2029ء کی سیاست اور آج کے حکومتی اعلانات!

2029ء کی سیاست اور آج کے حکومتی اعلانات!

2029ء کی سیاست اور آج کے حکومتی اعلانات!

✍️ افتخار احمد قادری

2029ء کے عام انتخابات ابھی خاصے فاصلے پر ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے آئندہ لوک سبھا معرکے کی سیاسی بساط بچھانے کا عمل ابھی سے شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ بارہ برس کے اقتدار میں بی جے پی نے ملکی سیاست کے جس بیانیے کو مسلسل آگے بڑھایا، اس میں ترقی، تعمیر، مضبوط معیشت، قومی سلامتی، سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس جیسے الفاظ نمایاں رہے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا، عوامی ترجیحات میں بھی تبدیلی آئی اور اقتدار کے بیانیے کو نئے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اگر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ممبئی میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ 2029ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی تمام 21 ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ یعنی یکساں سول کوڈ نافذ کر دیا جائے گا تو اس اعلان کو محض ایک انتظامی منصوبہ سمجھنا شاید سیاسی تناظر کی مکمل ترجمانی نہیں ہوگی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2029ء کی انتخابی سیاست کے لیے مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مسائل، نعروں اور ترجیحات کو عوام کے سامنے رکھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ چنانچہ یہ سوال فطری ہے کہ آنے والے انتخابات میں اصل سیاسی مرکز کیا ہوگا؟ معاشی ترقی؟ روزگار؟ مہنگائی؟ تعلیم؟ صحت؟ کسان؟ متوسط طبقہ؟ نوجوانوں کا مستقبل؟ یا پھر مذہب، شخصی قوانین، شہریت اور شناخت سے متعلق مسائل؟ امیت شاہ کے حالیہ اعلان نے اس سوال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
یونیفارم سول کوڈ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دیرینہ سیاسی و نظریاتی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے اور 2024ء کے انتخابی منشور میں بھی اسے شامل کیا گیا تھا۔ اتراکھنڈ میں فروری 2024ء میں یو سی سی قانون منظور ہوا اور مارچ 2024ء میں اسے نوٹیفائی کیا گیا بعد ازاں ریاست میں اس کے نفاذ کا عمل شروع ہوا۔ امیت شاہ کے تازہ بیان کے مطابق حکومت اب اسے این ڈی اے کی تمام 21 ریاستوں تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن یہاں اصل سوال محض یہ نہیں کہ یو سی سی نافذ ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی، کثیر ثقافتی اور تہذیبی اعتبار سے بے حد متنوع ملک میں یکساں قانون کی تشکیل کس نوعیت کی ہوگی اس کے دائرہ کار میں کون کون سے معاملات آئیں گے؟ مختلف مذہبی و سماجی برادریوں کی روایات کے ساتھ اس کا تعلق کس طرح قائم ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قانون سازی کے اس پورے عمل میں وسیع تر سماجی اتفاقِ رائے کس طرح پیدا کیا جائے گا؟ آئین ہند شہریوں کے درمیان مساوات کی ضمانت دیتا ہے لیکن اسی آئینی نظام میں ہندوستان کی قبائلی، ثقافتی اور علاقائی گوناگونی کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یو سی سی کے موجودہ ریاستی ماڈل میں بھی بعض قبائلی برادریوں کے لیے استثنا کی بات سامنے آئی ہے۔ اگر مخصوص تاریخی، ثقافتی اور قبائلی روایات کے تحفظ کو آئینی اور سماجی ضرورت سمجھا جا سکتا ہے تو مذہبی برادریوں کے شخصی قوانین پر گفتگو کرتے وقت بھی اسی حساسیت، مشاورت اور آئینی توازن کو ملحوظِ نظر کیوں نہ رکھا جائے؟ یہ سوال کسی ایک مذہب کے حق یا مخالفت کا سوال نہیں بلکہ ہندوستانی وفاقی نظام اور کثرت میں وحدت کے بنیادی تصور سے متعلق ہے۔ یکساں قانون کا مقصد اگر شہری مساوات ہے تو اس مساوات کی تعریف بھی واضح ہونی چاہیے۔ کیا مساوات کا مطلب ہر شہری کے لیے ہر معاملے میں یکساں قانونی ضابطہ ہے؟ یا مساوات کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری کو قانون کے سامنے برابر حقوق، تحفظ اور انصاف حاصل ہو جبکہ مخصوص ثقافتی و مذہبی معاملات میں آئینی دائرے کے اندر گنجائش باقی رہے؟ یہ بحث جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ آئینی بصیرت، قانونی تحقیق اور وسیع تر عوامی مشاورت سے طے ہونی چاہیے۔
اتراکھنڈ کے بعد گجرات، آسام اور مدھیہ پردیش میں بھی یو سی سی کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ مرکزی حکومت اسے دیگر این ڈی اے ریاستوں تک پہنچانے کا ارادہ ظاہر کر رہی ہے۔ موجودہ صورت حال یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر ریاست کی سیاسی اور سماجی صورت حال یکساں نہیں۔ ہندوستانی وفاق میں ریاستوں کے اپنے تاریخی تجربات، مقامی روایات، سیاسی اتحاد اور سماجی ساخت موجود ہیں۔ اس لیے مرکز سے ایک اعلان ہو جانا اور تمام ریاستوں میں اس کا یکساں طور پر نافذ ہو جانا دو الگ مراحل ہیں۔ اس سلسلے میں بہار کی مثال خاصی اہم ہے۔ امیت شاہ کے 2029ء سے قبل تمام 21 این ڈی اے ریاستوں میں یو سی سی نافذ کرنے کے اعلان کے فوراً بعد جنتا دل یونائیٹڈ کے اندر سے مختلف احتیاطی بیانات سامنے آئے۔ جے ڈی یو نے یہ مؤقف دہرایا کہ نتیش کمار پارلیمنٹ میں یو سی سی کی حمایت کر چکے ہیں لیکن بہار میں اس کے نفاذ کے معاملے میں جماعت نے محتاط اور مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ پارٹی کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ کسی حتمی قانون یا اس کی دفعات کو دیکھے بغیر عجلت میں فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور وسیع تر مشاورت ضروری ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خود این ڈی اے کے اندر بھی یو سی سی کے نفاذ کی رفتار، طریقہ کار اور دائرۂ کار پر یکساں نقطہ نظر موجود نہیں۔ چنانچہ سیاسی اعلان اپنی جگہ لیکن ہندوستان جیسے وفاقی جمہوری نظام میں عملی نفاذ کے لیے ریاستی حکومتوں، اتحادی جماعتوں، قانونی ماہرین، مذہبی و سماجی نمائندوں اور عام شہریوں کے درمیان مشاورت ایک اہم مرحلہ بن جاتی ہے۔
امیت شاہ نے ممبئی میں یو سی سی کے ساتھ قومی رجسٹر برائے شہریت یعنی NRC کے بارے میں بھی بات کی اور بتایا کہ ملک گیر نفاذ کے سلسلے میں اتحادیوں سے گفت و شنید جاری ہے۔ انہوں نے خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور انہیں ملک سے نکالنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تاہم NRC کے حوالے سے بھی مختلف قانونی، انتظامی اور سیاسی سوالات موجود ہیں اور حکومت کی جانب سے ملک گیر نفاذ کی کوئی واضح حتمی زمانی حد سامنے نہیں رکھی گئی۔ یہاں پھر وہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ انتخابی سیاست میں شہریت، مذہب، شخصی قانون اور شناخت جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دینے سے پہلے عام شہری کی روزمرہ زندگی سے وابستہ مسائل کو کس مقام پر رکھا جائے گا؟ اگر ایک نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے لیے پریشان ہے، اگر ایک متوسط طبقہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ سے دو چار ہے، اگر ایک کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کے لیے فکرمند ہے، اگر غریب خاندان معیاری تعلیم اور علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہا تو اس کے لیے سیاسی بحث کا بنیادی سوال کیا ہونا چاہیے؟ ہر حکومت اپنے کارنامے گنواتی ہے، ہر حزب اقتدار اپنے فیصلوں کو قومی مفاد سے تعبیر کرتی ہے اور ہر اپوزیشن اپنے سوالات کو عوامی مشکلات کی ترجمانی قرار دیتی ہے۔ لیکن جمہوریت میں اصل امتحان یہ ہے کہ عوام ان دعوؤں اور زمینی تجربات کے درمیان کیا تعلق محسوس کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت اپنی کارکردگی میں تین طلاق کے خاتمے، آرٹیکل 370 اور 35 اے سے متعلق آئینی تبدیلیوں، نکسل ازم کے خلاف کارروائی، شمال مشرق میں امن معاہدوں، دہشت گردی کے خلاف سرجیکل اور فضائی کارروائیوں اور آپریشن سندور جیسے اقدامات کو نمایاں کرتی رہی ہے۔ امیت شاہ نے اپنے حالیہ بیان میں بھی ان اقدامات کو حکومت کی قومی سلامتی اور حکمرانی کی ترجیحات کے تناظر میں پیش کیا۔ ان اقدامات کی سیاسی اور قانونی تشریحات پر مختلف جماعتوں اور حلقوں کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حکومت انہیں اپنے اقتدار کی کارکردگی کے اہم حوالوں کے طور پر پیش کرتی ہے۔
تاہم حکمرانی کا پیمانہ صرف وہ اقدامات نہیں ہو سکتے جنہیں حکومت اپنی کامیابی قرار دے۔ عوامی زندگی کی حقیقی کیفیت بھی حکمرانی کے جائزے کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ ایک حکومت اگر قومی سلامتی کے میدان میں بڑے فیصلے کرتی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ روزگار کے میدان میں کیا پیش رفت ہوئی، تعلیم کے معیار میں کیا بہتری آئی، صحت کی سہولتیں کتنی قابل رسائی ہوئیں، شہری آزادیوں اور قانونی تحفظ کا دائرہ کتنا مضبوط ہوا اور عام شہری کو اپنی روزمرہ زندگی میں ریاستی نظام کس قدر مؤثر محسوس ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ یو سی سی کے اعلان کے بعد بعض اپوزیشن رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ کیا یکساں سول کوڈ مہنگائی کم کرے گا؟ کیا اس سے بے روزگاری ختم ہوگی؟ کیا اس سے ایندھن کی قیمتوں کا مسئلہ حل ہوگا؟ ان سوالات کو محض سیاسی نعرہ کہہ کر نظر انداز کرنا آسان ہے لیکن ان کے پس منظر میں موجود عوامی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک جمہوری حکومت سے شہری اپنے مذہبی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی آسودگی، روزگار، تعلیم، صحت اور امن و امان کی بھی توقع رکھتے ہیں۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں مذہبی اور شناختی مسائل کبھی غیر اہم نہیں رہے، لیکن 2014ء کے بعد ان مسائل نے قومی سیاسی بیانیے میں ایک نئی شدت حاصل کی۔ بی جے پی نے اپنے نظریاتی وعدوں میں سے بعض کو حکومت میں رہتے ہوئے قانونی یا آئینی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا۔ اب اگر 2029ء سے پہلے 21 این ڈی اے ریاستوں میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ آنے والے سیاسی مباحث میں ایک اہم موضوع بنے گا۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس بحث کا انداز کیا ہوگا؟ کیا یو سی سی پر گفتگو آئینی مساوات، خواتین کے حقوق، قانونی یکسانیت اور شخصی قوانین کی اصلاح کے سوالات تک محدود رہے گی یا اسے مذہبی صف بندی کا ذریعہ بھی بنایا جائے گا؟ یہ فرق بہت اہم ہے۔ قانون سازی اگر حقوق کے تحفظ، قانونی وضاحت اور شہری مساوات کے لیے ہو تو اس پر سنجیدہ علمی و قانونی بحث کی گنجائش رہتی ہے، لیکن اگر کوئی قانونی مسئلہ انتخابی جذبات کو بھڑکانے کے لیے استعمال ہونے لگے تو اس کا اثر سماجی ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی کثرت ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ مختلف زبانیں، لباس، خوراک، رسوم، تہوار اور خاندانی روایات ہندوستانی معاشرے کی مجموعی تصویر تشکیل دیتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں قانون کی یکسانیت کا سوال محض قانونی اصطلاح نہیں رہتا بلکہ اس کا تعلق سماجی حساسیت سے بھی جڑ جاتا ہے۔
اسی لیے حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ یو سی سی کے بارے میں عوامی سطح پر واضح کرے کہ اس کا اصل دائرہ کیا ہوگا، کن قوانین اور روایات پر اس کا اثر پڑے گا، قبائلی و علاقائی استثناؤں کی بنیاد کیا ہوگی اور مذہبی اقلیتوں کے خدشات کو کس طریقے سے دور کیا جائے گا۔ اگر حکومت یہ سوالات شفاف انداز میں حل کرتی ہے تو بحث نعروں کے بجائے قانون اور آئین کے میدان میں رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ محض مخالفت کے لیے مخالفت کرنے کے بجائے اپنے متبادل قانونی و سماجی تصورات واضح کریں۔ اگر کسی جماعت کو یو سی سی کے کسی مسودے پر اعتراض ہے تو اسے یہ بتانا چاہیے کہ اعتراض کس دفعہ پر ہے، اس کے متبادل میں کیا قانونی طریقہ کار ہونا چاہیے اور شہری مساوات کے مسئلے کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔ محض خوف یا جذبات پر مبنی سیاست سے نہ حکومت کی پالیسی بہتر ہوتی ہے اور نہ عوامی بحث کا معیار بلند ہوتا ہے۔ یہاں سیاسی افہام و تفہیم کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان کسی ایک جماعت، ایک نظریے، ایک مذہب یا ایک خطے کا ملک نہیں بلکہ مختلف شناختوں اور تجربات سے تشکیل پانے والی ایک وسیع جمہوری ریاست ہے۔ قانون سازی کی طاقت پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ کے پاس ضرور ہے، مگر قانون کی پائیداری اس وقت زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب اس کے ساتھ سماجی اعتماد بھی موجود ہو۔ اگر 2029ء کی انتخابی سیاست کا مرکزی موضوع یو سی سی اور NRC بنتا ہے تو اس کے ساتھ عوامی مسائل بھی برابر شدت سے سامنے آئیں گے۔ نوجوان پوچھیں گے کہ روزگار کہاں ہے، طلبہ پوچھیں گے کہ معیاری تعلیم کیسے ملے گی، متوسط طبقہ پوچھے گا کہ زندگی کے بڑھتے اخراجات کا بوجھ کیسے کم ہوگا، کسان اپنی آمدنی اور منڈی کے مسائل پر سوال کرے گا اور عام شہری یہ جاننا چاہے گا کہ آئندہ پانچ برس میں اس کی زندگی کس طرح بہتر ہوگی۔ یہ سوال کسی خاص جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ہر اقتدار کے سامنے کھڑے ہونے والے سوال ہیں۔ آج اگر بی جے پی اقتدار میں ہے تو اس سے یہ سوال پوچھے جائیں گے، کل اگر کوئی دوسری جماعت اقتدار میں آتی ہے تو اسی معیار پر اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا، مگر عوام کے سوال مستقل رہتے ہیں۔
امیت شاہ کا 2029ء سے قبل 21 این ڈی اے ریاستوں میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان اسی لیے محض ایک قانونی اعلان نہیں بلکہ آنے والے سیاسی مباحث کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ اب اس اعلان کے بعد اصل امتحان قانون کی تیاری، ریاستی سطح پر اتفاقِ رائے، اتحادی جماعتوں کی رضامندی، عوامی مشاورت اور عملی نفاذ کا ہوگا۔ بہار میں جے ڈی یو کا محتاط موقف اس بات کی ایک موجودہ مثال ہے کہ این ڈی اے کے اندر بھی اس موضوع پر مزید سیاسی گفت و شنید کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اسی طرح NRC کے بارے میں بھی محض اعلان کافی نہیں ہوگا۔ شہریت جیسے حساس معاملے میں دستاویزی ثبوت، قانونی اپیل، انتظامی شفافیت، شہری حقوق اور غلط شناخت کے امکانات جیسے سوالات کو پوری سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ کسی بھی ایسے عمل کی کامیابی کا دارومدار صرف حکومتی عزم پر نہیں بلکہ اس کے منصفانہ، شفاف اور آئینی طریقہ کار پر بھی ہوگا۔ حکومت اگر واقعی ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘‘ کے تصور کو اپنے سیاسی فلسفے کا حصہ سمجھتی ہے تو اس کا سب سے مؤثر مظاہرہ یہی ہوگا کہ ملک کے تمام شہریوں کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ قانون ان کے مذہب، زبان، ذات، خطے یا ثقافتی شناخت سے قطع نظر ان کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے۔ اسی طرح اگر اپوزیشن واقعی جمہوری اور سیکولر سیاست کی دعوے دار ہے تو اسے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض حکومت کی ہر پالیسی کی مخالفت نہیں بلکہ قابل عمل متبادل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 2029ء ابھی دور ہے مگر اس کی سیاسی زمین تیار ہونا شروع ہو چکی ہے۔ ایک طرف ترقی، معیشت، قومی سلامتی اور حکمرانی کا بیانیہ ہوگا، دوسری طرف یو سی سی، NRC، مذہبی شناخت، شہریت اور سماجی حقوق کے سوالات ہوں گے۔ عوام ان تمام موضوعات کو اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات کی کسوٹی پر پرکھیں گے۔ سیاسی جماعتوں کے لیے اصل چیلنج یہی ہوگا کہ وہ عوام کو محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ قابل اعتماد پالیسی، واضح پروگرام اور قابل احتساب کارکردگی سے مخاطب کریں۔ ملک کو ایسے قوانین کی ضرورت ہے جو شہریوں کو انصاف کا یقین دیں، ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو کمزور کو طاقتور کے سامنے تحفظ فراہم کرے ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کرے اور ایسے انتخابی مباحث کی ضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم، صحت، معیشت، کسان، نوجوان اور عام شہری کی زندگی بھی مرکزی موضوع بنے۔
یکساں سول کوڈ ہو یا قومی رجسٹر برائے شہریت، ان دونوں موضوعات پر اختلاف رائے کو جمہوریت کا حصہ سمجھنا ہوگا۔ حکومت اپنے مؤقف کی وضاحت کرے، اتحادی اپنی تشویش بیان کریں، اپوزیشن اپنے اعتراضات اور متبادل پیش کرے اور عوام کو مکمل معلومات کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہی سیاسی افہام و تفہیم کی اصل روح ہے۔ آخرکار ہندوستان کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ یہاں کتنے قوانین یکساں بنائے گئے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ ان قوانین کے نتیجے میں شہریوں کے درمیان اعتماد کتنا بڑھا۔ ریاست کی طاقت صرف قانون نافذ کرنے میں نہیں بلکہ شہریوں کو یہ احساس دلانے میں بھی ہے کہ وہ اس ملک کے برابر کے مالک اور آئینی حقوق کے یکساں حقدار ہیں۔ شاہ کا اعلان آ چکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ 2029ء تک اس اعلان کی سیاسی اور قانونی تعبیر کس شکل میں سامنے آتی ہے۔ کیا یو سی سی وسیع تر مشاورت کے ساتھ ایک متفقہ قانونی ڈھانچے کی صورت اختیار کرے گا؟ کیا این ڈی اے کی تمام ریاستیں ایک ہی رفتار سے آگے بڑھیں گی؟ کیا اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور ہوں گے؟ کیا NRC کے بارے میں کوئی واضح قومی خاکہ سامنے آئے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا آنے والی انتخابی سیاست مذہبی و شناختی سوالات کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی معاشی زندگی کے بنیادی مسائل کو بھی برابر اہمیت دے گی؟
ان سوالات کا جواب آنے والا وقت دے گا، لیکن ایک حقیقت آج بھی واضح ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کو صرف اکثریت کے اعداد نہیں بلکہ سماجی اعتماد، آئینی احترام، سیاسی مکالمے اور شہری مساوات مضبوط بناتے ہیں۔ اقتدار کسی بھی جماعت کے پاس ہو، قانون کسی بھی موضوع پر بنایا جائے اور انتخابات کسی بھی نعرے کے گرد لڑے جائیں، آخرکار کسوٹی یہی ہوگی کہ عام شہری خود کو کتنا محفوظ، بااختیار، باعزت اور مطمئن محسوس کرتا ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر 2029ء کی سیاست بھی پرکھی جائے گی اور آج کے حکومتی اعلانات بھی۔
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے