آتش بازی اور اسلام
(جانی و مالی نقصانات اور سخطِ الٰہی)
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ
اسلام ایک ہمہ گیر دین اور مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس نے انسانی زندگی کے جملہ شعبوں کے لیے ایسے اصول و ضوابط عطا کیے ہیں جن میں انسان کی دنیوی فلاح، اخروی سعادت، اصلاح معاشرہ اور اخلاقی تطہیر مضمر ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا دائرہ صرف عبادات و معاملات تک محدود نہیں، بلکہ انسانی عادات، معاشرے کے رسوم، خوشی و مسرت کے مظاہر اور روزمرہ زندگی کے معمولات بھی اس کے احاطۂ ہدایت میں شامل ہیں۔
اسلام انسان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ، نعمتوں کے استعمال کا قرینہ، مسرت کے اظہار کا طریقہ اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری کا شعور عطا کرتا ہے۔ اس کا بنیادی منہج یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے اوقات، اپنی محنت سے حاصل کردہ دولت اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو ایسے کاموں میں صرف کرے جن میں کوئی حقیقی منفعت، دنیوی مصلحت یا اخروی سعادت مضمر ہو۔ جن اعمال و رسوم میں نہ کوئی قابلِ اعتنا فائدہ ہو، نہ کوئی مثبت ثمرہ، بلکہ ان سے مال کا اتلاف، انسانی جان کو خطرہ، معاشرتی اضطراب اور دوسروں کے لیے ایذا رسانی کا اندیشہ ہو، ان سے اجتناب اسلامی تعلیمات کا مقتضیٰ ہے۔
اسی تناظر میں ہمارے معاشرے میں رواج پذیر ایک ایسی رسم قابلِ توجہ اور لائق اصلاح ہے جس نے رفتہ رفتہ خوشی و مسرت کی مختلف تقریبات میں اپنی جگہ بنالی ہے، اور وہ ہے آتش بازی
شادی بیاہ کی تقریبات ہوں، ولیمہ کی محفلیں ہوں، بچوں کی ولادت اور عقیقہ کی خوشیاں ہوں، کسی امتحان میں کامیابی ہو، کوئی شخص کسی منصب پر فائز ہو، نئی گاڑی خریدی جائے، کسی کا استقبال مقصود ہو یا کسی ادارے اور تنظیم کے انتخابات میں کامیابی حاصل ہو؛ ان تمام مواقع پر آتش بازی کو اظہارِ مسرت کا ایک ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض مقامات پر مسجدوں کی کمیٹیوں کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بھی آتش بازی کو خوشی کا حصہ بنایا گیا ہے ، گویا دینی اداروں سے وابستہ تقریبات بھی اس غیر ضروری رسم سے محفوظ نہیں رہیں۔
خوشی انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور اسلام خوشی کے جائز اظہار سے منع نہیں کرتا؛ تاہم اسلامی تعلیمات کی رو سے خوشی کا اظہار بھی حدودِ شرع، اعتدال اور تہذیب و شائستگی کا پابند ہے۔ محض اظہارِ مسرت کے لیے دولت کو آتشِ بے فائدہ کی نذر کرنا، ماحول کو شور و غوغا سے مکدر کرنا اور انسانی جان و مال کو خطرات سے دوچار کرنا کسی مہذب اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظہر نہیں۔
آتش بازی کی تاریخی ابتدا
آتش بازی کی ابتدائی تاریخ قدیم چین سے وابستہ ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق اس کی ابتدائی صورت بانس کے کھوکھلے ٹکڑوں کو آگ میں ڈالنے سے پیدا ہونے والی دھماکے کی آواز تھی۔ قدیم چینی معاشرے میں یہ تصور رائج تھا کہ اس آواز کے ذریعہ بدروحوں اور بری قوتوں کو دور بھگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ بعض تہواروں اور نئے سال کی تقریبات میں بانس کے ٹکڑوں کو آگ میں ڈالنے کا رواج پیدا ہوا۔
بعد ازاں نویں صدی عیسوی کے لگ بھگ چینی کیمیا دانوں کے تجربات کے نتیجے میں بارود کی دریافت ہوئی۔ شورہ، گندھک اور کوئلے کے امتزاج سے تیار ہونے والے اس مادے نے آتش بازی کو ایک نئی جہت عطا کی۔ رفتہ رفتہ بانس کے ٹکڑوں کی جگہ بارود سے بھرے ہوئے کاغذی پٹاخوں نے لے لی اور اس فن میں مزید ترقی ہوتی چلی گئی۔
چین سے یہ فن دوسرے علاقوں تک پہنچا اور مختلف معاشروں میں شاہی تقریبات، تہواروں اور جشن و سرور کی محفلوں کا حصہ بنتا گیا۔ بعد کے ادوار میں کیمیائی اجزاء کے استعمال سے مختلف رنگوں، روشنیوں اور شعلوں کی صورتیں پیدا کی گئیں، یہاں تک کہ جدید آتش بازی کی موجودہ شکل وجود میں آگئی۔
اس تاریخی پس منظر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آتش بازی ایک تہذیبی و معاشرتی رواج کے طور پر مختلف اقوام میں پروان چڑھی؛ اس کا اسلامی عبادات، شعائر یا دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمانوں کے لیے اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اسلامی اقدار کے مطابق مرتب کرنا ضروری ہے، نہ کہ ہر رائج معاشرتی طریقہ کو بلا امتیاز اپنا لیا جائے۔
اسلام کا مزاج اور بے مقصد مشاغل
اسلام کا مزاج سنجیدگی، مقصدیت، اعتدال اور نفع رسانی سے عبارت ہے۔ وہ انسان کو ایسی زندگی بسر کرنے کی ترغیب دیتا ہے جس کا ہر شعبہ کسی نہ کسی مثبت غایت سے وابستہ ہو۔ مال اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور امانت ہے، اس لیے اس کا مصرف بھی حکمت و بصیرت کے مطابق ہونا چاہیے۔
جو دولت کسی بھوکے کی شکم سیری، کسی بیمار کے علاج، کسی یتیم کی کفالت، کسی طالب علم کی تعلیم اور کسی بے سہارا کی دست گیری میں صرف ہوسکتی ہے، اسے چند لمحوں کی بے ثمر نمائش میں صرف کردینا محرومیِ بصیرت ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا : ترجمہ: اور فضول خرچی نہ کرو (سورۃ الإسراء)
اسی آیت کے بعد ارشاد فرمایا: إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا : ترجمہ: بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے (سورۃ الإسراء)یہ اسراف و تبذیر کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہے۔ مال کو بے محل اور بے مقصد صرف کرنا محض مالی بے اعتدالی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کی ناقدری بھی ہے۔
ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے: وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ : ترجمہ: اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا (سورۃ الأعراف)
ان ارشادات کی روشنی میں مسلمان اپنی مسرتوں کو بھی حددِ اعتدال کا پابند رکھے۔ خوشی کے مواقع پر مال کا بے جا استعمال، نمود و نمائش اور بے فائدہ رسوم کی ترویج اسلامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔
آتش بازی کےجانی، مالی مفاسد
آتش بازی کا ایک نہایت تشویش ناک پہلو اس کے وہ مہلک نتائج ہیں جو بسا اوقات ایک لمحے میں کسی خاندان کی پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ بارود کے دھماکے، آگ کے شعلے اور فضا میں بکھرتی ہوئی چنگاریاں بظاہر چند لمحوں کی تفریح معلوم ہوتی ہیں، لیکن ان کے پس پردہ ایسے خطرات پوشیدہ ہیں جن کا خمیازہ بعض اوقات عمر بھر بھگتنا پڑتا ہے۔
یہ ایک ایسا مشغلہ ہے جس میں خوشی منانے والا شخص صرف اپنی ذات کو نہیں، بلکہ اپنے گرد و پیش میں موجود معصوموں اور دیگر افراد کو بھی خطرات سے دوچار کردیتا ہے۔ ذرا سی غفلت، معمولی بے احتیاطی یا بارود کے غیر متوقع دھماکے سے ایسا حادثہ رونما ہوسکتا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں رہتا۔
بچوں کی بینائی اور جسمانی سلامتی
آتش بازی کے حادثات میں بچوں کا متاثر ہونا نہایت المناک صورتِ حال ہے۔ بچے اپنی کم عمری اور ناتجربہ کاری کے باعث بارودی مادوں کے خطرات کا صحیح ادراک نہیں رکھتے۔ وہ چمکتی ہوئی روشنیوں اور پٹاخوں کی آوازوں سے متاثر ہوکر انہیں کھیل کا سامان سمجھ بیٹھتے ہیں، جب کہ ان کے ہاتھوں میں دیا جانے والا یہی سامان ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
پٹاخوں کے ذرات آنکھوں میں داخل ہوجائیں تو بینائی جزوی یا کلی طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔ ہاتھ، چہرہ اور جسم کے دیگر اعضاء جھلس سکتے ہیں، انگلیاں ضائع ہوسکتی ہیں اور بعض حادثات مستقل جسمانی معذوری کا سبب بن جاتے ہیں۔
آنکھ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔ اس نعمت سے محرومی صرف جسمانی نقصان نہیں، بلکہ مکمل زندگی کے بے شمار معمولات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے شب و روز محنت کرتے ہیں، لیکن محض ایک تفریحی رسم کے باعث ان کی جسمانی سلامتی کو داؤ پر لگا دینا انتہائی افسوس ناک ہے۔
آتش زدگی اور املاک کی تباہی
آتش بازی کے شعلہ اور چنگاریاں کسی مکان، دکان، گودام، گاڑی یا دیگر املاک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ خصوصاً گنجان آبادیوں میں جہاں مکانات ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں، وہاں آگ کا پھیلاؤ نہایت تیزی سے بڑے حادثے کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
کسی شخص کی برسوں کی جمع پونجی، محنت سے تعمیر کردہ مکان، کاروبار کا سرمایہ اور گھریلو اثاثہ چند لمحوں میں خاکستر ہوسکتا ہے۔ نئی گاڑی کی خریداری کے موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ بھی اسی نوعیت کا ایک غیر دانش مندانہ عمل ہے۔ جس گاڑی کے حصول کے لیے طویل عرصے کی محنت اور سرمایہ صرف ہوا، وہی گاڑی ایک چنگاری کی زد میں آکر جل سکتی ہے ایسے واقعات دسیوں مرتبہ مشاہدے میں آئے ہیں کہ باپ نے یا بڑے بھائی نے گاڑی خریدی دوستوں نے یا گھر کے چھوٹے بچوں نے خوشی میں اور جو جذبے میں آکر گاڑی کے سامنے آتش بازی کرنے لگے پوری گاڑی ہی آتش کے نظر ہو گئی ۔
یہ صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ انسان اپنی خوشی کے ساتھ دوسروں کی املاک اور معاشرتی تحفظ کو بھی ملحوظ رکھے۔
شور، دھواں اور ماحولیاتی آلودگی
آتش بازی کا ضرر صرف آگ اور دھماکوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے صوتی اور فضائی اثرات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ پٹاخوں سے پیدا ہونے والا شدید شو ر مریضوں، شیر خوار بچوں کے لیے اذیت کا باعث بنتا ہے۔ رات کے اوقات میں اس کا استعمال لوگوں کے آرام اور سکون کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اسی طرح بارودی مادوں کے جلنے سے خارج ہونے والا دھواں اور کیمیائی ذرات فضا کو آلودہ کرتے ہیں۔ سانس کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے یہ صورتِ حال مزید تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔ پرندے اور دیگر بے زبان مخلوقات بھی اس شور و ہنگامے سے متاثر ہوتی ہیں۔
اسلام کی تعلیمات میں مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور دوسروں کو اذیت سے محفوظ رکھنے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ارشاد خداوندی ہے : ولا تلقوا بايديكم إلى التهلكه اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو (البقرہ) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لا ضرر ولا ضرار : ترجمہ: نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔(سنن ابن ماجہ)
یہ مختصر بات معاشرت کے لیے ایک بنیادی ضابطہ ہے۔ اس کی روشنی میں ہر ایسے عمل سے اجتناب ضروری ہے جو دوسروں کے لیے ضرر و اذیت کا سبب بنے۔
خوشی سوگ میں تبدیل
ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے دوران پیش آنے والے حادثات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ آتش بازی کا معاملہ محض تفریح کا نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے تحفظ کا بھی ہے۔
ایک گھر میں شادی کی تیاریاں جاری ہوں، عزیز و اقارب جمع ہوں، خوشیوں کا سماں ہو اور اسی اثنا میں آتش بازی کے باعث کوئی شخص زخمی ہوجائے یا کسی معصوم بچے کی آنکھ متاثر ہوجائے تو پوری تقریب کی فضا بدل جاتی ہے۔ مسرت و انبساط کی جگہ اضطراب، چیخ و پکار اور پشیمانی لے لیتی ہے۔
یہی صورت کسی استقبالیہ تقریب، کامیابی کے جشن یا نئی گاڑی کی افتتاحی تقریب میں بھی پیش آسکتی ہے۔ ایسی خوشی جس کے نتیجے میں کسی کی زندگی اجیرن ہوجائے، اس کے پیچھے کارفرما طرزِ فکر پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلامی تشخص اور غیر اسلامی رسوم
اسلام نے مسلمانوں کو ایک مستقل دینی شناخت اور ممتاز تہذیبی تشخص عطا کیا ہے۔ مسلمان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا امتیاز یہ ہے کہ اس کے اعمال، عادات اور معاشرتی معمولات اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔ اسے اپنی خوشیوں، تقریبات اور معاشرتی رسوم میں بھی اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
ہمارا ملک مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں کا مسکن ہے۔ یہاں مختلف اقوام اپنے اپنے مذہبی تہوار اور معاشرتی تقریبات منعقد کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہم وطنوں کے ساتھ حسنِ سلوک، رواداری اور احترام کا معاملہ کریں، ان کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کریں تاہم مذہبی رواداری کا تقاضا اپنی دینی شناخت سے دست برداری نہیں۔ ہر قوم کے اپنے مذہبی شعائر، تہذیبی روایات اور مخصوص طور طریقے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو بھی اپنی خوشیوں اور تقریبات کے لیے اسلامی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:من تشبه بقوم فهو منهم
ترجمہ: جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔(سنن ابی داؤد)
اس ارشادِ نبوی ﷺ سے مسلمانوں کو اپنی تہذیبی شناخت کی حفاظت اور غیر اسلامی رسوم کی اندھی تقلید سے اجتناب کی تعلیم ملتی ہے۔
شادی ولیمہ اور عقیقہ میں آتش بازی
شادی بیاہ اسلامی معاشرت کا ایک اہم اور مقدس باب ہے۔ نکاح کے ذریعے ایک نئے خاندانی نظام کی بنیاد رکھی جاتی ہے، ولیمے کے ذریعے اس مسرت کو عزیز و اقارب کے ساتھ بانٹا جاتا ہے اور عقیقے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اظہارِ تشکر کیا جاتا ہے۔
ان مبارک مواقع میں ایسے امور کو شامل کرنا جن کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں اور جن میں مال کا اتلاف و جانی نقصان کا اندیشہ موجود ہو، اسلامی تقریبات کی روح کے منافی ہے۔
سامان آتش بازی کی خرید و فروخت
آتش بازی کا معاملہ صرف استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی تیاری، خرید و فروخت اور کاروبار سے وابستہ افراد بھی اس دائرے میں آتے ہیں۔
جب کسی چیز کا استعمال ناجائز و حرام ہو اور اس سے انسانی جان و مال کو نقصان پہنچنے کے اسباب پیدا ہوتے ہوں تو اس کی تجارت بھی شرعی مواخذے سے مستثنیٰ نہیں رہتی۔ چنانچہ آتش بازی کے سامان کی خرید و فروخت کرنا گناہ کے کام میں مدد کرنا ہے جس کی قرآن کریم میں ممانعت آئی ہے۔ وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ اس لیے اس کی تجارت کی اجازت نہیں ہوسکتی۔(دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند)
شادی بیاہ کی تقریبات میں بم، پٹاخے اور دیگر اقسام کی آتش بازی چھوڑنے کو ناجائز و حرام قرار دیا گیا ہے۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند)
اظہارِ خوشی کا اسلامی طریقہ
اسلام نے مسرت و شادمانی کو ممنوع قرار نہیں دیا، بلکہ اسے شکرگزاری، طاعت اور حسنِ معاشرت سے مربوط کیا ہے۔ نعمت حاصل ہو تو بندہ منعمِ حقیقی کے حضور سپاس گزار ہو، کامیابی نصیب ہو تو تکبر و تفاخر کے بجائے تواضع اختیار کرے، اور خوشی کا موقع آئے تو اس کے فیض سے دوسروں کو بھی مستفید کرے۔
اسلام نے خوشی کے اظہار کے لیے ایسے پاکیزہ طریقہ عطا کیے ہیں جن سے بندے کا تعلق اپنے رب سے مستحکم ہوتا ہے اور مخلوقِ خدا کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
شکر و حمد اور سجدہ شکر بھی داخل ہے
صدقہ و خیرات: اپنی خوشیوں میں غرباء و مساکین کو شریک کرنا، یتیموں کی اعانت کرنا اور مستحق خاندانوں کی ضروریات پوری کرنا نہایت بابرکت عمل ہے۔
یہی وہ اعمال ہیں جو خوشی کو بامقصد بناتے ہیں اور انسانی زندگی میں خیر و برکت کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔
ہمیں بحیثیت مسلمان یہ عزم کرنا چاہیے کہ اپنی دینی شناخت، اسلامی تہذیب اور معاشرتی اقدار کی حفاظت کریں گے۔ اپنی تقریبات کو غیر ضروری رسوم سے پاک رکھیں گے، مال کو مفید مصارف میں صرف کریں گے اور اپنی خوشیوں کو دوسروں کے لیے راحت و مسرت کا ذریعہ بنائیں گے۔
آئیے! ہم اپنی خوشیوں کو شکرگزاری سے، اپنی کامیابیوں کو تواضع سے، اپنی تقریبات کو سادگی سے اور اپنی دولت کو نفع بخش مصارف سے آراستہ کریں۔ آتش بازی کے اس غیر ضروری رواج کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے خارج کریں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کے غیر شرعی اور نقصان دہ رسوم و رواج سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔