شوق اپنے بھی کیا نرالے ہیں،آستینوں میں سانپ پالے ہیں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
فرانس میں جی ۷ کا اجلاس ہندوستانی میڈیا پر چھایا ہوا ہے ۔یہ جی ۷ کس چڑیا کا نام ہے ہندوستان میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور اگر یہ پرندوں کاپنجرہ ہے تو اس کے اندر کون کون سے پرندے رہتے بستے ہیں اس کا علم بھی بہت سارے لوگوں کو نہیں ہے؟ ہندوستان کے اس اجلاس میں کس حیثیت سے شریک ہورہا ہے اس کی بھی کسی کو پڑی نہیں ہے ۔ لوگ تو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے کے بعد جب ٹرمپ اور مودی کی ملاقات ہوگی تو کیا ہوگا ؟ لیکن اس سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ جی ۷نامی گروہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ۷ ترقی یافتہ ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اس ابھی تک چین اور روس کو بھی شامل نہیں کیا گیا تو ترقی پذیر ہندوستان کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فی الحال ان ممالک میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اطالیہ، جاپان، برطانیہ اور امریکہ ہی شامل ہیں۔یورپی اتحاد گروہ 7 میں ایک مہمان کی حیثیت سے شریک ہوتا ہے۔ جی 7 کے اجلاس میں ان ممالک کے سربراہ شریک ہوتے ہیں۔امسال فرانس کے شہر ایویان-لے-بینز میں منعقد ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس میں آؤٹ ریچ کے طور برازیل، مصر، ہندوستان ، کینیا، جنوبی کوریا، قطر، شام، یوکرین اور متحدہ عرب امارات شریک ہورہے ہیں۔ اس طرح گویا جی 7 جاپان کے سوا سب انگریز ہیں اور جن ۹؍ ممالک کو دور کے رابطے میں دعوت دگئی ان میں چار مسلمان ممالک اور چار عیسائی ممالک کے ساتھ ایک ہندو ملک ہندوستان بھی ہے۔
فرانس کے ایوین-لیس-بینس میں منعقدہ 52 ویں جی ۷ سربراہی اجلاس میں 16 ماہ سے زائد عرصے یعنی 489 دنوں کے بعدہندوستانی وزیر اعظم اور امریکی صدر آمنے سامنے تو آئے مگر اس ملاقات میں وہ گرمجوشی نظر نہیں آئی جو پہلے ہوا کرتی تھی ۔ عالمی سطح پر وزیر اعظم مودی اپنے معانقہ کے لیے مشہور ہیں جسے لوگ گلے پڑنا بھی کہتے ہیں ۔ اس اجلاس میں بھی مودی جی برطانیہ کے وزیر اعظم سمیت کئی رہنماوں کو گلے لگاتے رہے مگر ٹرمپ کے ساتھ ایسی جرأت نہیں کرسکے بلکہ مصافحہ پر اکتفا کرلیا۔ ان لوگوں نے مختصر بات چیت بھی کی لیکن ایک دوسرے کو گلے نہیں لگایا۔ جی ۷ فیملی کی تصویر کے لیے میٹنگ ہال سے تمام شرکاء باہر نکلے تب بھی پی ایم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ایک فاصلہ نظر آیا ۔ تصویر میں ایک طرف ٹرمپ، دوسری جانب مودی اور درمیان میں کباب کی ہڈی بن کر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کھڑے دکھائی دئیے ۔ پہلی صف میں فرانسیسی صدر سے بھی مودی جی فاصلہ رکھ کر کھڑےتھے جبکہ دوسری جانب ٹرمپ کے برابر میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی دکھائی دے رہے تھے اور آخر میں مودی کی چہیتی میلونی سب سے زیادہ فاصلے پر تھیں ۔ یہ تصویر اپنے آپ میں ایک طویل داستان بیان کر دیتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات میں آپریشن سیندور کے بعد سے ایک دراڑ پڑ گئی ہےکیونکہ ٹرمپ کا اصرار تھا کہ انہوں نے ہندپاک جنگ رکوائی اور ہندوستان کا انکارکررہا تھا۔اسی لیے مودی جی ان کی ملاقات سے کنی کاٹتے پھرے ۔ کینیڈا میں منعقدہ پچھلے جی ۷؍ اجلاس سے واپسی میں سنا ہے ٹرمپ نے مودی کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی تھی مگر چونکہ وہاں اس وقت جنرل عاصم منیر موجود تھے اس لیے مودی جی نے معذرت کرلی ۔ وہیں سے تعلقات میں سرد مہری کا آغاز ہوگیا۔ اس کے بعد اکتوبر کے اندر آسیان اجلاس میں شرکت کے لیے کولالمپور بھی وہ محض اس لیے نہیں گئے تاکہ ٹرمپ سے آمنا سامنا نہ ہوجائے۔ اس کے علاوہ کئی واقعات نے ہند امریکی تعلقات میں کشیدگی پیدا کی مثلاًایچ ون بی ون ویزا کی سخت شرائط اور فیس میں غیر معمولی اضافہ ۔ امریکہ کے اندر ہندوستانی نژاد لوگوں کے ساتھ بدسلوکی اور غیر قانونی باشندوں کوہتھکڑیا ں ڈال کر بھیجنا بھی تعلقات کی تلخی کا سبب بنا۔ ٹیرف اور تجارتی معاہدے پر بھی کچھ عرصہ تناؤ رہا مگر پھر حکومتِ ہند کے ہتھیار ڈال دینے سے اس میں کمی آئی۔اڈانی پر نوٹس اور گروپتونت سنگھ پنوں قتل معاملے میں مجرم قرار پانے والے نکھل گپتا کے سابق رآ افسر وکاس یادو سے تعلقات تنازع بنتے رہے ۔
ایران اور امریکہ جنگ کے دوران 11؍ جون کے واقعات نے ہند امریکی تعلقات کی کشیدگی میں پھر سے اضافہ کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے شناس بندرگاہ کے قریب ایم ٹی جل ویر پر حملہ کیا جس میں 24 ہندوستانی عملے کے ارکان سوار تھے۔ ان میں سے تین کی موت ہو گئی۔ مال بردار جہاز پر اس طرح کے خطرناک حملے اور ہندوستانیوں کی ہلاکت سے امریکہ بری طرح گھر گیا ہے۔ پہلے تو اس کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی مگر جب اندرونِ ملک دباو بڑھا تو حکومتِ ہند نے شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی سفارت کار کو طلب کرکے سرزنش کی۔ امریکہ نواز وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس معاملے میں اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے بات کرکے حملے کی سخت انداز میں مذمت کی۔ تاہم روبیو نے گفتگو کےبعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں غم اور افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’امریکی ناکہ بندی کو توڑنے والا کوئی بھی اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘۔ روبیو کے اس بیان نے تلخی بڑھادی ۔
اس تناظر میں گودی میڈیا نے ٹرمپ سے دوری کومودی کی ناراضی کا اظہار قرار دیا جبکہ یہ رائے بھی سامنے آئی کہ خود ٹرمپ انہیں نظر انداز کررہے ہیں ۔ مودی ان کے آس پاس منڈلاتے رہے مگر انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ٹرمپ کے علاوہ اجلاس کے میزبان فرانسیسی صدر میکرون نے بھی مودی کی کوئی خاص آو بھگت نہیں کی ۔ سچ تو یہ کہ اس اجلاس میں مودی جی تنہا تنہا سے نظر آئے۔ موصوف اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے سوا کسی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرواسکے ۔ جی۷؍ اجلاس کے دوران دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ گروپ فوٹو سے قبل دونوں رہنما وں نےایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور خوشگوار انداز میں بات چیت کی۔دوران گفتگو وزیرِ اعظم نریندرا مودی نے سوشل میڈیا پر اپنی مقبولیت کا ذکر کیاتواس پر جارجیا میلونی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جی ہاں! ہم انسٹاگرام کا سب سے مشہور جوڑا ہیں۔یہ نہایت شرمناک تبصرہ تھا کیونکہ وہ خود تو اپنے شوہر کو چھوڑ چکی ہیں لیکن یشودھا بین اب بھی مودی جی کے نکاح میں ہیں اور سناتن دھرم ایک سے زیادہ زوجہ کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس سے قبل مودی کا سرکاری دورے کے دوران میلونی کو ٹافیوں کا تحفہ بھی کڑی تنقید کا سامنا بنا تھا۔ راہول گاندھی نے کہا تھا کہ ملک کو معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور طلبہ کے احتجاج جیسے مسائل کا سامنا ہے جب کہ وزیر اعظم ریلز بنانے میں مصروف ہیں۔پی ایم کے دورے اسی لیےبے فائدہ ہوتے ہیں۔
جی ۷؍اجلاس کے دوسرے دن ایک ظہرانے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قدرے تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ اس موقع پر بدقسمتی سے ٹیلی پرامپٹر کا بندو بست نہیں ہوسکا اس لیے انٹایر پالیٹیکس کی جعلی ڈگری والا یہ پوسٹ گریجویٹ پی ایم انگریزی سے ہندی پر آگیا ۔ ویسے دنیا میں پوتن جیسے کئی رہنما اپنے وقار کی خاطر جان بوجھ کر صرف اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتے ہیں لیکن یہ ان کا مستقل شعار ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ ٹیلی پرامپٹر مل جائے تو بہار میں بھی انگریزی ٹھونک دی جائے اور نہ ملے تو فرانس کے اندر ٹرمپ کے سامنے ہندی بولی جائے۔ اس موقع پر مودی جی کا انداز غلامانہ تھا ۔ترجمہ کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے انہیں ہرجملے کے بعد رکنا پڑتا تھا۔ اس لیے ہر بار وہ جنابِ صدر یا عزت مآب کہہ کر اپنی بات شروع کرتے تھے جبکہ ٹرمپ نے ایک مرتبہ بھی یہ الفاظ استعمال نہیں کیے ۔ وہ تو اتنے بے تکلف تھے کہ کہہ دیا ’آپ ان کو دیکھیں یہ دیکھنے میں بہت ہی خوبصورت لگتے ہیں۰۰۰یہ فرشتے لگتے ہیں لیکن یہ بہت مشکل آدمی ہیں۰۰۰یہ بہت مشکل مذاکرات کار ہیں، یہ کِلر (قاتل) ہیں۔ یہ آپ کو حیران کر سکتے ہیں۔‘وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران تعریف وتوصیف کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متنازع جملے نے پوری دنیا کو چونکا دیا۔ کسی کو ایک سخت گیر اور "قاتل سودے باز” کے لقب سے یاد کرنا یا کہہ دینا کہ "مودی قاتل بھی ہے اور فرشتہ بھی”تحقیر آمیز نہیں تو کیا ہے؟ مودی پر چونکہ گجرات کے مسلم کش فسادات کا کلنک ہے اس لیے جب انہیں کوئی قاتل کہتا ہے تو اس کا مطلب ’قاتل محبوبہ ‘نہیں ہوتا ۔ ٹرمپ نے مودی جی کو یاد دلایا کہ آپ وہی انسانیت کے قاتل ہو جس کاایک زمانے میں امریکہ کے اندر اخلہ ممنوع تھا۔ سچائی تو یہ ہے لاکھ کینچلی بدلنے کے بعد بھی سانپ کا زہرکم نہیں ہوتا ۔رام مندر کی چندہ چوری کے بعد ہندو سماج کو بھی زعفرانی سانپ کے ڈسنے تجربہ ہواہے اور وہ کہہ رہا ہے؎
شوق اپنے بھی کیا نرالے ہیں
آستینوں میں سانپ پالے ہیں