جامعہ نظامیہ کی اراضی کا ای۔ آکشن فوری روکا جائے
وقف املاک کے تحفظ کو یقینی بنائے ریاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ حکومت سے مطالبہ
(حیدرآباد ۔ 4/ اگست 2026 ) ریاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ نے ریاستی حکومت کی جانب سے جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کو ای – آکشن کے ذریعہ فروخت کرنے کے اعلان پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر اس عمل کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیت نے متنبہ کیا کہ اگر وقف املاک کے تحفظ میں غفلت برتی گئی تو اس سے نہ صرف مذہبی اداروں کے حقوق متاثر ہوں گے بلکہ عوام میں بھی شدید بے چینی پیدا ہوگی ۔ جمعیۃ علماء تلنگانہ کے صدر مولانا شاہ سید احسان الدین رشادی قاسمی اور جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ حافظ پیر خلیق احمد صابر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ میڈیارپورٹس کے مطابق جامعہ نظامیہ کا واضح موقف ہے کہ مذکورہ اراضی وقف ریکارڈ میں درج ہے اور اس معاملہ سے متعلق عدالتی کارروائی بھی جاری ہے۔ اس کے باوجود ای آکشن کا اعلان انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، جن کی حفاظت شرعی ، قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ ایسی جائیدادوں کو فروخت کرنا یا ان کی وقعی حیثیت کو نہ ایا ان کی وقعی حیثیت کو نظر انداز کرنا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے، اگر کسی وقف جائیداد کے بارے میں تنازع عدالت میں زیر سماعت ہو تو حکومت کو چاہیے کہ عدالتی فیصلہ آنے تک کسی بھی قسم کی نیلامی، فروخت یا تصرف سے مکمل اجتناب کرے۔ مولانا رشادی قاسمی نے کہا کہ جامعہ نظامیہ برصغیر کا ایک عظیم دینی تعلیمی اور علمی ادارہ ہے، جس نے ایک صدی سے زائد عرصہ تک ملت اسلامیہ کی دینی تعلیمی اور سماجی خدمات انجام دی ہیں، اس ادارہ کی وقف املاک کا تحفظ حکومت، وقف بورڈ اور متعلقہ محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ جامعہ نظامیہ سے منسوب متنازعہ وقف اراضی کی مجوزہ ای – آکشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے ، وقف بورڈ محکمہ مال ، جامعہ نظامیہ اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ شفاف تحقیقات کرائی جائیں، اور عدالت کے حتمی فیصلے تک وقف جائیداد کے بارے میں کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، صدر جمعیۃ نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وقف املاک کے تحفظ میں کسی بھی قسم کی لاپروائی یا یک طرفہ اقدام سے ملت اسلامیہ کے جذبات مجروح ہوں گے اور قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انصاف ، قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق اس حساس معاملہ میں فوری ، شفاف اور منصفانہ کارروائی کرے تا کہ وقف املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، آخر میں مولانا شاہ سید احسان الدین رشادی قاسمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء تلنگانہ وقف املاک کے تحفظ کو اپنی دینی و ملی ذمہ داری سمجھتی ہے اور ہر اس قانونی و جمہوری کوشش کی حمایت کرے گی جو وقف
جائیدادوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پاسداری کے لیے ہے۔