Skip to content
دامن ِ مصطفی سے وابستگی ہے ضروری
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اور اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی ؐ کو افضل البشر بناکر پیدا فرمایا ،آپ ؐ کو انبیاء کا سردار اور رسولوں کا امام بنایا،آپکو خاتم الا نبیاء بناکر آپ کی عزت وتوقیر فرمائی اور پھر آپ کی ذات مبارکہ کو تمام ظاہری وباطنی کمالات سے مزین فرما کر دنیا وجہاں کی ہدایت وسرفرازی کیلئے مبعوث فرمایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ ؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ تمام خوبیاں اور کمالات عطا ہوئے جو ابوالبشر حضرت آدم ؑ سے لے کر روح اللہ حضرت عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء ورسولوں کو فرداً فرداً عطا ہوئے تھے چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت نانوتوی ؒ فرماتے ہیں کہ ؎
جہاں کے سارے کمالات ایک تجھ میں ہیں
تیرے کمال کسی میں نہیں مگر دوچار
آپ ؐ کی ذات اقدس منبع علم وحکمت ، مجموعہ حسن وجمال اور مجموعۂ اخلاق و کمالات ہے ، آپ ؐ کا علم کائنات میں سب سے بڑھا ہوا ہے ،آپ کی زبان اقدس سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ دنیا کے سارے اُدبا ء ،فصحا ء اور حکماء کی حکمت اور فصاحت و بلاغت پر بھاری ہے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو جوامع الکلم کا معجزہ عطا فرمایا تھا ،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : اوتیت جوامع الکلم یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے جامع کلمات سکھلائے ہیں ،آپؐ کے ایک ایک کلمہ کی تشریح کیلئے ہزاروں صفحات بھی ناکافی ہیں، آپ کا حسن ایسا کہ جس کی کائنات میں مثال نہیں،حضرت جابر بن سمرہ ؓ چہرۂ اقدس کے متعلق فرماتے ہیں :کان مثل الشمس والقمر آپ ؐ کا چہرۂ انور آفتاب وما ہتاب جیساتھا۔شاعر کہتاہے ؎
رُخِ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دوکانِ آئینہ ساز میں
چہرۂ انور جلال وجمال کی روشنی سے ہر دم چمکتا اور دمکتا تھا جو ایک بار دیکھ لیتا وہ ہمیشہ کیلئے آپ کا دیوانہ ہوجاتا تھا چنانچہ حضرت ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت میں آپ ؐ کے پاس اہل قریش کا قاصد بن کر آیاتھا اُس وقت رسول اللہ ؐ کے رُخ انورپر جو میری نظر پڑی تودل میں اسلام کا چراغ روشن ہوگیا ۔ آپ ؐ کی صحبت بابرکت جنہیں نصیب ہوگئی وہ دنیا کے سب سے خوش قسمت انسان بن گئے ،اسی وجہ سے علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بڑا ولی بھی مرتبہ میں ادنی صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا ۔آپ ؐ کی صحبت ِ بابرکت و معجزانہ تربیت نے صحابۂ کرام کو کندن بنادیا تھا چنانچہ اسی تربیت نے ابوبکر ؓ کو صدیق ،عمرؓ کو فاروق،عثمانؓ کو غنی اور علیؓ کو شیر خدا اور ہر وہ شخص جس نے آپ کی رسالت تسلیم کی ،کلمۂ حق زبان سے ادا کر لیا اور ایک لمحہ کیلئے ہی سہی صحبت بابرکت اختیار کی انہیں رضی اللہ عنہ کا خطاب عطا ہوا۔ آپ ؐ کے اخلاق وعادات ایسے تھے کہ چھوٹے سے بچے کو بھی سلام کرنے میں پہل فرماتے اور ہر ایک سے انتہائی نرمی اور محبت سے پیش آتے کبھی بھی کسی کو اپنی ذات کیلئے ڈانٹا نہیں ، حضرت عبداللہ بن حارث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ؐ سے زیادہ خوش اخلاق اور خوش مزاج کسی اور کو نہیں دیکھا۔آپ ؐ عفو ودرگذر میں اپنی مثال آپ تھے فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں ،خون کے پیاسوں ،درندہ صفت انسانوں اور اہل ایمان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ نے والوں کو یہ کہہ کر معافی کا اعلان فرمادیا: لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الراحمین(سورۂ یوسف)یعنی آج تم پر کچھ الزام نہیں ،اللہ تعالیٰ تم کو معاف کردے اور بے شک وہ اپنے بندوں پر رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ آپ ؐ کی محبت وشفقت کا یہ عالم تھا کہ انسانوں سے ہٹ کر بے زبان جانور وںاور حیوانوں پر بھی شفقت فرمایا کرتے تھے ،تاریخ میں ایسے نادر واقعات موجود ہیں کہ جانور اپنے مالکوں کی شکایت لے کر دربار عالی میں حاضر ہو ئے اور اپنا معاملہ آپ کے سامنے پیش کرکے انصاف کی درخوست کی ،آپ ؐ نے ان کی شکایت سماعت فرمانے کے بعد ان کے مالکو ںکو بلا کر ان کے ساتھ بہتر سلوک کی تلقین فرمائی۔
آپ ؐ کے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا کیا کہنا خود دربار ربانی سے آپ ؐ کے اخلاق فاضلہ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے : انک لعلیٰ خلق عظیم (القلم ۴ )آپ تو اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں ،اورپھر زبان رسالت مآب ؐ سے بھی یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں : بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (مسند احمد) میں تمہارے سامنے اعلیٰ درجے کے کریمانہ اخلاق پیش کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔آپ ؐ کی بعثت اور تشریف آوری سارے عالم اور قیامت تک کیلئے ہے،آپ ؐکی حیات مبارکہ اور آپ ؐ کی نورانی شخصیت قیامت تک کے ہر فردِ بشر کیلئے دنیا جہاں میں کا میابی اور جہانِ آخرت میں سرخروئی کی ضامن ہے اور کیوں نہ ہو آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے شاہد ،مبشر ، نذ یر اور داعی کی صفات کے ساتھ متصف فرماکر ہاتھ میں کھلی کتاب دے کر انسانیت کے درمیان اُتاراہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : یا یھا النبی انا ارسلنٰک شاھداً ومبشرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا(الاحزاب ۴۵،۴۶ )اے نبی ؐ! یقینا ہم نے ہی آپ کو رسول بناکر گو اہیاں دینے والا ،خوشخبریاں سنا نے والا ،آگاہ کرنے والا ،اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ ہدایت بنا کر بھیجا ہے، آپ ؐ کی سیرت و حیات کا ہر گوشہ انسانیت کیلئے بہترین اسوہ اور نمونہ ہے چنانچہ قرآن حکیم میںآپ ؐ کی سیرت طیبہ یعنی آپ ؐ کے قول وعمل کو اسوۂ حسنہ سے تعبیر کیاہے ارشادِ ربانی ہے :لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یر جوا اللہ والیوم الاٰخر وذکر اللہ کثیرا (احزاب ۲۱) یقینا ً (اے مسلمانو!) رسول اللہ ؐ کی ذات اقدس میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے ہر اس شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اور قیامت کے دن کے واقع ہونے کا کامل یقین رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ایک مقام پر رسول اللہ ؐ کی اتباع اور آپ کی ہدایات کی پیروی کرنے کو ہر مسلمان کیلئے واجب قرار دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: مااٰتٰکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فا نتھوا واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب( الحشر ۷) اور تم کو جو کچھ رسول ؐ دیں اُسے( برضاء ،بخوشی و بسعادت) لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈر تے رہا کرو یقینا اللہ تعالیٰ ( رسول ؐ کی نافرمانی کرنے اور انکی تعلیمات سے انحراف کرنے والوں کو) سخت عذاب دینے والا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ایک جگہ پر اپنی محبت اور دوستی کو رسول ؐ کی اطاعت واتباع پر موقوف رکھا ہے ارشاد ربانی ہے: قل ان کنتم تحبون اللہ فا تبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم ( اٰل عمران ۳۱) (اے میرے محبوب ؐ)آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو تو یقیناًاللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے ۔قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول اللہ ؐ کی کامل اطاعت اور مکمل فرما نبر داری کو بڑی کامیابی فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ؐ کی نافرمانی اور ان کی تعلیمات سے انحراف وروگردانی کو بڑی گمراہی قرار دیا ہے ارشاد ربانی ہے: ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما (الاحزاب )جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کی اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلا لاً مبینا( الاحزاب)جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کی وہ بڑی گمراہی میں پڑگیا۔رسول اللہ ؐ کی لائی ہوئی تعلیمات اور آپ کی پاکیزہ سیرت کی اتباع ہی سے ایمان کے تقاضوں کی تکمیل ممکن ہے ،ایک مسلمان اُس وقت تک کامل مسلمان کہلا نے کا مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہشات تعلیمات نبی ؐ کے تابع نہ ہوجائیں ، ایک حدیث میںآپ ؐ فرماتے ہیں : لا یؤ من احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ ( مشکوۃ) تم میں سے کوئی شخص بھی اسوقت تک حقیقی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔مسلمانوں کو اس حدیث شریف کے ذریعہ نہایت وضاحت کے ساتھ تعلیم دی گئی ہے کہ ان کا ہر کام اور ہر عمل تعلیمات نبیؐ کا آئینہ ہونا چاہیے ،کسی بھی کام کو انجام دینے سے قبل اللہ اور اس کے رسول ؐ کی رضامندی معلوم کرلینی چاہیے اگر اس کام سے خدا اور رسول راضی نہیں ہیں تو پھر اُسے ترک کردیں چاہے اس کیلئے دنیا جہاں سے دشمنی مول لینی پڑے ،یہی ایمان کے پرکھنے کا معیار ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام اہل اسلام اور اہل ایمان کیلئے ہدایت ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں رسول اللہ ؐ کے تمام اقوال ،افعال اور احوال کی مکمل اتباع واقتداء کریں صرف دکھلاوے کی اور زبانی محبت کا فی نہیں بلکہ عملی محبت وتعلق ضروری ہے واقعہ یہ ہے کہ جس شخص کی زندگی سرکار کے اسوۂ حسنہ سے ہم آہنگ ہے وہی شخص عاشق ِ رسول ؐ ہے اور جس کی زندگی تعلیمات ِنبی اکرم ؐ سے ہم آہنگ نہیں وہ عاشق رسول ؐ نہیں بلکہ گستاخ ہے ،دنیا میں یوں تو بہت سے مالدار اور سرمایہ دار ہیں مگر حقیقی مالدار اور سرمایہ دار وہ شخص ہے جس کے پاس ایمان کی دولت کے ساتھ ساتھ تعلیمات نبیؐ کی عملی دولت موجود ہے اور ایسے ہی لوگ کل قیامت کے دن جنت اور جنت کی ہمہ قسم کی نعمتوں کے حق دار ہوں گے اور جس کی زندگی تعلیمات نبوی ؐ کی دولت عظمیٰ سے خالی ہوگی وہ آخرت کی لا قیمت چیزوں اور وہاں کی حقیقی نعمتوں سے محروم رہے گا ۔
آج مسلمان یہ جاننے کے باوجودکہ ان کے نزدیک سب سے قیمتی شے اپنے نبی ؐکی مبارک ومسعود تعلیمات ہیں پھر بھی اس سے انحراف کئے ہوئے ہیں ،نبی کی تعلیمات کے مقابلہ میں غیروں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں ،دنیا کے حقیر ٹکڑوں کی خاطر اپنے رسول ؐ کی تعلیمات کی خلاف ورزی پر سینہ سپر ہیں ، اسلام کے دشمنوں اور رسول کے باغیوں کو خوش کرنے کی خاطر نبی کی پیاری سنتوں کو ترک کرنے پر راضی اور خوش ہیں ،زندگی کے مختلف شعبوں میں کھلے عام اسلامی تعلیمات سے روگردانی پر فخر کر رہے ہیں ،خوشی ہو یا غم ،مرنا ہو یا جینا ،کاروبار ہو یا نوکری غرض ہر موقع پر مسلمانوں کی نظر اپنے نبی کی بتلائی اور سکھلائی ہوئی تعلیمات پر نہیں بلکہ غیروں کے طرز عمل پر ہے،ان میں بعض تو وہ ہیں جو بڑی جرأت سے یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں رہنا ہے تو دنیا داری بھی ضروری ہے شاید وہ نادان یہ سمجھ رہے ہیں کہ دین اور دنیا کے دوالگ الگ راستے ہیں جو شخص دینی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر دنیا حاصل کرنا چاہتا ہے اس کی مثال اس نابینا کی طرح ہے جو بینائی سے محروم ہونے کے باوجود منزل کی تلاش میں مصروف ہے اور دردر بھٹکتا پھر رہا ہے ، عقل کے اندھوں کو معلوم نہیں کہ اسی مبارک دین اور تعلیماتِ نبی اکرم ؐ کے ذریعہ ہی حضرات صحابہ ٔ کرام نے بڑی بڑی حکومتوں پر اپنا کنٹرول حاصل کیا تھا ،بڑے بڑے ممالک فتح کئے تھے اور دنیا پر حکومت کرتے ہوئے اس قدر ،شاندار امن وامان قائم فرمایا کہ دنیا آج تک ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ صحابہ ٔ کرام ؓ کی کامیابی وکامرانی کی ایک ہی شاہِ کلید تھی یعنی احکاماتِ الہی اور تعلیماتِ نبویؐ کی پیروی، قرآن حکیم نے اسی کو مسلمانوں کے لئے دنیا وآخرت کی کامیابی قرارد یا ہے ارشاد ربانی ہے : ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً (الاحزاب ۷۱) اور جوشخص بھی اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کا میابی پالے گا، شاعرکہتا ہے ؎
دین ودنیا کی بھلائی گر تجھے منظور ہے!
اُن کا دامن تھام لے جن کا محمد نام ہے
Like this:
Like Loading...