از قلم: محمد طارق اطہر
جامعہ دار الہدیٰ الاسلامیہ، کیرالا
ہندوستان کو آزاد ہوئے تقریباً اسّی برس مکمل ہونے کو ہیں۔ آزادی کے بعد سے یہ ملک ایک طویل اور کٹھن سفر طے کر چکا ہے اور بلاشبہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس نے نمایاں ترقی بھی کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کا ہندوستان واقعی وہی ہندوستان ہے جو آزادی کے بعد ہمارے بزرگوں کے خوابوں میں بسا ہوا تھا؟ کیا اتنے طویل عرصے کے بعد ہمارا ملک اس مقام تک پہنچ سکا ہے جہاں اسے پہنچنا چاہیے تھا؟
کیا آج ہندوستان دنیا کے سامنے ایک ایسا مضبوط، ترقی یافتہ، پُرامن اور مثالی ملک بن کر کھڑا ہے جہاں ہر شہری کو بلا امتیازِ مذہب و ملت عزت، آزادی، تحفظ اور مساوات حاصل ہو؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں بلکہ ایک ایسا سنجیدہ سوال ہے جو ملک کے آئینی مزاج اور جمہوری وعدوں سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
ہندوستان کی پہچان صرف اس کی وسیع سرحدوں، بلند عمارتوں اور معاشی ترقی سے نہیں رہی؛ اس سرزمین کی اصل شناخت تو صدیوں سے اس کی گنگا جمنی تہذیب، باہمی رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافتی ورثے سے وابستہ رہی ہے۔ یہ وہ ملک تھا جس کی مثال دے کر کہا جاتا تھا کہ یہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے تہواروں میں خوشیاں بانٹتے ہیں اور مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔
ہندو اور مسلمان صدیوں سے اس سرزمین کے مشترکہ وارث رہے ہیں، اور ہندوستان کی تہذیب و تاریخ کی تعمیر میں دونوں نے اپنا خون، پسینہ اور صلاحیتیں صرف کی ہیں۔ مگر آج جب ہم اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈالتے ہیں تو کئی ایسے سوالات ہمارے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں جن سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں۔
کیا آج بھی ہر مذہب کے ماننے والے خود کو اس ملک میں یکساں طور پر محفوظ، باعزت اور آزاد محسوس کرتے ہیں؟ کیا فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی تعصب، نفرت انگیز بیانیوں اور اقلیتوں کے بارے میں پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات نے ہندوستان کی اس قدیم روادار روایت کو کمزور نہیں کیا؟ اور اگر واقعی حالات تشویش ناک ہیں تو آخر ان کے سدِّباب کی ذمہ داری کس کی ہے؟
گنگا جمنی تہذیب اور بڑھتی ہوئی بے اعتمادی
خاص طور پر مسلمانوں کے بارے میں پیدا کیے جانے والے منفی تاثر، انہیں بار بار شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھنے، ان کے مذہبی تشخص کو نشانہ بنانے اور بعض مقامات پر مساجد و دیگر مذہبی مقامات سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات نے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ سوال صرف مسلمانوں کا نہیں، بلکہ ہندوستان کے آئینی مزاج، جمہوری اقدار اور اس مشترکہ تہذیبی ورثے کا سوال ہے جس پر اس ملک کو ہمیشہ فخر رہا ہے۔
آج اگر ہم اپنے ملک کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے ایسے کئی واقعات آتے ہیں جو نہ صرف تشویش میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ سنجیدگی سے سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ آئے دن کہیں نہ کہیں کسی مسجد کے انہدام، کسی مذہبی مقام کو نقصان پہنچانے یا اس کے وجود کو متنازع بنانے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ کبھی رات کے اندھیرے میں بلڈوزر چلا کر کسی عبادت گاہ کو مسمار کیے جانے کی اطلاع ملتی ہے، تو کبھی دن کے اجالے میں، سب کی نگاہوں کے سامنے، ایک مسجد کو منہدم کر دیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ان واقعات کے پیچھے اصل وجوہات کیا ہیں؟ زیادہ تر معاملات میں انتظامیہ کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے، غیر قانونی تعمیر یا زمین کے استعمال سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کو کارروائی کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے، اور بعض اوقات یہ کارروائیاں عدالتی احکامات کے تحت بھی کی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہے تو بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کیا ان معاملات میں مسلم فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے، دستاویزات دکھانے اور قانونی چارہ جوئی کا مکمل اور منصفانہ موقع دیا جاتا ہے؟ اور کیا اسی طرح کے قانونی تنازعات میں دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے ساتھ بھی وہی رفتار اور وہی سختی اختیار کی جاتی ہے؟
کسی بھی جمہوری ملک کی اصل طاقت صرف اس کی اکثریت میں نہیں ہوتی، بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی اقلیتوں کے حقوق کی کس قدر حفاظت کرتا ہے۔ مسجد صرف اینٹ، پتھر اور گنبد کا نام نہیں؛ وہ کروڑوں مسلمانوں کے لیے عبادت، عقیدت اور مذہبی شناخت کا مرکز ہے۔ اس لیے کسی مسجد کے انہدام کا معاملہ محض ایک تعمیراتی یا انتظامی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی عمارت کے بارے میں قانونی تنازع ہو تو اس کا فیصلہ عدالت اور قانون کے مطابق، شفاف اور غیر جانب دارانہ طریقے سے ہونا چاہیے، نہ کہ عجلت، دباؤ یا جذبات کے ذریعے۔
اگر کسی خاص طبقے کو مسلسل یہ احساس ہونے لگے کہ اس کی عبادت گاہیں، مذہبی شناخت اور تہذیبی ورثہ محفوظ نہیں، تو پھر اس کے دل میں اپنے ہی ملک کے نظامِ انصاف اور حکمرانی کے بارے میں اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو آج ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے ذہنوں میں بار بار ابھرتا ہے۔
مساجد سے متعلق تنازعات: ایک طویل سلسلے کا جائزہ
اگر آج ملک میں مساجد اور مسلمانوں کے مذہبی تشخص سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سلسلہ محض آج کا نہیں، بلکہ اس کی جڑیں کئی برس پیچھے تک جاتی ہیں۔ 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں سولہویں صدی کی تعمیر شدہ بابری مسجد کو منہدم کیا گیا، اور اس سانحے کے بعد ملک بھر میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ ہندوستان کی سیاست، سماج اور فرقہ وارانہ تعلقات میں ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر ہونے والے رام مندر کا افتتاح 22 جنوری 2024ء کو ہوا، جس نے ماضی کے اس تنازعے کو ایک نئے سرے سے قومی بحث کا موضوع بنا دیا۔
اس واقعے کے بعد یہ اندیشہ بارہا ظاہر کیا گیا کہ کہیں ایک عبادت گاہ سے متعلق پیدا ہونے والا تنازع مستقبل میں دیگر مذہبی مقامات تک نہ پھیل جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب مختلف مساجد اور مسلم مذہبی مقامات کے بارے میں نئے نئے دعوے، تنازعات اور مطالبات سامنے آنے لگے تو مسلمانوں کے اندر یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ معاملہ محض ایک مسجد تک محدود نہیں رہا۔ مثال کے طور پر 30 جنوری 2024ء کو دہلی کے مہرولی علاقے میں تقریباً چھ سو برس پرانی اخوند جی مسجد اور اس سے وابستہ مدرسے کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے غیر قانونی ڈھانچہ قرار دے کر منہدم کر دیا، جبکہ مسجد سے وابستہ افراد نے اس کارروائی کے طریقۂ کار اور عجلت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔
اسی طرح 8 فروری 2024ء کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں بنبھول پورہ کے علاقے میں ایک مسجد اور مدرسے کو منہدم کیا گیا۔ مسجد کمیٹی کا مؤقف تھا کہ یہ زمین برطانوی دور میں لیز پر دی گئی تھی، جس پر برسوں سے مسجد قائم تھی، جبکہ انتظامیہ نے اسے غیر قانونی تعمیر قرار دیا۔ اس کارروائی کے دوران اور بعد میں علاقے میں شدید تشدد پھوٹ پڑا، جس میں پولیس فائرنگ اور جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی مدھیہ پردیش کے شہر دھار کی قریب سات سو سالہ پرانی کمال مولا مسجد کا معاملہ ہے، جس کے بارے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 15 مئی 2026ء کو ایک فیصلہ دیا جس میں اسے ہندو عبادت گاہ ’بھوج شالا‘ سے متعلق قرار دیا گیا۔ اس فیصلے نے ملک بھر میں تاریخی مذہبی مقامات کے تشخص سے متعلق ایک نئی اور نہایت حساس بحث کو جنم دیا۔
سب سے تازہ اور اہم واقعہ اتر پردیش کے شہر سہارنپور کا ہے، جہاں ضلعی کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع ایک قدیم مسجد کو 5 ستمبر 2026ء کی صبح منہدم کر دیا گیا۔ مسجد کمیٹی نے عدالت میں 1911ء سے متعلق دستاویزات، میونسپل ریکارڈ اور پرانے ریونیو ریکارڈ پیش کیے تھے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ مسجد کا وجود کلکٹریٹ کی موجودہ عمارت سے بھی پرانا ہے۔ میونسپل مجسٹریٹ نے 16 جولائی 2026ء کو مسجد کو سرکاری زمین پر غیر مجاز قبضہ قرار دیتے ہوئے انہدام کا حکم دیا تھا، اور ضلعی عدالت نے 2 ستمبر کو مسجد کمیٹی کی اپیل مسترد کر دی۔ مقامی افراد کے مطابق انتظامیہ نے 4 ستمبر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مسجد کو صرف سیل کیا جائے گا، مگر اگلے ہی دن علی الصبح اسے منہدم کر دیا گیا، جس پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی سمیت کئی مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے شدید تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا۔
یہ سلسلہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں مذہبی تنازعات کو جذبات اور اکثریتی دباؤ کے بجائے آئین، قانون اور عدالت کے دائرے میں حل کیا جانا چاہیے۔ اگر ایک واقعے کے بعد دوسرے مذہبی مقامات بھی مسلسل تنازعات کی زد میں آنے لگیں تو یہ صرف کسی ایک طبقے کی تشویش نہیں رہتی، بلکہ ملک کے امن، باہمی اعتماد اور سیکولر و جمہوری کردار کے لیے بھی ایک بڑا سوال بن جاتی ہے۔
2014 ء سے 2026ء تک: درج شدہ واقعات کا جائزہ
2014 سے ستمبر 2026 تک ہندوستان میں کتنی مساجد گرائی گئیں، اس کا کوئی ایک مکمل، مستند اور سرکاری ملک گیر اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ مختلف رپورٹوں میں مسجد، مدرسہ، مزار، درگاہ، قبرستان اور دیگر مسلم مذہبی عمارتوں کو کبھی الگ الگ اور کبھی ایک ساتھ شمار کیا جاتا ہے۔ اس لیے کسی ایک بڑے عدد کو حتمی تعداد کے طور پر پیش کرنا علمی اعتبار سے درست نہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق 22 July 2014 کو گریٹر نوئیڈا کے کدل پور میں زیرِ تعمیر مسجد کی ایک دیوار کا حصہ انتظامیہ نے جے سی بی کے ذریعے ہٹایا تھا۔ November 2017 میں دہلی کی کٹھ پتلی کالونی میں تقریباً پچاس سال پرانی مدینہ مسجد کو ڈی ڈی اے کی انہدامی کارروائی کے دوران منہدم کیا گیا۔ July 2020 میں حیدرآباد کے پرانے تلنگانہ سیکریٹریٹ کمپلیکس کو منہدم کیے جانے کے دوران وہاں موجود مساجد اور ایک مندر کو ہٹائے جانے پر بھی تنازع پیدا ہوا۔ 17 May 2021 کو اتر پردیش کے بارہ بنکی میں غریب نواز مسجد کو ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیر قرار دے کر منہدم کر دیا، جس کے خلاف اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ نے عدالت سے رجوع کیا۔
جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان کیا گیا، 2024 میں دہلی کی اخوند جی مسجد اور ہلدوانی کی مسجد و مدرسہ اس سلسلے کی نمایاں کڑیاں تھیں۔ 2025 اور 2026 کے دوران بھی مسلم مذہبی مقامات سے متعلق انہدامی کارروائیوں کی متعدد رپورٹس سامنے آئیں، جن میں سنبھل ضلع کے مختلف قصبوں میں مساجد اور مدرسوں سے متعلق کارروائیاں، اتراکھنڈ میں غیر منظور شدہ مدارس کی بندش کی مہم، اور دیگر شہروں میں چھوٹی مساجد کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ تاہم ان تمام واقعات کو بلاتفریق ’’مساجد‘‘ کی تعداد میں شامل کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ان میں مساجد کے ساتھ مزارات، درگاہیں اور دیگر مذہبی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
مختلف تنظیموں کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹوں میں بھی خاصا فرق پایا جاتا ہے۔ دی پولس پروجیکٹ کی تحقیق کے مطابق January سے June 2025 کے دوران میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مسلم مذہبی ڈھانچوں کے انہدام کے پندرہ معاملات درج کیے گئے، تاہم ان میں تمام عمارتیں مساجد نہیں تھیں۔ سی ایس ایس ایس نے 2024 میں مسلم املاک سے متعلق انیس انہدامی واقعات درج کیے، جبکہ اے پی سی آر کے حوالے سے 2025 کے لیے انہتر اسلامی مذہبی مقامات کو منہدم کیے جانے یا غیر قانونی قرار دیے جانے کی تعداد سامنے آئی۔
ان اعداد و شمار میں فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ تنظیمیں صرف باقاعدہ مساجد کو شمار کرتی ہیں جبکہ دیگر مدرسوں، مزاروں اور نماز کے چھوٹے مقامات کو بھی اس میں شامل کر لیتی ہیں۔ اس لیے قارئین اور محققین دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک ادارے کی رپورٹ کو حتمی سچائی سمجھنے کے بجائے مختلف ذرائع کا موازنہ کریں، ہر واقعے کی عدالتی و انتظامی دستاویزات کا جائزہ لیں، اور تصویر کے دونوں رخ، یعنی مقامی مسلم آبادی کا مؤقف اور انتظامیہ کی قانونی توجیہ، دونوں کو سامنے رکھیں۔
کیا قانون سب کے لیے یکساں ہے؟
سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب رکے گا؟ مسلمانوں کو کب یہ یقین حاصل ہوگا کہ ان کے مذہبی مقامات بھی اتنے ہی محفوظ ہیں جتنے اس ملک کے دوسرے شہریوں کے؟ اور حکومت کب ایسے مؤثر اقدامات کرے گی جن سے یہ واضح ہو کہ ہندوستان میں قانون کی حکمرانی کسی مذہب، ذات یا طبقے کی محتاج نہیں، بلکہ ہر شہری کے لیے یکساں ہے؟
اگر کسی مقام پر ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک بلا رکاوٹ نماز ادا ہوتی رہی ہو، نسل در نسل لوگ اسے مسجد کے طور پر استعمال کرتے رہے ہوں، اور اس کے قدیم ہونے سے متعلق تاریخی دستاویزات بھی موجود ہوں، تو ایسی صورت میں انہدام سے قبل معاملے کا مکمل، غیر جانب دارانہ اور شفاف جائزہ لیا جانا از حد ضروری ہے۔ عبادت گاہوں سے متعلق قانون کا سختی سے نفاذ، عدالتی کارروائی میں دونوں فریقوں کو مساوی موقع، اور فیصلوں پر عمل درآمد میں غیرمعمولی عجلت سے گریز، یہ سب اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔
اگر واقعی ہم گنگا جمنی تہذیب، باہمی اخوت اور مذہبی رواداری کی اپنی عظیم روایت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے تمام واقعات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ہوگا اور جہاں ناانصافی ہو، وہاں بلا امتیازِ مذہب و ملت قانون کو حرکت میں لانا ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری زمین یا غیر قانونی تعمیر سے متعلق تنازعات کو خالص انتظامی و قانونی نقطۂ نظر سے حل کیا جائے، نہ کہ کسی مخصوص طبقے کے خلاف پیغام دینے کے انداز میں، کیونکہ ایسا تاثر ہی سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
آخر ہم کس ہندوستان کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟ ایسا ہندوستان جہاں مذہب انسان کی پہچان ہو مگر انسانیت اس سے بڑی قدر ہو، جہاں اکثریت اپنی تعداد پر نہیں بلکہ اپنے ظرف پر ناز کرے، جہاں اقلیتیں اپنے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ نہ ہوں، اور جہاں قانون، انصاف اور دستور ہر شہری کے لیے یکساں محافظ بن کر کھڑے ہوں۔
اگر ہندوستان کو واقعی ایک عظیم ملک بننا ہے تو اسے صرف معاشی اور سائنسی ترقی ہی نہیں، بلکہ سماجی انصاف، مذہبی رواداری، انسانی وقار اور باہمی اعتماد کے میدان میں بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہندوستان کو اس ہندوستان کے قریب لے جا سکتا ہے جس کا خواب آزادی کے وقت دیکھا گیا تھا — ایک ایسا ہندوستان جہاں بابری مسجد سے سہارنپور تک کا سفر عبرت کا نہیں بلکہ اصلاح کا سبب بنے۔
از قلم: محمد طارق اطہر
جامعہ دار الہدیٰ الاسلامیہ، کیرالا