حج ایک کمیونسٹ کا؟
’میرے اللہ !میں حاضر ہوں‘
ازقلم:عبدالعزیز
ہم سب جانتے ہیں کہ حج کے اعمال میں سب سے پہلا عمل احرام ہے۔ حاجی اسوقت تک میقات سے نہیں گزرسکتا جب تک وہ اپنا لباس اتار کر احرام نہ باندھ لے۔ یہ ایک فقیرانہ لباس ہے جس میں آدمی ایک تہمد باندھ لیتا ہے۔ ایک چادر کندھوں پر ڈالتا ہے اور سر ننگا رکھتا ہے۔ یہ اس عمل کی ظاہری صورت ہے مگر اس عمل میںمعنی کا ایک سمندر پوشیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ حج شروع کرانے سے پہلے ہمارے وہ سارے لفافے اتروا دیتا ہے جو ہم نے اپنے وپر ڈال رکھے ہیں۔ جن کے اندر ہم میں سے ہر ایک نے اپنے آپ کو اپنی اصل حقیقت سے کچھ نہ کچھ زائد بنا رکھا ہے۔ اللہ اپنے بندے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ تم بندے ہو اور بندے سے بڑھ کر تم کچھ بھی نہیں ہو۔ لہٰذا میرے دربار میں حاضر ہونا چاہتے ہو تو صرف بندے بن کر آؤ۔ تم کہیں کے وزیر ہو، رئیس ہو، بادشاہ ہو، صدر مملکت ہو، کوئی جنرل ہو، جو کچھ بھی ہو، ہوتے رہو میرے حضور میں تمہیں اپنی ساری حیثیتیں ختم کرکے صرف ایک بندے کی حیثیت سے حاضر ہونا ہوگا۔ اس طرح احرام کا یہ لباس بندہ کو بندگی کے مقام پر لاکھڑا کردیتا ہے، اس کا نشان امتیاز مٹا دیتا ہے اور ایک بڑے سے بڑے شخص کو ایک ادنیٰ آدمی کی سطح پر لے آتا ہے۔ احرام کی حالت میں حاجیوں کے کسی مجمع پر نگاہ ڈال کر دیکھیں تو آپ کو کسی طرح یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ کون اونچا اور کون نیچا ہے، کون امیر ہے کون غریب، کون وزیر ہے کونچپراسی ۔اللہ کے دربار میں سب ایک طرح کے فقیر نظر آئیں گے۔ یہ حج کی پہلی تعلیم ہے جو کوئی سیکھنا چاہے تو سیکھ سکتا ہے۔ بندگی کی شان حاصل کرنا چاہے تو حاصل کر سکتا ہے۔ راقم کو یاد ہے ایک صاحب ثروت ، کارخانہ دار کلکتہ سے تعلق رکھتے تھے ہر سال اپنے کسی نہ کسی ملازم کو اپنے خرچ سے حج کیلئے بھیجتے تھے۔ خود لندن، پیرس کی سیر کرنے جاتے تھے مگر انہیں کبھی خیال نہیں آیا کہ اللہ کی بندگی کی شان حاصل کرنا چاہئے۔ آپ پوچھیں گے کہ کیا کسی امیر کا جو سفر حج کے اخراجات برداشت کرسکتا ہے اگر وہ حج نہ کرے اور ساری عبادتیں کرے تو وہ اللہ کی بندگی کی شان حاصل نہیں کرسکتا ؟جی ہاں، نہیں کرسکتا۔ بندگیِ رب ایک فریضہ ہے جس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بالکل صاف صاف ہے کہ
’ ’جو شخص زاد راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو اور پھر حج نہ کرے تو اسکا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے۔‘ ‘ اللہ فرماتا ہے کہ ’’اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے ،جس نے کفر کیا تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘ اس کی تفسیر حضرت عمرؓ نے کی۔ آپؓ نے کہا کہ’ ’جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگادوں، وہ مسلمان نہیں ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔‘‘
فرمان خداوندی، ارشاد نبویؐ اور صحابہ کرام ؓ کی تنبیہات سے یہی حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کرکے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہئے۔ ایسے لوگ کعبۂ یورپ کو آتے جاتے حجاز ساحل سے بھی گزر جاتے ہیں ،جہاں سے مکہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دل میں نہیں گزرتا وہ قطعاً مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،وہ قرآن سے جاہل ہے جو انہیں مسلمان سمجھتا ہے۔ ان کے دل میں مسلمان کا درد اٹھتا ہے تو اٹھا کرے۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہر حال ان کے دل میں نہیں ہے۔
بات عبد الرزاق ملا کی شروع نہیں ہوئی۔ اب شروع کرنا چاہتا ہوں۔ وہ کمیونسٹ ہیں کمیونسٹ مارکس اور لینن کے ذہن کی پیداوار ہیں۔ ایک مذہب کو افیون بتاتا ہے اور ایک کا کہنا ہے کہ جب خدا بویا ہی نہیں گیا تو کاٹا کیسے جائے گا۔
عبد الرزاق ملا کے دل میں مسلمانوں کا درد اٹھتا ہے اور وہ اللہ کی اطاعت بھی کرتے ہیں اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ ان کے دل میں امنڈ آتا ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ جس شخص نے دھوتی اور کرتے میں زندگی گزاردی اسے احرام باندھنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوا۔ احرام میں کئی روزوشب گزارا۔
جو لوگ ان کے ہم سفر رہے ان کا کہنا ہے کہ بڑی سی بڑی پریشانی میں بھی چیں بہ جبیں نہیںہوئے۔ خندہ پیشانی سے ہر تکلیف کو برداشت کرتے رہے اور سارے فرائض خوش اسلوبی سے پورے کئے۔ کبھی ان کو احساس نہیں ہوا کہ وہ ممبر اسمبلی ہیں، لیڈر ہیں۔ مغربی بنگال کی مضبوط مارکسی حکومت کے وزیر محصولیات (Revenue Minister) رہ چکے ہیں۔
ملا صاحب نے حاجیوں کے ساتھ ہر موقع ہر جگہ اس تلبیہ کو بھی دہراتے رہے۔ ’’میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں،میں حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں،میں حاضر ہوں۔ یقینا ساری تعریف تیرے ہی لئے ہے۔ سارے احسانات تیرے ہی ہیں، بادشاہی سراسر تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘
تلبیہ کے ایک ایک لفظ پر غور کیجئے ان کے اندر یہی معنی تو پوشیدہ ہے کہ غلام کو اس کے آقاہر بندۂ مومن میں یہ کیفیت پیدا کرنا ہے کہ وہ اللہ کی رضا کیلئے ہر آسائش سے دست کش ہونے اور اس کی راہ میں زحمت اٹھانے کیلئے تیار ہوجائے۔یہی اللہ پر ایمان لانے کا تقاضا ہے۔یہی بندگی کے معنی ہیں اور یہی عبادت کی روح ہے۔ اس عبادت کے دوران میں جوشخص ان ساری تکلیفوں کو پورے اطمینان اور قلب و روح کی پوری مسرت کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اپنے ساتھ کے حاجیوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کرتا بلکہ سخت کشمکش کے مواقع پر بھی صبر و ضبط سے کام لیتا ہے اور خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچاتا ہے وہ حج کا ثواب لوٹ لیتا ہے۔اور اس کے بر عکس جو شخص اپنی بے آرامی پر چیں بہ جبیں ہوتا ہے، ہر زحمت پر کبیدہ خاطر ہوتا ہے اور ساتھ کے حاجیوں سے آرام کی خاطر مزاحمت کرتا ہے اور لڑتا جھگڑتا ہے ،وہ حج کے ثواب کو ضائع کردیتا ہے۔ اس کے حصے میں مشقت ہی رہ جاتی ہے۔اجر ہوا میں اڑجاتا ہے۔ اور یہ بات صحیح ثابت ہوتی ہے۔کہ ؎ خر عیسٰی بہ مکہ برند ہنوز خرباشد ۔
محترم حاجی عبد الرزاق ملا کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں (Comrades) کو حج کی حقیقت سے قولاً و عملاً روشناس کرائیں اگر وہ کراسکے تو بڑا کام ہوگا۔ مگر وہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوکر ہی کر سکتے ہیں۔اگر پورے داخل ہوئے بغیر سمجھانے کی کوشش کرینگے تو شاید یہ کوشش بار آور نہ ہو کیونکہ نامکمل بندگی ناقص ہوتی ہے وہ دوسروں کیلئے متاثر کن نہیںہوتی۔ میرے خیال سے ملاصاحب کو’’ کمیونسٹ مسلمان ‘‘کہنے یا’’ مسلمان کمیونسٹ ‘‘کہنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ جب کوئی’’ کمیونسٹ کانگریسی‘‘، ’’کانگریسی کمیونسٹ‘‘،’’ سرمایہ دار کمیونسٹ‘‘ یا’’ کمیونسٹ سرمایہ دار‘‘ نہیںہوسکتا ہے تو بھلا کیسے کوئی مسلمان کمیونسٹ یا کمیونسٹ مسلمان ہوسکتا ہے؟ملا صاحب کے بارے میں یہ کہنا درست ہوگا کہ کمیونسٹ کا نہیں مسلمان کا حج ہے کیونکہ اگر وہ اندر سے مسلمان نہیںہوتے اور کمیونزم کا لبادہ اتارکر نہ پھینک دیتے تو میرا خیال ہے کہ ان کی طلبی نہیں ہوتی اور نہ وہ یہ کہہ پاتے کہ ’’اللہ میں حاضر ہوں۔‘‘
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
