گزشتہ دن دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن جماعتوں کی حالیہ ریلی انتخابی نظام کی شفافیت، جمہوری حقوق کے تحفظ اور آئینی اداروں پر عوامی اعتماد سے وابستہ ایک اہم سیاسی پیش رفت تھی۔ ووٹ چوری کے الزامات، انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کے مطالبے نے اس اجتماع کو قومی سیاست کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ راہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھڑگے، ممتا بنرجی، اکھلیش یادو، تیجسوی یادو اور فاروق عبدالله سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی شرکت اس امر کی غماز ہے کہ اپوزیشن انتخابی شفافیت کے مسئلے کو مشترکہ سیاسی مہم میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ جمہوریت کی اصل قوت عوام کے اعتماد میں مضمر ہے۔ انتخابات اس اعتماد کے اظہار کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں جہاں شہری اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار کے حق داروں کا تعین کرتے اور حکومتوں کو جواب دہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل کی غیر جانب داری جمہوری نظام کی بقا کا بنیادی تقاضا ہے۔
اگر کسی شہری کو یہ خدشہ لاحق ہو کہ اس کا نام انتخابی فہرست سے حذف کیا جا سکتا ہے، اس کے حق رائے دہی کو متاثر کیا جا سکتا ہے یا انتخابی عمل میں غیر منصفانہ مداخلت کا امکان موجود ہے تو اس تشویش کا سنجیدگی سے ازالہ ہونا چاہیے۔ ووٹ کی حرمت پر اٹھنے والا سوال کسی ایک جماعت کے انتخابی مفاد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔
رام لیلا میدان کی ریلی اسی حساس معاملے کو عوامی بحث کے مرکز میں لانے کی کوشش ہے۔ اس اجتماع میں اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت نے یہ پیغام ضرور دیا کہ مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی شفافیت کے مسئلے پر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کر سکتی ہیں۔ تاہم کسی اجتماع کی سیاسی اہمیت اور اس کے عملی نتائج دو الگ حقیقتیں ہیں۔ جلسے میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا نسبتاً آسان ہے لیکن اس اتحاد کو مستقل سیاسی حکمت عملی، قانونی جدوجہد اور قابل عمل انتخابی اصلاحات میں تبدیل کرنا کہیں زیادہ دشوار مرحلہ ہے۔ اپوزیشن کی حقیقی کامیابی کا انحصار اسی امر پر ہوگا کہ وہ وقتی جوش و خروش سے آگے بڑھ کر عوام کے سامنے واضح لائحۂ عمل پیش کرتی ہے یا نہیں۔ راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو انتباہ اور چیف الیکشن کمشنر کو جیل بھیجنے کے مطالبے نے ریلی کے سیاسی لہجے کو خاصا سخت بنا دیا۔
سیاسی احتجاج میں سخت مؤقف اختیار کرنا جمہوری حق ہے، لیکن محض سخت بیانات کسی الزام کو ثابت نہیں کر دیتے۔ جمہوری جدوجہد کی قوت نعروں کی بلندی سے زیادہ شواہد کی مضبوطی، قانونی مؤقف کی صحت اور عوامی اعتماد کی پائیداری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر انتخابی بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہیں تو انہیں مستند دستاویزات اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے سامنے لانا چاہیے۔ اسی طرح جن اداروں یا عہدے داروں پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ وہ ان اعتراضات کا واضح، مدلل اور قابل اعتماد جواب دیں۔ الزام اور تردید کے درمیان حقیقت تک پہنچنے کا راستہ شفاف تحقیق اور غیر جانب دارانہ احتساب ہی ہے۔ جمہوریت کا حسن یہ نہیں کہ اختلافات ختم ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود آئین کی بالادستی برقرار رہے۔ کسی بھی آئینی عہدے دار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ مقررہ قانونی اور آئینی طریقۂ کار کے مطابق ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی عداوت میں تبدیل کرنا یا قانونی عمل کو محض سیاسی انتقام کا ذریعہ بنانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اسی اصول کا اطلاق حکومت، اپوزیشن اور تمام آئینی اداروں پر یکساں ہونا چاہیے۔ قانون کی حکمرانی کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ کسی شخص کو اس کے منصب کی وجہ سے احتساب سے بالاتر نہ سمجھا جائے اور کسی کو سیاسی مخالفت کی بنیاد پر قانونی تحفظات سے محروم بھی نہ کیا جائے۔
اس معاملے میں الیکشن کمیشن کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انتخابی ادارے کی ساکھ صرف اس کے آئینی اختیارات یا انتظامی ڈھانچے سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل سرمایہ عوام کا اعتماد ہے۔ یہ اعتماد اسی وقت مستحکم رہ سکتا ہے جب انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، ووٹروں کے ناموں کے اندراج و اخراج، شکایات کی سماعت اور انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ اگر کسی شہری کا نام غلطی سے فہرست سے خارج ہو جائے تو اس کی بحالی کے لیے آسان اور مؤثر طریقہ موجود ہونا چاہیے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اعتراض اٹھایا جائے تو اسے محض سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی نوعیت اور شواہد کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔ آئینی اداروں کا احترام اور ان کی جواب دہی ایک دوسرے کے مخالف تصورات نہیں ہیں۔ درحقیقت جواب دہی ہی اداروں کے وقار کو مضبوط بناتی ہے۔ جو ادارہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کرنے، جائز اعتراضات کا جواب دینے اور اپنی کارروائی کو شفاف رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس پر عوامی اعتماد زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ اسی طرح تنقید بھی اسی وقت نتیجہ خیز بنتی ہے جب اس کی بنیاد قابل تصدیق حقائق پر ہو۔ نہ اداروں کو تنقید سے بالاتر قرار دینا درست ہے اور نہ ثبوت کے بغیر سنگین الزامات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب۔
جمہوری نظام کو ان دونوں انتہاؤں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ انتخابی شفافیت کی بحث میں عام شہریوں کے عملی مسائل کو بھی مرکزی اہمیت ملنی چاہیے۔ غریبوں، مزدوروں، اقلیتوں، خواتین اور نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے انتخابی فہرست میں نام کی غلطی یا اخراج محض دفتری کوتاہی نہیں، بلکہ سیاسی نمائندگی کے حق سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک ایسا شہری جو اپنے روزگار کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتا ہے، یا جس کے پاس ضروری دستاویزات تک رسائی محدود ہے، انتخابی کارروائیوں کی پیچیدگیوں سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا انتخابی اصلاحات کا مقصد صرف ادارہ جاتی طریقۂ کار کو بہتر بنانا نہیں، بلکہ ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کو حقیقی معنوں میں محفوظ بنانا بھی ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مذہبی اداروں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ عوام کو اپنے ووٹ کی قدر و قیمت سے آگاہ کرنا، انتخابی فہرستوں میں اپنے نام کی تصدیق کی ترغیب دینا اور کسی غلطی کی صورت میں قانونی مدد فراہم کرنا ایک مثبت شہری خدمت ہے۔ تاہم ایسی کوششوں کو جماعتی وابستگی اور مذہبی تقسیم سے بالاتر رہنا چاہیے۔ ووٹ کا حق ہر شہری کا حق ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، طبقے، زبان یا سیاسی نظریے سے ہو۔ اس حق کے تحفظ کے لیے اجتماعی بیداری ضروری ہے، کیونکہ جمہوریت کی مضبوطی صرف ایوانوں میں ہونے والی بحثوں سے نہیں، بلکہ شہریوں کی فعال شرکت سے بھی وابستہ ہے۔
رام لیلا میدان کی ریلی نے اپوزیشن کے سامنے ایک موقع ضرور پیدا کیا ہے، لیکن اس موقع کو دیرپا سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے اتحاد کی آزمائش اب شروع ہوتی ہے۔ مختلف جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات، ریاستی سطح کے سیاسی مفادات اور انتخابی رقابتیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر یہ جماعتیں انتخابی شفافیت کے مشترکہ مطالبے کو محض اقتدار کی سیاست تک محدود رکھیں گی تو اس مہم کی معنویت کمزور پڑ جائے گی۔ اس کے برعکس اگر وہ انتخابی اصلاحات، شفاف نگرانی، شکایات کے فوری ازالے اور ووٹر کے حقوق کے تحفظ کے لیے متفقہ تجاویز پیش کرتی ہیں تو یہ اجتماع ایک وسیع تر جمہوری تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری بھی اس ضمن میں کم نہیں۔ جمہوری نظام میں اختلافی آوازوں کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر مسترد کرنا مسائل کا حل نہیں۔ اگر عوامی سطح پر انتخابی عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہوں تو حکومت اور متعلقہ اداروں کو شفاف وضاحتوں اور مؤثر اصلاحات کے ذریعے ان کا ازالہ کرنا چاہیے۔ انتخابی نظام پر اعتماد کسی ایک جماعت کی کامیابی یا ناکامی کا معاملہ نہیں بلکہ اس نظام کے تمام شرکا کی مشترکہ ضرورت ہے۔ اقتدار میں موجود جماعت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ انتخابی عمل کی غیر جانب داری پر اٹھنے والے سوالات کو جمہوری احتساب کا حصہ سمجھے، نہ کہ ہر اعتراض کو سیاسی محاذ آرائی کا عنوان دے۔
بالآخر جمہوریت کی مضبوطی کا فیصلہ جلسوں کے حجم، نعروں کی گونج یا سیاسی رہنماؤں کے سخت بیانات سے نہیں ہوگا۔ اصل معیار یہ ہے کہ شہری کا ووٹ محفوظ ہے یا نہیں، انتخابی ادارے اپنے فرائض کتنی غیر جانب داری سے انجام دیتے ہیں اور شکایات کے ازالے کے لیے کتنا مؤثر نظام موجود ہے۔ رام لیلا میدان کا اجتماع اسی وقت حقیقی معنویت اختیار کرے گا جب اس کے مطالبات شواہد، قانونی جدوجہد اور عملی اصلاحات کی صورت میں آگے بڑھیں گے۔ ووٹ کی حرمت کا تحفظ کسی جماعت کی سیاسی فتح نہیں بلکہ جمہوری نظام کی اجتماعی کامیابی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر عوام کا اعتماد، آئینی اداروں کا وقار اور ملک کے جمہوری مستقبل کا انحصار ہے۔
مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com