Skip to content
مہاراشٹر میں وزیر اعظم کی لن ترانی اور تضاد بیانی ؟؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی کی توجہات کا مرکز فی الحال مہاراشٹر ہے پچھلے دنوں انہوں نے ایک دن کے اندرریاست کے تین مقامات کا دورہ کیا ۔ اپنے دورے کی ابتدا واشیم شہر سے کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فرمایا تھا :’’ہریانہ میں آج ووٹنگ بھی ہو رہی ہے‘‘۔ مودی جی کایہ فارمولا گھس پٹ گیا ہے کہ انتخابی مہم کا خاتمہ ہوجانے پر رائے دہندگی کے دن کسی اور شہر میں جلسہ کرکے اسے ٹیلی ویژن والے نشر کر دیتےہیں۔ اس طرح پابندی کو پامال کرکے آخری لمحہ میں ووٹرس کو متاثر کرنے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے لیکن اب وہ جادو بھی فیل ہوگیا ہے بلکہ لوگ بیزار ہونے لگے ہیں۔ وزیر اعظم اپنے خطاب میں ہریانہ کے تمام محبانِ وطن سے بیش ازبیش ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے بھول گئے کہ ریاست کے لوگ خود انہیں کے خلاف بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ ووٹ دے رہے ہیں ۔ ہریانہ کے اندر کانگریس اور بی جے پی کو تقریباً یکساں تعداد میں ووٹ ملے مگر اندھے کے ہاتھ بٹیر لگنے کے سبب بی جے پی زیادہ نشستیں حاصل کرکے سرکار بنانے میں کامیاب ہوگئی۔
وزیراعظم نے اس موقع پرمہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ کے نام سےچلائی جانے والی ’ لاڈکی بہن یوجنا‘ کا کریڈٹ لینے کی مذموم حرکت بھی کی۔ انہوں نےواشیم میں تعمیر ہونے والے بنجارہ ہیریٹیج میوزیم کی تعمیر کا کریڈٹ دیویندر فڈنویس کی پرانی حکومت کو دے کرموجودہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو مزیدناراض کردیا۔ بنجارہ سماج کی ناز برداری میں وہ یہاں تک بول گئے کہ ’’جس کو کسی نے نہیں پوچھا، مودی ان کو پوجتا ہے۔ ہماری بنجارہ برادری نے ہندوستان کی سماجی زندگی اور ہندوستان کی تعمیر کے سفر میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ فن، ثقافت، روحانیت، قومی دفاع، کاروبار کے ہر شعبے میں اس معاشرے کے عظیم انسانوں اور عظیم شخصیات نے ملک کے لیے کیا کچھ نہیں کیا‘‘۔ اس بات کو درست مان لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ ان خدمات کے عوض ان کو کیا ملا؟ کیونکہ مودی جی کے آشیرواد سے ساری ملائی تو گجرات کے اڈانی اور امبانی کی جیب میں جارہی ہے۔
مودی جی کے مطابق کانگریس کی پالیسیوں نے اس سماج کو مرکزی دھارے سے کاٹ کر رکھ دیا‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اپنے دس سالوں اور اس سے قبل اٹل جی ۶؍ سالوں میں بی جے پی نے کون سا تیر مارلیا؟ مودی کے مطابق ’ جس خاندان نے آزادی کے بعد کانگریس پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی، اس کی سوچ شروع سے ہی غیر ملکی رہی ہے‘ لیکن انگریزوں کے مقابلے جنگ آزادی میں تو وہی پیش پیش تھے جبکہ ان کا اپنا سنگھ پریوار انگریزی استعمار کے تلوے چاٹتا اور ان کے لیے مخبری کرتا تھا ۔ کانگریس پر دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کی تضحیک کا الزام لگانے والے مودی جی کو اپنے گجرات اور مدھیہ پردیش میں ان کے ساتھ ہونے والے بدترین سلوک کو روکنا چاہیے۔ منی پور کےقبائلی لوگوں کو پچھلے ڈیڑھ سال سے بی جے پی کا ڈبل انجن روند رہا ہےمگر انتخابی مہم میں مصروف وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کو وہاں جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔
مودی کی آدیباسی نوازی کا پول تو ان کے دورے سے ایک دن حزب اقتدار میں شامل ڈپٹی اسپیکر نے اپنے قبائلی ارکان اسمبلی کے ساتھ ایوانِ اسمبلی کی عمارت میں تیسری منزل سے جالی پر چھلانگ لگا کردیا۔ یہ ڈبل انجن سرکار اگر قبائلیوں کی اس قدر بہی خواہ ہے تو اس کے اپنے لوگ احتجاج پر کیوں مجبور ہیں؟وزیر اعظم جس وقت واشیم میں خطاب فرمارہے تھے کولہاپور میں راہل گاندھی نے کہا’ اسکولوں میں دلتوں یا پسماندہ طبقات کی تاریخ نہیں پڑھائی جا رہی ہے، اس تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔ اس کی تازہ ترین مثال احمد نگر کانام بدل کر اہلیہ بائی نگر رکھنا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ’کانگریس-انڈیا اتحاد ذات پات کی مردم شماری کرائے گا۔ کیونکہ ہم ملک کی حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس ملک کی دولت سے کون سا طبقہ فائدہ اٹھا رہا ہے؟‘ ملک میں برپا موجودہ سیاسی کشمکش کو انہوں نے نظریات کی جنگ قرار دے کر کہا کہ ’ ایک طرف کانگریس پارٹی ہے اور دوسری جانب بی جے پی۔ ہم سب کو متحد کرکے سماجی ترقی کرنے کے خواہشمند ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ مخصوص چنندہ (نام نہاد اعلیٰ ذات کے) لوگوں کو ہی سارےفوائد نہ ملیں ۔
سنگھ پریوار کے لیے یہ ناقابلِ برداشت حملہ ہے اس لیے مودی جی نے الزام لگادیا کہ ’آج کانگریس کوپوری طرح سے اربن نکسل گینگ چلا رہی ہے۔ وہ ہمیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں‘۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہاں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو آپس میں لڑانے کا کام کون کررہا ہے۔ مودی جی کے چہیتے امریکہ کی حالیہ رپورٹ پھر ایک باران کے خلاف گواہی دے رہی ہے۔ مودی جی نے دس سال قبل اروند کیجریوال کو اربن نکسل کہا تو دہلی والوں نے کمل پر جھاڑو پھیر دیا ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن بی جے پی ریاستی اقتدار کے قریب نہیں پھٹک سکی ۔ اب وہ کانگریس کو انہیں القاب سے نواز رہے ہیں اور مہاراشٹر کے لوگ بھی کانگریسی پنجے سے بی جے پی کے کمل کا گلا گھونٹ کر اسے وہی سبق سکھا دیں گے۔ مودی جی جب کہہ رہے تھے کہ ’ ہندوستان کو ترقی سے روکنے والے لوگ ان دنوں کانگریس کے قریبی دوست ہیں‘ تو عوام کے ذہن میں اچانک وزیر اعظم کے قریبی اڈانی اور امبانی کی شبیہ آگئی ہوگی جو چاروں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ وہ مکیش امبانی کے گھر پر شادی میں شرکت کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں ۔ مہاراشٹر کے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں سے کتنے بڑے بڑے پروجکٹ گجرات منتقل کردئیے گئے اور ممبئی کے مقابلے احمد آباد کو ملک کی اقتصادی راجدھانی بنانے کی خاطر کون کون سی سازشیں رچی گئیں۔
وزیر اعظم نےحال میں دہلی کے اندرہزاروں کروڑ روپے کی منشیات پکڑے جانے کا ذکر کیاجو جھوٹ ہے۔ اس کی قیمت صرف 562کروڈ ہے جبکہ 30ہزارکروڈ کی ہیروئن تو ان کی جنم بھومی گجرات کے اس بندرگاہ پر پکڑی گئی تھی جسے اڈانی چلاتے ہیں ۔ اس پر کیا کارروائی ہوئی کوئی نہیں جانتا۔ وزیراعظم کے مطابق دہلی والی گینگ کا سرغنہ تشار گویل کانگریسی ہے جبکہ اسے 2022میں یوتھ کانگریس سے نکال دیا گیا تھا۔ اس لیے کانگریس پرنوجوانوں کو نشے کی لت میں دھکیل کر اس پیسے سے الیکشن لڑنے کا الزام بچکانہ ہے۔ اس کے برعکس تین ماہ قبل جولائی میں ہندوتوا لیڈر اور بی جے پی سے وابستہ وکاس اہیر کو گجرات کی سورت پولیس نے ایم ڈی ڈرگ فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ وکاس اہیر کی سوشل میڈیا پروفائل اسے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہندو یووا واہنی گجرات کا ریاستی صدر بتاتی ہے۔ وکاس اہیر بی جے پی یووا مورچہ کا بھی رکن رہا ہے۔اس کو نکالنے کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ اس لیے دوسروں پر الزام لگانے سے قبل اپنے بغل میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیے۔
واشیم میں وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ’’آج پی ایم کسان سماّن ندھی ملک کے 9.5 کروڑ کسانوں کے کھاتوں میں 20 ہزار کروڑ روپے منتقل کیے گئے اور مہاراشٹر کی ڈبل انجن سرکار نے 90 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو تقریباً 1900 کروڑ روپے دیئے ہیں‘‘۔سوال یہ ہے اس کے باوجود کسانوں کی خودکشی کے معاملے میں مہاراشٹر سرِ فہرست کیوں ہے؟یہاں اوسطاً ہر روز ۷؍ کسان کیوں خودکشی کرتے ہیں؟ واشیم سے متصل امراوتی ضلع میں سب سے زیادہ کسان خودکشی کرنے پر کیوں مجبور ہیں ؟وزیر اعظم نریندر مودی نے ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں چلنے والی سابقہ مہااگھاڑی کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ کسانوں سے متعلق منصوبوں کو روکتی تھی اور ان کے پیسے آپس میں بانٹ کر کھا جاتی تھی۔ یہ الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم بھول گئے کہ وہ ریاستی حکومت مرکزی مودی سرکارکی مانند نجی ملکیت نہیں تھی۔ اس حکومت میں ایوان کے اندر شیوسینا کے سربراہ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار تھے۔ اس کے علاوہ بیشتر وزراء وہی سب تھے جو ابھی این ڈی اے سرکار میں وزیر ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کوریاست کی ترقی روکنے اور کسانوں کا روپیہ کھاجانے کی سزا دینے کے بجائے پھر سے نائب وزیر اعلیٰ بلکہ وزیر اعلیٰ تک کیوں بنادیا گیا؟ وہ لوگ اچانک راتوں رات رشوت لے کر اپنی مادرِ تنظیم سے غداری کرنے والے کسانوں کے ہمدرد و بہی خواہ کیونکر ہوگئے؟ اور انہوں نے لوٹ کھسوٹ کا کاروبار کیوں بند کردیا؟ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کو اپنے اسٹیج پر بیٹھا کر ان کی توہین کرنے والے کے آگے وہ دونوں تو بے بس ہیں مگر ریاست کے خوددار عوام وزیر اعظم کو نہیں معاف کریں گے بلکہ سزا دیں گے ۔ریاست کا کسان جانتا ہے کہ دیویندر فڈنویس کی سرکار نے کسانوں کے قرض معافی کے لیے ایسی شرائط عائد کردی تھیں کہ ان کو پورا کرنا ناممکن تھا۔ ادھو ٹھاکرے نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان شرائط میں نرمی کی اور مرکزی حکومت کے تعاون اس معاملے کو نہایت حسن خوبی کے ساتھ انجام تک پہنچایا۔ مہاراشٹر کا کسان کوادھو ٹھاکرے کےوہ حسن سلوک یاد ہے اور وہ مودی جی کے ورغلانے میں نہیں آئے گا۔
(۰۰۰۰جاری)
Like this:
Like Loading...