مودی سرکار نے تاریخ کی کتابوں سے مغلیہ دور کو اس لیے نکال دیا کیونکہ اس ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا اور دنیا کی جی ڈی پی میں ملک کی پچیس فیصد حصہ داری تھی۔ ہندوتوا نواز فرقہ پرستوں کو مسلمان دشمنی کے سبب اس دور سے حسد کا شکار ہیں ۔ اس لیے مسلم حکمرانوں کی کردار کشی کی جاتی ہےیا چھپایا جاتا ہے لیکن آر ایس ایس کے مخالفین مودی یُگ کا چرچا کریں گے تاکہ ان کے مظالم اور حماقتیں منظرِ عام پر آسکیں۔ سہارنپور کوتوالی میں مسجد کی شہادت یا ہلدوانی کے اندر ملک ارجن کھڑگے کی ریلی کے بعد ہونے والے ’شدھی کرن‘ معاملے میں نینی تال پولیس کا پہلی ایف آئی آر درج کرنے میں ایک ماہ کی تاخیر کویاد رکھا جائے۔ 8؍ اگست(2026) کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کھڑگے کی ریلی کے دو روز بعد 10؍ اگست کو وہاں ’شدھی کرن‘ کے لیے یگیہ کرکے گنگاجل کا چھڑکا گیا۔ اس حماقت نے کانگریس کو بی جے پی پر یہ الزام لگانے کا موقع دے دیا کہ بی جے پی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو کمتر سمجھ کر ان کی توہین کرتی ہے۔ پارٹی نے اسے آئین میں مساوات اور انسداد ِ چھوت چھات کی ضمانت کے منافی قرار دے کر سڑک سے ایوان پارلیمان تک ہنگامہ کھڑا کردیا ۔
بی جے پی والے اس تنازع کو نہ صرف آسانی سے رفع دفع کرسکتے تھے بلکہ اس کے ذریعہ دلتوں کوقریط کیا جاسکتا تھا مگر انہوں نے تواپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارلی۔مانسون پارلیمانی اجلاس کے دوران یہ سانحہ رونما ہوا اس لیے ایوانِ بالا میں حزب اختلاف کے رہنمانے اسے اٹھایا۔ بی جے پی کا دفاع کرتے ہوے سابق صدر جے پی نڈا نے اس واقعہ کی مذمت کر کے کہا کہ بی جے پی چھوت چھات کے خلاف ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کرکے قصوروار کو سزا دی جائےگی۔اس کے بعد اگر کچھ لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا تو بی جے پی اتراکھنڈ کے سترہ فیصد لوگوں کو یہ پیغام دےکر ان کا دل جیت سکتی تھی کہ وہ چھوا چھوت کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹتی ہے ۔ اس طرح کانگریس کو اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے روکا بھی جاسکتا تھا مگر پھر ان کا دماغ الٹ گیا اور صوبائی بی جے پی صدر مہندر بھٹ نےاسے کو جائز قرار دے کر کانگریس کو ایک ہنٹر پکڑا دیا اور اس نے بی جے پی کی پٹائی شروع کردی۔ مہندر بھٹ نے ’شدھی کرن‘ کے شرمناک واقعہ کو صحیح ٹھہرا کراپنی پارٹی کی دلت مخالف ذہنیت کو ظاہر کیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو میں ملک ارجن کھڑگے کی تقریر والی جگہ پر ’شدھی کرن پوجا‘ کو یہ کہتے ہوئے درست ٹھہراتے نظرآئے کہ وہاں پر جو نعرے لگائے گئے، وہ مناسب نہیں تھے۔
یہ سنگھ پریوار کے دوغلاپن ہے کہ سر سنگھ چالک دنیا بھر میں مساوات کا پروچن دیتے ہیں مگر عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ ملک کے اندر اپنے ناقدین کی تضحیک سے گریز نہیں کرتے۔ وہ خود تو سارے مخالفین پر جی بھر کے تنقید کرتے ہیں مگر جب خود ان کے خلاف کوئی نعرہ لگتا ہے تو سب کچھ ناپاک ہوجاتا ہے اور اسے ہوون کرکے گنگا جل چھڑک کر پوتر کرنا پڑتا ہے۔ ان کی اونچ نیچ والی ذہنیت اس وقت بہت زیادہ توہین محسوس کرتی ہے جب دلت سماج کا کوئی فرد ان لوگوں سے سخت سوال پوچھتا ہے۔ مہندر بھٹ کے بعد وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی میدان میں آئے اور انہوں نےاعلان کردیا کہ شدھی کرن کرنے والے شری رام سینا سیوا نیاس کے لوگوں کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ بولے چونکہ دلت بھی اس رسم شامل تھے اس لیے ذات پات کی تفریق کا معاملہ بھی نہیں تھا بلکہ وہ تو صرف صفائی کا کام تھا ۔ پشکر سنگھ دھامی کے جھوٹے دعویٰ کو اگر سچ مان کہ وہاں کچرے اور شراب کی خالی بوتلوں صفائی کے لیے یہ کیا گیا تو انہیں یہ بتانا پڑے گا کہ کانوڑیا یاترا کے تقریباً پانچ کروڈ لوگوں نے ہری دوارکی مقدس دیو بھومی آٹھ ہزار ٹن کوڑا چھوڑا۔ ان پیشاب سے بھری ہوئی بوتلیں بھی تھیں۔ دس ہزار مزدوروں کو بلا کر ان کی سرکار نے صفائی تو کتائی مگر دیو بھومی کو پاک کرنے کے لیے کوئی پوجا پاٹ یا ہوون وغیرہ کیوں نہیں کیا گیا؟ اس لیے ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟
رام لیلا میدان کی شدھی کرن پوجا میں شامل لوگوں سے بی جے پی نے توتعلق توڑدیا مگر اس کے رہنماوں کی ان کے ساتھ تصاونے اس جھوٹ کو بھی بے نقاب کردیا۔ امیت کمار کے اپنے والمیکی سماج نے ہاتھ اٹھا کر کہہ دیا کہ وہ تو بی جے پی کا کارکن ہے اس لیے اس کا والمیکی سماج سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ بی جے پی کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کی بلی اس وقت تھیلے سے باہر آگئی جب امیت کمار کے ذریعہ راہل گاندھی پر الٹا مقدمہ درج کروایا گیا اور پلک جھپکتے پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ۔ وہ اگر بی جے پی کےحامی نہیں ہوتا اور ایف آئی آر حزب اختلاف رہنما راہل گاندھی کے خلاف نہ ہوتی تو کیا مجال ہے کہ مسکراتے ہوئے یہ شکایت درج ہوجاتی ؟ جے پی نڈا کی یقین دہانی کے باوجود جب اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو راہل گاندھی نے دہلی کے اندر ایک پریس کانفرنس میں یہ مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ بی جے پی-آر ایس ایس کی “دلت مخالف اور آئین مخالف” ذہنیت کی ایک سنگین مثال ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ وہی سوال اٹھایا جو خود کانگریس صدر ملک ارجن کھرگےپارلیمنٹ میں پہلے ہی اٹھا چکے تھے کہ ‘ناپاکی دور کرنے کے لئے پوجا’ کے اس عمل نے انہیں اچھوت کے ڈنک کا احساس دلایا اور ان کی تذلیل کی۔ بی جے پی حکومت نے اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں پرایف آئی آر درج کرکے دلت وقار بحال کرنے کے بجائے خود راہل گاندھی کو گھیرنے کی مذموم کوشش کردی ۔جواہر نگر کے رہنے والے شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس کے رکن امیت کمار ہلدوانی پولیس اسٹیشن میں اپنی شکایت درج کروانے پہنچ گئے اور دعویٰ کیا کہ وہ ’’رسم اور صفائی مہم‘‘ کے دوران موجود تھے اور 29 اگست کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے رسم سے وابستہ افراد کو “اچھوت” اور “دلت مخالف” کے طور پر پیش کرکے ان کی کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچایاہے۔الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی مصداق اس مثال میں امیت کمار نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خود درج فہرست ذات برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مذہبی رسم میں جس کا کھرگے کی ذات سے “کوئی تعلق” نہیں تھا، سماج کے مختلف طبقات بشمول درج فہرست ذات شامل تھے ۔
مذکورہ بالا ایف آئی آر چونکہ سرکار کے ایماء پر درج کروائی گئی اس لیے اس میں بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات مثلاًگروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے جان بوجھ کر کی گئی کارروائیوں سمیت درج فہرست ذاتیں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ 1989 کو بھی لاگو کیا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ساحل نامی نوجوان کی ایف آئی آر درج کروانے کی خاطر راہل گاندھی کو دہلی میں ۶؍ گھنٹے دھرنا دینا پڑا جبکہ اس کے جسم میں پیلیٹ گن کے چھرے موجود تھے مگر امیت کمار کا کام ایک منٹ میں ہوگیا۔ یہ دراصل بی جے پی-آر ایس ایس کے ذریعہ راہل گاندھی کو خوفزدہ کرنے کی مذموم کوشش تھی مگر وہ بھول گئے کہ گاندھی خاندان ایف آئی آر یا طاقت کے دباؤ سے ڈرنے والوں میں نہیں ہے۔راہل گاندھی پہلے تو مودی سرکار کو ساحل کی ایف آئی درج کرنے پر مجبور کیا اس کے بعد۵؍ ستمبر کو بنگلورو کی ودھان سودھا پولیس نے اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر مہندر بھٹ اور پارٹی کے دیگر اراکین کے خلاف زیرو ایف آئی آر درج کرلی ۔
۸؍ ستمبر کو کانگریس کے تقریباً 20 ایس سی/ایس ٹی ارکان پارلیمنٹ اور دیگر رہنماوں نے نئی دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پہنچ کر’ شری رام دھرمارتھ سیوا نیاس‘ کے صدر گریش چندر پانڈے اور 15 دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیامگرامیت شاہ کی پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔اس طرح اتراکھنڈ سرکار پر دباو اتنا بڑھ گیا کہ اس نے زچ ہوکر کانگریس کارکن انجو کی تحریری شکایت پر ہلدوانی تھانہ میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ اس میں نامعلوم کیا ہے؟ سارے لوگوں کی ویڈیوز ذرائع ابلاغ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کی حمایت کرنے والوں بیانات موجود ہیں خیر پولیس نے یہ معاملہ بی این ایس کی دفعہ 196، 299 اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 3(1) (آر) کے درج کیا ہے۔ بی جے پی کی ڈھیٹ سرکار سے معمولی ایف آئی آر درج کروانے کے لیےریاست بھر سے 80 لوگوں کو شکایت کرنی پڑی۔ان میں 19 نینی تال ضلع سے تھیں۔ اس حکومت کو اگر یہ کرنا ہی تھا تو پہلے ہی کردیتےلیکن یہ لاتوں کے بھوت ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں بات جلدی نہیں آتی۔ جب خوب بے عزتی ہوجاتی ہے تو عقل ٹھکانے آتی ہے ۔ ملک کے عوام نے طے کرلیا ہے کہ اقتدار سے بے دخل کرنے سے قبل ان کا دماغ جوتوں سے درست کرکے بھیجیں گے۔