کچھ چیزیں دوبارہ کبھی بھی پھر سے ٹھیک نہیں ہو سکتیں، جس طرح پھولوں کو شاخوں سے جدا کرتے ہو، درختوں کو کاٹ دیتے ہو، پھول اور درخت کٹ جانے کے بعد تم اُن میں چاہے جتنا بھی پانی ڈالو وہ پھر سے ہرے بھرے اور خوبصورت نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح دل کے بھی معاملے ہوتے ہیں، کسی کے خلوص کے بدلے میں اگر کسی کوبے وفائی ،بے رخی ملے تو پھر دل دوبارہ کبھی اعتبار نہیں کرسکتا۔ اصل میں انسان سہتے سہتے بے وفائیوں کے زخموں کو، تھک جاتا ہے وہ پھر کبھی کسی پر اعتبارکر کے زخم کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ستارے ٹوٹ کر گر جائیں تو وہ پھر کبھی دوبارہ فلک پر جگمگا نہیںسکتے۔ دل کی جھیل میں اتنے سارے درد کے کنول کھل جاتے ہیں کہ جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ انسان اپنی زندگی میں جب بہت کچھ سہتا ہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب برداشت اور ہمت جواب دے جاتی ہے ۔
لوگ کہتے ہیں کہ بھول جاؤ سب کچھ ۔ مگرکچھ نہیں بھول سکتا انسان، بھول جاؤ کہہ دینا بہت آسان ہوتا ہے۔صرف اپنے آپ کو سمیٹ کے رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔مرجھائے ہوئے گلاب پھر سے تر و تازہ ہو سکتے ہیں،کبھی نہیں ۔ زندگی کا سفر بھی ایسا ہی ہے۔ جن لو گوں نے ہمارے دل کوٹھیس پہنچائی ہوئی ہوتی ہے ہم ان سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں کیونکہ دلوں کے زخم تو ناسور بن جاتے ہیںنا ۔
جو تعلقات کسی کی دی گئی اذیت و تکلیف کے نتیجے میں ٹوٹ جاتے ہیں وہ لاکھ کوشش کے بعد بھی پہلے جیسے نہیں ہو سکتے۔ جس طرح کوئی شیشہ جب ٹوٹ جاتا ہے توہم اُسے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر وہ جڑ بھی جائے تو بھی نشان تو رہ ہی جاتا ہے ۔شیشے میں وہ پہلے جیسی نفاست نہیںآسکتی۔ لوگوں کے کئے گئے افعال ہماری زندگی میں کچھ ایسے بھونچال برپا کردیتے ہیں کہ ہماری ہستی بستی زندگی تباہ وبرباد ہو جاتی ہے۔ کئی بار ہم ذہنی طور پر اپنے آپ کو مفلوج محسوس کرتے ہیں۔ لوگوں کے دیئے زخموں کو بھول جانا نا ممکن ہوتا ہے۔ ہماری زندگی میں بہت ساری تبدیلیاں اور تباہ کاریاں لوگوں کی کی گئی سازشوں کی وجہ سے آتی ہیں۔ جو تعلق ٹوٹ جاتا ہے وہ پھردوبارہ پہلے کی طرح کبھی نہیں ہو سکتا۔ زبان کے زخم تو رو ح کو زخمی کر تے ہیں۔ جو لفظ ادا ہو جاتے ہیں انہیں ہم کبھی نہیں بھول سکتے وہ بازگشت بن جاتے ہیں۔ جب ہمارے دل کو ٹھیس لگتی ہے
تو پھر ہم بہت سنبھل سنبھل کر قدم رکھنے لگتے ہیں کہ کہیں پھر کوئی تازہ زخم نہ لگ جائے۔ ہم لوگوں سے دوریاں بنا لیتے ہیں، زیادہ بات کرنا نہیں چاہتے، کسی سے اپنائیت بھی محسوس ہو تو بھی فاصلہ رکھ کر ملتے ہیں کیونکہ جو ستارے ٹوٹ جاتے ہیں وہ دوبارہ کبھی بھی آسمان پر جگمگا نہیں سکتے ۔اسی طرح ہمارا دل بھی ہے جو ایک بار ٹوٹ جانے کے بعد دوبارہ پہلے کی طرح کبھی نہیں ہو سکتا۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ باتیں بھلا دی جائیں گی، زخم مندمل ہو جائیں گے، سب کچھ پہلے کی طرح ہو جائے گا،لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔