Skip to content
ہریانہ – جموں وکشمیر نتائج کا اثر:
تین ریاستوں کے انتخابات پر مؤثر ہونے کا واضح امکان
نئی دہلی ،8اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا)
ہریانہ اورجموں وکشمیرکے لئے 8 اکتوبرکا دن بہت اہم ہے۔ ان دونوں ریاستوں کے انتخابی نتائج مہاراشٹر، جھارکھنڈ اوردہلی کے الیکشن کی سمت ورفتارطے کردیں گے۔ ہریانہ میں 10 سال کے اقتدار مخالف لہرکا سامنا کر رہی بی جے پی تیسری بارحکومت بنانے کی دوڑ سے بہت پیچھے ہوگئی ہے۔ کانگریس دوتہائی اکثریت حاصل کرتے ہوئے نظرآرہی ہے۔ وہیں، جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 ہٹانے اورریاست کومرکز کے زیرانتظم ریاست میں تقسیم کرنے کے بعد بی جے پی پہلی بارحکومت بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔
حالانکہ وہاں بھی اسے بڑا جھٹکا لگتا ہوا نظرآرہا ہے اور کانگریس-نیشنل کانفرنس اکثریت حاصل کرتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ جموں وکشمیر میں 2014 کے بعد پہلی بارہوئے الیکشن میں بی جے پی کا بہت کچھ داؤں پربھی لگا ہوا ہے۔ہریانہ میں کانگریس 10 سالوں کے اقتدارکی قحط سالی کوختم کرتی ہوئی نظرآرہی ہے اورواضح اکثریت حاصل کرسکتی ہے۔
بھوپیندرسنگھ ہڈا اورادے بھان کی قیادت میں جس طرح سے پارٹی نے انتخابی تشہیرمیں جارحانہ رویہ دکھایا ہے، اس نے بی جے پی کو کافی پریشان کیا ہے۔ نائب سنگھ سینی تیسری باربی جے پی کواقتدارمیں لوٹانے کا دعویٰ کررہے ہیں، لیکن ان کی پوری کابینہ کافی پیچھے چل رہی ہے۔
لوک سبھا الیکشن کے بعد بی جے پی اورکانگریس کے درمیان یہ سیدھی ٹکرہے۔ ملیکا ارجن کھڑگے نے دونوں ریاستوں میں حکومت بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیرکے ایگزٹ پول میں کانگریس اورنیشنل کانفرنس کے اتحاد کوسب سے زیادہ سیٹیں ملتی ہوئی نظرآرہی ہیں۔نیشنل کانفرنس کے رتن لال گپتا نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس اورنیشنل کانفرنس الائنس 53 سیٹیں جیت رہی ہے، جس میں 20 سے 24 سیٹیں جموں ڈویژن سے ہوں گی۔
Like this:
Like Loading...