Skip to content
مدارس کو سرکاری فنڈنگ روکنے کی سفارش آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایس ڈی پی آئی
نئی دہلی،14اکٹوبر(پریس ریلیز)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) کی جانب سے RTEکی عدم تعمیل کا الزام لگاکر مدارس کو ریاستی فنڈنگ روکنے کی سفارش کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 29اور 30اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ثقافت کو محفوظ رکھیں اور تعلیمی ادارے قائم کریں۔
مدرسہ کے نظام کو روکنے کا اقدام مسلم کمیونٹی کے آئینی حقوق سے انکار کے مترادف ہے۔ مدرسہ کا نظام عرصہ دراز سے رائج ہے۔ اس کے کام کاج میں کسی کوتاہی یا خرابی کا حل یہ نہیں ہے کہ نظام کو ختم کیاجائے بلکہ اسے درست کرنے کے اقدامات کو لاگو کیا جائے اور اس کے کام کو درست کیا جائے۔اگرچہ مدارس میں دینی تعلیمات کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن شمال میں ان مدارس میں باقاعدہ جدید تعلیم بھی فراہم کی جاتی ہے۔
اگر سسٹم میں پروفیشنل فیکلٹیز کی کمی ہے اور انفرا سٹرکچر کا فقدان ہے تو حکومت کو متعلقہ مدرسہ بورڈکے ذریعے اس بات کو یقینی بناناچاہئے کہ پروفیشنل اساتذہ کی تقرری ہو اور مناسب انفراسٹرکچر کی سہولیات موجود ہوں۔ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ NCPCRمدارس کے کام کاج سے متعلق اپنی رپورٹ میں جن مسائل کا ذکر کیا ہے ان کو دورکرنے کے لیے اقدامات شروع کرے اور مدارس کو فراہم کی جانے والی سرکاری امداد کو بند نہ کرے۔
Post Views: 16
Like this:
Like Loading...