Skip to content
مسلمانوں کیخلاف بی جے پی حکومت کا ایک اور ظلم
اب وقف پر حکومت کی بری نظر
ازقلم:محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
8277465374
وقف کو لے کراس وقت ملک بھر میں دو طرفہ جدوجہد چل رہی ہے ایک جانب موجودہ حکومت وقف کیخلاف وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے کوشاں ہے تو دوسری جانب مسلمان اس کو ناکام بنانے کیلئے اپنی نمائندگی درج کرانے میں پیچھے نہیں رہے ملک بھر سے کروڑ وںای میل بھیجے گئے ہیںاور ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس معاملہ میں علماء اکرام سرگرم ہوگئے ہیں، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی امارت میں تمام مسلک کے علماء اکرام اور علماء اکرام کی ہر تنظیم اور جماعت چاہے وہ جمعیت العلماء یا منبر و محراب فاونڈیشن ہو یا کوئی اور سب ہی عوام کو ساتھ لے کر حکومت کی ان مسلم مخالف پالیسیوں اور مظالم کیخلاف جدوجہد کر رہے ہیں یہاں گلبرگہ میں بھی ہر جماعت وہ تنظیم اپنی اپنی سطح سے کوششیں کررہے ہیں اوراس میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ جبکہ حکومت بضد ہیکہ وہ یہ بل منظور کراکے رہے گی، خدانخواستہ اگر حکومت یہ بل پاس کرانے میں کامیاب ہوگئی تو ملک کی تمام وقف جائدادوں کو خطرہ ہے ،اس لئے مسلمانوں کو ملک گیر سطح پر ہر ممکن طریقہ کار اپنا کر اس بل کو پاس کرانے سے روکنا ہوگا،ہندوستان میں محکمہ ریلوے اور محکمہ دفاع کے بعد وقف تیسرا بڑا ادارہ ہے جس کے پاس سب سے زیادہ زمینیں اور جائداد ہیں اسی لئے حکومت کی نیت اس پر خراب ہوئی ہے اور وہ ان جائدادوں کو ہڑپ کرنے کی فراق میں ہے ۔ مسلمانوں کیخلاف بی جے پی حکومت کے بڑھتے مظالم میں سے یہ ایک اور اضافہ ہے۔
وقف کی تاریخ ہندوستان میں صدیوں پرانی ہے اور اسے مسلم حکمرانوں اور دیگر امیر مسلم خاندانوں کی طرف سے مذہبی،فلاحی اور امدادی و خیراتی مقاصد کے لیے وقف کیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں وقف کی جائیدادیں آج بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔ہندوستان میں وقف کی جائیدادیں ہزاروں ایکڑ پر محیط ہیں اور ان کی مجموعی مالیت اربوں روپے کی ہے۔ یہ جائیدادیں مسلم معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں، جیسے کہ تعلیم، صحت، اور غربت کے خاتمے کے منصوبے۔ وقف کرنے کے بھی اصول ہوتے ہیں جیسے کوئی بھی جائیداد جو وقف کی جا رہی ہو، وہ قانونی طور پر واقف کی ملکیت ہونی چاہیے، اور اس پر کوئی قرض یا تنازعہ نہ ہو۔: وقف وہ شخص یا ادارہ کرتا ہے جو اپنی ملکیت یا جائیداد کو کسی امدادی ،خیراتی یا مذہبی مقصد کے لیے مختص کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف فلاحی مقاصد پورے ہوتے ہیں بلکہ یہ صدقہ جاریہ کے طور پر بھی شمارکیا جاتا ہے جو اسلام میں ایک اعلیٰ درجہ رکھتا ہے۔ جب کسی جائیداد کو وقف کیا جاتا ہے، تو وہ ہمیشہ کے لیے اللہ کی ملکیت بن جاتی ہے اور اس کا فروخت یا وراثت میں تقسیم کرنا منع ہے۔ واقف خود اس جائیداد سے ذاتی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اور نہ ہی اس کو واپس لے سکتا ہے۔وقف کا مقصد ہمیشہ فلاحی، خیراتی، یا مذہبی ہوتا ہے، جیسے کہ مسجد، مدرسہ، یتیم خانہ، یا طبی سہولت۔ وقف کی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وقف کیا گیا ہو، جیسے کہ مسجد کی تعمیر و مرمت یا غریبوں کی مدد۔ وقف جائیدادوں کو دینی مقاصد جیسے مساجد، مدارس، قبرستانوں، اور خانقاہوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان جائیدادوں کی آمدنی غریبوں کی مدد، تعلیم، اور دیگر فلاحی منصوبوں پربھی خرچ کی جاتی ہے۔وقف ایکٹ کے تحت ہر وقف جائیداد کی رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔ رجسٹرڈ وقف جائیدادوں کی تفصیلات ریاستی وقف بورڈز کے پاس محفوظ ہوتی ہیں۔وقف کی دیکھ بھال کے لیے ایک نگران مقرر کیا جاتا ہے، جسے متولی کہا جاتا ہے۔ متولی کا فرض ہے کہ وہ وقف کی جائیداد کو بہترین طریقے سے استعمال کرے اور اس کے فلاحی مقاصد کو پورا کرے۔،متولی کو جائیداد فروخت کرنے یا وقف کے مقصد سے ہٹ کر استعمال کرنے کا حق نہیں ہوتا، جب تک کہ شریعت یا مقامی قوانین کے تحت کوئی خصوصی اجازت نہ دی جائے۔وقف کی جائیداد پر غیر قانونی قبضہ یا اس کا غلط استعمال شریعت اور ملکی قوانین کے تحت جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے وقف بورڈ یا متعلقہ اتھارٹیز کو عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں وقف کی جائیدادوں کے انتظام و انصرام کے لیے وقف بورڈز یا ادارے قائم کیے جاتے ہیں یہ ادارے وقف کی جائیدادوں کی نگرانی، انتظام اور قانونی تحفظ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔وقف کے قوانین کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وقف کی جائیداد کا صحیح استعمال ہو اور یہ ہمیشہ فلاحی یا دینی مقاصد کے لیے مختص رہے۔ وقف جائیدادوں کا صحیح اور منصفانہ استعمال مسلم کمیونٹی کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہیلیکن وقف جائیدادوں کی آمدنی کا درست اور شفاف استعمال ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ ہندوستان میں وقف جائیدادوں کے ساتھ کچھ مسائل بھی ہیں، جیسے کہ غیر قانونی قبضے، بدانتظامی، اور آمدنی کا غلط استعمال۔ بعض اوقات متولیوں کی بدعنوانی کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ وقف کی بہت سی جائیدادیں خستہ حال ہیں اور ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہو پاتی۔ موجودہ حکومت کے دوران بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وقف بورڈز میں بدعنوانی اور غلط انتظامی فیصلے جاری ہیں، جس کی وجہ سے وقف کی آمدنی کا صحیح استعمال نہیں ہو پا رہاہے اور اب تو موجودہ حکومت وقف بورڈ کو ہی ختم کرکے وقف کی جائدادوں پر حکومتی قبضہ کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستان میں وقف کا ادارہ ہمیشہ سے ایک اہم ادارہ رہا ہے جو اوقافی جائیدادوں کے فلاحی اور دینی مقاصد کے لیے مختص ہوتا ہے اور ان کا انتظام و انصرام وقف قوانین کے تحت کیا جاتا ہے۔ہندوستان میں وقف کی تشکیل اور اس کے انتظام کے لیے باقاعدہ قوانین موجود ہیں، اور انہیں مختلف ادوار میں قانونی شکل دی گئی ہے۔ ہندوستان میں وقف کی تنظیم اور تحفظ کے لیے پہلی بڑی قانون سازی 1954 میں کی گئی، جسے وقف ایکٹ، 1954 کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن، متولیوں کی تقرری، اور وقف جائیدادوں کے انتظام کا طریقہ کار طے کیا گیا۔ 1964 میں حکومت ہند نے سنٹرل وقف کونسل کا قیام عمل میں لایا، جو وقف جائیدادوں کی نگرانی، متولیوں کی تربیت، اور وقف سے متعلق معاملات پر حکومت کو مشورہ دینے کا کام کرتی ہے۔ یہ کونسل مرکزی حکومت کے تحت کام کرتی ہے اور وقف کی جائیدادوں کی دیکھ بھال اور ترقی کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔وقف کی اصلاحات اور انتظام کو بہتر بنانے کے لیے 1995 میں ایک نیا قانون متعارف کروایا گیا، جسے وقف ایکٹ، 1995 کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت مرکزی اور ریاستی سطح پر وقف بورڈز تشکیل دیے گئے تاکہ وقف کی جائیدادوں کی نگرانی اور دیکھ بھال بہتر طریقے سے کی جا سکے۔ یہ قانون وقف جائیدادوں کو غیر قانونی قبضے اور بدانتظامی سے محفوظ کرنے کے لیے موثر ہے۔ ہر ریاست میں وقف جائیدادوں کے انتظام کے لیے ریاستی وقف بورڈقائم کیے گئے ہیں، جو وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن، متولیوں کی تقرری، اور ان جائیدادوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ریاستی وقف بورڈ وقف کی آمدنی کے استعمال کی نگرانی بھی کرتے ہیں تاکہ وہ فلاحی اور دینی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکے۔ ہندوستان میں وقف کی جائیدادوں کو غیر قانونی قبضے سے بچانے کے لیے خصوصی قوانین اور عدالتیں موجود ہیں، جن کے ذریعے وقف بورڈز قبضہ مافیا اور دیگر غیر قانونی عناصر کے خلاف مقدمات درج کروا سکتے ہیں۔وقف ٹریبیونلزبھی قائم کیے گئے ہیں جو وقف سے متعلق تنازعات کا فیصلہ کرتے ہیں۔گذشتہ حکومتیں بھی بعض اوقات وقف قوانین میں ترامیم یا تبدیلیاں کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں جو مسلم کمیونٹی کو تشویش میں مبتلا کرتی ہیں۔ وقف ایکٹ 1995 میں حکومت وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کرتی ہے، جن کا مقصد وقف جائیدادوں کی بہتر نگرانی کہا جاتا ہے، لیکن بعض مسلم حلقے انہیں وقف کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔ وقف بورڈز کا بنیادی مقصد مسلم کمیونٹی کے فلاحی مفادات کا تحفظ کرنا ہے، لیکن کئی بار یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حکومت وقف بورڈز پر سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے وقف بورڈز کے آزادانہ اور منصفانہ کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت کے تحت بعض ریاستوں میں وقف بورڈز کی خودمختاری کم ہونے کی خبریں سامنے آ چکی ہیں، اور متولیوں کی تقرری یا برطرفی میں سیاسی مداخلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اور اب تو اس کو ختم کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں جس سے ملک بھر میں بے چینی پھیل گئی ہے ۔
ہندوستان میں وقف جائیدادیں بڑی تعداد میں ہیں، اور ان میں سے بہت سی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضے کیے جا چکے ہیں یا قبضے کا خطرہ موجود ہے۔ موجودہ حکومت کے دوران بعض اوقات وقف جائیدادوں پر قبضے کے معاملات میں تیزی آئی ہے، اور یہ شکایات عام ہیں کہ وقف بورڈز کو مضبوط تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا بلکہ اب تو اس کو ختم ہی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) جیسے قوانین کی وجہ سے مسلم کمیونٹی میں خوف و ہراس ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان قوانین کے تحت وقف جائیدادوں کو بھی نشانہ بنانے کا منصوبہ ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مسلم آبادی کو ان قوانین کی وجہ سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو وقف جائیدادوں کی حفاظت اور ان کا انتظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔وقف جائیدادوں سے متعلق عدالتی مقدمات کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور بعض اوقات حکومت یا دیگر طاقتور گروہوں کی جانب سے وقف جائیدادوں پر دعویٰ دائر کیے جاتے ہیں۔ یہ قانونی مقدمات وقف جائیدادوں کی حفاظت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور مسلم کمیونٹی کی طرف سے خدشات میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔وقف کے مسائل کو حل کرنے اور وقف جائیدادوں کی حفاظت کے لیے مضبوط قیادت اور نمائندگی کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ حکومت کے دوران بعض حلقے یہ شکایت کرتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی کی آواز کو مناسب طریقے سے نہیں سنا جا رہا۔ وقف کی جائیدادوں سے متعلق اہم فیصلوں میں مسلم قیادت کی شرکت کمزور ہونے سے وقف کے معاملات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان میں وقف کو موجودہ حکومت کے دوران کئی چیلنجز اور خطرات کا سامنا ہے جن میں وقف جائیدادوں پر قبضے کا خطرہ، قانونی تبدیلیوں کا خدشہ، وقف بورڈز پر حکومتی کنٹرول اور مسلمانوں کی کمزور نمائندگی شامل ہے لیکن اب موجودہ حکومت وقف کو ہی ختم کرنے کیلئے کمر بستہ ہے ہندوستان میں وقف جائیدادیں ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں، لیکن موجودہ سیاسی ماحول اور حکومت کے تحت بعض عوامل کی وجہ سے وقف کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ خطرات قانونی، انتظامی، اور سماجی نوعیت کے ہیں اور ان کا اثر وقف کے نظام پر براہ راست ہو سکتا ہے۔ وقف جائدادوں کی حفاظت اور ان کے فلاحی مقاصد کو یقینی بنانے کیلئے حکومت اور مسلمانوں کی قیادت کے درمیان اعتماد اور تعاون کا فروغ ضروری ہے تاکہ وقف ادارے اپنی حقیقی روح کے ساتھ قائم رہ سکیں اور ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کیلئے کام آسکیں ۔ ہندوستان میں وقف کا ایک قدیم اور اہم نظام قائم رہا ہے جو مسلمانوںکی دینی ، تعلیمی و اقتصادی فلاح و بہبود کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے وقف قوانین کا درست نفاذ اور انتظام ناگزیر ہے،عوام میں وقف کی اہمیت اس کی حفاظت اور ترقی سمیت اس کے فوائد کے بارے میں آگاہی عام کرنا اور اس کی حفاظت کیلئے کمر کس کے میدان عمل میں آنا اب ناگزیر ہوگیا ہے۔
Like this:
Like Loading...