Skip to content
بیروت پر اسرائیلی حملے :
کیاحسن نصر اللہ کے ساتھ ایرانی پاسداران کے رہنما بھی موجود تھے؟
بیروت،۲۸؍ستمبر ( آئی این ایس انڈیا )
اسرائیل نے جمعے کے روز جنوبی بیروت میں حزب اللہ تنظیم کے ہیڈ کوارٹر کو شدید بم باری کا نشانہ بنایا۔ تاہم تنظیم کے سربراہ حسن نصر اللہ اور ان کے بعض قریبی رہنماؤں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی بھی وہاں بم باری کی جگہ موجود تھے۔اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاآنی کے ساتھ عباس نیلفروشان بھی تھے جو ایرانی پاسداران میں نائب کمانڈر آپریشنز کے طور پر کام کر چکے ہیں۔تاہم ایرانی سیکورٹی ذرائع نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ قاآنی زندہ اور خیر و عافیت سے ہے۔
ذرائع نے اسرائیلی بم باری میں ایرانی مشیروں کے متاثر ہونے کی تردید کی ہے۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے بتائی۔البتہ ذرائع نے اس بات کی تردید یا وضاحت نہیں کی کہ آیا یہ لوگ واقعتا ضاحیہ کے علاقے میں موجود تھے یا نہیں۔ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حزب اللہ کا سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ اور تنظیم کی مجلس عاملہ کا سربراہ (حسن کا چچا زاد بھائی) ہشام صفی الدین خیریت سے ہیںاس سے پہلے حزب اللہ کے ایک قریبی ذریعے نے تصدیق کی تھی کہ تنظیم کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
اسرائیل نے ہفتے کو علی الصبح جنوبی بیروت پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا۔اس سے قبل ایک سینئر اسرائیلی ذمے دار نے بتایا تھا کہ جمعے کے روز ہونے والے حملوں کا ہدف حزب اللہ کی سینئر قیادت تھی۔ حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے حوالے سے ذمے دار کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا، بعض مرتبہ جب ہم کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ لوگ (حزب اللہ) حقیقت چھپاتے ہیں۔
اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں ضاحیہ میں آباد شہریوں نے اپنے گھروں کو چھوڑ کر وسطی بیروت اور سمندر کے کنارے واقع علاقوں کا رخ کیا۔ اس دوران میں ہزاروں لبنانی کھلے میدانوں، پارکوں اور فٹ پاتھوں پر اکٹھا ہو گئے۔پیر کے روز سے لبنان میں اسرائیل کا نیا آپریشن شروع ہونے کے بعد سے مقامی حکام کے مطابق اب تک 700 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں جب کہ تقریبا 1.18 لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
Like this:
Like Loading...