کاکروچ پارٹی کے احتجاج میں روح پھونکنے والے سماجی کارکن سونم وانگ چک نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ سے ملاقات کے بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی ۔ سونم وانگ چک کو مودی سرکار کے ایماء پر جنتر منتر سے ڈاکٹر کے بھیس میں آنے والی پولس نے اغوا کرکے دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کردیا تھا۔ اس کے بعد وانگ چک کی بیوی گیتانجلی انگمو نے اس زیادتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے احتجاجی جلوس میں اپنے خاوند کی نمائندگی کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کے ساتھ انہوں نے عدالت سے رجوع کرکے درخواست کی تھی کہ وانگ چک کو علاج کے لیے میدانتا منتقل کیا جائے۔دہلی ہائی کورٹ کےحکم پر انہیں منتقل کیا گیا۔ وہیں مرکزی وزیر جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے وانگ چک سے ملاقات کی اور ا س کے بعدانہوں بھوک ہڑتا ل ختم کردی۔ وانگ چک نے وضاحت کی کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے 65؍ ارکان پارلیمنٹ نے ان سے ملاقات کرکے یا خط لکھ کر ا سے ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ قدم مختلف حالات پر طویل بحث کے بعد اور ملک میں تشدد کے امکانات کو نظرمیں رکھ کراٹھایا گیا۔اس پر وزیر اعظم مودی نے ایکس پرلکھا کہ، "میں سونم جی سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق اپنے روزمرہ کے معمولات کو برقرار رکھیں اور جلد از جلد اپنا سابقہ وزن دوبارہ حاصل کریں۔”
مودی اور شاہ کے اقتدار کی رعونت نے یہ سارا معاملہ بگاڑ ا ہے ۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے میں کانگریسی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے سبق سیکھتے ۔ سونم وانگ چُک کے والد سونم وانگیال جو اس وقت کانگریس سے وابستہ ایک ممتاز لیڈر اور سابق وزیر تھے۔1984؍ میں انہوں نے لداخ کے عوام کو درجۂ فہرست قبائل (Scheduled Tribe) کا آئینی درجہ دلانے کے مطالبے پرخود اپنی سرکار کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ احتجاج کے کئی روز گزرنے کے بعدسابق وزیر اعظم اندرا گاندھی خود لیہہ پہنچیں، سونم وانگیال سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد سونم وانگیال نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ اندرا گاندھی کی اس یقین دہانی پر ان کے قتل کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکا مگر کانگریس نے اس عہد کی پابندی کرتے ہوئے لداخ کے مختلف قبائل کوشیڈول ٹرائبس کا درجہ دے دیا ۔ یہ نہیں کہ کسانوں کو جھوٹا وعدہ کرکے ان کے مظاہرے کو ختم کرنے کے بعد اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی دہلی سے لداخ گئی تھی لیکن شرمناک پہلو یہ ہے کہ خود پسند اور مغرور مودی جی لیہہ سے دہلی آنے والے وانگ چُک کے پاس بھی نہیں جاسکے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے پیش رو ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے2011ء میں اختلافات کے باوجودانا ہزارے سے بات چیت کرکے ان کی بھوک ہڑتال ختم کروائی تھی تاہم موجودہ حکومت نے کمال بے حسی کامظاہرہ کیا۔ اس نے تعلیمی اصلاحات کے مطالبے میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا کے مطابق اس طرح کی بے حسی محض تکبر نہیں بلکہ ظالمانہ اور مکمل طور پر غیرجمہوری عمل ہے۔ انہو ں نے کانگریس پارٹی کی طرف سے جنتر منتر پر سونم وانگ چک اور مظاہرین سے ملاقات کرکے ان سے بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر اپنی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ پون کھیڑ انے یہ مشورہ دیا کہ تحریک اپنے لوگوں کو کھونے سے مضبوط نہیں ہوتی حالانکہ تحریکات کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قربانیوں کے لہو سے سر سبزو شاداب ہوتی ہیں۔ خیر پون کھیڑا نے سونم کی ہمدردی میں کہا کہ ہمیں لڑنے کے لیے زندہ رہنا پڑتا ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ این سی پی رہنما سپریہ سُلے نے بھی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کے ساتھ ملک کو مستقبل میں ان کی آواز اور قیادت کی ضرورت پر زور دیا مگر و ہ بھول گئیں کہ اس طرح اچانک بھوک ہڑتال ختم کرنے سے ان کی آواز کمزور ہوجائے گی ۔
سپریہ سُلے اور پون کھیڑا کا مودی حکومت کی جانب سے طلبہ کے ساتھ بامعنی بات چیت شروع نہ کرنے پر افسوس بجا ہے مگر یہی اس سرکار کا شعار ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال ڈاکٹر جی ڈی اگروال کی بھوک ہڑتال اور ان کی موت ہے۔ مودی جی نے جب گجرات کے ساتھ اترپردیش سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو بنارس آکر کہا مجھے ماں گنگا نے بلایا ہے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد یہ ناخلف بیٹا گنگا ماتا کو بھول گیا۔ دہلی میں اقتدار سنبھالنے کے ۳؍سال بعد اترپردیش میں بھی یوگی سرکار آگئی مگر پھر بھی گنگا کو نظر انداز کیا گیا تو ہری دوار میں واقع ماتری سدن نامی آشرم کے سادھوؤں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کی بی جے پی جو 2014 میں گنگا کو صاف کرنے کے نعرے پر اقتدار میں آئی تھی ’مغرور ہے اور دریا کی صفائی میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں۔‘ اسی کے ساتھ اپنی روایت کو جاری رکھتے ہوئے معروف ماحولیات کے انجنیئر 86 سالہ جی ڈی اگروال نے بھوک ہڑتال شروع کردی ۔ اگروال صاحب جنہیں سوامی گیان سوروپ آنند بھی کہا جاتا تھا 111 دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے مگر سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی یہاں تک کے وہ ہلاک ہوگئے اور مودی سرکار وارانسی کو کیوٹو نما سیاحتی مرکز بنانے کا خواب دِکھا کر گنگا کے کنارے کاریڈور بنانے میں جُٹ گئے ۔ اس طرح گنگا کے کنارے بڑے بڑے ہوٹل بنوائے گئے کروذ شروع ہوگئی اور دوستوں کی کمائی ہونے لگی ظاہر ہے اس میں سے دلالی بھی آنے لگی ہوگی ۔
پروفیسرجی ڈی اگروال نے امریکہ میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ 2011 میں آئی آئی ٹی سے تدریس کی ذمہ داری چھوڑ کر سادھو بن گئے تھے ۔ موت سے پہلے انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تین خط لکھے لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا تھا۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ پروفیسر اگروال ہندو قوم پرستوں کے زیادہ قریب تھے مگر کانگریس پارٹی نے ان کی جانب زیادہ توجہ دی ۔ انہوں نے کانگریس کی حکومت کے دوران آٹھ بار بھوک ہڑتال کی اور ہر بار کوئی نہ کوئی بات منوا لی ۔ ان میں ڈیم کے ایک منصوبے کو ختم کروانا اور دریا کے ایک سو کلومیٹر کے ایک حصے کو حساس قرار دلوانا قابل ذکر تھا۔ اس کےبرعکس مودی سرکار کی بے حسی نے اکتوبر 2018میں اپنے ہی ایک نہایت قابل اور مخلص آدمی کو موت کے منہ میں جھونک دیا لیکن اس بار معاملہ مختلف ہے۔ سونم وانگ چک کسی آشرم سے نہیں آئے بلکہ نوجوانوں کی جماعت سی جے پی کی تائید کررہے ہیں۔ سونم واگ چک پر ہونے والے مظالم نے نوجوانوں کے دل میں حکومت کے خلاف ایک آگ بھڑکا دی ہے۔انہوں نے پولیس کی لاٹھیوں سے بے پروا ایوان پارلیمان کے دروازے پر پہنچ کر ایک تاریخ رقم کردی ۔
مودی جی اگر یہ سوچتے ہیں کہ سونم وانگ چک کے بھوک ہڑتال ختم کردینے سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا تو یہ ان کی خوش فہمی ہے۔ یہ تحریک اب سونم وانگ چُک یا ابھیجیت دپکے کے ہاتھ سے نکل کر آگے بڑھ چکی ہے۔ پہلے تو دپکے پر یہ الزام لگتا تھا کہ سونم وانگ چوک تو بھوکے پیاسے پڑے ہیں مگر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوب کھاپی رہے ہیں مگر آزمائش کی اس نازک گھڑی میں انہوں نے خود غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا اعلان کرکے تحریک میں نئی روح پھونک دی ۔ وہ بولے جو طلباء قائدین پہلے ہی سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے تھے اور اب وہ ان کے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں ۔ دپکے نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت کی ساری کوششوں کے باوجود 20 جولائی کو سی جے پی کا پارلیمنٹ مارچ برقرار ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مارچ میں کثیر تعداد میں شرکت کریں۔ اس اپیل کا پہلا اثر تو یہ ہوا کہ لکھنو سمیت ملک بھر کے کئی شہروں میں وانگ چُک کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے ہوئے اور پھر جوق در جوق نوجوان جنتر منتر کی جانب چل پڑے ۔ یہ لوگ اپنے گھر والوں سے لڑ کر یا چھپ کر وہاں پہنچ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کیمرے پر کہا میں آر ایس ایس کا رکن ہوں ۔ میرے والد بی جے پی کے رہنما ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ تیس طلبا کی خودکشی کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہے تو انہوں نے مجھے سمجھایا کہ تم پڑھائی کرو میں تمہیں باہر بھیج دوں گا ۔ اس پر میں نے کہا سمجھ لیں مرنے والوں کی تعداد اکتیس ہوگئی ہے اور ان میں ایک آپ کا بیٹا بھی ہے۔ اس کے بعد میں جنتر منتر چلا آیا ۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والی نیہا کی بھی یہی کہانی ہے۔ ابھیجیت دپکے نے کہہ دیا کہ اب اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ مودی جی بھی اندرا گاندھی کی طرح بات چیت کرکے اس سونامی کو روک سکتے تھے لیکن ان کی رعونت نے اس آگ میں تیل کا کام کیا اور اب یہ شعلے ان کی سرکار کو بھسم کرکے بجھیں گے ۔ یہ سنگھ پریوار کے اختتام کی ابتداء ہے۔