Skip to content
سابق صدرجمہوریہ کووند نے کہا، وَن نیشن وَن الیکشن کا تصورآئینی ہے
نئی دہلی، 6اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا )
ایک ملک، ایک الیکشن کے موضوع پر تشکیل دی گئی کمیٹی کے چیئرمین سابق صدر رام ناتھ کووند نے کہا کہ بیک وقت انتخابات کرانے کا خیال آئین بنانے والوں کا تھا، اس لیے یہ غیر آئینی نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک ایک الیکشن کے نفاذ کے لیے عملدرآمد کمیٹی مختلف آئینی ترامیم پر غور کرے گی اور پھر پارلیمنٹ حتمی فیصلہ کرے گی۔دہلی میں لال بہادر شاستری کی یاد میں منعقد پروگرام میں لیکچر دیتے ہوئے سابق صدر کووند نے کہا کہ 1967 تک پہلے چار لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ ہوئے تھے، پھر ایک ساتھ انتخابات کے انعقاد کو کیسے غیر آئینی کہا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ طبقوں کا کہنا ہے کہ بیک وقت انتخابات کرانے کا خیال غیر آئینی ہے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ آئین بنانے والوں کا بھی یہی خیال تھا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سمیت کئی اداروں نے ماضی میں اس تصور کی حمایت کی ہے۔ رام ناتھ کووند نے کہا کہ بیک وقت انتخابات کا انعقاد درحقیقت وفاقیت کو مزید مضبوط کرے گا، کیونکہ تینوں سطحوں کی حکومتیں پانچ سال تک مل کر کام کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک قوم، ایک انتخاب ایک مقبول جملہ ہے، جس کا کچھ لوگوں نے غلط مطلب لیا ہے۔
یہ تاثر بن گیا ہے کہ اس کے تحت صرف ایک الیکشن ہوگا اور مزید الیکشن نہیں ہوں گے۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تصور لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں، میونسپلٹیوں اور پنچایتوں کے بیک وقت انتخابات کرانے کا ہے، تاکہ حکمرانی کے تینوں درجے ایک ہی وقت میں منتخب ہوں اور پانچ سال تک مل کر کام کریں۔
سابق صدر نے کہا کہ 47 سیاسی جماعتوں نے ان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کو میمورنڈم دیا ہے۔ ان میں سے 32 نے بیک وقت انتخابات کرانے کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ 15 جماعتیں بیک وقت انتخابات کرانے کی مخالف ہیں تاہم ماضی میں کسی موقع پر بیک وقت انتخابات کرانے کے خیال کی حمایت کر چکی ہیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...