آج کا ہمارا نوجوان غصے میں ہے اس کی ناراضگی کسی ایک واقعے یا ایک سرکاری فیصلے پالیسی سے ناراضگی سے نہیں، بلکہ ان حالات سے ہے جو نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقین بنا رہے ہیں۔
ایک طرف 22 سال کا نوجوان اگنی ویر کے طور پر فوج میں بھرتی ہوتا ہے اور چند برسوں بعد سروس سے باہر کر دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف دہائیوں سے سیاست میں بیٹھے بزرگ رہنما اقتدار کا سکھ بھوگتے رہتے ہیں اور کرپشن کے نئے نئے الزامات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے میں نوجوان کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ قربانی اور ایثار کی قیمت صرف اسی کو کیوں چکانی پڑ رہی ہے؟
سستی اور معیاری تعلیم اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کی بڑھتی فیس، میڈیکل اور انجینئرنگ کی مہنگی پڑھائی نے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے آگے بڑھنا نہایت مشکل بنا دیا ہے۔ کسی طرح ڈگری حاصل بھی ہو جائے تو سرکاری نوکریاں بہت کم ہیں اور نجی شعبے میں ملنے والی نوکریوں میں اکثر محنت کے مقابلے میں تنخواہ کم اور کام کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ بہت سے نوجوانوں کو لگتا ہے کہ وہ محض نوکری نہیں، بلکہ معاشی مجبوری کی زندگی جی رہے ہیں۔
لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنے گاؤں اور خاندان چھوڑ کر بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ ڈیلیوری بوائے، کیب ڈرائیور یا دوسرے عارضی کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ کام باعزت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ برسوں کی پڑھائی اور ڈگری کے بعد بھی کیا یہی ان کا خواب تھا؟
سرکار نے ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مگر یہ وعدہ ان کی امیدوں کے مطابق پورا نہیں ہوا۔ بے روزگاری، مہنگی تعلیم، بڑھتی مہنگائی اور مستقبل کی غیریقینی نے ان کی پریشانیوں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
جب نوکری نہیں ہوگی تو معاشی استحکام نہیں ہوگا۔ معاشی استحکام نہیں ہوگا تو شادی، اپنا گھر اور خاندان بسانے جیسے خواب بھی ادھورے رہ جائیں گے۔ یہی فکر آج کی جین زی کو سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ملک میں تقریباً 1 کروڑ نوجوان ڈگری حاصل کر رہے ہیں، مگر ان میں سے صرف 25 فیصد کو ہی نوکری ملتی ہے، باقی بیکار رہ جاتے ہیں۔ اب یہ الگ موضوع ہے کہ وہ کیا پڑھتے ہیں، ان کی ڈگری انہیں نوکری پانے کے لائق بناتی ہے یا نہیں، ان کے کالج اچھے ہیں یا نہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر بے روزگاری دور کرنے کے لیے بی جے پی حکومت کے پاس کوئی پروگرام، کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ ایسے میں جین زی میں مایوسی اور غصہ بڑھنا لازمی ہے۔ ہمارے ملک میں مینوفیکچرنگ نہیں ہے جہاں لڑکوں کو روزگار ملے۔ ممبئی، دہلی جیسے شہروں میں آئی ٹی اور کال سینٹرز ہیں، جسے سروس سیکٹر کہا جاتا ہے، جہاں ہمارے ماہر نوجوان امریکہ جیسے ممالک کے لیے یہیں ہندوستان میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔
چین میں دنیا کی 38 فیصد سے زیادہ مینوفیکچرنگ یا پروڈکشن ہو رہی ہے۔ ہمیں بھی وہی راستہ اپنانا ہوگا، اسی سے نوجوانوں کو نوکری ملے گی۔ مگر یہ سب کون سوچتا ہے، کون پالیسی بنائے گا؟ حکومت تو مست ہے۔
نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے حقیقی مسائل، تعلیم، روزگار، ہنر مندی کی تربیت، آمدنی اور بہتر مستقبل پر سنجیدگی سے بات ہو۔ ان کا سوال ہے کہ آخر کب تک ان کی امنگوں سے زیادہ سیاسی اور فرقہ وارانہ مسائل کو ترجیح دی جاتی رہے گی؟
آج کی جین زی صرف ناراض نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں جواب چاہتی ہے۔ اسے نعرے نہیں، مواقع چاہئیں جھوٹے وعدے نہیں، نتائج چاہئیں اور سب سے بڑھ کر ایسا ہندوستان چاہیے جہاں محنت کرنے والے ہر نوجوان کو باعزت تعلیم، روزگار اور محفوظ مستقبل مل سکے۔