سرزمین دکن میں قطب دکنؒ کی خانقاہی خدمات

سرزمین دکن میں قطب دکنؒ کی خانقاہی خدمات

سرزمین دکن میں قطب دکنؒ کی خانقاہی خدمات

مفتی عبدالمنعم فاروقی نبیرہ قطب دکنؒ
استاذ فقہ دارالعلوم اشرفیہ قلعہ گولکنڈہ حیدرآباد
9849270160

اللہ تعالیٰ نے سر زمین دکن میں جن اشخاص سے بیک وقت مدارس اور خانقاہوں کے ذریعہ دینی تعلیم اور اصلاح نفس کا گراںقدر کام لیا ہے ان میں نمایاں نام جنید وقت، قطب دکن حضرت مولانا شاہ محمد عبدالغفور قریشی ؒ تلمیذ رشید وخلیفہ اجل شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سابق شیخ الحدیث ازہر الہند دارالعلوم دیوبند کا آتا ہے،قطب دکن ؒ جنوبی ہند اور خصوصا حیدرآباد دکن (سابقہ ریاست نظام دکن) کے لئے انعام خداوی تھے ،آپؒ دارالعلوم کے ممتاز فضلاء میں شمار کئے جاتے تھے اور ارض دکن میں علم وعمل کے مینار ،اکابر کی یاد گار اور شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کے علمی وروحانی ورثے کے جانشین مانے جاتے تھے ،شیخ الاسلام ؒ ؒ اپنے شاگرد رشید اور محبوب خلیفہ پر مکمل اعتماد فرمایا کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے قطب دکنؒ کو علومِ ظاہری و باطنی دونوں کی دولت سے مالا مال فرمایا تھا ، معمولات و وظائف ،ریاضات ومجاہدات اور ذکر وشغل کی کثرت نے آپ کے قلب کو منور کردیا تھا،آپؒ کی شخصیت پر اپنے استاذ و شیخ کا رنگ غالب تھا ،قطب دکنؒ نے اپنی شبانہ روز کی محنتوں سے جنوبی ہند اور خصوصا ارضِ دکن میں جگہ جگہ مدارس دینیہ ومکاتب قرآنیہ قائم فرمایا اور اکابر کے نہج پر مختلف مقامات پر خانقاہی نظام کا احیا فرمایا ، وسائل کی قلت اور نامساعد حالات کے باوجود آپؒ نے امت مسلمہ کی تعلیم وتعمیر اور اصلاح وتربیت کا جس حسن و خوبی کے ساتھ فریضہ انجام دیا دکن کی تاریخ میں جس کی بہت ہی کم مثالیں ملتی ہیں،قطب ِ دکنؒ نے خانقاہی نظام کے ذریعہ جنوبی ہند کے طول وعرض میں( قرآن وحدیث سے ماخوذ) حقیقی تصوف کو نہایت واضح ودلنشین اور آسان پیرائے میں پیش فرما تے ہوئے لوگوں کو اس سے جوڑ کر ان کی اصلاح وتربیت فرمائی ،سلوک وتصوف دراصل اصلاح ِ نفس کا قرآنی نسخہ اور نبوی تعلیمات کا لازمی حصہ ہے مگر افسوس کہ بعض جاہل، دین سے ناواقف اور نبوی تعلیمات سے بے خبر نام نہاد صوفیوں نے اس میں بے اصل چیزوں کو شامل کرکے اسے بدنام کیا ہے اسی لئے سلوک وتصوف سے نا واقف بعض تعلیم یافتہ حضرات اس عظیم کام کو شریعت کے خلاف سمجھ کر اس سے متنفر ہو رہے ہیں حالانکہ طریقت کوئی الگ چیز نہیں بلکہ شریعت ہی کا ایک حصہ ہے، قطب دکن ؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ’’ طریقت، شریعت کے بغیر ایسی ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم ‘‘۔
قطب دکن ؒ اتباع سنت پر روز دیا کرتے تھے اور سالکین سے فرماتے تھے کہ ’’ ہر مسلمان پر اطاعت نبوی اور اتباع سنت لازم ہے اور اطاعت نبوی کے بغیر تقرب الٰہی کا تصور بھی محال ہے ، عبادات کے علاوہ عادات میں بھی نبوی اتباع آدمی کو محبت ومعرفت کی منزل تک پہچاتی دیتی ہے ،اس عمل کے نتیجہ میں دل پر گہرا اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے دل اخلاق رذیلہ سے متنفر اور خصائل حمیدہ سے متصف ہوجاتا ہے اور پھر دل میں ایک ایسی روشنی پیدا ہوجاتی ہے جو طاعات ومعصیت میں فرق وامتیاز کرنے لگتی ہے ،عبادات میں مٹھاس معلوم ہوتی ہے ،یاد الٰہی اور ذکر وشغل سے حد درجہ انس پیدا ہوجاتا ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی یاد الٰہی سے غفلت اور اطاعت نبوی ؐ سے دوری اس پر بجلی بن کر گرنے لگتی ہے چنانچہ اسی طرح کی کیفیت پیدا کرانے کو تزکیہ اور اصلاح نفس کہا جاتا ہے‘‘ ،رسول اللہؐ نے سب سے پہلے صحابہؓ کے نفوس کی اصلاح اور ان کے قلوب کا تزکیہ فرمایا تھا ،رسول اللہؐ کی پاکیزہ صحبت اور بابرکت معیت نے صحابہ ؓ کے ظاہر کے ساتھ ان کے باطن کو بھی مزکی ،مجّلیٰ اور مصفّی کر دیا تھا ، صحابہؓ کے متعلق سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا : جو شخص اقتدا ء کرنا چاہتا ہے اس کو چا ہئے کہ اصحاب رسول ؐ کی اقتداء کرے کیونکہ یہ حضرات ساری امت سے زیادہ اپنے قلوب کے اعتبار سے پاک اور علم کے اعتبار سے گہرے اور تکلف وبناوٹ سے دور اور عادات کے اعتبار سے معتدل اور حالات کے اعتبار سے بہتر ہیں۔یہ وہ اشخاص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ؐ کی صحبت اور دین کی اقامت کے لئے پسند فرمایا ہےتو تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے اثار کا اتباع کرو کیونکہ یہی لوگ مستقیم طریق پر ہیں ۔
مشکوۃ نبوت سے دوری ،خیر القرون سے بُعد اور مادہ پرستی کے غلبہ کی وجہ سے بعد والوں کو تزکیہ نفس و اصلاح قلب کے لئے باضابطہ خانقاہی نظام قائم کرنا پڑا تاکہ طالبان طریقت اپنے باطن کی اصلاح وتربیت کر سکیں، خانقاہوں میں بیٹھ کر مشائخین نے اپنے اپنے زمانہ اور علاقہ میں ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کی کامیاب تربیت فرمائی اور انہیں گمراہی سے ہدایت کہ راہ پر گامزن کیا ،جس طرح ماہرین علوم طالبان علوم کو علوم وفنون میں مہارت کی تعلیم دیتے ہیں اسی طرح مشائخین وصوفیہ اپنے زیر تربیت لوگوں کو اخلاق ِحمیدہ اختیارکرنے اور اخلاق رذیلہ سے بچنے کی عملی تربیت دیتے ہیں ،اخلاق فاضلہ توکل ، صبر ،شکر ،قناعت ،شجاعت،ایثار، حلم ،عفو، تواضع ، احسان،شفقت ،تسلیم ،رضا،امانت ،خوف رجاء،صدق ،اور اخلاص کا نام ہے ،اور اخلاق رذیلہ بخل،حسد ،غضب ،حقد، حرص ،کذب،ریا،جدال عجب،تکبر ،غیبت،چغلی اور حب جاہ کا نام ہے ، قرآن وحدیث میں اخلاق حسنہ اختیار کرنے اور اخلاق سیئہ سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ،ہر مربی کا اپنا انداز ہوتا ہے مگر ہر ایک کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے ،خانقاہوں میں مشائخین ومصلحین جس انداز سے اپنے مریدین کی اصلاح وتربیت کرتے ہیں ان کاایک خاص انداز ہوتا ہے، مشائخین طالبان معرفت کو سب سے پہلے ذکر وشغل کے ذریعہ خدا کی یاد کراتے ہوئے اس کی عظمت وکبریائی کا تصور دل میں بٹھاتے ہیںاور بتاتے ہیں کہ انسان کی پیدائش کا مقصد خدا کی یاد اور اس کی عبادت واطاعت ہی ہے ، وہی ذات ہے جو تمام عبادات کے لائق ہے اور وہی ہے جو تمام تر تعریف کے حقدار ہے ،وہ ہمارے ہر عمل سے باخبر ہے اور ہر آن ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے ،کوئی چیز اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں وہ بڑی قدرت وطاقت کا مالک ہے ، پھر اس کے بعد انسان کی اپنی پہچان کر وائی جاتی ہے کہ وہ کس قدر بے بس اور لاچار ومجبور ہے ،اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ،انانیت ،غرور وتکبر ، بڑائی وبرتری اُسے زیب نہیں دیتی، یہ چیزیں انسان کو شیطان بنا دیتی ہیں اور راہِ حق سے دور کردیتی ہیںدوسری مخلوقات پر اس کی برتری رب کی عبادت واطاعت میں پوشیدہ ہے ،اچھے اوصاف اور اخلاق حمیدہ درحقیقت اس کا جوہر اور اس کا پوشیدہ خزانہ ہے ،دنیا اور دنیا کی زیبائش وآسائش عارضی ہے اس کا اصل ٹھکانہ تو جنت اور وہاں کے محلات وباغات ہیں ،طالبان معرفت اپنی استعداد کے مطابق جیسے جیسے منازل طے کرتے جاتے ہیں ویسے ویسے انہیں مقامات عالیہ نصیب ہوتے جاتے ہیں اور پھر آگے بڑھتے بڑھتے اسے معرفت حق نصیب ہوتی ہے اور درحقیقت یہی اس کی معراج ہے ۔
قطب دکنؒ نے سر مین دکن ہی میں نہیں بلکہ تقریبا پورے جنوبی ہند میں اکابر کے نہج پر خانقاہی نظام کا احیاء فرمایا ،آپؒ نے خانقاہی نظام کا احیاء فرماکر لوگوں کو معرفت حق سے جوڑنے کی بھر پور سعی فرمائی ،ساتھ ہی ان تمام چیزوں سے محفوظ رکھنے کی بھر پور کوشش کرتے رہے جو بد قسمتی سے سلوک و تصوف کے نام پر اس میں جوڑ دی گئی ہیں، آپ ؒ نے ذکر وسلوک کی مجالس کے ذریعہ تعلیمات عرفان کو عام فرمایا،آپ ؒ مجالس ذکر میں اپنے دلنشین عالمانہ ،عارفانہ وناصحانہ وعظ میں ذکر وشغل کی فضیلت و اہمیت بیان فرماتے ، سنت رسول ؐ کی عظمت سے دلوں کو روشن فرماتے ،بدعات وخرافات کی قباحت وشناعت کو اجاگر کرتے اور دنیا کی حقیقت بتاکر انہیں آخرت کی طرف متوجہ کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قطب دکن ؒ کی اصلاحی وتربیتی مجالس کو غیر معمولی مقبولیت عطا کی تھی، آپؒ کی مجلس گویا تعلیمات ِ علم وعرفان کی عظیم درسگاہ ہوتی تھی جہاں ہر دم طالبان حق کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا تھا ،آپ ؒ کی مجالس میں لوگ پروانوں کی طرح سمٹ کر آیا کرتے تھے اور آپ کے عارفانہ مو اعظ سے فیض یاب ہو کر اپنے قلوب کو محبت الٰہی سے منور کرتے تھے، آپ ؒ کو طالبان حق کی تربیت کا ایک خاص ملکہ حاصل تھا جو ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں شریک ہوتا تھا وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا ،حقیقت یہ ہے کہ آپ ؒ نے قوت روحانی ،نور باطنی اور مواعظ حسنہ کے ذریعہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کو گرمایا اور ان کے قلوب میں معرفت الٰہی کی شمع روشن کی ،آپ ؒ نے دن ورات ،صبح وشام جہد مسلسل کے ذریعہ دوردور تک لوگوں کی اصلاح وتربیت فرمائی ، آپ ؒ نے تلنگانہ ،آندھرا ،مہاراشٹر ا ،کرناٹک اور ٹملناڈو بلکہ پورے جنوب میں باضابطہ خانقاہی نظام کو فروغ دے کر لاکھوں جسموں میں شریعت کے ساتھ طریقت کی روح پھونک دی ،بے شمار زبانوں کو ذکر الٰہی سے منور اور ان گنت دلوں کو معرفت الٰہی سے معمور فرمادیا ۔
قطب دکنؒ نے طالبان علوم احسان کی یکسوئی کے ساتھ تعلیم و تربیت کی خاطر متحدہ آندھرا کے علمی وادبی مرکزی شہر حیدرآباد میں ۱۹۸۳ ء باضابطہ خانقاہ تعمیرفرماکر اسے ’’خانقاہ چشتیہ صابریہ ‘‘ سے موسوم کیا ، خانقاہ چشتیہ صابریہ کی مستقل عمارت کی تعمیر کے بعد تو مستفیدین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگا تھا ،خانقاہ چشتیہ صابریہ میں لوگ دور دراز سے آکر قیام کرتے تھے،خانقاہ میں روزانہ ذکر جہری ہوتا تھا ،خانقاہ میں مقیم افراد کے علاوہ قرب وجوار کے لوگ بھی مجلس ذکر میں حاضر ہوتے تھے،مستفدین اور اصلاح کے خواہش مند چند روز قیام کے بعد اپنے ظاہر وباطن میں نمایاں تبدیلی محسوس کرتے تھے اور اپنے ظاہر کو سنت نبوی سے مزین اور اپنے باطن کو مزکیٰ ہوتا ہوا دیکھتے تھے ، قطب دکنؒ جن ایام میں خانقاہ میں ہوتے تھے تو اس وقت لوگوں کا ایک ہجوم ہوتا تھا ، قطب دکنؒ کے علوم ومعارف سے بھر پور خطابات سے لوگ مستفید ہوتے تھے اور کبھی کسی ایک عنوان پر خطاب شروع ہوتا تھا تو کم وبیش تہجد تک اس کا سلسلہ جاری رہتا تھا ،حقیقت یہ ہے کہ قطب دکنؒ کے دور کی مجالس کی نورانی وروحانی کیفیات کو ضبط تحریر کرنا بہت مشکل ہے ۔
ایسا بہت کم سننے اور دیکھنے میں آیا ہوگا کہ کسی ولی اللہ کے آستانے پر کسی شیخ کامل نے لوگوں کی تربیت واصلاح اور دلوں کو گرمانے کے لئے مجلس ذکر منعقد کی ہو ،بلکہ عموما اولیاء اللہ کے آستانوں اور درگاہوں پر وہ نظارے دیکھنے میں آتے ہیں جن کا نہ شریعت سے واسطہ ہوتا ہے اور نہ ہی ان خوابگاہوں میں آرام کرنے والوں کی تعلیمات سے اسکے اشارات ملتے ہیں ،ان خرافات کے پیچھے شیطان لعین کی شرارت ہوتی ہے یا پھر ان لوگوں کی کارستانی ہوتی ہے جن کا کچھ ذاتی ومالی مفاد پوشیدہ ہوتا ہے ،یہ لوگ سیدھے سادھے ،بھولے بھالے ،شرعی علوم سے ناواقف اور تعلیمات اولیاء سے نابلد عقیدت مندوں کو صاحب مزار سے محبت وقربت نیز حصول مراد کا ذریعہ بتاکر وہ کام کرواتے ہیں اور بذات خود اس کی نگرانی کرتے ہیں جس کا دین اسلام میں تصور تک نہیں ہوتا ،بلکہ ان ہوس پرستوں اور زر کے پجاریوں نے آستانوں پر کئے جانے والے خرافات اور بے ہودہ عمل کو ایسا بڑھا چڑھاکر پیش کیا ہے کہ عامی لوگ اسے دین سمجھ بیٹھے ہیں اور اس پر نکیر کرنے والوں کو گستاخ اولیاء کی صف میں ٹہرا کر ان پر عظمت اولیاء کے منکر ہونے کا لیبل لگاد دیتے ہیں ، قطب دکن ؒ مجالس ذکر وسلوک کے لئے کبھی بعض اولیاء اللہؒ کے آستانوں کا انتخاب فرماتے تھے اور وہاں ایک روزہ ،دوروزہ یا پھر سہ روزہ اصلاحی مجالس کا اہتمام فرمایا کرتے تھے جن میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوکر استفادہ کرتے تھے ،بعض مقامات پر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ انوار وبرکات سے بھر پور ان مجالس کو دیکھ کر زائرئین کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہوجاتی تھی اور پھر مواعظ حسنہ کا اثر ان کے قلوب پر ایسا ہوتا تھا کہ وہ حلقہ ارادت میں شامل ہوجاتے تھے اور آگے چل کر شریعت کے سچے متبع بن جاتے تھے اور اولیاء اللہؒ سے عملی محبت میں غرق ہوکر زندگی کو حقیقی معنیٰ میں بندگی بنالیتے تھے ،اس طرح قطب دکنؒ کی حکمت عملی سے آستانوں کے مجاور نفس کے مجاہد اور دین اسلام کے سپاہی بن جاتے تھے ، جو لوگ ابتداء میں قطب دکنؒ کے اس اقدام پر دبے الفاظ میں اعتراض کیا کرتے تھے مجلس ذکر وسلوک کے اختتام پر لوگوں میں نمایاں تبدیل دیکھ کر اعترافاً کہا کرتے تھے کہ قطب دکنؒ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے وہ فہم وفراست عطا کی ہے جو ہر زمانے میں چنندہ بندوں کو دی جاتی ہے ،ان کی حکمت برودت نے وہ انگارے بجھائے ہیں جنکو بجھانے کے لئے دریا بھی ناکافی ہوچکے تھے ۔
قطب دکنؒ جس جگہ قیام پذیر تھے وہ علاقہ شیعیت اور بدعت کے جراثیم سے پوری طرح گھرا ہواتھا ، بے شمار لوگ بدعت وشیعیت کے دلدل میں پھنس کر زندگی گزار رہے تھے ،ان کے آباواجداد نے ایسی چیز کا انہیں عادی بنادیا تھا جسے وہ دین کا جزو لام سمجھ بیٹھے تھے،اگر کوئی ان کے سامنے اس کی شناعت کو اشارتاً وکنایتاً بیان کرنے کی کوشش کرتا تو وہ اس شخص پر ایسے ٹوٹ پڑتے جیسا کہ قوی کمزور پر ٹوٹ پرتا ہے ، قطب دکنؒ نے جب یہاں کے لوگوں کی بے دینی اور بُرائی پر سینہ زوری کو محسوس کیا تو اپنے شیخ یعنی شیخ الاسلامؒ کی اجازت وحمایت او ر نیت خالص لے کر توکل علی اللہ کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑے ،کہتے ہیں کہ انسان کی نیت اس کا راستہ ہوتی ہے ،وہ جیسی نیت کرتا ہے ویسا ہی راستہ اس کے لئے ہموار ہوتا جاتا ہے ، قطب دکنؒ اول تو لوگوں میں اس طرح گھل مل جاتے تھے گویا وہ ان کے ہم مزاج ہیں ،پھر لوگوں کی قربت کا فائدہ اٹھاکر انہیں وہاں لے جاتے تھے جہاں سے انہیں انسیت ہوتی تھی ، اولیاء اللہ ؒ سے محبت کون نہیں کرتا بلکہ لوگ فرط محبت میں ان کے آستانوں پر بکثرت حاضری دیا کرتے ہیں ، قطب دکنؒ نے ان کی اصلاح وتربیت کے لئے انہیں مقامات کا انتخاب فرمایا ،بعض اہل علم کے اشکال کرنے پر انہیں ایسا جواب دیا کہ وہ لاجواب ہو کر رہ گئے ،فرمایا تم لوگ نہیں جانتے کہ یہ لوگ کس مرض میں مبتلا ہیں ،درحقیقت یہ لوگ بدعت وشیعیت اور فضولیات و خرافات میں سرتاپا ڈوبے ہوئے ہیں ،ان کی مثال اس مریض کی سی ہے جو انتہا ئی مرض کو پہنچنے کے باوجود اس چیز سے پر ہیز کرنے کے لئے تیار نہیں جس نے اس کو اس مقام تک پہنچایا ہے ،چنانچہ جو طبیب ماہر ہوتے ہیں وہ ایسے مریض کو دوا اسی رنگ میں دیتے ہیں جس رنگ کا وہ عادی ہوتا ہے ،میں انہیں بزرگوں کے آستانوں پر محض اس لئے لے جاتا ہوں کیونکہ وہ ان مقامات سے انس رکھتے ہیں مگر تعلیمات وہی ہوتی ہیں جسے صاحب مزار نے بتانے میں اپنی زندگی لگادی تھی اور اسی پر عمل کی ترغیب دیتا ہوں جس پر عمل کرکے صاحب مزار ولایت کا درجہ پایا تھا،قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر بروقت ان کی رہنمائی ورہبری نہ کی جاتی تو یہ ایسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں ان کا ایمان ان سے رخصت ہوجائے گا ۔
قطب دکنؒ کو یوں تو تمام اسلامی علوم وفنون پر عبور حاصل تھا مگر آپ ؒ کی شخصیت پر سلوک وتصوف کا رنگ غالب تھا چنانچہ آپ ؒ نے تصنیف وتالیف کے میدان میں بھی اسی موضوع کو منتخب فرمایا ،اگر چہ زمانہ قدیم ہی سے اس موضوع پر بہت سی کتابیں تصنیف وتالیف کی گئی ہیں مگر ان میں سے بیشتر کتابیں ادق ہونے کی وجہ سے قارئین انکے مضامین سمجھ نہیں پاتے، موجودہ دور میں اس موضوع پرسادہ اور عام فہم مضامین وتصنیفات کی اشد ضرورت تھی جو اس موضوع کو سمجھنے کے ساتھ قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواسکیں ،چنانچہ آپ ؒ نے اکابر کے نہج کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں نہایت آسان اور بے حد دلنشین انداز میں سلوک واحسان اور شریعت وطریقت کے مضامین کو اس طرح تحریر فرمایا کہ سلوک کا ادنی طالب علم بھی ان کو بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے ،آپ ؒ نے تصوف کے موضوع پر جملہ دس کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن کے نام یہ ہیں(۱) فیوضات ِ مدنیہ،(۲)حدیث تصوف ،(۳)صحبتے با اولیاء،(۴)شیخ کامل ،(۵)انوار القلوب ،(۶)بندہ نوازی تصوف،(۷)مضامین تصوف،(۸)وضاحت تصوف،(۹)رہبر سلوک اور(۱۰) احادیث تصوف ،ان کتابوں میں آخر الذکر کتاب سب سے زیادہ ضخیم ہے ،یہ ۸۲۶صفحات پر مشتمل ہے ،اس میں آپ نے ان احادیث کی تشریح وتوضیح کی ہے جن سے سلوک وتصوف کی اہمیت وضرورت کے ساتھ اولیاء کرام کے اوراد ووظائف اور معمولات کی سند ملتی ہے۔
ہوا تھی گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا تھا
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دئے تھے اندازِ خسروانہ

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے