تلنگانہ میں ایس آئی آر . ادعاجات و اعتراضات کا مرحلہ، تصدیق، جانچ اور فیصلہ سازی کا عمل

تلنگانہ میں ایس آئی آر . ادعاجات و اعتراضات کا مرحلہ، تصدیق، جانچ اور فیصلہ سازی کا عمل

تلنگانہ میں ایس آئی آر
ادعاجات و اعتراضات کا مرحلہ، تصدیق، جانچ اور فیصلہ سازی کا عمل

مضمون نگار: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

تلنگانہ میں فہرست ہائے رائے دہندگان کی خصوصی جامع نظرِ ثانی کا عمل جاری ہے۔ اس کا بنیادی مقصد فہرست ہائے رائے دہندگان کو مزید درست، جامع، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے، تاکہ ہر اہل شہری کو اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کا مؤثر موقع حاصل ہو اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد مزید مستحکم ہو۔اس عمل کے دوسرے مرحلے کو دعووں اور اعتراضات کا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ جو کہ نظر ثانی شدہ تورایخ کے اعتبار سے ۱۷/اگست ۲۰۲۶ء سے شروع ہوگا۔اس مرحلے میں مسودۂ انتخابی فہرست کی جانچ، رائے دہندوں کی اہلیت کی تصدیق، موصول ہونے والے دعووں اور اعتراضات کی سماعت اور ضروری فیصلوں کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک جامع، منظم اور مرحلہ وار طریقۂ کار وضع کیا ہے۔زیرِ نظر مضمون میں اسی طریقۂ کار، متعلقہ انتخابی حکام کی ذمہ داریوں، جانچ و تصدیق کے مراحل اور رائے دہندگان کو فراہم کیے گئے قانونی مواقع کی تفصیلی وضاحت کی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن نے تمام اہل رائے دہندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنا اندراج فارم لازماً جمع کرائیں۔ کمیشن کے مطابق اندراج فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں۱۰/ اگست ۲۰۲۶ء تک توسیع کی گئی ہے، جبکہ ۱۷/اگست ۲۰۲۶ءکو مسودۂ انتخابی فہرست شائع کی جائے گی۔ جن شہریوں نے ابھی تک اپنا فارم جمع نہیں کرایا، انہیں چاہیے کہ وہ تین اگست سے قبل اپنا فارم متعلقہ بوتھ سطحی افسر کے پاس یا آن لائن نظام کے ذریعے جمع کرائیں تاکہ ان کا نام ابتدائی انتخابی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔انتخابی رجسٹریشن افسر اس امر کا پابند ہوگا کہ مسودۂ انتخابی فہرست کی تیاری کے وقت ان تمام رائے دہندوں کے نام شامل کرے جن کے اندراج فارم مقررہ مدت کے اندر موصول ہو چکے ہوں۔ تاہم ان درخواستوں کی حتمی منظوری یا عدم منظوری کا فیصلہ مسودۂ انتخابی فہرست کی اشاعت کے بعد دعوؤں اور اعتراضات کی مقررہ مدت کے دوران قانون کے مطابق کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی رجسٹریشن افسر(ای آر او) اور معاون انتخابی رجسٹریشن افسر(اے ای آر او ) کو ہدایت دی ہے کہ وہ اندراج فارم موصول ہوتے ہی ان کی ابتدائی جانچ کا عمل شروع کر دیں تاکہ اگر کسی درخواست میں دستاویزی کمی، معلوماتی ابہام یا رائے دہندہ کی اہلیت سے متعلق کوئی شبہ موجود ہو تو اس کی بروقت نشاندہی اور ضروری کارروائی کی جا سکے۔ اس انتظام کا مقصد یہ ہے کہ دعوؤں اور اعتراضات کے مرحلے میں غیر ضروری تاخیر سے بچتے ہوئے ہر درخواست پر بروقت اور منصفانہ فیصلہ ممکن بنایا جا سکے۔مسودۂ انتخابی فہرست میں صرف انہی موجودہ رائے دہندوں کے نام شامل کیے جائیں گے جنہوں نے گھر گھر اندراج مہم کے دوران اپنے مکمل طور پر پُر شدہ اندراج فارم متعلقہ بوتھ سطحی افسر کے حوالے کیے ہوں، یا جن کے آن لائن جمع کرائے گئے فارموں کی مقررہ طریقۂ کار کے مطابق تصدیق مکمل ہو چکی ہو۔
جن رائے دہندوں کے اندراج فارم مقررہ مدت تک موصول نہیں ہوں گے، ان کے نام ابتدائی مسودۂ انتخابی فہرست میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم ایسے افراد اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہیں ہوں گے۔ اگر کوئی رائے دہندہ مقررہ مدت میں فارم جمع نہ کرا سکے تو وہ دعوؤں اور اعتراضات کی مدت کے دوران فارم نمبر چھ کے ساتھ مقررہ اعلانیہ فارم جمع کرا کے انتخابی فہرست میں اپنا نام شامل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے، جس پر قانون کے مطابق غور کیا جائے گا۔جن رائے دہندوں کے اندراج فارم واپس موصول نہیں ہوں گے، ان کے بارے میں بوتھ سطحی افسر قریبی رائے دہندوں سے معلومات حاصل کرکے ممکنہ وجہ کی نشاندہی کر سکتا ہے، مثلاً غیر حاضر، منتقل ہو جانا، وفات یا دوہرا اندراج، اور اس وجہ کو ریکارڈ میں درج کرے گا۔ایسے رائے دہندوں کی فہرست(جس کو اے ایس ڈی لسٹ کہا جاتا ہے)، پولنگ بوتھ کے اعتبار سے متعلقہ پنچایت بھون، شہری بلدیاتی ادارے کے دفتر، بلاک ڈیولپمنٹ افسر کے دفتر، پنچایت افسران کے دفاتر اور شہری بلدیاتی اداروں کے دفاتر کے نوٹس بورڈ پر بھی آویزاں کی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عام شہری ان فہرستوں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں اور ان کے نام شامل نہ کیے جانے کی ممکنہ وجوہات سے بھی آگاہ ہو سکیں۔چیف الیکٹورل آفیسر ان تمام فہرستوں کو یکجا کرکے اپنی ویب سائٹ پر قابلِ رسائی فارمیٹ میں دستیاب کرائے گا۔ اسی طرح متعلقہ ضلع انتخابی افسر کی ویب سائٹ پر بھی اس کے دائرۂ اختیار سے متعلق فہرستیں فراہم کی جائیں گی
الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عدلیہ کے ارکان، عوامی نمائندگان، سرکاری طور پر اعلان شدہ عہدوں کے حامل افراد، نیز فنون، ثقافت، صحافت، کھیل، عوامی خدمات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی وہ ممتاز شخصیات، جن کے نام پہلے ہی انتخابی ریکارڈ میں نشان زد ہیں، انہیں بھی مسودۂ انتخابی فہرست میں شامل کیا جائے گا تاکہ دعوؤں اور اعتراضات کے مرحلے کے دوران ان سے متعلق مطلوبہ دستاویزات حاصل کر کے قانونی تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔اسی طرح مسودۂ انتخابی فہرست کی اشاعت کے لیے فارم نمبر پانچ کے ذریعے عوامی اطلاع جاری کرتے وقت انتخابی رجسٹریشن افسر آئندہ اہلیتی تاریخ یکم اکتوبر دو ہزار چھبیس کے لیے موصول ہونے والی پیشگی درخواستیں وصول کرنے کا انتظام بھی کرے گا، تاکہ آئندہ نظرِ ثانی کے مراحل بروقت اور منظم انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
ادعاجات اور اعتراضات کا مرحلہ:مسودۂ انتخابی فہرست کی اشاعت کے بعد انتخابی عمل کا سب سے اہم مرحلہ، یعنی دعوؤں اور اعتراضات کی جانچ، شروع ہوگا۔ اس مرحلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حتمی انتخابی فہرست میں صرف انہی اہل رائے دہندوں کے نام شامل ہوں جو آئین اور قانون میں مقررہ تمام شرائط پوری کرتے ہوں۔انتخابی رجسٹریشن افسر اور معاون انتخابی رجسٹریشن افسر ہر مجوزہ رائے دہندہ کی اہلیت کا جائزہ آئینِ ہند کے آرٹیکل ۳۲۶ اور عوامی نمائندگی ایکٹ، ۱۹۵۰ کی دفعات ۱۶ اور ۱۹ میں درج شرائط کے مطابق لیں گے۔ اس جانچ میں جمع کرائی گئی دستاویزات، مقامی سطح سے حاصل ہونے والی معلومات، میدانی تصدیق اور دیگر متعلقہ شواہد کو بنیاد بنایا جائے گا، اور اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک متعلقہ افسر درخواست گزار کی اہلیت کے بارے میں مکمل طور پر مطمئن نہ ہو جائے۔
اگر کسی درخواست گزار کی اہلیت کے بارے میں کسی بھی مرحلے پر شبہ پیدا ہو، خواہ اس کی وجہ مطلوبہ دستاویزات کی عدم دستیابی ہو یا کوئی اور قانونی یا حقائق پر مبنی سبب، تو انتخابی رجسٹریشن افسر ازخود تحقیقات کا آغاز کرے گا۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ شخص کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا جائے گا تاکہ اسے اپنا مؤقف اور وضاحت پیش کرنے کا پورا موقع مل سکے۔ نجملہ اور وجوہ کے نوٹس ان صورتوں میں بھی جاری کیا جاری کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے انتخابی فہرست میں نام شامل کرنے، معلومات میں اصلاح یا تبدیلی کی درخواست دی ہواور کسی دوسرے شخص نے اس کے اندراج پر اعتراض کیا ہو، بوتھ لیول آفیسر نے فیلڈ جانچ کے دوران مزید تصدیق کی ضرورت ظاہر کی ہو، کمپیوٹرائزڈ جانچ میں کسی غیر معمولی فرق یا تضاد کی نشاندہی ہوئی ہو، یا سابقہ اور موجودہ انتخابی ریکارڈ میں اختلاف سامنے آیا ہو، تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر متعلقہ رائے دہندہ کو سماعت کا نوٹس جاری کر سکتا ہے۔سماعت کا نوٹس صرف اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو کسی معاملے کی مزید تصدیق درکار ہے۔ یہ نہ کسی غلطی کا حتمی ثبوت ہوتا ہے، نہ نااہلی کا اعلان اور نہ ہی انتخابی فہرست سے نام خارج کرنے کا فیصلہ۔ حتمی فیصلہ رائے دہندہ کی وضاحت، پیش کردہ دستاویزات، دستیاب شواہد اور متعلقہ ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس نوٹس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ رائے دہندہ کو اپنی وضاحت پیش کرنے اور ضروری دستاویزات فراہم کرنے کا مناسب اور منصفانہ موقع مل سکے۔تحقیقات کی تکمیل، دستاویزات کے جائزے اور میدانی رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ شخص کا نام انتخابی فہرست میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ ہر ایسے فیصلے کی وجوہات تحریری طور پر قلم بند کرنا انتخابی رجسٹریشن افسر کے لیے لازم ہوگا۔اسی طرح اگر کسی شخص کے بارے میں غیر ملکی شہری ہونے کا شبہ پیدا ہو تو معاملہ شہریت ایکٹ، ۱۹۵۵ کے تحت کارروائی کے لیے مجاز اتھارٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ اس ضمن میں عوامی نمائندگی ایکٹ، ۱۹۵۵کی دفعہ ۔۱۳ سی (۲)کے تحت معاون انتخابی رجسٹریشن افسر کو بھی انتخابی رجسٹریشن افسر کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، تاکہ قانونی کارروائی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کو مزید شفاف، منظم اور دستاویزی بنانے کے لیے ہدایت دی ہے کہ جن دستاویزات کی بنیاد پر انتخابی رجسٹریشن افسر کسی شخص کے اندراج سے مطمئن ہو، انہیں کمیشن کے مرکزی انتخابی معلوماتی نظام میں بھی محفوظ کیا جائے۔ اس انتظام کا مقصد ہر اندراج کو قابلِ تصدیق بنانا اور فہرست ہائے راے دہندگان کی تیاری میں مکمل شفافیت برقرار رکھنا ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں نئے رائے دہندہ کے طور پر نام شامل کرانے کے لیے ہر درخواست فارم نمبر چھ کے ذریعے نئے اقرار نامہ فارم کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہوگا۔ اسی طرح تمام انتخابی رجسٹریشن افسران اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ زیرِ التوا فارم نمبر چھ اور آئندہ اہلیتی تاریخ یکم اکتوبر دو ہزار چھبیس کے لیے موصول ہونے والی پیشگی درخواستوں کے ساتھ بھی مقررہ اعلانیہ فارم لازماً منسلک ہوں۔رہائش کی تبدیلی، انتخابی حلقے کے اندر یا باہر منتقلی، انتخابی اندراج میں تصحیح یا تجدید، انتخابی شناختی کارڈ کی تبدیلی اور معذور افراد کے اندراج سے متعلق تمام درخواستیں فارم نمبر آٹھ کے ذریعے جمع کرائی جائیں گی۔
دعوؤں اور اعتراضات کی تشہیر اور عوامی نگرانی:الیکشن کمیشن نے شفافیت کے اصول کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہدایت دی ہے کہ مسودۂ انتخابی فہرست کی اشاعت کے بعد موصول ہونے والے تمام دعوؤں اور اعتراضات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔ انتخابی رجسٹریشن افسر فارم نمبر۹، ۱۰،۱۱،۱۱ اے اور ۱۱ بی کے مطابق الگ الگ فہرستیں تیار کرے گا اور ان کی ایک نقل اپنے دفتر کے نوٹس بورڈ پر ہر کام کے دن عوامی مشاہدے کے لیے آویزاں رکھے گا۔عوام کی سہولت کے لیے موصول ہونے والے تمام دعوؤں اور اعتراضات کی فہرست چیف الیکٹورل آفیسر کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب کرائی جائے گی تاکہ شہری اپنے اندراج کی صورتِ حال سے آگاہ رہ سکیں اور اگر کسی اندراج پر اعتراض ہو تو متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسر کے سامنے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق اپنا موقف پیش کر سکیں۔چیف الیکٹورل آفیسر اس امر کو بھی یقینی بنائے گا کہ عوام کو مناسب ذرائع سے مسلسل آگاہ کیا جائے کہ دعوؤں اور اعتراضات کی مکمل فہرست ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اسی طرح تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو اجلاسوں اور تحریری مراسلت کے ذریعے اس پورے عمل سے باخبر رکھا جائے گا تاکہ فہرست ہائے راے دہندگان کی تیاری میں شفافیت اور سیاسی جماعتوں کی مؤثر نگرانی برقرار رہے۔انتخابی رجسٹریشن افسر ہر ہفتے موصول ہونے والے نئے دعوؤں اور اعتراضات کی تازہ فہرست سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ شیئر کرے گا۔ یہ فہرست مجموعی نہیں بلکہ صرف اس ہفتے موصول ہونے والی نئی درخواستوں پر مشتمل ہوگی۔ اس مقصد کے لیے وقتاً فوقتاً اجلاس منعقد کیے جائیں گے، نمائندوں کو فہرست فراہم کی جائے گی اور اس کی وصولی کا باضابطہ ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے گا۔قانون نے شہریوں کو اپیل کا حق بھی فراہم کیا ہے۔ اگر کسی شہری کو انتخابی رجسٹریشن افسر کے فیصلے پر اعتراض ہو تو عوامی نمائندگی ایکٹ، ۱۹۵۰کی دفعہ ۲۴(اے)کے تحت پہلی اپیل متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کے سامنے دائر کی جا سکتی ہے۔ اگر درخواست گزار پہلی اپیل کے فیصلے سے بھی مطمئن نہ ہو تو وہ دفعہ ۲۴ (بی) کے تحت دوسری اپیل چیف الیکٹورل آفیسر کے سامنے دائر کر سکتا ہے۔ تمام اپیلوں کی سماعت اور فیصلہ رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، ۱۹۶۰کے قاعدہ ۲۷کے مطابق کیا جائے گا۔
انتخابی عمل کی نگرانی اور معیار کی جانچ
فہرست ہائے راے دہندگان کی درستگی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن نے نگرانی اور تصدیق کا ایک جامع نظام وضع کیا ہے۔ اس نظام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ فہرست ہائے راے دہندگان کی تیاری کا ہر مرحلہ مقررہ ضابطوں، قانونی تقاضوں اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ انجام پائے، نیز کسی بھی غلطی، کوتاہی یا بے ضابطگی کی بروقت نشاندہی کر کے اس کا ازالہ کیا جا سکے۔اس مقصد کے تحت مختلف سطحوں پر تعینات افسران اور اہلکاروں کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں۔ ہر بوتھ سطحی افسر کے نگران(سپروائیزر) کے ماتحت عموماً دس بوتھ سطحی افسران کام کریں گے۔ نگران کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے زیرِ نگرانی ہر بوتھ سطحی افسر کی جانب سے انجام دیے گئے تصدیقی کام کے کم از کم دس فیصد حصے کی لازماً جانچ کرے۔اس جانچ کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ گھر گھر سروے، دستاویزات کی تصدیق اور رائے دہندوں کی معلومات جمع کرنے کا عمل درست، شفاف اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مکمل ہو رہا ہے یا نہیں۔ اس کے ذریعے نہ صرف فہرست ہائے راے دہندگان کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ کسی بھی ممکنہ غلطی کی بروقت اصلاح بھی ممکن ہوگی۔
انتخابی رجسٹریشن افسر پورے عمل کی مسلسل نگرانی کا ذمہ دار ہوگا۔ وہ معاون انتخابی رجسٹریشن افسران، بوتھ سطحی افسران کے نگرانوں اور بوتھ سطحی افسران کے ساتھ باقاعدگی سے جائزہ اجلاس منعقد کرے گا تاکہ کام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ ان اجلاسوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوگا کہ فہرست ہائے راے دہندگان کی تیاری محض ایک رسمی کارروائی نہ رہے بلکہ مکمل احتیاط، شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ انجام پائے۔اگر کسی افسر یا اہلکار کی جانب سے غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ سامنے آتا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری اصلاحی اقدامات بھی نافذ کیے جائیں گے تاکہ انتخابی عمل کی ساکھ، غیر جانب داری اور شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
فہرست ہائے راے دہندگان کے مبصرین کی خصوصی جانچ:خصوصی جامع نظرِ ثانی کے دوران رول آبزرورز بھی فہرست ہائے راے دہندگان کی اعلیٰ سطحی جانچ کریں گے۔ انہیں تفویض کردہ اضلاع میں مختلف زمروں کے اندراج فارم کی خصوصی جانچ کی ذمہ داری دی جائے گی تاکہ انتخابی عمل کے معیار کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔ہر تفویض کردہ ضلع میں مجموعی طور پر دو سو پچاس فارموں کی جانچ کی جائے گی، جن میں۔ سو نئے اندراج کے فارم۔سو ناموں کے اخراج کے فارم۔پچاس ترامیم یا تبدیلیوں کے فارم۔شامل ہوں گے۔اگر کسی رول آبزرور کو ایک سے زیادہ اضلاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہو تو ہر ضلع میں کم از کم پچاس فارموں کی جانچ ضروری ہوگی، جن میں۔بیس نئے اندراج کے فارم۔بیس اخراج کے فارم۔دس ترامیم کے فارم شامل ہوں گی۔یہ جانچ صرف دستاویزی کارروائی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ تصدیق شدہ فارموں میں سے کم از کم پچاس فارموں کی موقع پر جا کر میدانی تصدیق بھی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد زمینی حقائق اور انتخابی ریکارڈ کے درمیان مکمل مطابقت کو یقینی بنانا ہے تاکہ فہرست رائے دہند گان زیادہ درست اور قابلِ اعتماد بن سکیں۔
تمام اہل رائے دہندوں سے اپیل ہے کہ اگر انہوں نے ابھی تک اپنا اندراج فارم جمع نہیں کرایا ہے تو وہ ۱۰/ اگست سے پہلے لازماً جمع کرا دیں، تاکہ ان کا نام مسودہ فہرست رائے دہندگان میں شامل کیا جا سکے۔مسودۂ فہرست رائے دہندگان شائع ہونے کے بعد ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے نام کی جانچ ضرور کرے۔ اگر کسی قسم کی غلطی، کمی یا اعتراض سامنے آئے تو مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق دعویٰ یا اعتراض داخل کرے۔خصوصی جامع نظرِ ثانی محض فہرست ہائے رائے دہندگان کی تجدید کا عمل نہیں بلکہ جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ شفاف جانچ، دستاویزی تصدیق، مؤثر نگرانی اور شہریوں کے فعال تعاون کے ذریعے ایسی فہرست ہائے رائے دہندگان تیار کی جا سکتی ہے جو ہر اہل رائے دہندہ کے حقِ رائے دہی کا تحفظ کرے اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنائے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے