سیاسی فائدہ یا سماجی نقصان؟
علماء کی توہین نے سیاسی طرزِ گفتگو کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا
از: عبدالحلیم منصور
ہر سیاست دان اپنی تقریروں، فیصلوں اور عوامی رویّے سے اپنی شناخت بناتا ہے۔ کچھ رہنما ترقیاتی کاموں، انتظامی صلاحیت اور عوامی خدمت کے لیے یاد رکھے جاتے ہیں، کچھ پارلیمانی وقار اور سنجیدہ سیاسی گفتگو کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، جبکہ چند ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نام بار بار متنازع بیانات، اشتعال انگیز زبان اور فرقہ وارانہ سیاست کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ کرناٹک کے سابق وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ قانون ساز کونسل سی ٹی روی کا نام بھی گزشتہ کئی برسوں سے اسی تیسرے زمرے میں زیرِ بحث رہا ہے۔ حالیہ دنوں نیٹ (NEET) امتحان کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران علماء اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے بیان نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر سی ٹی روی ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی فرقہ وارانہ تنازع کے مرکز میں کیوں آ جاتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ایک سوچا سمجھا سیاسی بیانیہ؟
نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مستقبل جیسے حساس مسئلے پر ملک بھر میں احتجاج ہو رہے تھے۔ ایسے وقت میں توقع تھی کہ سیاسی جماعتیں امتحانی نظام، شفافیت اور تعلیمی اصلاحات پر گفتگو کریں گی، مگر چکمگلورو میں بی جے پی کے احتجاج کے دوران سی ٹی روی نے سوال اٹھایا کہ ’’نیٹ احتجاج سے ملاؤں کا کیا تعلق؟‘‘ یہی نہیں بلکہ انہوں نے علماء کی علمی حیثیت پر بھی ایسے ریمارکس دیے جنہیں مسلم تنظیموں، دینی حلقوں اور بڑی تعداد میں عام شہریوں نے توہین آمیز اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ اس بیان کے بعد چکمگلورو جامع مسجد کے صدر مدثر پاشاہ کی شکایت پر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس جب تحقیقات کے سلسلے میں نوٹس دینے ان کی رہائش گاہ پہنچی تو انہوں نے نوٹس وصول نہیں کیا، جس کے بعد قانونی طریقۂ کار کے مطابق نوٹس ان کے دروازے پر چسپاں کیا گیا۔ بعد ازاں کرناٹک ہائی کورٹ نے انہیں عبوری طور پر گرفتاری سے تحفظ دیا، لیکن مقدمہ ختم نہیں کیا۔ اس لیے یہ معاملہ اب بھی قانونی جانچ کے مرحلے میں ہے اور اس کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
قانونی کارروائی شروع ہوتے ہی سی ٹی روی کا مؤقف بھی بدلتا رہا۔ پہلے کہا گیا کہ ان کی مراد پوری مسلم برادری نہیں تھی، پھر وضاحت دی گئی کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، بعد ازاں لفظ ’’ملا‘‘ کی لغوی تشریح پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ان کے الفاظ کا مطلب وہ نہیں تھا جو عوام نے سمجھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک عوامی نمائندے کو بعد میں بار بار اپنی تقریر کی تشریح کرنی پڑے تو کیا یہ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ابتدائی بیان غیر ذمہ دارانہ تھا؟ عوامی زندگی میں اصل اہمیت بعد کی وضاحتوں سے زیادہ اس بیان کی ہوتی ہے جو لاکھوں لوگوں نے براہِ راست سنا اور جس کے نتیجے میں سماجی ردِعمل پیدا ہوا۔
یہ پہلا موقع بھی نہیں جب سی ٹی روی اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھرے ہوں۔ ایوان میں ایک خاتون وزیر کے بارے میں ان کے مبینہ الفاظ پر شدید سیاسی ہنگامہ برپا ہوا، ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی، الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چلا اور معاملہ ریاستی سیاست کا بڑا موضوع بن گیا۔ اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر ان کے بیانات کو فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے والا قرار دیا جاتا رہا ہے۔ یہی تسلسل آج ان کے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیتا ہے کہ متنازع بیانات محض وقتی لغزش نہیں بلکہ ان کے سیاسی انداز کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ ہر واقعے کی اپنی قانونی حیثیت ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ان کا نام بارہا اسی نوعیت کے تنازعات کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
اس مرتبہ ان کے بیان کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو علماءِ کرام کو نشانہ بنانا تھا۔ شاید سی ٹی روی کو یہ معلوم نہیں کہ جس طبقے کو انہوں نے طنز کا نشانہ بنایا، وہی طبقہ صدیوں سے اس ملک میں تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، فلاحی خدمات اور قومی شعور کی آبیاری میں مصروف ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق کھولے جائیں تو 1857ء کی جنگِ آزادی سے لے کر تحریکِ آزادی تک علماء کی قربانیوں کے بے شمار باب ملتے ہیں۔ مولانا فضلِ حق خیرآبادی، مولانا محمود حسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور سیکڑوں دیگر علماء نے صرف مذہبی قیادت ہی نہیں کی بلکہ ہندوستان کی آزادی، تعلیم اور قومی یکجہتی کے لیے بھی ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔
سی ٹی روی کا یہ تاثر بھی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کہ علماء علم سے بے بہرہ ہیں۔ آج ہندوستان میں ہزاروں علماء اور حفاظ ایسے ہیں جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ میڈیکل، انجینئرنگ، قانون، صحافت، سول سروس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ متعدد مدارس نے جدید تعلیم کو اپنے نصاب کا حصہ بنایا ہے۔ ایسے میں کسی پورے علمی طبقے کی اہانت دراصل ان لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور اداروں کی توہین بھی ہے جو محدود وسائل کے باوجود معاشرے کی علمی اور اخلاقی تعمیر میں مصروف ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوامی زندگی میں رہنے والے افراد کے الفاظ عام شہریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ ایک وزیر، رکنِ اسمبلی یا قومی رہنما جب کسی مذہبی طبقے کے بارے میں تحقیر آمیز زبان استعمال کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک جلسے تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ معاشرے میں موجود تعصبات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی عدالتیں متعدد مواقع پر واضح کر چکی ہیں کہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ضرور ہے، لیکن اس حق کو مذہبی منافرت یا سماجی انتشار پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اصول بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) اور دیگر متعلقہ قوانین کی روح بھی ہے، جن کے تحت فرقہ وارانہ نفرت یا عوامی امن کو متاثر کرنے والے بیانات کی قانونی جانچ کی جا سکتی ہے۔
سی ٹی روی کے حالیہ بیان کے بعد صرف قانونی کارروائی ہی نہیں ہوئی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ان کی مختلف پریس کانفرنسیں، ویڈیو وضاحتیں اور میڈیا سے انگریزی و ہندی میں گفتگو کے کلپس وسیع پیمانے پر گردش کرتے رہے۔ متعدد صارفین نے ان کی وضاحتوں کو متضاد قرار دیتے ہوئے طنز کیا، جبکہ بعض نے ان کے اندازِ بیان، الفاظ کے انتخاب اور بار بار بدلتے ہوئے مؤقف کو سیاسی دفاع کی ناکام کوشش سے تعبیر کیا۔ دوسری جانب ان کے حامیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔ اس تمام صورتِ حال نے یہ ضرور ثابت کیا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں عوامی نمائندوں کے ہر لفظ، ہر جملے اور ہر وضاحت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر واقعی سی ٹی روی کی تنقید چند مخصوص افراد تک محدود تھی تو پھر انہوں نے ایسا عمومی اور اشتعال انگیز اسلوب کیوں اختیار کیا جس سے ایک پورا مذہبی طبقہ خود کو نشانہ محسوس کرے؟ ایک ذمہ دار سیاست دان کی اصل پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اختلاف کو دلیل کے دائرے میں رکھے، نہ کہ ایسے الفاظ استعمال کرے جن سے معاشرے میں تقسیم اور نفرت کی فضا پیدا ہو۔
اس واقعے نے ایک اور اہم حقیقت کو بھی نمایاں کیا ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں مذہبی پولرائزیشن کوئی نئی حکمتِ عملی نہیں۔ جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں یا عوامی مسائل پر حکومتیں دباؤ محسوس کرتی ہیں تو کئی مرتبہ مذہبی شناخت، جذباتی نعروں اور فرقہ وارانہ بیانیے کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس شور میں بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل، تعلیمی اصلاحات، صحت، خواتین کی سلامتی اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے بنیادی سوال پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہ رجحان کسی ایک جماعت تک محدود نہیں، لیکن جس رہنما کے الفاظ عوامی ہم آہنگی کو متاثر کریں، اس پر تنقید بھی اتنی ہی واضح ہونی چاہیے۔
علماءِ کرام کے بارے میں بھی چند بنیادی حقائق یاد رکھنا ضروری ہیں۔ علماء صرف مساجد کے خطیب یا مدارس کے اساتذہ نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی رہنمائی کا بھی ایک اہم ذریعہ ہیں۔ قدرتی آفات، سماجی بحرانوں، رفاہی سرگرمیوں، تعلیم اور انسانی خدمت کے میدان میں ان کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی علماء ہزاروں یتیموں، غریب طلبہ اور کمزور طبقات کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتے ہیں۔ اگر کسی فرد کو کسی عالم یا کسی ادارے سے اختلاف ہے تو اس اختلاف کا اظہار دلیل سے کیا جا سکتا ہے، لیکن پوری علمی روایت کو تحقیر کا نشانہ بنانا نہ انصاف ہے، نہ شائستگی اور نہ ہی جمہوری اقدار کے مطابق۔
قانون کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ کسی سیاسی وابستگی، مذہبی شناخت یا عوامی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر کام کرے۔ اگر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی صرف بعض افراد تک محدود رہے اور بااثر شخصیات قانون کی گرفت سے محفوظ نظر آئیں تو عوام کے ذہن میں انصاف کے بارے میں سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات شفاف، غیر جانبدار اور مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق انجام پائیں، تاکہ نہ کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی ہو اور نہ کسی بااثر شخص کو غیر ضروری رعایت ملے۔
سی ٹی روی کا مقدمہ آخرکار عدالت کے سامنے اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا، لیکن اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہندوستانی سیاست کے لیے ایک واضح پیغام دے چکے ہیں ۔ مذہبی جذبات کو بھڑکا کر وقتی سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر اس کی قیمت معاشرہ برسوں تک ادا کرتا ہے۔ سیاست کا اصل امتحان مخالفین کو نیچا دکھانے میں نہیں بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوامی اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں نفرت کے بجائے کارکردگی، اشتعال کے بجائے استدلال اور تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کا احترام ہونا چاہیے، لیکن نفرت، تحقیر اور مذہبی تضحیک کو آزادیٔ اظہار کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ سی ٹی روی کا حالیہ تنازع ایک فرد کے بیان سے کہیں بڑا مسئلہ ہے؛ یہ ہندوستانی سیاست کے مزاج، قانون کی غیر جانب داری اور آئینی اقدار کے مستقبل کا بھی امتحان ہے۔ اگر اس واقعے سے سیاست دان یہ سبق سیکھیں کہ عوامی منصب کے ساتھ زبان کی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے تو شاید یہ تنازع محض ایک مقدمہ نہ رہے بلکہ آئندہ کے سیاسی رویّوں کے لیے ایک سبق بن جائے۔
haleemmansoor@gmail.com