ایوانِ پارلیمان بنا جنگ کا میدان

ایوانِ پارلیمان بنا جنگ کا میدان

ایوانِ پارلیمان بنا جنگ کا میدان

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

حزب اختلاف کو چاہیے کہ وہ ملک بھر میں ’’تلاش گمشدہ‘‘ کی بڑی بڑی ہورڈنگس اور پوسٹر چسپاں کرکے سوال کرےیا سارے اخبارات کے پہلے صفحہ پر اشتہار دے کر پوچھے’’کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے؟‘‘ اس اشتہاری مہم کے دوران یہ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ کس جوڑی کی بات ہورہی ہے۔ سب سمجھ جائیں کیوں کہ ایوان پارلیمان کے مانسون اجلاس سے ’موٹا بھائی اور چھوٹا بھائی‘ گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہیں ۔ ملک کے جو بھولے بھالے لوگ اس معمہ کو نہیں سلجھا سکیں انہیں سمجھانے کا کام احمق بھاجپائی کردیں گے۔ وہ چیخ چیخ کر کہنے لگیں گےحزب اختلاف نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی توہین و تضحیک کی ہے۔ یہ اسی طرح ہوگا جیسے جب راہل گاندھی نے تین طرح کے لوگوں کی کہانی سنائی ایک طلباء جو سوال پوچھتے ہیں اور دوسرے بیوقوف( جو ان سے چھپتے پھرتے ہیں) اور تیسرے ان کے اندھے مقلد (اندھ بھگت) ۔ اس کہانی میں حزب اختلاف کے رہنما نے کسی کا نام نہیں لیا مگر حزب اقتدار نے اسے خود پر اوڑھ کر ثابت کردیا کہ وہ بیوقوف ہے اور پھر سوشل میڈیا میں اندھ بھگتوں نے سونامی برپا کرکے راہل کے دوسرے الزام کو ثابت کردیا ۔ اس طرح جو بات اشارے کنائے میں کہی گئی تھی ان احمقوں نے کھول کر ساری دنیا کو بتادی ۔
ایوانِ زیریں میں جہاں راہل گاندھی نے حزب اختلاف کے رہنما کی حیثیت سے مورچہ سنبھال رکھا تھاوہیں ایوان بالا میں کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے نے حکومت کی بخیہ ادھیڑ دی۔ وہاں پر جب پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026 بحث کے لیے پیش ہوا تو موصوف نے مرکزی حکومت پر طلبا کے مستقبل کے بجائے سیاست کو ترجیح دینے اور امتحانی نظام کو بہتر بنانے کے بجائے احتجاج کو دبانے کی کوشش کرنے کا الزام لگا دیا۔ کھڑگے دہلی میں طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کی خاطر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے جواب طلب کیا کیونکہ دہلی پولیس اور سی آر پی ایف دونوں وزارتِ داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہیں۔ کھڑگے نے سخت لہجے میں کہاکہ "طلبا پر پیلٹ گن چلانے کے ذمہ دار وزیر داخلہ ہیں۔ وہ اب بند کمروں میں چھپے بیٹھے ہیں، لیکن ایک دن ہم آپ کو وہاں سے بھی باہر کھینچ لائیں گے۔” انہوں نے پوچھا کہ اگر حکومت واقعی امتحانات میں شفافیت اور نقل و پرچہ لیک جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے سنجیدہ تھی تو ایسا قانون پہلے کیوں نہیں لایا گیا؟انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اصلاحات کے لیے نہیں بلکہ دہلی میں جاری طلبہ احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یہ بل پیش کیا ہے۔
ملک ارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے ملک کو مسلسل پرچہ لیک، طلبہ کے احتجاج اور پولیس کی سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے بروقت مؤثر اقدامات کیے ہوتے تو نہ طلبہ کو سڑکوں پر آنا پڑتا اور نہ ہی ان پر طاقت کا استعمال ہوتا۔ کھڑگے نے کہا کہ احتجاجی طلبہ کے جسموں پر لگنے والا ہر زخم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ملک بھر کے طلبہ اور نوجوان امتحانی نظام کی ناکامیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے، جبکہ اپوزیشن نے ان کی آواز کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور انداز میں اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی دباؤ میں اضافہ کے بعد حکومت کو جھکنا پڑا ۔ معمر رہنما نےاس موقع پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد رنگ لائی، جس کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی عہدے سے ہٹایا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نوجوانوں کی طاقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی۔ا س پسپائی کی وجہ انہوں نے اقتدار کھونے کا خوف بتایا۔ وہ بولے اگر حکومت بروقت طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کرتی تو حالات اس قدر خراب نہیں ہوتے۔
راہل گاندھی نےلوک سبھا میں جب سوال کیا کہ آخرامیت شاہ ایوان کا سامنا کرنے سے "اتنے خوف زدہ” کیوں ہیں، اور ان کی غیر حاضری "قصوروار ہونے کا تاثر” دیتی ہےیعنی یہ شاہ کی داڑھی میں تنکا ہے تو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے اپنا دفاع میں کرن رجیجو کو آگے کردیا ۔ وہ بولے راہل گاندھی اس بات کا ثبوت دیں کے امیت شاہ نے فائرنگ کا حکم دیا اور پھر باہر آکر کہا کہ گولی تو چلی ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ گولی نہیں چلی تو ثبوت کیوں مانگا جارہا ہے؟ اور پیلیٹ کا مطلب چھرّا ہوتا ہے گن بندوق کو کہتے ہیں۔ چھروں کی بندوق کا قریب سے استعمال جان لیوا ہوسکتا ہےیا بینائی تو جاہی سکتی ہے۔ راہل گاندھی نے پیلیٹ گن سے زخمی ہونے ارشد سے ملاقات کی اور ان کی ویڈیو بھی دکھائی۔ راہُل کاندھی کا کہنا ہے کہ طاقت کے استعمال کا فیصلہ وزیر اعظم یا وزیر داخلہ ہی کرسکتے ہیں ۔ اس لیے اگر ان کی اجازت کے بغیر اپنے طلباء اور نوجوانوں پر گولی چلی تو یہ وزیر داخلہ کی نااہلی ہےاس کسی نااہل فرد کو اس اہم ذمہ داری پر رہنے کے بجائے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
بی جے پی نے کرن رجیجو کے بعد سمبت پاترا کو آگے کیا تو انہوں نے بھی وہی غلطی دوہرائی ۔ پہلے تو کہا کہ گولی نہیں چلی پھر بولے یہ کام وزیر داخلہ کا نہیں ہے۔ اس سے بی جے پی کا ایک بہت بڑا بیانیہ خطرے میں پڑگیا جس میں ملائم سنگھ یادو کو ایودھیا میں کارسیوکوں کا قاتل ٹھہرایا جاتا تھا۔ دہلی کے اندر اگر پیلیٹ گن سے گولی یا لاٹھی چارج کے لیے اگر امیت شاہ ذمہ دار نہیں ہیں تو ایودھیا کی گولی باری کے لیےملائم سنگھ یادو ذمہ دار کیسے ہوگئے اور ان کو بی جے پی نے پدم بھوش کے اعزاز سے کیوں نوازہ؟ ملائم سنگھ یادو کے چیف سیکریٹری نرپیندر مشرا تھے ۔انہوں نے کہا، "جی ہاں، ملائم سنگھ یادو کی حکومت کے دوران میں پرنسپل سیکریٹری تھا۔ تاہم، اس قسم کے فیصلے پرنسپل سیکریٹری کی سطح پر نہیں کیے جاتےبلکہ تقریباً 90 فیصد فیصلے سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں، جبکہ باقی 10 فیصد فیصلوں میں ہوم سیکریٹری، چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی تجاویز شامل ہوتی ہیں۔ مودی سرکار نے کارسیوکوں کے خون میں لت پت مشراجی کو وزیر اعظم کے دفتر میں بلایا گیا اور فی الحال وہ رام مندر کی تعمیراتی سرگرمیوں کے سربراہ ہیں۔
جنتر منتر کے احتجاج نے ایک دیو ہیکل آکٹوپس کی مانند بی جے پی کو چہار جانب سے اپنے چنگل میں جکڑ لیا ہے۔ آگے گولی برسانا اور پیچھےنااہلی کی تہمت ہے۔ دائیں جانب راہل گاندھی اور بائیں طرف ابھیجیت دیپکے ہیں ۔ اوپر چندا چوری کا الزام اور نیچے ووٹ چوری کی بنیاد ہے۔ اب یہ بیچارے لوگ کس منہ سے ایوان میں آئیں مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ۔ ایک نہ ایک دن خود چھری کے نیچے آئے گی اوریومِ جشن دن بہ دن قریب سے قریب تر ہوتا جارہا ہے۔ مودی سرکار نے پہلے تو سوچا تھا کہ یہ کاکروچ ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ ہم تو کسی بھی وقت انہیں مسل کے رکھ دیں گے جیسا کے کمار وشواس کہتے تھے کہ ان کے لیے ہمارے پاس ’ہِٹ‘ ہے لیکن جب یہ بری طرح پٹ گئے تو انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بلی کا بکرا بناکر سمجھ لیا کہ اب معاملہ رفع دفع ہوجائے گا مگر اب پیلٹ گن کے چھرے رہ رہ کر اس سرکار کے سینے کو چھلنی کررہے ہیں۔ ان کے زخموں سے سرکار لہو لہان ہوچکی ہے۔ ان حملوں سے بچنے کے لیے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پر ایوان سے فرار ہونے کی نوبت آن پڑی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے غیر ملکی دوروں کی سنچری مکمل کر چکے ہیں مگر پچھلے سال تک ان کے85 فیصد دورے پارلیمانی اجلاس کے دوران ہوئے تھے ۔ اس لیے ان پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر پارلیمانی مباحث سے بچنے کے لیے ملک سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ ویسے دہلی میں رہتے ہوئے بھی وہ ایوان کے اجلاس میں کسی کی بات سننے یا کوئی جواب دینے کے لیے نہیں آتے۔ وہ تو اپنی لکھی لکھائی تقریر کو خوب مشق کے بعد پیش کرنے کی غرض سے نعروں کی گونج میں حاضر ہوتے ہیں اور اسی طرح اپنی غزل سنا کر لوٹ جاتے ہیں۔ پہلے ان کے آنے پر جئے شری رام کا نعرہ لگتا تھا اب ووٹ چور اور چندہ چور کے نعروں سے استقبال ہوتا ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں حزب اختلاف کو ڈانٹنے ڈپٹنے اور دھمکی دینے کا کام امیت شاہ کرتے تھے اور ارکان سمجھانے بجھانے یا پچکارنے اور دلآذاری کا اظہار کرکے خاموش کرنے کی ذمہ داری راجناتھ سنگھ ادا کرتے تھے لیکن اس بار سائیکل کا ایک اور پہیہ پنکچر ہوگیاکیونکہ مودی جی کاسب سے وفادار سپہ سالار امیت شاہ بھی ایوان پارلیمان سے فرار ہوگیا ۔ یہ قدرت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ شیوسینا اور ترنمول کانگریس کے جن ارکان پارلیمان کو خریدقومی جمہوری محاذ میں شامل کرلیا گیا ہے وہ سب تو بڑے مزے سے اقتدار کی صفوں میں براجمان ہیں مگر ان کو لانے والا خود غائب ہے۔ اب تو ان موقع پرستوں کی زبان پر ساحر لدھیانوی کا یہ نغمہ ہوگا؎
تم نہ جانے کس جہاں میں کھوگئے
ہم بھری دنیا میں تنہا رہ گئے
(جاری)

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے