لاٹھی سے معافی تک: ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا !
ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
——
ایک آفاقی سچائی ہے جس کے ہم بزمِ سیاست میں قدم زمانے کے بعد سے قائل ہو چکے ہیں؛ اقتدار اور اعصاب کا رشتہ بڑا ناپائیدار ہوتا ہے، خصوصاً اس وقت جب مسندِ حکومت پر بیٹھ کر 56 انچ کے زعم میں مبتلا حاکم کا سامنا اکیسویں صدی کے نودمیدہ لڑکوں، یعنی ‘جین زی’ (Gen Z) نامی اس انوکھی اور بلا کی مخلوق سے ہو۔
حکومت کیسی ہی جاہ و جلال، شاہی ٹھاٹھ، ڈنڈے کے زور اور الیکٹرانک میڈیا کے قصیدہ گو لشکر کے ساتھ متمکن کیوں نہ ہو، جب 16 یا 17 سالہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون کی صورت ایک غیر مرئی نشتر آ جاتا ہے، تو اچھے اچھے جلیل القدر مسند نشینوں کے طوطے اور حواس یکلخت پرواز کر جاتے ہیں۔
اسی بے حواسی کا ایک شاندار نظارہ گزشتہ دنوں اس وقت دیکھنے کو ملا جب ہم نے حاکمِ وقت نریندر مودی جی کو ایوانِ پارلیمان کی دہلیز اور انسٹاگرام کی اسکرین پر آدھی رات کو آنکھوں میں عبرت و التجا کے ڈورے لیے پایا۔ ان کے لہجے میں نیکی کا ایسا گڑ گھلا ہوا تھا جیسے کوئی پرانا گنہگار اچانک کسی درگاہ کا گدی نشین بننے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس منظر کو دیکھ کر بے ساختہ مرزا غالب کا وہ آفاقی شعر یاد آ گیا جو شاید ایسے ہی زودِ پشیماں حکمرانوں کی سیاسی قلابازیوں کے لیے وضع کیا گیا تھا:
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا!
عام طور پر سیاست میں جب مخالفین کی طرف سے گالیاں، طعنے اور الزامات تیر کی طرح چلتے ہیں، تو ایک تجربہ کار اور پختہ کار سیاست دان اسے ‘عوامی غصہ’ یا ‘جمہوریت کا حسن’ کہہ کر اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوا مسکرا دیتا ہے۔ لیکن جب وہی تیر 16 سالہ بچوں کے ڈیجیٹل ہنر اور 15 سیکنڈ کی ‘ریلز’ (Reels) کے ذریعے وائرل ہو کر مسندِ اقتدار کے نفیس قالین کو ادھیڑنے لگیں، تو اچانک حاکمِ اعلیٰ کو ‘بچپن کی معصومیت’ اور ‘بزرگانہ شفقت’ کا شدید دورہ پڑ جاتا ہے۔
چنانچہ ایوان سے ارشاد ہوا کہ "بچپن میں تو غلطیاں ہوتی ہیں، دانت بھی ہمارے ہیں اور زبان بھی ہماری ہے!” سبحان اللہ، کیا حکمت اور کیا زبردست فلسفہ ہے! ہم تو اب تک یہی سمجھتے رہے کہ اگر انسان کے دانت غلطی سے اپنی ہی زبان کو کاٹ لیں تو وہ درد سے بلبلا اٹھتا ہے اور چپ چاپ برف چبا کر خاموش ہو جاتا ہے، لیکن یہاں تو کیفیت یہ ہے کہ دانتوں نے اپنی ہی زبان کے خلاف باقاعدہ دہلی پولیس کے تھانوں میں ایف آئی آر درج کرا دیں۔ پھر جب پورے ملک کے ڈیجیٹل چوک پر اس پرتشدد لاٹھی چارج اور پیلیٹ گنز کی تھو تھو ہونے لگی، تو اچانک فرما دیا گیا کہ "ہم نے تو بچوں کو اپنے وسیع ظرف سے معاف کر دیا!”
حکمرانوں کا یہ معافی نامہ اپنے اندر ایک عجیب و غریب اور نادرِ روزگار سیاسی المیہ لیے ہوئے ہے۔ مغرب کے دانشمند کہتے ہیں کہ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو معافی مانگ لیجیے، لیکن ہمارے ہاں کا سیاسی نظام اتنا جدید اور باصلاحیت ہو چکا ہے کہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ خود مظلوم بن کر اس شخص کو معاف کر دیتے ہیں جس کے سر پر انہوں نے خود پولیس کی لاٹھیاں اور آنسو گیس کے گولے برسائے ہوتے ہیں۔
اس حیرت انگیز سیاسی تھیٹر کا طریقہ کار بڑا سادہ اور آزمودہ ہے۔ پہلے تو اپنے ‘آئی ٹی سیل’ کے ان عمر رسیدہ اور وظیفہ خوار ٹرولز کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے جو 24 گھنٹے کی بورڈ پر بیٹھ کر وطن پرستی کے نام پر گالی گلوچ کی فیکٹریاں چلاتے ہیں اور جن کی حب الوطنی کا واحد ثبوت اپنے سے مختلف رائے رکھنے والے ہر شخص کی ذات، خاندان، مذہب اور عزت کی دھجیاں اڑانا ہوتا ہے۔
جب یہی بوڑھے ٹرولز ایک 15 سالہ نو عمر لڑکی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں، اس کا شجرہ نسب اور ذاتی معلومات عام کر کے اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں، تو ریاست کی تمام تر طاقت اس معصوم کی گڑگڑاتی ہوئی معافی کی ویڈیو ریکارڈ کرنے میں صرف ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ خوفزدہ بچی کیمرے کے سامنے رو رو کر معافی مانگ لیتی ہے، تب اچانک مودی جی اپنے چہرے پر بزرگانہ معصومیت اور کسی ہندی فلم کے مہاتما کا روپ دھار کر فرماتے ہیں کہ "خیر، بچوں سے تو غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں، ہم نے تو انہیں معاف کر دیا، اب سماج بھی انہیں گلے لگائے!”
سیاسی طنز کا اصل حسن ہی یہ ہے کہ جب ایک ہی چہرے پر عیاری اور مظلومیت کا روپ یکے بعد دیگرے ظاہر ہونے لگے۔ آپ خود ملاحظہ فرمائیے کہ ایک طرف بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور گودی میڈیا کے ان معمر مجاہدین کو اچانک یہ شدید تشویش لاحق ہو جاتی ہے کہ ملک کی بیٹیاں آخر ایسی سخت اور نازیبا زبان کیسے بول سکتی ہیں؛ حالانکہ خود ان کی اپنی پارلیمانی پارٹی کے نام نہاد رہنما، جیسے رمیش بیدھوڑی، نشیکانت دوبے اور دیگر معزز اراکین، جب ایوان میں مائیک سنبھالتے ہیں تو زبان و بیان کا جو جنازہ نکالتے ہیں اس سے ابلیس بھی پناہ مانگتا ہے۔ 50 کروڑ کی گرل فرینڈ اور جرسی گائے کے طعنوں سے لے کر ایوانِ پارلیمان میں اقلیتی اراکین کو غلیظ القابات سے نوازنے تک، اور یوگی جی کے کیمرہ مین کے لیے ادا کیے گئے جملوں تک، زبان کی جو صفائی انہوں نے پچھلے 10 سال میں دکھائی ہے اس کی نظیر دنیا کی کسی بدتہذیب ترین سلطنت میں بھی نہیں ملتی۔ لیکن جیسے ہی ‘جین زی’ کے کسی منچلے نوجوان نے ان کی انہی حرکتوں کا جواب انہی کے لہجے میں یا کسی مزاحیہ میم (Meme) کی صورت میں دیا، تو اچانک پورے ملک کی اخلاقیات کا نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے، سدھیر چودھری جیسے صحافیوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں، اور پورے ایوان کو ایک اجتماعی ‘تہذیبی صدمہ’ (Cultural Shock) لاحق ہو جاتا ہے۔
دراصل یہ نئی نسل یعنی ‘جین زی’ بھی سچ مچ بلا کی بلا ہے۔ پرانے زمانے کا مکر و فریب، زرد صحافت کا جادو اور روایتی جذباتی بلیک میلنگ ان پر بالکل اثر نہیں کرتی۔ ہمارے دور میں اگر کوئی سیاسی رہنما آنکھوں میں بناوٹی آنسو لا کر اور اپنے مظلوم ہونے کا کارڈ کھیل کر ریڈیو یا ٹی وی پر تقریر کرتا تھا، تو سادھو صفت عوام جذباتی ہو کر اپنے ووٹ کے ساتھ اپنے جذبات بھی نچھاور کر دیا کرتے تھے۔ لیکن اس ڈیجیٹل نسل کا معمہ یہ ہے کہ وہ روتے ہوئے حکمران کی جذباتی ویڈیو پر طنز کے ایسے ایسے شگفتہ، تیکھے اور سائنسی قسم کے تبصرے بناتے ہیں کہ خود حاکم کو اپنے آنسوؤں کی صداقت پر شک ہونے لگتا ہے۔
اس حقیقت کا عملی ثبوت اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی چھتیس گڑھ کے سوشل میڈیا سیل نے ایک عام طالبہ کی ویڈیو پر ‘بابر کی میراث پر تھرکنے والی’ کا لیبل لگانے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے اپنے زعم میں سوچا ہوگا کہ لڑکی ڈر کر کسی کونے میں دبک جائے گی یا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے گی، مگر آگے سے اس طالبہ نے بی جے پی آئی ٹی سیل کے کمزور دماغوں کا ایسا تکنیکی، کرکرا اور مزاحیہ پوسٹ مارٹم کیا کہ مودی جی اور ان کے حواریوں کو راتوں رات اپنے تمام دفاعی ہتھیار ڈالنے پڑے۔
اس کے بعد حکمرانوں کی اس زودِ پشیمانی کا سب سے دردناک اور مزاحیہ پہلو وہ ‘وکٹم کارڈ’ بن کر سامنے آیا جو وہ وقتاً فوقتاً اپنی سیاسی جیب سے نکالتے رہتے ہیں۔ جب اپنے تمام روایتی حربے، گودی میڈیا کے خوشامدی صحافی، اور دہلی پولیس کا ڈنڈا بھی اس نئی نسل کی روحِ بغاوت کو نہ کچل سکا، تو پھر پولیس والوں کے اہل خانہ کو لائیو کیمروں کے سامنے لا کر ‘ہم پر کتنا ظلم ہوا’ کی ڈرامائی پریس کانفرنسیں کرائی گئیں۔
یعنی بندوق جس کے ہاتھ میں ہے، پیلیٹ گن جو چلا رہا ہے، اور لاٹھی جو 24 گھنٹے بے گناہ مظاہرین پر برسا رہا ہے، وہ رو رو کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ "صاحب! ان شریر بچوں کے پتھروں سے ہماری وردی کی استری خراب ہو گئی ہے!” انسان یہ منظر دیکھ کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آیا یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نظامِ حکومت چل رہا ہے یا پولیس ڈراما کمپنی کا کوئی تیسرے درجے کا جذباتی تھیٹر ہو رہا ہے، جہاں ہر ظالم پریس کانفرنس کر کے خود کو سب سے بڑا مظلوم ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے؟
ہم نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ جب کوئی شخص اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کو بخشنے اور معاف کرنے کا اعلان کرنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ اس کا اخلاقی اقتدار اب مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ حاکمِ وقت نریندر مودی جی کا یہ ‘جین زی پریم’ دراصل کوئی دل کی تبدیلی یا اچانک نازل ہونے والی بزرگانہ محبت کا اظہار نہیں ہے، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا باقاعدہ اعتراف ہے کہ پرانے سیاسی ڈرامے، ہندو مسلم کے فرقہ وارانہ ڈراوے اور کی بورڈ کے تلافی کنندگان اب اس نسل پر مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں جو سچائی کو ایک سیکنڈ کے کلک میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب اقتدار کا ڈنڈا، سرکاری چابک اور گودی میڈیا کا پروپیگنڈا کام کرنا بند کر دے، تو ‘پیار، شفقت اور معافی’ کا معصوم خول اوڑھ لینا ہی ہر عیار سیاست دان کی آخری پناہ گاہ ہوتا ہے۔
لیکن افسوس کہ اس زودِ پشیماں حکمران کو شاید ابھی تک یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ نئی نسل نہ تو ان کے اس فرضی رحم و کرم سے متاثر ہونے والی ہے اور نہ ہی ان کے اس بزرگانہ معافی والے ڈرامے کو سچ ماننے والی ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی ہاتھ ہیں جو صبح کے وقت نیٹ (NEET) پیپر لیک اور روزگار کا سوال پوچھنے والے طالب علموں پر لاٹھیاں چلاتے ہیں اور شام کے وقت میڈیا کے سامنے آ کر معافی کا پروانہ تقسیم کرتے ہیں۔
اب تو صورتحال یہ ہے کہ مودی جی جتنی بار کیمرے کے سامنے آ کر "میں نے انہیں معاف کر دیا” کا گیت گاتے ہیں، بھارت کی یہ منچلی اور باصلاحیت نسل اتنی ہی بار غالب کا وہی مصراع گنگنا کر ایک تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ اسکرول کر دیتی ہے: