Skip to content
ہریانہ انتخاب :
ذات پات کے اعدادو شمارکا پوسٹ مارٹم
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ہریانہ کو ’36برادری‘ کا صوبہ کہا جاتا ہے۔ ان بڑی ذاتیں جاٹ، کھتری / اروڑہ، برہمن، بنیا (اگروال)، گوجر، راجپوت، پنجابی (ہندو)، سنار، سینی، آہیر، رور اور کمہاروغیرہ شمار ہوتا ہے۔ صوبے میں موجود درج فہرست ذاتوں (SC) میں تقریباً نصف چمڑے کاکام کرنے والی ذاتیں ہیں۔ وطن ہندوسماج میں مذہب اور ملک سے آگے ذات ہوتی ہے۔ سبھی سیاسی جماعتیں ذات پات کی بنیاد پر پائی جانے والی سماجی رقابت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس حقیقت کا مظاہرہ ہر انتخاب کے وقت ہوتا ہے۔ سنگھ پریوار چونکہ پورے ہندو سماج کو متحد کرنے کا دعویدار ہے اس لیے وہ حزب اختلاف پرتو ہندو سماج کو بانٹنے کا الزام لگاتا ہے مگر اپنی تفرقہ بازی کو ’سوشیل انجنیرنگ‘کی خوبصورت اصطلاح سے ڈھانپ دیتا ہے۔ ہریانہ کے غیر متوقع نتائج کی ذمہ داری ہرکوئی ذات پات کے انتشار پرڈال رہا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ا س بندربانٹ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ انتخابی نتائج کے بعد سی ایس ڈی ایس کے سروے کی مدد سے برادریوں کی تقسیم اور خلفشار کا پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے۔
مذکورہ بالا جائزے کا خلاصہ یہ ہے کہ برہمن، یادو، غیر جاٹ او بی سی اور غیر جاٹودلت ووٹروں کی بھاری اکثریت نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔ اس کے برعکس جاٹ، جاٹو اور مسلمانوں نے کانگریس پر اعتماد کیا۔ اس طرح دونوں تقریباً یکساں ووٹ ملے مگر سیٹوں میں بہت بڑا فرق ہوگیا۔ یہ دلچسپ صورتحال ہے کہ جس میں پسماندہ طبقات اور دلت سماج دونوں جانب منقسم نظر آتا ہے۔ یادووں کی سب سے بڑی تعداد بی جے پی کے ساتھ ہے اور ظاہر ہے مسلمان پوری طرح کانگریس کی حمایت میں کھڑے تھے۔ یہاں پر قابل توجہ بات یہ ہے ہریانہ کی ہم سایہ ریاست اترپردیش کی مانند مسلمانوں کے رویہ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی مگر یادو یا اہیر کا رخ صوبے کی تبدیلی سے متضاد ہوجاتاہے۔ یوپی میں بی جے پی کو اپنا دشمن سمجھنے والے یادو ہریانہ میں زعفرانیوں کو اپنا دوست مان کر سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ مسلمانوں اور دیگر طبقات کے سیاسی شعور کا یہی فرق بی جے پی کی آنکھ کا کانٹا ہے۔ پورے ملک میں یہ امت فسطائیت کے خلاف متحد ہے جبکہ دوسروں کا اس پر اتفاق رائے نہیں ہے۔
ہریانہ کی سب سے بڑی برادری جاٹ ہے۔ اس کی آبادی کا تناسب تقریباً 26 فیصد ہے۔ کانگریس نے پوری طرح اس پر اپنا داوں لگا کر دیگر سبھی طبقات سے دشمنی مول لے لی مگر اس کے بھی 28 فیصد رائے دہندگان نے بی جے پی کو ووٹ دے دیا۔ ویسے جاٹوں کی اکثریت 53 فیصد نے کانگریس پر بھروسہ کیامگر 19 فیصد نے دیگر جماعتوں مثلاً آئی این ایل ڈی اور جے جے پی کے حق میں بھی ووٹ ڈالا۔ یہ تقسیم دراصل کانگریس کو بھاری پڑ گئی اور بی جے پی کے ووٹ کا تناسب اس کے برابر آگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئی این ایل ڈی کے ساتھ الحاق اس کو بڑی آسانی سے کامیاب کرسکتا تھا ۔ پنجاب سے متصل علاقوں میں جاٹ سکھوں کی آبادی4.9 فیصد ہے ۔ کسان تحریک کے سبب کانگریس کواس پر بہت بھروسا تھا اور ان میں سے 47 فیصد نے کانگریس کی حمایت بھی کی مگر 21 فیصد نے بی جے پی کو ووٹ دیا اور 32 فیصد کااعتماد دوسری جماعتوں پر تھا۔ اس لیے کسان تحریک کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا کانگریس ناکام رہی۔
سروے کے مطابق جملہ آبادی میں 7.5 فیصد برہمنوں میں سے صرف 51 فیصد نے بی جے پی کوووٹ دیااس لیے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا کہ سارے برہمن زعفرانی ہیں ۔ ان میں سے 31 فیصد نے کانگریس کو اپنے ووٹ سے نوازہ ، 2 فیصد بی ایس پی اورآئی این ایل ڈی کے ساتھ ہو گئے۔ 16 فیصد برہمنوں نے دیگرامیدواروں کو ووٹ دے کر اپنا ووٹ ضائع بھی کیا۔برہمنوں سے مسلمانوں کو عار دلانے والے مرعوب لوگوں کو ان اعدادوشمار سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اس بار انِل وج جیسا برہمن رہنما وزارت اعلیٰ کی کرسی پر دعویٰ کرکے ان کو رجھا رہا تھا پھر بھی وہ متحد نہیں ہوئے۔ برہمنوں کے علاوہ دیگرنام نہاد اعلیٰ ذات مثلاًشتری اور بنیا وغیرہ کی تعداد9.1 فیصد ہے۔ اس کے 59 فیصد ووٹروں نے بی جے پی اور 22 فیصد نے کانگریس کو ووٹ دیا۔ 19 فیصد نے دیگر جماعتوں کی حمایت کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برہمنوں سے بڑا بی جے پی کا وفاداریہ طبقہ ہے۔
ہریانہ میں ساڑھے ۹ سال منوہر لال کھٹروزیر اعلیٰ رہے ان کی پنجابی کھتری برادری 8 فیصد ہے۔ سروے کے مطابق ان میں سے 68 فیصد نے بی جے پی پر اعتماد کا اظہار کیاجبکہ 18 فیصد نے کانگریس کو ووٹ دے دیا۔ 14 فیصد ووٹر اِدھر اُدھر نکل گئے۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جاٹ اور گجر ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہوتے ہیں مگر اس بار44 فیصد گجر ( جن کی جملہ آبادی 2.9 فیصد ہے) کانگریس کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور صرف 37 فیصد نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔ 19 فیصد نے دوسری جماعتوں کی حمایت کی۔ اس جائزے کا سب سے چونکانے والا پہلو یادویا اہیروں کا ووٹنگ پیٹرن ہے۔ ریاست میں ان کی آبادی کا تناسب 5.1 فیصد ہے مگر اس میں سے 62 فیصدیعنی برہمنوں و شتریوں سے زیادہ نے بی جے پی کو ووٹ دیا اور صرف 25 فیصد کانگریس کی جانب راغب ہوئے۔ 13 فیصد نے دیگرلوگوں کو ووٹ دے دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہیروار علاقے میں سماجوادی پارٹی کو ٹکٹ دے کر اکھلیش کی خدمات حاصل کی جاتی تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔
جاٹوں کے خلاف جس دیگر او بی سی طبقہ کا ڈھول پیٹا جارہا ہے اس کی تعداد کل 3.8 فیصد ہے۔ ان میں سے بے شک 47 فیصد نے بی جے پی کو ووٹ دیا مگر 32 فیصد نے کانگریس کی بھی حمایت کی نیز 21 فیصد نے دیگر جماعتوں پر اعتماد ظاہر کیا۔ یہ اعدادوشمار محض جاٹ کے خلاف غیر جاٹ کی گول بندی سے سب کچھ الٹ پلٹ جانے کی نفی کرتے ہیں۔ہریانہ میں جاٹوں کے بعد کانگریس کا سب سے بھروسہ مند ووٹر دلت ہے۔ اسی لیے جہاں وزیر اعلیٰ کاامیدوار جاٹ تو پارٹی کا صدر دلت سماج سے ہوتا ہے ۔ کانگریس سمجھتی ہے کہ ان دونوں میں مسلمانوں کو ملا نے سے کل تعداد پچاس فیصد سے تجاوز کرجاتی ہے ۔ اس لیے انہیں جوڑ کر ریاست پر حکومت کرنا بہت آسان ہے مگردلت سماج جاٹو اور غیر جاٹو میں منقسم ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان دونوں کی تعداد یکساں ہے مگر زمینی لوگ جاٹو سماج کو دوتہائی بتاتے ہیں۔ کل آبادی میں یہ 21فیصد ہیں۔ ریاست میں 17نشستیں دلتوں کے لیے مختص ہیں ۔
کانگریس نے ریزرو نشستوں پر 12 جاٹو اور 7 غیر جاٹوامیدواروں کو ٹکٹ دیا جبکہ بی جے پی نے 9 جاٹو اور 7غیر جاٹو امیدواروں پر بازی کھیلی۔ سروے کے مطابق 50 فیصد جاٹو نے کانگریس کو ووٹ دیا جبکہ 35 فیصد بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ 15 فیصد نے دیگر جماعتوں پر اعتماد کیا کیونکہ انڈین نیشنل لوک دل نے جاٹو ووٹرس کو لبھانے کے لیےمایاوتی سے الحاق کررکھا تھا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف 6 فیصدجاٹو رائے دہندگان نے بی ایس پی اور آئی این ایل ڈی اتحاد کو ووٹ دیا۔ جے جے پی نے غیر جاٹو ایس سی کی حمایت کے لیے چندرشیکھر راون کو ساتھ لے لیا تھا۔اس سماج کے 33 فیصد رائے دہندگان نے کانگریس کو اور 45 فیصد نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔ 22 فیصد نے دیگر جماعتوں یعنی جے جے پی اور آزاد امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا مگر اس انتخاب نے چوٹالا خاندان کی سیاست کا خاتمہ کردیا اور وہ دونوں ڈوب گئے ۔ بی جے پی دراصل ایک بھسما سور ہے جو بھی اس کو اپنے کندھے پر بیٹھاتا ہے وہ سب سے پہلے اسی کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ ہریانہ میں جے جے پی کے ساتھ یہی ہوا ہے۔
سنگھ پریوار کو موجودہ سیاسی نظام نے ایک بہت بڑے دھرم سنکٹ میں ڈال دیا ہے۔ وہ اندر سے تو نام نہاد اعلیٰ ذاتوں کا غلبہ قائم رکھنا چاہتی ہے لیکن اس اعلان کے ساتھ ہی اس کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اس لیے وہ پسماندہ اور دلت سماج کے مسیحائی کا مکھوٹا(نقاب) چڑھا کر انتخاب لڑتا ہے۔ ایک طرف ذات پات کی سیاست کرنے والوں کو ہندو اتحاد کا دشمن قرار دیتا ہے مگر الیکشن جیتنے کی خاطر پہلے مذہب کی بنیاد پر ہندووں کو مسلمانوں ڈرا کر ان سے لڑاتا بھی ہے اور پھر ہندووں کو آپس میں ایک دوسرے سے خوفزدہ کرکے آپس میں بھڑا یاجاتا ہے ۔’ بانٹو اور کاٹو‘ کی یہ حکمت عملی انہوں نے اپنے انگریز آقاوں سے سیکھی ہے اور اس کو خوب عملی جامہ پہناتے ہیں لیکن یکطرفہ تماشایہ ہے کہ اس کے ساتھ یوگی ادیتیہ ناتھ جیسے سر پھرے رہنما نعرہ بھی بلند کردیتے ہیں کہ ’بنٹو گے تو کٹوگے ‘ اور لوگ ان کی باتوں میں آجاتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں مراز غالب نے فرمایا تھا؎
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
Like this:
Like Loading...