Skip to content
عالم نقوی:
آئین ِ جونمرداں حق گوئی و بیباکی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
محترم عالم نقوی اپنے بے شمار مداحوں کو داغِ مفارقت دے کر اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کے رحلت کی خبر نے ماضی کی یادوں کا وہ دریچہ کھول دیا جس میں وہ ہمیشہ زندہ وتابندہ رہیں گے ۔ میری اپنی ذات پر ان کے جو احسانات ہیں انہیں میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا۔ ایس آئی ایم کے ترجمان ماہنامہ ’اسلامک موومنٹ‘ میں لکھنے کا جو سلسلہ مجبوراً شروع ہوا تھا وہ سبکدوش ہونے کے بعد ازخود دم توڑگیا۔ میرے قلم کی سیاہی سوکھ چکی تھی اور لکھنے کا خیال دل سے نکل چکا تھا ۔ اس دوران ایک اجتماع میں گجرات کے فسادات پر اظہار خیال کے لیے عالم صاحب کے ساتھ میرا نام درج کردیا گیا ۔ پروگرام کے بعد اپنی سدابہار مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے مجھ سے پوچھا سلیم تم لکھتے کیوں نہیں؟ میں نے ٹالنے کے لیے کہا ’کون چھاپےگا‘؟وہ بولے ’میں شائع کروں گا‘۔ اس غیر متوقع جواب نے مجھے پریشان کردیا کیونکہ یہ ممبئی کے مؤقر اخبار ’اردو ٹائمز‘ کے معتبرمدیر کی پیشکش تھی ۔
عالم نقوی صاحب زبان کے دھنی تھے، ان سے وعدہ خلافی کا تصور بھی محال تھا اس لیے ان کی پیشکش سے میں ڈر گیا اور راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے بولا’ لیکن عالم صاحب کیا لکھوں؟‘ انہوں نے بلاتوقف جواب دیا کہ ’ ابھی جو کہا ہے وہی لکھ دو‘۔ اب میرے لیے سارے راستے بند ہوچکے تھے ۔ ان کی حکم عدولی کی بہ نسبت مضمون لکھنا آسان تھا اس لیے میں نے گھر آکر جو سمجھ میں آیا لکھ کر ان کے حوالے کر دیا۔ مجھے اس بات کی توقع نہیں تھی کہ وہ اشاعت کے قابل ہوگا اور من و عن شائع ہونے کا تو میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔ عالم صاحب کی کشادہ دلی اور ذرہ نوازی سے ایک ایسے فرد کا مضمون اداریہ کے صفحہ پر شائع ہوگیا جس نے کسی اخبار کے لیے شذرہ نگاری نہیں کی تھی ۔آگے چل کر وہ سلسلہ ہفتہ وار کالم کی شکل میں چل پڑا۔ عالم نقوی صاحب کی کرم فرمائی سے میری پہلی کہانی ’حصارِ شمس و قمر ‘ اردو ٹائمز کے ادبی صفحہ پر چھپی ۔ میری پہلی کتاب ’حصار‘ شائع ہوئی تو اس کے رسمِ اجراء کی صدارت عالم صاحب نے فرمائی اور اس پر تبصرہ لکھ کر بھی میری حوصلہ افزائی کی۔
اس کے بعد جب میرے مضامین کی کتاب کے شائع ہونے کا موقع آیا تو اس کے انتساب کےلیے میرے پاس صرف ایک نام ’عالم نقوی ‘ تھا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کو ان سارے احسانات کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ مجھ جیسے نہ جانے کتنے لوگوں کو وہ صحافت کی دنیا میں لےکر آئےاور آگے بڑھایا ۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ادارہ تھے ۔ عالم نقوی صاحب کا ہمارے حلقے میں بڑا احترام تھا۔ ان کا اداریہ اور مضامین ہم سب بڑے ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے ۔ ان سے انفرادی گفتگو اور اجتماعات میں بھی استفادہ کا موقع ملتا رہتا تھا ۔ مجھ جیسے کئی نوجوانوں کی فکری تربیت میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ ان کو پڑھ کر مایوسی کے بادل چھٹ جاتے اور ان سے مل کر قلبی سکون ملتا تھا ۔ سورج روشنی اور تپش دیتا ہے اس لیے کہ اس کےپاس اس کی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ عالم صاحب اپنے مصاحبین روحانی طمانیت سے نوازتے کیونکہ خود اس سے مالا مال تھے۔ وہ ہم سے بچھڑ گئے اس لیے دل سوگوار توہے مگرپھر محمود رامپوری کا یہ شعر بھی یاد آتا ہے؎
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
عالم نقوی صاحب کی دلنوازشخصیت پر کلام اللہ کی یہ آیت صادق آتی ہے :’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبوب ہوگا‘‘۔ اللہ کی محبت میں وہ لوگوں سے محبت کرتے تھے۔ان سے ملنے جاتے اور انہیں اپنے پاس بلاتے تھے ۔ فرمانِ مصطفٰی ﷺہے: ’’ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لئے دوسری بستی میں گیا۔ اللہ کریم نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ بھیجا جس نے اس سے پوچھا :کہاں کا ارادہ ہے؟جواب دیا:اس بستی میں میرا ایک بھائی ہے، اس سے ملنے جارہا ہوں۔فرشتے نے دریافت کیا: کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیاہےجسے وصول کرنا چاہتے ہو؟ اس شخص نے جواب میں کہا: اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ میں اللہ کے لئے اس سے محبت کرتا ہوں۔ یہ سن کر فرشتے نے کہا:میں تمہارے پاس اللہ کا یہ پیغام لایا ہوں کہ جس طرح تم اس سے محبت کرتے ہو، اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت ہی اللہ والوں کے دل میں اس کے بندوں سے محبت کو جِلا بخشتی ہے۔
عالم نقوی صاحب سے ملاقات کی سبیل کبھی کسی اجتماع میں توکبھی ان کے دفتر میں نکل آتی ۔ ان کہ مہمان نوازی ہمیں ان کے گھر لے جاتی ۔ ممبرا میں قیام کے دوران کوئی معزز مہمان آتا تو وہ ہم لوگوں کو بھی بلا لیتے یا ہم انہیں زحمت دیتے۔ اس طرح حالات حاضرہ اور دیگر امور پر ان سے استفادے کا موقع مل جاتا ۔ مجھے ان سے ممبئی کے علاوہ لکھنو اور علی گڑھ میں بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ لکھنو میں ایک تقریب کے حوالے سے جانا ہوا تو انہوں نے اودھ نامہ کے دفتر میں بلایا۔ اس وقت شہر کے معروف ترین ادیب و صحافی حضرات سے ملنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ عمائدین شہر بھی موجود تھے ۔ انہوں نے میرے مضامین کی کتاب سلسلۂ روزو شب پراحسن ایوبی صاحب کا تبصرہ پڑھوایا اور مجھے ایک افسانہ سنانے کا حکم دیا ۔ میں نے افسانہ محمود و ایاز سنایا تو مجلس میں موجود معروف ناقدو و افسانہ نگار عابد حسین صاحب نے حوصلہ افزائی فرمائی ۔ وہیں پر مولانا شفیق احمد شفق سے پہلی ملاقات ہوئی جو آگے چل کر گہری دوستی میں بدل گئی۔
لکھنو کے بعد عالم نقوی صاحب علی گڑھ منتقل ہوگئے تو وہاں بھی ان سے کئی مرتبہ ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی ۔ انہوں نے ابن سینا لائبریری میں میری ایک کتاب کے اجراء کا اہتمام کروایا۔ اس تقریب میں اردو کے صدرِ شعبہ صغیر افراہیم، پروفیسرطارق چھتاری اور دیگر کئی اساتذۂ کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ عالم صاحب کی خلیق و شفیق طبیعت کے سبب ان کے ہر شہر میں نوجوانوں کے علاوہ معززین شہر کے ساتھ بھی قریبی تعلقات استوار ہوجاتے تھے ۔ ممبئی سے ان کی الوداعی نشست ایک یادگار تقریب تھی جس میں مختلف مکتب فکر کے ہم خیال اور مخالف سب موجود اور سوگوار تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا اپنے خاندان کا کوئی فرد شہر چھوڑ کر جارہا ہے۔ شیعہ سنی اتحاد کی بات کرنا نہایت سہل ہے لیکن اسے برتنا بڑا مشکل ہے۔ عالم صاحب کے مسلک کی بابت جب تک بتایا نہ جا ئےان کے مکتبِ فکر علم نہ ہوتا تھا ۔ان کے لیے ساری مساجد اللہ کا گھر تھیں ۔انہوں نے کبھی ایرانی یا افغانی جہاد میں فرق نہیں کیا اور نہ امریکی و سوویت استعمار میں تفریق کی۔وہ لاشرقیہ لا غربیہ اسلامیہ اسلامیہ کے سچے علم بردارتھے۔ ہم جیسوں نے موصوف کے فکر وعمل سے بنیادی و فروعی اختلافات میں فرق کرنا سیکھا ۔
عالم نقوی صاحب چونکہ فکری سطح پر کسی مداہنت کے قائل نہیں تھے اس لیے ان کا احبابِ حل و عقد سے اختلاف ہونا فطری امر تھا۔ لوگ اسے دشمنی کا نام دے دیا کرتے تھے ۔ان کی دوستی اور دشمنی کا معیار حب الٰہی تھا ۔ حدیث رسول ﷺ ہے:’’اللہ کے لئے دوستی کرنا، اللہ کے لئے دشمنی کرنا، اللہ کے لئے محبت کرنا اور اللہ کے لئے بغض رکھنا ایمان کی تکمیل ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے کسی نجی مفاد یا خسارے کی خاطر کسی کی مخالفت نہیں کی۔ مذکورہ بالا آیت میں جہاں اللہ کی محبت میں اللہ سے محبت کرنے والوں کا ذکر کیا گیا تو ان کی یہ صفت بھی بیان کی گئی کہ :’’وہ مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے‘‘ طاغوت کے علاوہ مسلمانوں سے ان کے اختلاف کی بنیاد کفرو الحاد سے متاثر فکرکے سبب ہوتی تھی لیکن وہ کبھی نفرت و عناد میں تبدیل نہیں ہوئی ۔ساجد رشید صاحب کے ساتھ شدید فکری اختلاف کے باوجود ان کے جنازے میں عالم نقوی پہلےپہنچنے والوں میں سے ایک تھے۔
قرآن حکیم کے اندر ایسے بندوں کی دوسری صفت یہ بتائی گئی کہ :’’وہ اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے‘‘ ۔ عالم نقوی صاحب قلمی جہاد کے اس فرضِ منصبی سے کبھی بھی غافل نہیں ہوئے لیکن ان کی سب ممتاز صفت کا ذکر کتابِ الٰہی میں اس طرح ہے کہ :’’وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے‘‘۔ عالم نقوی کی جری صحافت کا مرجع و منبع یہی حکم قرآنی تھا۔ عصرِ حاضر میں یہ صفت عنقاء ہوچکی ہے مگر جن کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے ان کو بشارت دی گئی ہے کہ :’’ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عالم صاحب کو اس دنیا میں اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازہ اور قوی امید ہے جنت الفردوس میں بھی اپنی رحمتوں سے مالا مال فرمائےے گا ۔ عالم نقوی صاحب کی بیباکانہ صحافت پر علامہ اقبال کایہ شعر صد فیصد صادق آ تاہے ؎
آئینِ جوانمرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
Like this:
Like Loading...
محترم و مکرم عالم نقوی صاحب ہی نے سب سے پہلے ہمیں آپ کا تعارف بذریعہ فون کروایا تھا اور کہاتھاکہ ہم نے حالات اور طبعیت ناساز چلنے کی بناء پر لکھنا کم کردیا آپ صحافتی میدان میں ڈاکٹر سلیم خان سے رہبری و رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے۔