Skip to content
روشن خیالی کی در س گاہ میں ضعیف الاعتقادی:
کالے جادو کے نام پر اسکول والوں نے بچے کی بلی چڑھا دی
ہاتھرس ؍لکھنؤ، ۲۷؍ستمبر (آئی این ایس انڈیا )
اتر پردیش کے ہاتھرس میں 9 سالہ اسکول کے طالب علم کو کالے جادو کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ پولیس اب تک اس معاملے میں ملوث پانچ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ 23ستمبر کو آگرہ سے 35 کلومیٹر دور سعد آباد علاقے میں بچے کی لاش اسکول ڈائریکٹر کی گاڑی سے ملی تھی۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) اشوک کمار نے بتایا کہ اسکول کے ڈائریکٹر دنیش بگھیل، ان کے والد جسودھن سنگھ اور اسکول کے تین اساتذہ رام پرکاش سولنکی، ویرپال سنگھ اور لکشمن سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق بچے کے قتل کے پیچھے مبینہ کالا جادو کا منصوبہ تھا، یعنی ڈائریکٹر اور اساتذہ کا خیال تھا کہ بچے کی قربانی دینے سے اسکول کو شہرت ملے گی اور ڈائریکٹر کے خاندان کے مسائل حل ہوں گے۔ پولیس نے بتایا کہ اسکول کے ایک کمرے سے رسی، مذہبی تصویریں اور چابیاں بھی ملی ہیں۔ ایس ایس پی اشوک کمار نے بتایا کہ 22 ستمبر کو رات تقریباً 12 بجے جب اسکول کے طلبہ سو رہے تھے، اسکول ٹیچر سولنکی نے بچے کو اپنے بستر سے اٹھایا اور باہر لے آئے۔ انہوں نے اسے ایک کمرے میں رکھا جہاں قربانی کا منصوبہ تھا، لیکن وہ درمیان میں ہی اٹھا اور رونے لگا۔ اس کے بعد سولنکی نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور اسے ہاسٹل کے گراؤنڈ فلور پر لے گیا۔ایس ایس پی کمار نے بتایا کہ ٹیچر ویرپال اور لکشمن سنگھ نگرانی کے لیے وہاں کھڑے تھے، ڈائریکٹر کے والد جسودھن سنگھ نے اپنے بیٹے دنیش بگھیل کو رسم کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا اور وہ لاش کو دفنانے کے لیے تیار تھے۔بچے کے والد نے 23 ستمبر کو پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی، جس میں اس کے بیٹے کی موت کے لیے اسکول کے ڈائریکٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ والد نے کہا کہ بگھیل نے 23 ستمبر کی صبح ہمیں فون کیا اور کہا کہ میرا بیٹا ٹھیک نہیں ہے اور وہ اسے فوری طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال لے جا رہے ہیں۔ پھر اس نے ہمیں بتایا کہ وہ میرے بیٹے کو آگرہ لے جا رہے ہیں کیونکہ اس کی حالت خراب ہو گئی تھی۔ ہمیں شک ہوا اور علاقے کی پولیس کو اطلاع دی۔ ہم نے بگھیل کو بھی انتظار کرنے کو کہا اور اس کا پیچھا کیا، جس کے بعد بیٹے کی لاش اس کی گاڑی سے ملی۔اس کے بعد پولیس نے بگھیل سے دوبارہ پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ اس کے والد کے کہنے پر اس نے رام پرکاش سولنکی کو 22 ستمبر کی رات اپنے ہاسٹل کے کمرے سے نابالغ کو لے جانے کو کہا تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ بگھیل نے ہمیں ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ بچہ بیمار تھا اور اس لیے وہ اسے پہلے سعد آباد کے ایک اسپتال اور پھر آگرہ لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا اور وہ اسے واپس ہاتھرس کے راسگوان لے جا رہے تھے۔
Like this:
Like Loading...