وعدہ اور عہد کو پورا کرنا اسلام کی اہم ترین اخلاقی تعلیم.
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب
شاد نگر،31جولائی(پریس نوٹ)
مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی نے مسجد قبا میں اپنے خطاب میں کہا:اسلام میں وعدہ اور عہد کی پاسداری کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: عہد کو پورا کرو۔ حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا: وعدہ بھی ایک قرض ہے جسے ادا کرنا چاہیے۔علماء نے تشریح کی ہے کہ وعدہ خلافی حقیقت میں ایک طرح کا عملی جھوٹ ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں سچائی اور وعدہ پورا کرنے کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ حدیث میں ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں: بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف کرے، اور امانت میں خیانت کرے تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ ملتا ہے جو آج بھی اخلاق و کردار کا بہترین نمونہ ہے۔ایک مسلم نوجوان گاؤں سے نکل کر دوسرے شہر آیا۔ فرصت کے اوقات میں وہ شہر کے کنارے پرندوں کا شکار کر رہا تھا۔ اتفاق سے ایک گولی چلنے سے 10-12 سال کا ایک لڑکا زخمی ہو کر جاں بحق ہو گیا۔ نوجوان فوراً لڑکے کو اٹھا کر آبادی میں لے آیا اور خود ہی سارا معاملہ والدین کو بتایا۔معاملہ قاضی کی عدالت میں پہنچا۔ شواہد اور اعتراف کی بنیاد پر قاضی نے فیصلہ سنایا کہ شرعی قانون کے مطابق قصاص واجب ہے۔ تاہم اگر مقتول کے سرپرست معاف کر دیں تو معافی ممکن ہے۔
فیصلے کے بعد نوجوان نے قاضی سے درخواست کی کہ اس کے ذمہ کچھ لوگوں کی امانتیں ہیں اور گھر والوں کو بھی اطلاع دینی ہے۔ اس نے وعدہ کیا کہ جمعہ کی نماز سے پہلے واپس عدالت میں حاضر ہو جائے گا۔ قاضی اور حاضرین نے اس کے مسلمان ہونے اور سچ بولنے پر اعتماد کر کے اسے عارضی رہائی دے دی۔جمعہ کے دن دریا میں شدید طغیانی کی وجہ سے راستے بند ہو گئے۔ عدالت میں مقتول کے ورثاء نے مطالبہ کیا کہ اب قصاص لیا جائے کیونکہ مجرم واپس نہیں آیا۔ اسی دوران مقررہ وقت سے کچھ دیر بعد وہ نوجوان پسینہ میں شرابور عدالت میں پہنچا۔ اس نے بتایا کہ طغیانی کے باوجود میں نے وعدہ پورا کرنے کے لیے جان پر کھیل کر واپسی کی ہے۔نوجوان کی سچائی اور وعدہ کی پابندی دیکھ کر مقتول کے والدین اور برادری بہت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا: "لڑکا بھی ہمارا تھا اور یہ نوجوان بھی سچا ہے۔” انہوں نے فی الفور قصاص معاف کر دیا اور کہا کہ ہم اس عدل، انصاف اور وعدہ پورا کرنے والے دین سے متاثر ہیں۔ اسی مجلس میں مقتول کے والدین اور کئی رشتہ داروں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔اسی طرح غزوہ کے موقع پر دو صحابی دشمن کے ہاتھ گرفتار ہوئے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ رہائی کے بعد جنگ میں حصہ نہیں لیں گے تو انہیں چھوڑ دیا گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ وعدے کو پورا کرو اور انہیں جنگ سے روک دیا۔علماء کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ مسلمان کی پہچان سچائی، امانت داری اور وعدہ کی پاسداری ہے۔ ایک چھوٹے سے وعدہ نے نہ صرف ایک جان بچائی بل کہ پورے خاندان کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا کر دی، افسوس کہ اس وقت مسلم معاشرے میں وعدہ خلافی کا گناہ بڑھتا جا رہا ہے اور لوگوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اسلام کی اس اہم تعلیم پر عمل کریں اور وعدہ پورا کرنے کا مزاج بنائیں تاکہ ہم اپنے عمل کے ذریعہ لوگوں تک دین کا صحیح پیغام پہنچا سکیں۔