نیٹ پیپر لیک کا سنگین معاملہ،
طلبہ پر کارروائی اور سیاست کا نیا محاذ
ازقلم:جاوید جمال الدین
ہندوستان میں نیٹ (NEET) پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور اس کے خلاف ملک گیر طلبہ تحریک اب محض ایک تعلیمی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ملک کی سیاست، جمہوری حقوق اور نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ایک انتہائی حساس قومی معاملہ بن چکا ہے۔ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ اس تنازع نے ایک طرف حکومت کی امتحانی نظام پر گرفت اور شفافیت کے دعووں کو سوالات کے گھیرے میں کھڑا کر دیا ہے، تو دوسری طرف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی، مقدمات کے اندراج، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جانے اور اظہارِ رائے پر قدغن جیسے الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن نے ان معاملات کو پوری شدت سے اٹھایا، جبکہ لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانا چاہتی ہے۔ ادھر بی جے پی کی رکنِ پارلیمنٹ اور فلمی اداکارہ کنگنا رناوت کے متنازع بیان نے اس پورے تنازع کو ایک نئی سیاسی اور سماجی بحث میں تبدیل کر دیا۔
نیٹ امتحان ملک کے لاکھوں طلبہ کے لیے طبی تعلیم کا سب سے اہم دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں امیدوار برسوں کی محنت اور شدید مسابقت کے بعد اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات نے اس پورے نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب امتحان کی شفافیت ہی مشکوک ہو جائے تو محنت، صلاحیت اور میرٹ کی حیثیت بے معنی ہو جاتی ہے۔
اسی احساسِ محرومی کے نتیجے میں مختلف ریاستوں سے ہزاروں طلبہ دہلی پہنچے اور جنتر منتر پر احتجاج شروع کیا۔ بعد ازاں "پارلیمنٹ چلو مارچ” کے ذریعے انہوں نے اپنی آواز براہِ راست حکومت اور پارلیمنٹ تک پہنچانے کی کوشش کی۔
اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق متعدد مقامات پر لاٹھی چارج کیا گیا، بعض مظاہرین پر پیلیٹ گن کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے، جبکہ کئی طلبہ رہنماؤں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ مزید یہ کہ احتجاج سے وابستہ متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور صفحات کو بھی بلاک یا ٹیک ڈاؤن کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں، جس کے بعد اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان اپنے مستقبل سے متعلق سوال بھی نہ اٹھا سکیں تو یہ جمہوری نظام کے لیے نیک شگون نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ قانون و انتظام برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر کسی احتجاج کے دوران قانون شکنی یا تشدد کے واقعات پیش آئیں تو کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس معاملے کو حکومت کے لیے ایک بڑا اخلاقی اور سیاسی چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا:
"وزیر اعظم مودی اور امت شاہ! آپ جین زی کو دھمکا کر خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرائے جا رہے ہیں۔ یاد رکھئے، آپ ہندوستان کا ماضی ہیں جبکہ یہ نوجوان ہندوستان کا مستقبل ہیں۔”
راہل گاندھی نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ طاقت کا استعمال کسی بھی صورت میں مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق جو نسل ملک کا مستقبل ہے، اگر وہی ریاستی اداروں پر اعتماد کھو بیٹھے تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک آزاد، غیر جانب دار اور اعلیٰ سطحی کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائیں تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ہو۔
مانسون اجلاس کے دوران انڈیا بلاک نے اس معاملے کو پوری شدت سے اٹھایا۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن اراکین نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔
احتجاج کا دوسرا اہم موضوع ایودھیا کے رام مندر میں عطیات کی مبینہ چوری تھا۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ دونوں معاملات میں شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور حکومت کو جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔
پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ اگر طلبہ پر واقعی ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی ہے تو وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں آ کر اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔ ان کا سوال تھا کہ آخر وہ کون سا افسر یا اتھارٹی تھی جس نے احتجاجی طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔
پارلیمنٹ کے مکر دوار کے سامنے ہونے والے احتجاج میں اپوزیشن کے تمام اراکین ایک ایسے بینر کے پیچھے کھڑے تھے جس پر بڑے حروف میں لکھا تھا: "کس نے حکم دیا؟”
یہ سوال دراصل پورے تنازع کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ پر طاقت کا استعمال ہوا، اگر مقدمات درج کیے گئے اور اگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے گئے تو اس کی منظوری کس سطح پر دی گئی؟ حکومت کو اس کا واضح جواب دینا ہوگا۔
احتجاج کے دوران ایک علامتی "دان پیٹی” بھی رکھی گئی، جس میں اراکین پارلیمنٹ نے رقم ڈال کر رام مندر میں عطیات کی مبینہ چوری کے معاملے کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی۔
اسی دوران بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت نے احتجاج کرنے والی نسل کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے، جس سے ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر احتجاج سے متعلق وائرل ویڈیوز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان ویڈیوز میں استعمال ہونے والی زبان انتہائی غیر مہذب ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو "گٹر جنریشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں اس قدر غیر شائستہ رویہ نہیں دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی تہذیب، شائستگی اور ثقافتی روایات کے لیے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، لیکن احتجاج کے دوران استعمال ہونے والی زبان ان روایات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
کنگنا رناوت کے بیان پر کانگریس، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما وارث پٹھان نے کہا کہ کسی پوری نسل کو توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کرنا انتہائی افسوسناک ہے اور ایک منتخب رکنِ پارلیمنٹ کو اپنے منصب کے وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔
کانگریس رہنماؤں نے بھی کہا کہ عوامی نمائندوں کو اختلافِ رائے کے باوجود مہذب زبان اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے بیانات نوجوانوں اور سیاسی ماحول میں مزید تلخی پیدا کرتے ہیں۔
طلبہ تحریک سے وابستہ سوربھ داس نے کنگنا رناوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی نے ملک میں جمہوریت، آئینی اقدار اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کے مطابق اگر نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں تو انہیں بدنام کرنے کے بجائے ان کے سوالات کا جواب دیا جانا چاہیے۔
اس پورے معاملے نے سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طبقے نے احتجاج کے دوران بعض مظاہرین کی سخت زبان اور نعرے بازی پر اعتراض کیا، جبکہ دوسرے طبقے نے احتجاج کو جمہوری حق قرار دیتے ہوئے کنگنا رناوت کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بحث نے صرف طلبہ تحریک ہی نہیں بلکہ نئی نسل، اظہارِ رائے، جمہوری احتجاج اور عوامی نمائندوں کی زبان جیسے اہم موضوعات کو بھی قومی سطح پر زیر بحث لا کھڑا کیا ہے۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ تنازع اسی شدت سے جاری رہا تو اس کے اثرات پارلیمنٹ کی کارروائی سے لے کر آئندہ انتخابی سیاست تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوان ووٹروں کا اعتماد کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے، اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں اس معاملے کو اپنے اپنے سیاسی بیانیے کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نیٹ پیپر لیک کا معاملہ اب صرف ایک امتحان یا چند بے ضابطگیوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل، ریاستی جواب دہی، تعلیمی نظام کی شفافیت، اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام الزامات کا شفاف اور حقائق پر مبنی جواب دے، جبکہ اپوزیشن پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حساس معاملے کو محض سیاسی فائدے کے بجائے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے تناظر میں اٹھائے۔ اگر تمام فریق ذمہ داری، شفافیت اور آئینی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھ کر آگے بڑھتے ہیں تو اس بحران سے نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ تنازع مستقبل میں مزید گہرا ہو کر قومی سیاست کا ایک مستقل موضوع بن سکتا ہے۔