دنیا کی کسی بھی زبان کے ادب کے فروغ و ارتقا میں ادبی تحریکوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اردو زبان و ادب بھی ان تحریکوں کے اثرات سے مستثنیٰ نہیں رہا۔ ہر عہد میں ان تحریکوں کے مخالفین بھی موجود رہے اور ان کی افادیت کو تسلیم کرنے والے بھی، مگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سماج کے کسی بھی شعبے میں جب کوئی تحریک جنم لیتی ہے تو وہ اپنے دیرپا اور دور رس اثرات مرتب کرتی ہے۔ زمانے کے سرد و گرم کے ساتھ ادبی رجحانات بھی بدلتے رہے اور ہر دور میں اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے گئے۔ یہی تغیر ادب کی زندگی اور اس کی معنویت کا ضامن ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر کوثر فاطمہ گلبرگہ کی متوطن ہیں اور گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج، سیڑم میں صدرِ شعب? اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ سن 2024 میں ان کی اہم تصنیف "اردو کی ادبی تحریکیں” منظر عام پر آئی۔ اس سے قبل ان کی پہلی کتاب "گلبرگہ کی ادبی و تہذیبی انجمنیں” (2019) شائع ہو کر علمی حلقوں میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ علاوہ ازیں وہ اردو کی نصابی کتابوں کی تدوین میں بھی اپنی قابلِ ستائش خدمات انجام دے چکی ہیں۔ اتر پردیش اردو اکیڈمی نے ان کی پہلی کتاب پر انہیں انعام سے بھی نوازا ہے۔
میرے پیشِ نظر ان کی کتاب "اردو کی ادبی تحریکیں” ہے۔ ڈاکٹر کوثر فاطمہ نے اس میں اردو کی چار اہم ادبی تحریکوں، یعنی سر سید تحریک، رومانی تحریک، حقیقت پسندی کی تحریک اور ترقی پسند تحریک کا جامع اور مفصل احاطہ کیا ہے۔ ان تحریکوں کے پس منظر، ماحول، محرکات، ارتقائی مراحل، وابستہ شخصیات اور ان کے مثبت و منفی اثرات و نتائج کا تفصیلی جائزہ مستند حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کا نمایاں وصف یہ ہے کہ انہوں نے ہر تحریک کے معنی، مفہوم اور بنیادی خدوخال کو نہایت سلیقے اور استدلال کے ساتھ واضح کیا ہے۔ تاہم ایک تشنگی کا احساس یہ رہتا ہے کہ اگر جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے رجحانات کو بھی اس کتاب میں شامل کیا جاتا تو اس کی جامعیت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔
ڈاکٹر کوثر فاطمہ نے "اپنی بات” میں لکھا ہے:
"ادب اور ادبی تجربوں سے نظریہ سازی تشکیل پاتی ہے اور یہ تخلیقی عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ کوئی تحریک یا نظریہ ایسا نہیں کہ شعر و ادب کو صد فیصد مالا مال کر دیا ہو۔ ہر تحریک کی ایک افادیت ہوتی ہے۔ اس کو رد و قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔ کسی عہد میں کوئی نظریہ ایسا نہیں رہا کہ سب نے اس کو قبول کر لیا ہو۔ ہر دور کے تقاضے ان زاویہ فکر کے محرک ہوتے ہیں۔”
یہ بات بجا اور قابلِ قبول ہے کہ کوئی بھی نظریہ یا تحریک ہر فرد کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول نہیں ہوتی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہی تحریک دیرپا ثابت ہوتی ہے جو اپنے دور سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں پر بھی اثر انداز ہو اور ادب کو نئی جہت عطا کرے۔
ڈاکٹر کوثر فاطمہ کی اس کاوش پر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی لکھتے ہیں:
"اردو کی ادبی تحریکیں کی مصنفہ ڈاکٹر کوثر فاطمہ نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اردو کی اہم ادبی تحریکات و نظریات، اس کی علمی، ادبی اور تاریخی حیثیت، ان کے محرکات، اس کے نتیجے میں موضوع و مواد میں در آئی تبدیلیوں نیز ان کے بنیاد گزاروں کے کارناموں کا نہ صرف جائزہ لیا ہے بلکہ اس کے ثمر آور نتائج کی بھی نشاندہی کی ہے۔ مصنفہ نے استنباطِ نتائج میں جس طرح استدلال، تجزیہ اور حوالوں سے کام لیا ہے، وہ ان کے گہرے علمی، ادبی اور تاریخی مطالعے کے پہلو بہ پہلو ان کے تحقیقی و تنقیدی شعور کی بین مثال ہے۔”
ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے اس مختصر مگر جامع تبصرے میں نہ صرف کتاب کی علمی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ مصنفہ کے تحقیقی و تنقیدی شعور کو بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اور یہ اعتراف یقیناً برمحل اور حق بجانب ہے۔
ڈاکٹر کوثر فاطمہ کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مستقل لکھنے والی ادیبہ ہیں، البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے علمی و تدریسی ضرورتوں کے تحت قلم اٹھایا اور اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں ادبی تحریکات کے بارے میں متوازن اور مدلل اظہارِ خیال کیا ہے۔ چونکہ وہ عرصہ دراز سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں، اس لیے ان کے مطالعے کی وسعت اور علمی سنجیدگی اس کتاب کے ہر باب میں نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
کتاب کا آغاز سر سید تحریک سے کیا گیا ہے۔ سر سید احمد خاں اپنے عہد کی ایک عظیم علمی و عملی شخصیت تھے جنہوں نے تعلیم کے فروغ اور مسلمانوں کی فکری بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سر سید تحریک، جسے علی گڑھ تحریک بھی کہا جاتا ہے، کا مصنفہ نے گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور مختلف حوالوں کے ذریعے اس کے علمی، ادبی، مذہبی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی پہلوؤں کو واضح کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ یہ ایک جامع تحریک تھی جس کا علمی و ادبی پہلو اس کی دیگر جہات پر غالب رہا۔
کتاب کا دوسرا باب رومانی تحریک سے متعلق ہے۔ اردو ادب کی اس اہم تحریک میں جذبات، محبت، حسن، فطرت، تخیل اور انفرادی احساسات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مصنفہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ تحریک رومان سے پھوٹی، جہاں تخیلی داستانوں اور عشق و محبت کے پْرکشش بیان کو اہمیت حاصل تھی، اور رفتہ رفتہ عشق و محبت سے وابستہ تمام رجحانات کو رومانویت کا نام دیا جانے لگا۔ انہوں نے اختر شیرانی، حفیظ جالندھری اور قیوم نظر کو اس رجحان کے اہم نمائندوں میں شمار کیا ہے۔
تیسرے باب میں حقیقت پسندی کی تحریک پر گفتگو کی گئی ہے۔ حقیقت نگاری اردو ادب کا ایک اہم رجحان ہے جس میں زندگی کو اس کی اصل صورت میں پیش کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ اس باب میں یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ اس تحریک نے معاشرتی مسائل، انسانی کردار، غربت، ناانصافی اور روزمرہ زندگی کے حقائق کو حقیقت پسندانہ انداز میں ادب کا موضوع بنایا۔
کتاب کا چوتھا اور آخری باب ترقی پسند تحریک کے لیے مختص ہے۔ مصنفہ نے اس تحریک کے اغراض و مقاصد، نظریاتی بنیادوں اور ادبی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ترقی پسند تحریک کا بنیادی مقصد ادب کے ذریعے سماجی ناانصافی، غربت، استحصال اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ اس تحریک پر مارکسی اور اشتراکی نظریات کا نمایاں اثر رہا، جبکہ سجاد ظہیر، پریم چند اور فیض احمد فیض اس کے نمایاں علمبرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس باب میں بھی مصنفہ نے نہایت محنت سے مواد کو یکجا کیا ہے اور متوازن انداز میں اپنی رائے پیش کی ہے۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر کوثر فاطمہ اردو کی ادبی تحریکات پر اچھی دسترس رکھتی ہیں۔ انہوں نے مواد کی فراہمی، حوالہ جات کے انتخاب اور موضوع کی تفہیم میں قابلِ قدر محنت کی ہے۔ ان کی زبان شستہ، لہجہ شائستہ اور اسلوب سادہ مگر معیاری ہے، جو قاری کو آغاز سے اختتام تک اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ یہی اوصاف اس کتاب کو نہ صرف ریسرچ اسکالروں بلکہ علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین اور اردو ادب کے طلبہ کے لیے بھی یکساں طور پر مفید اور قابلِ مطالعہ بناتے ہیں۔
٭٭٭