کہیں آپ کی امداد سے بھکاری جرائم کا شکار تو نہیں ہورہا ہے۔ غیاث احمد رشادی

کہیں آپ کی امداد سے بھکاری جرائم کا شکار تو نہیں ہورہا ہے۔ غیاث احمد رشادی

کہیں آپ کی امداد سے بھکاری جرائم کا شکار تو نہیں ہورہا ہے۔ غیاث احمد رشادی

حیدرآباد،16جون(ایجنسیز)

 

قرآن مجید میں سائل (مانگنے والے، سوال کرنے والے) کے بارے میں متعدد آیات آئی ہیں سورۃ الضحیٰ میں فرمایا گیا اور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں سورہ الذاریات میں کہا گیا اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور محروم کے لیے حق ہے سورہ المعارج میں کہا گیا "اور وہ لوگ جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے، سوال کرنے والے اور محروم کے لئے اس سے واضح ہوا کہ سائل کے ساتھ حسن سلوک کیا جانا چاہیے لیکن سائل سے وہ سائل مراد ہے جو واقعی نان شبینہ کا محتاج ہو جو فقر و فاقہ کا شکار ہو سائل سے وہ مراد نہیں ہے جس نے سوال کے ذریعہ مال جمع کرنے کو اپنا پیشہ بنالیا ہو اور جس نے بھیک کے ذریعہ اپنی ناجائز خواہشات کو اپنا مقصد بنا لیا ہو آج کل سگنلوں کے پاس ، بینکوں کے پاس مساجد کے دروازوں پر گداگروں کی لائن بنی ہوئی ہوتی ہیں جن کے ظاہر سے ان کا مستحق ہونا محسوس تو ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر حقیقی مستحق نہیں ہوتے ، یہ تو بس فقیری ،محتاجی اور مسکینی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں ان پیشہ ور گداگروں میں دس فیصد بھی مستحق نہیں ہوتے بلکہ ان میں نوے فیصد جرائم پیشہ اور شرابی بھی ہوتے ہیں مسلمانوں کو چاہیے کہ ان پیشہ ور گداگروں کو بھیک نہ دیں ایسے لوگوں کو بھیک دینا انہیں مزید مجرم بنانا ہے اور ان مستحق لوگوں کا حق مارنا ہے جو واقعی محتاج ہیں ان خیالات کا اظہار مولانا غیاث احمد رشادی نے اپنے صحافتی بیان میں کیا اور کہا کہ ان گداگروں میں ایسے بھی ہیں جو معصوم بچوں کو بیہوشی کا انجکشن لگوا کر ان کو ڈھال بنا کر بھیک مانگتے ہیں گداگروں کا بھی اپنا ایک مافیا ہوتا ہے جو کمیشن کی بنیاد پر چلتا ہے جھوٹ موٹ کی پٹیاں لگوا کر اور ہاتھوں اور پیروں پر پلاسٹر چڑھوا کر ، معصوم بچوں کو اپاہج بناکر یہ ظالم بھیک مانگتے ہیں ایسے بھکاریوں کی کثرت ہوچکی ہے راجستھان اور کشمیر سے بھی ایسے گداگر ہمارے اس شہر میں پھیلے ہوئے ہیں جن کے مانگنے کا اسٹائل بالکل نیا ہوتا ہے جن کے مانگنے کے انداز میں اس قدر لچک ہوتی ہے کہ دس روپیے دینے والاسو روپیے سے کم دینے کی ہمت نہ کرسکے ، مسجدوں کے باب الداخلہ پر بھیک مانگنے والی برقع پوش عورتوں میں ایسی عورتیں بھی پکڑی گئیں جو سرے سے مسلمان ہی نہیں ہیں وہ برقع کو ڈھال بناکر مجبوری دکھا کر بھیک مانگتی ہیں آج کل بعض مسلم عورتیں اپنے بچوں کو اسکولی یونیفارم کے ساتھ مسجدوں کے باہر ٹہر کر بھیک مانگ رہی ہیں اور اسکولی فیس وصول کررہی ہیں اور اپنی اولاد کو بھی بے غیرت بنا رہی ہیں کئی جگہوں پر میں نے ان عورتوں کو صفا بیت المال کے دفتر پر ملنے کے لیے بھی کہا مگر ان کو بھیک مانگ کر لینے ہی میں زیادہ فائدہ محسوس ہوتا ہے بعض عورتیں بیماری کا بہانہ بنا کر مانگ رہی ہیں بعض عورتیں اپنی بچیوں کی شادی کے فرضی دعوت نامے بنا کر بھیک مانگ رہی ہیں جمعہ کے موقع پر مساجد کے سامنے گداگروں کا اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ مصلیوں کو مسجد سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے اور نادان مسلمان اپنے حقیقی مستحق رشتہ داروں ،بہنوں، بھائیوں بھانجوں ،بھتیجوں ،خالاؤں اور پھوپھیوں کے فقر و فاقہ سے بے خبر ان مجرموں پر اپنی دولت خرچ کررہے ہوتے ہیں جو بھیک مانگ کر دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں بعض لوگ ان گداگروں کو بھیک دیتے ہیں جو گداگر بھیک دینے والے سے زیادہ مالدار ہوتے ہیں ہم مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں اور مسجد کے دروازے پر جھوٹے گداگروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان میں جو شرابی ہیں ان کو مزید شرابی بنارہے ہیں ۔مولانا رشادی نے مساجد کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ مسجد کے باہر مانگنے والوں پر نگاہ رکھیں اور اپنے مصلیوں کو ان گداگروں کی مکاریوں اور چالبازیوں سے باخبر کریں اور مساجد کے ائمہ بوقت جمعہ یہ اعلان کریں کہ جو طبقہ مسجد کے دروازوں پر کھڑا بھیک مانگ رہا ہے یہ پیشہ ور بھکاری ہیں حقیقی مستحق نہیں ہیں یاد رکھیں کہ ثواب کی نیت سے ان پر خرچ کرنا گناہ کا باعث بن سکتا ہے اور اپ کی محنت سے کمائی ہوئی دولت سے وہ بھکاری شراب کا عادی بن سکتا ہے ۔ مولانا رشادی نے کہا کہ اگر مساجد کی انتظامیہ اس جانب توجہ دے تو خرچ کرنے والوں کامال ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے اور اپنے رشتہ داروں میں جو حقیقی مستحق ہیں ان کی معیشت مضبوط ہوسکتی ہے ۔اہلِ ایمان کے مال میں سائل کا حق بتایا گیا ہے۔انفاق اور صدقہ کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کی ترغیب دی گئی ہے ، ایسے مستحقین کا بھی خیال رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے جو سوال نہیں کرتے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے