Skip to content
ہوا، آندھی یا سونامی: ہارے گا تو مودی ہی
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
مودی بھگتوں کا نعرہ تھا ’جو رام کو لائے ہیں ہم ان کو لائیں گے‘ ۔ یہ نعرہ لگانے والے بھول گئے تھےکہ لنکا سے ’ایودھیا واپسی‘ کے بعد سیتا کو اگنی پریکشا سے گزرنا پڑا تھا۔ اب مودی جی کو اس سے گزرنا پڑے گا کیونکہ وہ واپس تو آگئے مگر انہیں اپنے پیروں کے بجائے دو عدد بیساکھیوں پر سوار ہوکر آنا پڑا۔ وزیر اعظم کا پہلا امتحان دہلی کے پڑوس میں واقع ہریانہ میں ہوگیا جہاں مہابھارت کا تاریخی میدان ’کروکشیتر‘ واقع ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز اسی شہر سے کیا تھا اور ایگزٹ پول اشارہ کررہے ہیں کہ کمل چھاپ ارجن کی گردن کو کانگریسی کرن کے پنجے نے جکڑ لیا ہے۔ خوف کا ایک نقصان یہ ہے کہ وہ لوگوں سے جھوٹ بلواتا ہے اور اس مظاہرہ ماضی کے انتخابی جائزوں(ایگزٹ پولس) میں ہوتا رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ڈر کم ہوا تو ذرائع ابلاغ میں سچ بولنے کی ہمت پیدا ہورہی ہے ۔ یہ اعتماد بحالی کی ایک کوشش بھی ہے کیونکہ ذرائع ابلاغ کےاوپر سے اگر بھروسہ ہی اٹھ جائے تو وہ تفریح کا سامان ہوکر رہ جاتا ہے اور ہندوستان میں گودی میڈیا کے ساتھ یہی ہوا۔
ہریانہ کا انتخاب بڑے دلچسپ انداز میں لڑا گیا ۔ کانگریس نے انڈیا محاذ میں شامل عام آدمی پارٹی سے ناطہ توڑ سی پی ایم کے ساتھ الیکشن لڑا۔ اس طرح قومی انتخاب کے اندر عآپ نے پنجاب میں جو کچھ کیا تھا اس کا حساب چکا دیا گیا ۔ اتفاق سے دونوں مقامات پر جھاڑو نقصان میں اور پنجہ فائدے میں رہا۔ دو علاقائی جماعتیں آئی این ایل ڈی اور جے جے پی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے چندر شیکھر راون سے اور دوسرے نے مایا وتی کے ساتھ الحاق کرلیا۔ بی جے پی نے اپنے بل بوتے پر قسمت آزمائی کی مگر باغیوں کی بڑی تعداد کا اندازہ امیدواروں کی تعداد 1031 سے لگایا جاسکتا ہے۔ انتخاب کی شام سب سے بڑا تفریح کا سامان ایگزٹ پول ہوا کرتا ہے لیکن اس بار مودی کے سب سے بھگت ارنب گوسوامی نے بڑے انوکھے انداز میں حقِ نمک ادا کیا۔ اس نے پولنگ کی صبح ایک ویڈیو چلائی جس کے پوسٹر پر 2014 کے نتائج درج تھے جبکہ بی جے پی واضح اکثریت ملی تھی اور کانگریس تیسرے نمبر پر کھسک گئی تھی۔ اعدادو شمار کو بڑے بڑے حروف میں لکھنے کے بعد نیچے کونے میں اس کا سال بھی لکھا تھا لیکن اسے کون پڑھتا ہے۔ وہ اگر 2019 کے نتائج بھی لکھ دیتا تو کم موازنے کی بات ہوتی لیکن جس کی نیت میں ہی کھوٹ ہو اس سے کیا توقع کی جائے۔
مثل مشہور ہے صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو وہ بھولا نہیں کہلاتا۔ اسی طرح شام ہوتے ہوتے ارنب کے ریپبلک نے بھی کانگریس کے بڑی جیت کی پیش قیاسی کرکے عام آدمی پارٹی کے صفر پر رہ جانے کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا تاکہ بی جے پی کو متوقع 18-24 سیٹوںکا غم غلط کیا جاسکے ۔ اس نےکانگریس کو 55-62 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا ہے۔ اس کے ساتھ آئی این ایل ڈی اور بی ایس پی اتحاد کو بھی 3 سے 6 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ریپبلک کے انگریزی اور ہندی چینل نے دو الگ الگ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر سروے کرائے ارداہ یہ رہا ہوگا کہ ایک میں کانگریس کو اور دوسرے میں بی جے پی کو کامیاب کردیں گے مگر وہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اس کے مارٹیز کے ساتھ کیے جانے والے ایگزٹ پول میں کانگریس پارٹی کو کچھ کم کرکے 55 سے 52 سیٹیں دی گئی ہیں۔ وہیں بی جے پی کو پھر سے وہی 18 سے 24 سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں۔اس کے علاوہ جے جے پی اتحاد کو 0-3 سیٹ ملنے اور لوک دل اتحاد کو 3 سے 6 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ گودی میڈیا کے انڈیا ٹوڈے اور سی ووٹر نے بھی کانگریس کو 50-58 اور بی جے پی کو20-28 کے درمیان رکھا جو ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔
ایک طویل عرصے کے بعد اس بار گودی اور باغی میڈیا کے درمیان اتفاق رائے نظر آرہا ہے۔ پیپلز پلس کے جاری کردہ سروے نے کانگریس پارٹی کو 55 سیٹیں اور بی جے پی کو 26 سیٹیں ملنے کی پیش قیاسی کی ہے جبکہ جے جے پی کو 0-1 اور آئی این ایل ڈی کو 2 سے 3 سیٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔دھرو ریسرچ کے جائزے میں کانگریس کی حکومت بننے کا امکان روشن ہے۔ اس نے کانگریس واضح اکثریت دےکر بی جے پی کو 27 پر سمیٹ دیا ہے جبکہ دیگرلوگوں کے 6 نشستوں کی پیشنگوئی کی ہے۔دینک بھاسکر کے ایگزٹ پول میں کانگریس پارٹی کو 44 سے 54 سیٹیں دی گئی ہیں اور بی جے پی کو 19 سے 29 سیٹوں کے درمیان رکھا ہے۔اس نے جے جے پی کو 0-1 سیٹ اور لوک دل اتحاد کو 1 سے 5 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ان جائزوں کو دیکھتے ہوئے ماضی لگنے والا نعرہ یاد آتا ہے: ’آئے گا تو مودی ہی‘ لیکن یہ انقلاب زمانہ ہے کہ ہریانہ کے تناظر میں گودی میڈیا بھی’ہارے گا تو مودی ہی‘کہنے پر مجبور ہے ۔
ریاستی انتخاب سے متعلق رائے دہندگی سے قبل ہی سارے اوپنین پول( جائزے )ہریانہ میں بی جے پی کی شکست پر متفق ہوگئے تھےاور صرف یہ بات زیر بحث تھی کہ یہ ہار کتنی بڑی ہوگی ؟ اس بابت معروف سماجی کارکن اور انتخابی جائزوں کے ماہر یوگیندر یادو نے تین امکانات کی پیشنگوئی کی تھی۔ اول تو یہ کہ کانگریس کی ہوا چلے گی اوروہ واضح اکثریت سے جیت جائے گی۔ دوسرا قیاس یہ ہے کہ تبدیلی کی ہوا انتخابی آندھی میں بدل جائے تو کانگریس کو زبردست اکثریت ملے گی ۔ انہوں نے تیسرا امکان یہ ظاہر کیا کہ اگرکانگریس کی سونامی برپا ہوجائےتو اس میں بی جے پی سمیت ساری سیاسی جماعتیں چند نشستوں تک محدود ہوکر رہ جائیں گی۔ پروفیسر یوگیندر یادو کی پیدائش جنوبی ہریانہ کے ریواڑی ضلع میں ہوئی ہے۔ وہ چونکہ ہریانہ سے ہیں اس لیے ان کی پیش قیاسی کو بالکلیہ مسترد کردینا مشکل تھا۔
میڈیا کے حوالے ملک میں جو گھٹن کا ماحول ہے اس کے باوجود ٹائمز ناو نے اور نوبھارت ٹائمز جیسے ٹنا ٹن گودی میڈیا کے جائزے میں کانگریس کو 41 سے 46 نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے جبکہ بی جے پی کا بلڈوزر33 سے38 کے درمیان رک رہا ہے نیز دیگر جماعتوں کے حصے میں 6 تا11 نشستوں کی پیشنگوئی کردی تھی۔ یعنی یہ تو یوگیندر یادو کی زبان میں کانگریس کے حق میں ہوا کی بات ہے مگر نسبتاً آزاد روزنامہ بھاسکرنے آندھی کی قیاس آرائی کی تھی ۔ اس کے مطابق ہریانہ میں کانگریس کے 40 سے50 نشستوں پر کامیاب ہونے کا اندازہ ہے جبکہ بی جے پی کے لیے 22 سے32 نشستوں کا امکان جتایا گیا تھا۔ لوک پال سروے تو اور بھی آگے نکل کر سونامی والی پیشنگوئی کررہا تھا۔ اس کے مطابق کانگریس کے 46% تا48%فیصد ووٹ لےکر58تا65 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیاتھا جبکہ بی جے پی35%-37%ووٹ شیئر کے ساتھ صرف 20 سے29 سیٹوں پر سمٹتی نظر آرہی تھی۔ دیگر جماعتوں کو ووٹ تو 7%-8% ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا مگر ان کے صرف 3-5؍امیدواروں کی کامیابی بتائی گئی تھی۔ یہ تین سروے یوگیندر یادو کے تین درجات یعنی ہوا ، آندھی اور سونامی کی ترجمانی کررہےتھے۔
یوگیندر یادو کی بھارت جوڑو تحریک فی الحال انڈیا محاذ کی مہم میں کھل کر شامل ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس میں شامل نہیں ہیں اور ماضی میں اس کی مخالفت بھی کرچکے ہیں لیکن چونکہ فی الحال پورے ملک بشمول ہریانہ میں جھوٹ، لوٹ اور پھوٹ کی سرکار ہے اس لیے اسے بدلنا ضروری ہے ۔ جھوٹ کے حوالے سے یادو کا کہنا ہے کہ گیارہ سال قبل ریواڑی سے وزیر اعظم بننے کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے مودی جی نے وہاں کے فوجیوں کی فلاح وبہبود کے بہت سارے وعدے کیے تھے مگر اس کے بدلے ان کو اگنی ویر اسکیم دے دی۔ اس میں بیس سال کی مستقل ملازمت کے بجائے چار سالہ ٹھیکے کی نوکری ہے ۔ کانگریس چونکہ اسے ختم کرنے کا وعدہ کررہی ہے اس لیے وہ حمایت کررہے ہیں ۔ لوٹ کے متعلق ان کا کہنا یہ ہے کہ بی جے پی کسانوں ایم ایس پی بھیک کے طور پر کبھی دیتی ہے کبھی نہیں دیتی ۔ کانگریس چونکہ اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف کی قانونی گارنٹی کا وعدہ کررہی ہے اس لیے وہ اسے لانا چاہتے ہیں مگر اس معاملے میں انہوں نے پھوٹ کو سب سے خطرناک زہر قرار دیا۔
یوگیندر یادو نے ایک خطاب عام میں کہا تھا کہ بی جے پی پہلے تو لوگوں کو ہندو مسلمان میں بانٹتی ہے مگر صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتی بلکہ ہندووں کو بھی تقسیم کرتی ہے ۔ انہوں نے اترپردیش میں انکت یادو کے انکاونٹر کا حوالہ دے کر سوال کیا کہ مجرموں کے ایک گروہ میں سے صرف اسی کو مار کر دوسرے ملزمین کو کیوں بچایا گیا؟ اس لیے کہ وہ یادو برادری کا ہے۔ بی جے پی پسماندہ طبقات میں سب سے طاقتور برادری کے خلاف نفرت پھیلا کر دیگر ذات کے لوگوں کو اپنے ساتھ کرلیتی ہے۔ یوپی اور بہار میں یادو سماج کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہریانہ میں جاٹوں کے خلاف دیگر پسماندہ طبقات کو بھڑکا کر اپنی سیاست چمکائی جاتی ہے ۔ یہ پھوٹ ڈالنے کی سیاست زہر ہلاہل ہے ۔ ہریانہ میں 36 بڑی برادریاں ہیں ۔ ان میں سے 35 کو جاٹوں کے خلاف یکجا کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔اس سازش کو ناکام بنانے کی خاطر یوگیندر یادو نے انڈیا محاذ کو کامیاب کرنے کا مطالبہ کیا۔ ویسے مودی اور شاہ بھی اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ اس بار ان کی دال نہیں گلے گی اس لیے اپنی روایت کے مطابق کارپیٹ بامبنگ کرنے بجائے بڑے میاں جھارکھنڈ اور چھوٹے میاں مہاراشٹر کی خاک چھان رہے ہیں۔ یہ حرکت بلا اعلان اعتراف شکست اور میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود انتخابی نتیجہ کیا نکلے گا یہ تو وقت بتائے گا۔
Like this:
Like Loading...
بہت باریک بینی سے لکھا گیا مضمون، بہت ہی اچھا