انصاف مانگنے پر لاٹھی کی مار: دہلی کے جنتر منتر پر طلبا کا احتجاج اور حکومت کی تانا شاہی
از قلم: ایڈوکیٹ طاہر حُسین
> "انصاف مانگنے پر لاٹھی کی مار
> انگریز بھی شرمائیں تیری تانا شاہی پر”
جنتر منتر، جو دارالحکومت دہلی میں پرامن احتجاج کی علامت رہا ہے، ایک بار پھر طلبہ اور عوام کی چیخوں، خون کے دھبوں اور پولس کے تشدد کا گواہ بنا ہے
دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہونے والے ان طلبہ کا بنیادی مقصد ملک میں تعلیمی نظام کے پھیلے ہوئے بگاڑ اور امتحانات میں ہونی والی مسلسل دھاندلیوں (مثلاً NEET اور NET جیسے قومی سطح کے امتحانات) کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ طلبہ کا صاف اور دوٹوک مطالبہ تھا کہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے فوراً استعفیٰ دیں، کیونکہ وہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت کرنے اور شفافیت برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
ایک ذمہ دار حکومت کا فرض بنتا تھا کہ وہ اپنے وزیر سے جواب طلبی کرتی اور طلبہ سے بات چیت کے لیے آگے آتی، لیکن اس کے برعکس طلبہ کو لاٹھیوں، واٹر کینن اور پولیس کے ظالمانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا۔
طلبہ پر ہونے والا یہ تشدد کوئی نیا یا الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس حکومت کی مستقل پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ یہی وہ حکومت ہے جس نے ماضی میں ملک کے کسانوں کے ساتھ بھی انتہائی غیر انسانی اور معاندانہ سلوک کیا تھا جب ملک کے کسان اپنے حق کے لیے دہلی کی سرحدوں پر آئے، تو ان پر بھی لاٹھیاں برسائی گئیں، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، اور ان کی راہ میں کیلیں اور کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں۔اپنی محنت سے ملک کا پیٹ بھرنے والے کسانوں کو "آتنگ وادی” (دہشت گرد) اور "آندولن جیوی” کہہ کر تذلیل کی گئی۔ مہینوں تک کڑکتی سردی اور بارش میں کسان سڑکوں پر بیٹھے رہے اور سیکڑوں کسانوں نے اپنی جانیں گنوائیں، لیکن حکومت کا تکبر اور تانا شاہی کا رویہ قائم رہا۔
آج وہی لاٹھیاں، جو کل تک کسانوں کی پیٹھ پر برستی تھیں، ملک کے تعلیمی مستقبل یعنی طلبہ کے سروں پر برسائی جا رہی ہیں۔
حکومت کے اس استبدادی رویے کو دیکھ کر برطانوی راج (انگریز سرکار) کے مظالم یاد آ جاتے ہیں۔ انگریز بھی اپنے خلاف اٹھنے والی ہر پرامن آواز کو جلیاں والا باغ یا لاٹھی چارج کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتے تھے۔ آج ایک آزاد اور جمہوری ملک میں جس طرح کسانوں اور طلبہ کی آواز کو طاقت کے زور پر کچلا جا رہا ہے، وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی تانا شاہی پر انگریز بھی شرما جائیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ فرعونیت اور تانا شاہی کبھی دائم نہیں رہتی۔ جب ملک کا کسان اور ملک کا نوجوان (طلبہ) ایک ساتھ ناانصافی کے خلاف کھڑے ہو جائیں، تو بڑی سے بڑی جابر حکومتوں کے ایوان ہل جاتے ہیں۔ دہلی کے جنتر منتر پر پولیس کا یہ تشدد حکومت کے خوف اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی اور وزیرِ تعلیم کے استعفے سمیت طلبہ و کسانوں کے جائز مطالبات کو پورا نہ کیا، تو یہی نوجوان اور کسان جمہوری انداز میں اس تانا شاہی کا خاتمہ کریں گے۔