی وہیں حرکتیں کرنے لگتا ہے جو گمراہ آدمی کرتا ہے حتی کہ وہ بھی اس جگہ پہنچ جاتا ہے جس جگہ پہنچنے کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔
ایک اور حدیث مبارکہ ہے جس میں مزید وضاحت کے ساتھ فتنوں کے زمانے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ،حضرت سیدنا حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: (قیامت کے قریب) جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے جو ان کے بلاوے پر اُدھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے ،میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ؐ ! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائے؟ آپؐنے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے ،ہماری زبانیں بولیں گے ،میں نے عرض کیا : اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علاحدگی اختیار کرو اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتی کہ تمہیں اس حالت میں موت آجائے(بخاری: ۳۶۰۶)۔
یقینا یہ حدیث مبارکہ تو موجودہ حالت پرمن وعاً صادق آرہی ہے ، علوم دینیہ سے ناواقف، سطحی علم رکھنے والے ، دینی احکام کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے والے اور سستی شہرت کے طالب قرآن وحدیث اور علوم دینیہ کی باریکیوں سے ناقافیت کے باوجود اپنے اپنے ادارہ کھول کر اور بعض سوشل میڈیا کا سہارا لے لوگوں کو فتنوں اور گمراہیوں کی طرف ڈھکیل رہے ہیں اور لوگ ہیں کہ بلا تحقیق اور بلا تفشیش ان کی چرب زبانی سے متاثر ہوکر گمراہی کے دلدل میں گھر تے جارہے ہیں اور حق کا رستہ چھوڑ کر باطل کی وادیوں میں گم ہوتے جارہے ہیں ،اس وقت ایک تعداد ان لوگوں کی ہے جو گمراہ لوگوں سے یا تو متاثر ہوچکے ہیں یا ان کی پیروی کو درست سمجھ کر ان کی باتیں سننے لگے ہیں یا ان سے اتنے متاثر ہو چکے ہیں کہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو چکے ہیں ۔
اس وقت امت مسلمہ کئی حالات سے دوچار ہے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دشمنوں نے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا ہے اور قریب ہے کہ انہیں لقمہ اجل بناکے چھوڑدے ،دشمن کسی بھی حالت میں امت مسلمہ کو قبول کرنے تیار نہیں ہے ،ان کا اصل حدف تو زمین سے امت مسلمہ کا خاتمہ ہے اور یہ ان کا ہی خواب نہیں بلکہ ہر دور کے دشمنان اسلام کا خواب رہا ہے ،یا کم از کم دشمن یہ چاہتا ہے مسلمان اپنے دین وایمان پر قائم نہ رہیں بلکہ دین اسلام ان کے پاس عملی طور پر نہیں بلکہ رسمی طور پر باقی رہے ،وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر مسلمان مسلمان بن کر زندگی گزاریں تو حکومت اور حاکمیت سے کوئی روک نہیں سکتا ،اس لئے دشمن چاہتا ہے مسلمان زبانی مسلمان تو رہے مگر عملی اور کردار کا مسلمان باقی نہ رہے ،اس زمانہ قدیم ہی سے دشمن پوری قوت اور سوجھ بوجھ کے ساتھ دو کام کرتا آرہا ہے (۱) مسلمانوں کو سیاست وقیادت سے دور رکھا جائے اور ہمیشہ انہیں اپنا محتاج بن کر رکھاجائے (۲) ہمیشہ انہیں میں سے چند ایسے لوگوں کو اپنا آلہ کار بنائیں جو اسلام میں اپنے عقلی گھوڑے دوڑاتے ہوئے عام مسلمانوں کے ذہنوں کو منتشر کر سکیں ،اس کے لئے وہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں جو خاندانی مسلمان تو ہیں مگر ذہنی اور فکری انحراف کا شکار ہیں یا کبھی ایسے اشخاس کو منتخب کرتے ہیں جو باصلاحیت تو ہیں مگر مال ودولت کے حریص ہیں اور کبھی جہلا کو کھڑا کرتے ہیں اور وہ اپنی جاہلانہ حرکتوں سے جہلا کو اور کبھی خالی الذہن لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے گمراہی پھیلاتے رہے ہیں ۔
اس وقت جو فتنے عروج پر ہیں اور ہمارے علاقہ تلنگانہ کے مختلف دیہاتوں اور شہروں بلکہ ملک کے مختلف صوبوں میں اپنے بال وپر پھیلاتے ہوئے نت نئے طریقوں سے گمراہی پھیلانے میں مصروف ہیں اور افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ بہت سے مسلمان جن میں نوجوان اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہے ان گمراہ فرقوں کی گمراہی کا شکار ہورہے ہیں اور اپنے عقائد کے ساتھ ایمان کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں ،ان فتنوں میں سب سے بڑا اور خطرناک گمراہ فرقہ ’’قادیانی‘‘ ہے جس کا بانی ملعون کذاب مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے خود کے جھوٹے نبی ہونے کا دعوی کرکے تاج ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تھی ، یہ دراصل انگریز کا آلہ کار تھا جس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر انتشار پیدا کرکے ان کی صفوں کو منتشر کرنا تھا تاکہ وہ اسی میں الجھ کر رہ جائیں اور دشمن کو اس کا خوب فائدہ حاصل ہوجائے ، قادیانی اور اس کے ماننے والے اسلام سے خارج ہیں مگر اس کے باوجود یہ لوگ خود کو مسلمان بتاکر خصوصا دیہاتوں میں کچھ مالی امداد کے ذریعہ لوگوں کو قریب کرکے انہیں قادیانی بنانے میں لگے ہوئے ہیں،اس خطرناک اور مہلک فتنے کی سر کوبی کے لئے علماء مستقل اور مختلف انداز سے کوششوں میں مصروف ہیں ،اس کے لئے باضابطہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہے ،اسی طرح ایک اور خطرناک فتنہ اور فرقہ ’’فرقہ رافضی‘‘ ہے اس فرقے کی کئی ایک شاخیں ہیں مگر ان سب کا مشترک کام اہل بیت کی محبت کا سہارا لے کر امت کے سب سے مقدس ترین جماعت جماعت حضرات صحابہؓ کی توہین کرنا ہے ، یہ فرقہ خصوصا حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ سے دشمنی رکھتا ہے اور ان مبارک ہستیوں سے دشمنی رکھنے کو اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے ،اس فرقہ کا بنیادی مقصد امت میں صحابہؓ سے متعلق بے اعتمادی کو فروغ دینا ہے تاکہ یہ امت صحابہؓ سے کٹ جائے اور جو دین صحابہؓ کے ذریعہ ہم تک پہنچاہے اس میں شکوک وشبہات پیدا ہوجائیں اس طرح امت دین اسلام اور اس کے احکام سے کٹ کر رہ جائے ،اس وقت ایک اور فتنہ عروج پر ہے اور وہ فتنہ ہے ’’ فتنہ اہل قرآن‘‘ یعنی منکرین حدیث کا فتنہ ،یہ فرقہ کے ماننے والے اصل میں احادیث مبارکہ کا انکار کرتے ہیں ،ان کی نظر میں جو احادیث کا ذخیرہ ہے وہ معتبر ہی نہیں ہے ،اس کی وجہ سے وہ دین کے ان تمام احکامات کا انکار کرتے ہیں جو احادیث سے ثابت ہیں ،چنانچہ اس فرقے نے احادیث کا انکار کرتے ہوئے دین کے بہت سے احکامات کا انکار کردیا ہے اور دینی احکام کو چند چیزوں تک محدود کردیا ہے ۔اسی طرح موجودہ زمانہ کا ایک فریبی فرقہ ’’فرقہ جماعت المسلمین ‘‘ بھی ہے جس نے خوبصورت ٹائٹل کے ذریعہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ،اس فرقہ کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد امت کو گروہ بندی سے بچا کر ایک پلیٹ فام پر لانا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ امت کو گروہ بندی سے بچانے کے بجائے خود نے اپنا ایک گروہ بنالیا ہے ،یہ ایک حاکم، ایک امام ،ایک قرآن اور ایک دین کا ڈھونگ رچاکر اپنے علاوہ باقی تمام کو کافر قرار دیتے ہیں ،یہ فرقہ قرآنی آیات کی غلط تشریح وتاویل کرتا ہے اور خود کو قرآن کا پابند بتاکر خود قرآنی تعلیمات سے منحرف ہوچکا ہے ۔ اسی طرح اس وقت کا ایک خطرناک فتنہ ’’فتنہ شکیلیت‘‘ یعنی شکیل بن حنیف ملعون کا فتنہ ہے ،اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میں یہ فتنہ بڑا سرگرم دکھائی دے رہا ہے اور اس کے مبلغین اپنی چرب زبانی کے ذریعہ نوجوں اور خاص کر تعلیم یافتہ حضرات کو اپنے باطل نظریات کی طرف لانے کی کوشش میں مصروف ہیں ، اس فرقہ کا بانی شکیل بن حنیف خود کے مسیح مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے(نعوذ باللہ) یہ امریکہ اور فرانس کو دجال مانتا ہے،وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیؑ ومہدی دونوں ایک ہی شخص ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ایک اور فتنہ ہے جو دکن کی سر زمین سے اٹھا ہے ،یہ ’’ فیاضی فتنہ ‘‘ہے ،اس نے علاج کے نام پر بیماروں کو یرغمال بنالیا ہے اور اس کا شکار مردوں سے زیادہ عورتیں ہورہی ہیں ، یہ شخص علاج ومعالجہ کے نام پر لوگوں کو زبر دست دھوکہ دے رہا ہے اور ان کے نفسیات سے کھلواڑ کر رہا ہے ،وہ اپنے علاوہ سے علاج کروانے کو صحیح نہیں مانتا ،اس کا کہنا ہے کہ اس کی پیروی ہی اصل میں اللہ کی پیروی ہے ،وہ کہتا ہے کہ اس کی اطاعت کے بغیر کوئی بھی عبادت قبول نہیں۔اسی طرح اس وقت انٹر نٹ کا ایک مشہور فتنہ ’’ فتنہ غامدیت‘‘ ہے اس کا بانی جاوید احمد غامدی ہے جو فکری انحراف کا شکار ہے،یہ شخص قرآن وحدیث کی غلط تاویلات کرتا ہے ،اس کا اپنا ماننا ہے کہ قرآن وحدیث کی وہی تشریح معتبر ہے جو اس نے کی ہے،وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسی ؑ وفات پاچکے ہیں اور قیامت کے قریب کوئی مہدی آنے والے نہیں ہیں،اس گمراہ فرقے کی لپیٹ میں بہت سے جدید تعلیم یافتہ لوگ آچکے ہیں ، موجودہ دور کا ایک اور فتنہ ’’ فتنہ گوہر شاہی‘‘ ہے ،اس کابانی ریاض احمد گوہر شاہی ہے ،یہ خود ساختہ پیر بن کر بھولے بھالے مسلمانوں کے ایمان کو برباد کر چکا ہے،اس کے مرنے کے بعد اس کے ماننے والے کہتے ہیں کہ یہ مرا نہیں بلکہ غیبت یعنی غائب ہے اور قرب قیامت اس کا ظہور ہوگا،اس کا ماننا ہے کہ لوح وقلم اس ملعون کے تصرف میں ہیں ،اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اللہ جیسی طاقت ہے ،اس وقت اس کا جانشین یونس گوہر شاہی ہے جو انٹر نیٹ کے ذریعہ گمراہی پھیلانے میں مصروف ہے۔ موجودہ دور میں انٹر نٹ کا ایک اور خطرناک فتنہ ’’ فتنہ’’انجینیر علی مرزا‘‘ کا ہے ،اس بدبخت کا مشن ہی حضرات صحابہؓ کی شان میں گستاخیاں کرنا ہے اور ان کی شان گھٹانے کی ناکام کوشش کرنا ہے،اس نے اپنی جماعت کانام علمی کتابی رکھاہے ،موصوف اگر چہ پیشہ سے ایک انجینیر ہیں مگر انہیں اسلامی اسکالر کا جنون سوار ہو گیا ہے ،یہ اپنی مرضی سے جس حدیث کو چاہے ضعیف قرار دیتے ہیں اور جس واقعہ کو چاہے غیر معتبر اور غیر مستند بھی بتادیتے ہیں ،ان کے گمراہ کن دعوت کے مقاصد میں ایک مقصد امت اور علماء امت کے درمیان دیوار کھڑی کرنا ہے تا کہ لوگ علماء سے رجوع نہ کرتے ہوئے ان جیسے نام نہاد اسلامی اسکالر سے رجوع ہوکر اپنے ایمان کا جنازہ اٹھا سکیں ۔ایک اور فتنہ’’دیندار انجمن‘‘ ہے اس فرقہ کابانی صدیق دیندار ہے،اس نالائق نے ہندووں کا اوتار چن بسویشور ہونے کا دعویٰ کیا تھا،وہ کہتا ہے کہ خدا مخلوق میں اتر سکتا ہے،یہ بدبخت مرزا غلام احمد قادیانی کو تمام انبیاء کا جامع مانتا ہے ،ان فرقہ باطلہ کے علاوہ اور بھی بہت سے چھوٹے بڑے فرقے ہیں جو مستقل گمراہی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اسی طرح اس وقت انٹر نٹ کے ذریعہ جو فرقہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے وہ ہے ’’ ساحل عدیم کا فتنہ‘‘ موصوف نفساتی معالج تھے مگر سستی شہرت کی چکر میں پر کر خود کو اسلامی اسکالر بتاکر دین کی غلط تشریحات کرتے ہوئے خود ایک نفسیاتی مریض بن چکے ہیں ،موصوف کا بھی بنیادی مقصد عوام کو علماء سے بد ظن کرانا ہے اور اہل علم کے بغیر دین اور اس کے احکام سیکھنا ہے ،موصوف اس شدت کے ساتھ اپنی خود ساختہ باتیں بیان کرتے ہیں گویا اس کی سچائی میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے ، موصوف کو نفاذ دین کی بڑی فکر ہے اگر چہ وہ اپنی ذات میں دین مکمل طور پر نافذ نہیں کر سکے مگر پوری دنیا میں اسے نافذ کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی اپنی مرضی کے ساتھ۔
ان نازک ترین حالات اور فتنوں کے دور میں ہر صاحب ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق گمراہ فرقوں کا تعاقب کریں یا جو علماء اور تنظیمیں کو ششیں کر رہی ہیں ان کے معاون بن جائیں ،ہماری ریاست کی فعال تنظیم مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ وآندھرا اس وقت دونوں ریاستوں میں پوری قوت کے ساتھ فرقہ باطلہ کا پیچھا کر رہی ہے،عوام الناس کو ان گمراہ فرقوں کی گمراہیوں سے واقف کرنے کے لئے مختلف علاقوں میں تفہیم ختم نبوت ورک شاپ چلا رہی ہے ،اسکول ،کالجس ،جدید تعلیم یافتہ اشخاص اور خصوصا د قصبات ویہات کے دورے کرتے ہوئے فتنہ قادیانیت اور دیگر گمراہ فرقوں کی گمراہیوں سے لوگوں کو واقف کراتے ہوئے ان سے دور رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرنے کی فکر دلارہی ہے،اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان حضرات کی محنتیں رنگ لارہی ہے اور ہزاروں لوگ گمراہ فرقوں کی گرماہیوں سے واقف ہو چکے ہیں اور بہت سے وہ لوگ جو لاعلمی میں یا باطل کی محنتوں کی وجہ سے گمراہ فرقوں کے ہاتھ لگ چکے تھے الحمد للہ تائد ہوکر مومنانہ زندگی گزار رہے ہیں ۔
٭٭٭٭
Like this:
Like Loading...