Skip to content
عبد العزیز- جدو جہد و تحرک کے پیکر
ازقلم:شبیر ذو المنان
ملی، فلاحی، لسالی ،علمی اور مذہبی تحریک سے وابستہ معروف شخصیت جناب محمد ولی اللہ انصاری(شیب پور،ہوڑہ) اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں۔
’’کسی تحریک کا کا رکن اس کا ترجمان ہوتا ہے۔اسے عوام و خواص میں، اسکول و کالج اور مدرسوں میں، بڑے چھوٹے مجمعوں میں، بازار اور پارکوں میں غرض ہر مقام پر اورہر جگہ اپنی تحریک کی ترجمانی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ایک طویل عمل ہے جس شخص میں یہ خوبی نہ ہو وہ اس تحریک کی خدمت تو کجا اس کی بدنامی و رسوائی کا باعث ہوگا۔‘‘
معزز قارئین کرام! مندرجہ بالا اقتباس کی روشنی میں اگر ہم ارضِ بنگالہ کی معروف شخصیت جناب عبدالعزیز کی زندگی اور اُن کی گراں قدر خدما ت کا بغور جا ئزہ لیں تو ہمیں یقیناً احساس ہوگا کہ اِس محسنِ قوم و ملت کی زندگی کا ہرلمحہ اقامتِ دینِ برحق اور ملت کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہے۔
عبدالعزیز صاحب کو میں اُس وقت سے جانتا ہوں جب وہ کلکتہ سے شائع ہونے والا روز نامہ’’ اقراء‘‘ کے ایڈیٹر ہوا کرتے تھے۔ حقیقت پر مبنی ایسا اداریہ رقم فرماتے کہ حکومتِ وقت ہمیشہ اِن کی تحریروں سے خائف نظر آتی۔ عصرحا ضر میں موجودہ حکومتوں کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔عمر کی اِس منزل پر پہنچنے کے بعد جہاں انسانی دل و دماغ صحیح طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلا حیت کھو بیٹھتے ہیں موصوف اپنی خدا داد صلا حیت کے سبب سے روزانہ دو مضا مین ایک سیا سی اور دوسرا دینی، ملی، سماجی ، تعلیمی اور معاشرتی نوعیت کے ، نہ صرف رقم کرتے ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے وسیلے سے اندورنِ ملک 160اخبارات و رسائل کو ارسال فرماتے ہیں۔جن میں سے تقریباً نوے فیصد اخبارات و رسائل ان کے مضامین کو شائع کرکے اِن سے اپنی قلبی اور قلمی اُنسیت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اِنہوں نے اب تک کن کن موضو عات پر کتنے مضا مین لکھے ہیں اْنہیں خود بھی یاد نہیں ہوگا۔ اگر غور فرمائیں تو اِس عدیم الفرصتی کے زمانے میں اِ ن کا یہ عمل کسی کرامت سے کم نہیں ہے۔ مختلف موضوعا ت پر اِن کی چودہ کتا بیں منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوچکی ہیں جن سے ہمیں روشنی ملتی ہے۔اِ ن تقریریں بھی بڑی معلوماتی اور بصیرت افروز ہوتی ہیں۔
عبد العزیز صاحب ملی اتحاد پریشد کے روح رواں، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ریا ستِ مغربی بنگال کے جنرل سکریٹری، جماعتِ اسلامی ہند مغربی بنگال کی مجلسِ شوریٰ کے رکن اور ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے سکریٹری بھی ہیں۔ان اداروں کو ان کی ذات و صفا ت سے بہت فیض پہنچا ہے۔ ملی الا مین کالج کے اقلیتی کردار کی بحالی کا مسئلہ ہو چاہئے ملت کی بدحالی اور زبوں حالی کا، فوراً کسی بھی خوف سے بے نیاز میدانِ عمل میں کود پڑتے ہیں۔سچ ہے جس دل میں خدا کا خوف ہو اُس دل میں زمانے کے خوف کا گذر کہاں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک بار شہرِ کی ایک مسجد میں ایک میت کی جنازے کی نماز کو لیکر مسلکی تنازعہ کھڑا ہوا تھا اِس کی خبر ملتے ہی فوراً معروف عالمِ دین حضرت مولانا نعت حسین حبیبی کے ہمراہ، ملی اتحاد پریشد کے بینر تلے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور اپنی بصیرت افروز کلمات اور معاملہ فہمی کے ذریعہ اس تنازعہ کو ختم کیا۔
محترم عبدالعزیز اور اُن رفقاء نے ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ماتحت ساوتھ چوبیس پرگنہ کے سبھاش گرام میں مذ ہب کے دائرے میں رہ کر ملت کے بچے اور بچیوں کی اعلیٰ انگریزی تعلیم کے لئے ایک رہا ئشی اسکول کے قیام کا منصوبہ بنا یا ہے۔ اُنہوں نے اپنے مقصد کی حصولیابی کی غرض سے 29 بیگھہ زمین کی خریدار ی بھی کرلی ہے جہاں ابھی ایک مسجد کی تعمیر کا کام پائے تکمیل کوپہنچا ہے۔ خدا اِ ن کے اِس جائز مقصد میں کا میابی عطا فر مائے۔آمین ثم آمین۔
اتنی مصرو فیت کے باوجود عبدالعزیز صاحب فیس بک پر بہت سر گرم نظر آتے ہیں اور کسی بھی تنازعہ یا مسئلہ پر اپنی مثبت رائے پیش کرتے ہیں۔مجھ جیسے ناچیز قلم کاروں کی تخلیق پر نہ صرف لائک اور کمنٹ کرتے ہیں بلکہ اُسے شیئر کرنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔اِن کا یہ عمل لائق تحسین ہے۔اللہ کے حضور ملتجی ہوں کہ وہ صحت اور تندرستی کے ساتھ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم رکھے، آمین۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...