شکر گذار انسان ؟

شکر گذار انسان ؟

ازقلم:مفتی احمد عبد الحسیب تنویر قاسمی !

 

نبئ اکرم ﷺ جب نماز پڑھتے تو (بہت لمبا) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک سوج جاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی (یقین دہانی کرائی) جاچکی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔۔۔۔
اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(7) وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ(8)
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔ اور موسیٰ نے فرمایا: (اے لوگو!) اگر تم اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب ناشکرے ہوجاؤتو بیشک اللہ بے پرواہ ، خوبیوں والا ہے۔۔۔۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر کی ادائیگی سے نعمتوں میں زیاتی ہوتی ہے۔
واشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(172)
اور تم اللہ تعالی کا شکر ادا کرو اگر تم اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہو ۔۔۔۔
اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو شکر گزار بنو ۔۔۔۔یعنی تمہارشکر ادا کرنا درحقیقت اللہ تعالی کی عبادت سمجھا جائے گا ۔۔۔۔۔۔

شکر کی حقیقت یہ ہے کہ نعمت دینے والے کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اعتراف کرے اور نفس کو اِس چیز کا عادی بنائے۔۔۔۔
رسول اکرم ﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے شکر گذار رہا کرتے تھے اور رسول اکرم ﷺ نے اپنی امت کو شکر گذاری کی تلقین کرتے ہوۓ فرمایا
مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ
"جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتا”
کوئ آپ کے ساتھ بھلائ یا احسان کرے تو اس کے شکر گزار رہنا چاہئے۔۔۔ اللہ تعالی کی طرف سے آپ پر کوئ احسان کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا یہ ہے کہ اس احسان یا نعمت کے ملنے پر الحمد للہ، ماشاءﷲ کہنا چاہیے اور جواحسان کیا گیا یا نعمت عطا کی گئی اس کی قدر کرنا چاہیے ۔۔۔۔

شکر گزاری بہت بڑی نعمت ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی اللہ تعالی اس بندے سے بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں جو شکر گزار ہوتا ہے۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا قانونِ فطرت ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کی طرف سے دی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے، اللہ تعالی اسے مزید نعمتوں سے نوازتا ہے
یعنی سکونِ قلبی عطا فرماتا ہے شکر گزار انسان ہمیشہ اپنی موجودہ نعمتوں پر مطمئن رہتا ہے، جس سے زندگی کے شکوے ختم اور دل کو سکون ملتا ہے اور شکر ادا کرنے سے نعمتیں قائم رہتی ہیں جبکہ ناشکری یا کفرانِ نعمت ، نعمتوں کے زوال کا سبب بنتی ہے۔۔۔۔۔
شکر گزاری بہت بڑی دولت ہے جس سے بہت سارے لوگ محروم ہیں ۔۔۔ہمارا کھانا پینا چلنا پھرنا ایمان والا ہونا وغیرہ اور بہت ساری تکلیف دینے والی بیماریوں سے اللہ تعالی نے بچایا ہے ان سب باتوں پر اللہ کے ہمیشہ شکر گزار رہنا چاہیے۔۔۔
نعمتوں کی ناقدری کرنے سے اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں اور نعمتوں کی ناقدری کرنے والوں پر دو طرح کے عذاب اللہ تعالی مسلّط فرماتے ہیں
سورۃ النحل کی ایت نمبر 112 میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىٕنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْ عِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(112)
” اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی والوں کی کہ امن و اطمینان سے تھی ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا "۔۔
مذکورہ آیت میں اللہ تعالی نے دو طرح کے عذاب کا ذکر فرمایا. (1) بھوک کاپہناوا
(2) خوف کا عذاب ۔۔۔۔
معاشرے پر اگر نگاہ ڈالیں گے تو یہ بات واضح طریقے سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ امت کے اکثر افراد میں ناشکری کا مزاج غالب آ گیا شکر گزاری کا احساس دور دور تک نہیں رہا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ اللہ تعالی کی ناشکری کرتے ہیں ان پر اللہ تعالی کا عذاب مسلط کر دیا گیا کہ ہر وہ شخص جس پر اللہ تعالی نے ناشکری کی وجہ سے پکڑ فرمائی ہے اپنے سائے سے بھی ڈر رہا ہے اور کھانے پینے کی سینکڑوں نعمتوں سے مستفید ہونے کے بعد بھی ان کا دل نہیں بھرتا ہمیشہ یہ فکر لاحق ہے کہ” پھر کیا ہے کھانے کو، پھر کیا ہے کھانے کو” یعنی جو کھایا وہ ابھی حلق سے نیچے بھی نہیں اترا ہضم بھی نہیں ہوا دوسرے وقت کے کھانے کی فکر۔۔۔۔آج کی دعوت ختم نہیں ہوئی اگلے دن کی دعوتوں میں جانے اور کھانے کی فکر ۔الامان والحفیظ ۔۔۔
عام طور پر دیکھا گیا جو شخص مفاد پرست ہوتا وہ شکر گزار نہیں ہو سکتا ۔۔۔یعنی جب تک کسی سے مفاد جڑا ہوا ہے اس کے شکر گزار بنے رہتے ہیں اور جب مفاد ختم ہو گیا تو پھر جس سے فائدہ اٹھاتے رہے اور اس کے شکر گزار بنے رہے اب اسی کے ناشکرے بن جاتے ہیں یہ بہت بری بات ہے ۔۔۔۔
اسلام نے بیماروں کی عیادت کا جو حکم دیا ہے اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر شکر گزاری کا مزاج پیدا ہو۔۔۔۔۔کسی بیمار سے پوچھیں گے تجھے کیا چاہیے وہ ساری چیزوں کے مقابلے میں یوں کہے گا کہ مجھے اس بیماری سے نجات مل جائے یہی میرے لیے بہت بڑی بات ہے وہ بیمار مال ودولت نہیں چاہتا شہرت نہیں چاہتا۔۔۔ اس بیمار کی صرف یہ تمنا ہوتی ہے کہ مجھے اس تکلیف سے نجات مل جائے۔۔۔۔
امام غزالی [إحیاء علوم الدین] میں فرماتے ہیں:”خدا کی نعمتوں کی پہچان اور ان پر خوشی پا کر زبان، قلب اور اعضاء و جوارح کو اس کی رضا میں لگادینے کا نام شکر ہے۔۔۔۔۔
شکر گزاری کی حقیقی تعریف یہ ہے کہ کسی عطا کردہ نعمت یا احسان کو پہچاننا اور دل، زبان اور اعضاء تینوں کے ذریعے اس کی قدر و تعظیم کا عملی اظہار کرنا۔۔۔۔
شکرِ حقیقی کے تین بنیادی درجے ہیں

(1) دل کا شکر: اس بات کا دل سے یقین رکھنا اور اعتراف کرنا کہ تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہیں۔

(2) زبان کا شکر: زبان سے اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا، یعنی نعمت کے استعمال کے دوران “الحمدللہ” کہنا اور نعمت ملنے پر زبان سے اقرار کرنا اور عطا کی گئی نعمت کی قدر کرنا ۔۔۔

(3) اعضاء یا عمل کا شکر: اللہ کی دی ہوئی طاقت، صلاحیتوں اور نعمتوں کو اسی کی رضا اور بتائے ہوئے راستے پر استعمال کرنا، اور انہیں گناہوں میں استعمال نہ کرنا۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :”نعمت کا شکر ادا کرو تاکہ وہ زوال سے محفوظ رہے، اور جب نعمت ملے تو ناشکری کرکے اسے خود سے دور مت کرو۔۔۔۔۔ اس لیے کہ شکرگزاری آنے والی نعمتوں کا ضامن ہے۔”۔۔۔۔
عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے :”الشُّكْرُ قَيْدُ النِّعْمَةِ” (شکر نعمت کو باندھ کر رکھنے والی زنجیر ہے، یعنی شکر سے نعمت قائم رہتی ہے اور بڑھتی ہے)۔۔۔۔
ایک مرتبہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ (کچھ روایات کے مطابق بازار میں اور بعض روایات کے مطابق طواف کے دوران) ایک شخص کے پاس سے گزرے جو بار بار یہ دعا مانگ رہا تھا:

"اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ عِبَادِكَ الْقَلِيلِ”
(اے اللہ! مجھے اپنے ان بندوں میں شامل فرما جو تعداد میں تھوڑے ہیں)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ عجیب دعا سنی تو حیران ہوئے اور اس شخص کو روک کر پوچھا: "تم یہ کیسی دعا مانگ رہے ہو؟ اور یہ تم نے کہاں سے سیکھی؟”

اس شخص نے جواب دیا: "اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟”

"وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ” ( سبا: 13)
(اور میرے بندوں میں سے بہت کم ہی شکر گزار ہیں)

اس شخص نے مزید کہا کہ چونکہ اللہ کے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں، اس لیے میں اللہ سے دعا کر رہا ہوں کہ وہ مجھے بھی انہی تھوڑے اور چنندہ بندوں میں شامل فرما لے جو اس کا حقیقی شکر ادا کرتے ہیں۔۔۔۔۔
اسی وجہ سے حکم دیا گیا ہے کہ دینی معاملات میں اپنے سے اوپر والے کو اور دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا چاہیے۔۔۔۔
مشکو شریف حدیث نمبر 5256 میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ، فَاقْتَدَى بِهِ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ؛ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا. وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا
جس شخص میں یہ دو خصلتیں ہوں گی، اللہ تعالیٰ اسے (اپنے ہاں) شاکر اور صابر لکھ دے گا: جو شخص دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھے (یعنی جو علم و تقویٰ میں اس سے بڑھ کر ہو) اور اس کی اقتداء و پیروی کرے، اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے (یعنی جو مال یا جسمانی صحت وغیرہ میں اس سے کمتر ہو) اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے فضیلت دی ہے۔ اور جو شخص دین کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھے اور جو کچھ اس سے رہ گیا اس پر افسوس کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے نہ شاکر لکھتا ہے اور نہ صابر۔۔ُ
اس حدیث کی روشنی میں ہمارے لیے بہت سارے اسباق ہیں ۔۔۔
ہم میں سے اکثر لوگ وہ ہیں جو دینی معاملات میں تو غافل ہیں ان کے پیش نظر صرف دنیا ہی دنیا ہے ۔۔۔حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دینی معاملات میں ایک دوسرے پر سبقت لیا کرتے تھے چنانچہ تاریخ کی کتابوں میں ایسے بہت سارے واقعات ملتے ہیں طوالت سے بچنے کیلئے یہاں چند واقعات ذکر کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔

★ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت سے پہلے مدینہ کے مضافات میں رہنے والی ایک غریب، بیمار اور نابینا بوڑھی عورت کی مدد کے لیے رات کو چھپ کر جایا کرتے تھے تاکہ اس کے گھر کا پانی بھریں اور کام کاج کر دیں۔لیکن حضرت عمرؓ جب بھی وہاں پہنچتے، تو معلوم ہوتا کہ ان سے پہلے ہی کوئی خاموشی سے آکر اس بوڑھی عورت کے سارے کام کر کے جا چکا ہے۔ حضرت عمرؓ کو تجسس ہوا کہ دین کے اس کام میں مجھ سے آگے کون نکل جاتا ہے۔چنانچہ ایک رات وہ وقت سے بہت پہلے وہاں گئے اور چھپ کر انتظار کرنے لگے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص اندھیرے میں چادر اوڑھے آیا، اس نے بوڑھی عورت کے گھر کی صفائی کی، کھانا پکایا، پانی بھرا اور چلا گیا۔ جب حضرت عمرؓ نے غور سے دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ وقت کے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عمرؓ یہ دیکھ کر رو پڑے اور فرمایا:”اے ابوبکر! آپ (دین کے ہر معاملے میں) اپنے بعد آنے والوں کو تھکا دیتے ہیں (یعنی کوئی آپ کے معیار تک نہیں پہنچ سکتا)۔” (تاریخ دمشق لابن عساکر)
★ ایک بار فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کی طرف رخِ مبارک کیا اور چند سوالات پوچھے:آپ ﷺ نے پوچھا: "آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟”حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: "میں نے۔”آپ ﷺ نے پوچھا: "آج تم میں سے کس نے کسی جنازے میں شرکت کی ہے؟”حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: "میں نے۔”آپ ﷺ نے پوچھا: "آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟”حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: "میں نے۔”آپ ﷺ نے پوچھا: "آج تم میں سے کس نے کسی مریض کی عیادت (بیمار پرسی) کی ہے؟”حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: "میں نے۔”یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "یہ نیکیاں جس انسان میں بھی (ایک ہی دن میں) جمع ہو جائیں، وہ یقیناً جنت میں داخل ہو گیا۔”حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ حیران رہ گئے کہ ابھی تو صرف فجر کا وقت ہوا ہے اور حضرت ابوبکرؓ دین کے معاملات میں سب سے آگے نکل کر یہ سارے کام کر بھی چکے ہیں۔ (صحیح مسلم: 102)۔۔۔۔۔
★ خلافتِ فاروقی کے دور میں ایک بار حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور کے کچھ فیصلوں اور ان کی سخت محنت کو یاد کیا۔ وہ مسجد میں تشریف فرما تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
"وَدِدْتُ أَنِّي شَعْرَةٌ فِي صَدْرِ أَبِي بَكْرٍ” الجامع لشعب الایمان 8568
"اللہ کی قسم! کاش میں ابوبکر کے سینے کا ایک بال ہوتا۔ …
حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے زندگی بھر دین کے ہر موڑ پر، ہر صدقے میں اور ہر بھلائی کے کام میں ابوبکر سے آگے نکلنے کی کوشش کی، لیکن میں نے ہمیشہ خود کو ان سے پیچھے ہی پایا۔۔۔۔۔
ایسے ہی پاک باز اور مقابلہ کرنے والے مؤمنین کے بارے میں اللہ تعالی نے یوں ارشاد فرمایا
وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَﭤ(26
سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہیے ۔۔۔۔
اور یہ بات بھی ہر شخص ذہن میں رکھے کہ دین بقدر مشقت نصیب ہوتا ہے اور دنیا بقدر مقدر نصیب ہوتی ہے ۔۔۔۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کی فکر بالکل چھوڑ دی جائے بلکہ دنیا کے لیے ہم لوگ جتنی فکر کرتے ہیں اتنی ہی فکر دین کے لیے بھی کریں گے تو دین نہ صرف ہماری زندگیوں میں باقی رہے گا بلکہ اس کے ثمرات اثرات اور برکتیں ہماری نسلوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں ۔۔۔۔

اللہ تعالی نے سورۃ الزمر ایت نمبر 7 میں شکر گزاری اور ناشکری کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے
إِن تۡكَفُرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمۡ وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَ وَإِن تَشۡكُرُواْ يَرۡضَهُ لَكُمْ
"اگر تم ناشکری کرو تو یقیناً اللہ تم سے بے نیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے”۔۔۔۔
اللہ تعالی نے آیت کے آغاز میں واضح طورپر فرما دیا ہے کہ اگرسارے انسان بھی ناشکری یا کفر اختیار کر لیں، تو اس سے اللہ کی ذات یا اس کی بادشاہت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ وہ غنی (بے نیاز) ہے۔اور اللہ تعالی نے انسان کو اچھے اور برے راستے کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا ہے، یہ طے ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، جب بندہ شکر گزاری کا راستہ چنتا ہے، تو اللہ تعالی اس سے راضی اور خوش ہوتا ہے۔۔۔۔۔

ہر شخص یہ طے کر لے کہ اپنی ما بقیہ زندگی میں اللہ تعالی کی اطاعت اور اللہ کی فرمانبرداری شکر گزاری کے ساتھ۔۔۔۔
شکر گزاری بہت بڑی نعمت ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی اللہ تعالی اس بندے سے بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں جو شکر گزار ہوتا ہے۔۔۔۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے